متحدہ عرب امارات نے پشتو زبان کی سالہا سال سے جاری مجالس پر پابندی لگا دی

Posted: 02/01/2012 in Advertise Religious, All News, Breaking News, Important News, Religious / Celebrating News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East

یو اے ای گورنمنٹ نے عزاداری کی اجازت دینے کی بجائے ایک اعلامیہ جاری کر دیا ہے کہ عزاداری ابوظہبی شہر سے اسی کلومیٹر دور ایک صحرا میں کی جا سکتی ہے تاہم عزاداروں نے حکومت کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔ متحدہ عرب امارات بھی آل سعود کے نقش قدم پر، ابوظہبی میں مقیم پشتو زبان کی سالہا سال سے جاری مجالس پر پابندی لگا دی۔ متحدہ عرب امارات کے دارالخلافہ ابوظہبی میں مقیم ہزاروں کی تعداد میں پشتو زبان کے مقیم عزادار جن کا تعلق خیبر پختونخوا افغانستان اور فاٹا سے ہے کئی سال سے شہر کے اندر اپنے امام بارگاہ میں مجالس و جلوس عزا منعقد کرتے آ رہے ہیں تاہم اس سال یو اے ای گورنمنٹ نے اجازت نہیں دی بلکہ ایک اعلامیہ جاری کر دیا ہے کہ عزاداری ابوظہبی شہر سے اسی کلومیٹر دور ایک صحرا میں کی جا سکتی ہے تاہم عزاداروں نے حکومت کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا اور یکم و دو محرم کو مجلس تو نہ ہو سکی لیکن کئی ہزار عزادار امام بارگاہ کے باہر احتجاجا کھڑے رہے۔ اس کے بعد عزاداروں نے پاکستانی سفیر اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابط کیا، مذاکرات جاری ہیں امید کی جاتی ہے کہ متحدہ عرب امارات عربستان کے صحرا کو اپنی محنت و مزدوری سے گلستان بنانے والے اپنے ان محسنوں کو مایوس نہیں کریں گے۔

Comments are closed.