دس سالہ امریکی حمایت کے بعد بھی پاکستان کی سالمیت پر حملے جاری ہیں، فضل الرحمن

Posted: 02/01/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

مردان میں جلسہ عام سے خطاب میں جے یو آئی کے سربراہ کا کہا تھا کہ دنیا میں کیمونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کے بعد اسلام کے عادلانہ نظام کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ امریکی حمایت کے باعث ملک میں 35ہزار بے گناہ شہری شہید ہوئے اور اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ امریکا کو زرداری، نوازشریف، اسفندیار ولی، عمران خان اور الطاف حسین کی جمہوریت قبول ہے مگر جے یو آئی کی جمہوریت قبول نہیں، کیونکہ ہم اسلامی تہذیب جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں مغربی تہذیب کی ترجمانی کرتی ہیں۔ امریکا سے دوستی آقا اور غلام کا تعلق ہے، ہم مسلح جدوجہد کے قائل ہیں نہ کسی سے جنگ چاہتے ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردی کی نہیں سیاسی بالادستی کی جنگ ہے لیکن ہم امریکی بالادستی نہیں مانتے، امریکا کے ساتھ عزت و وقاراور برابری کی بنیاد پر بات ہونی چاہئے۔ مسلح جدوجہد کے حامی نہیں تاہم بیرونی جارحیت کی صورت میں جہاد ضرور کیا جائے گا۔ وہ مردان میں جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 10 سالہ امریکی حمایت کے بعد بھی پاکستان کی سا لمیت پر حملے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حمایت کے باعث ملک میں 35ہزار بے گناہ شہری شہید ہوئے اور اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی مسلح جہدوجہد کے خلاف ہے تاہم گوانتانامو بے میں ہونے والی قرآن کی بے حرمتی پر ہمارے ساتھ کون روئے گا۔  مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا میں کیمونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کے بعد اسلام کے عادلانہ نظام کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تحریک کا موازنہ سونامی سے نہ کیا جائے اور جلسوں کا آغاز موسیقی سے کرنا باعث شرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کی آہٹ سن کر سیاسی خانہ بدوش اکٹھے ہو رہے ہیں۔ علاوہ ازیں گزشتہ روز اوگی میں شیخ الہند کانفرنس کے سلسلے میں جلسے سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے خصوصی گفتگو کر تے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ میں پاکستان کو جھونکنے والے سب سے بڑے قومی مجرم ہیں اور 10 برسوں میں ہمارے 35ہزار بے گناہ لوگ شہید اور معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا، آزاد عدلیہ ہر چھوٹے موٹے معاملے پر سوموٹو ایکشن لیتی ہے مگر قومی مجرموں کو منظر عام پر لانے میں خاموش ہے۔  انہوں نے کہا کہ سونامی کی باتیں کرنے والے مشرف کی بی ٹیم ہیں، میوزیکل شوز کے ذریعے انقلاب نہیں لایا جا سکتا۔ انقلاب مدرسوں والے لائیں گے۔ صوبہ ہزارہ کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ ایم ایم اے کی بحالی کیلئے کوششیں جاری ہیں تاہم جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخواہ میں50 فیصد نشستوں کا حصہ مانگتی ہے جو مجھے قطعی قبول نہیں۔ 2012ء میں عام انتخابات کے انعقاد کیلئے ایک فارمولا سیاسی جماعتوں کے آگے پیش کرینگے۔ مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ جو لوگ ہمیں یہ طعنہ دیتے ہیں آج جمعیت کے جلسے تو بڑے ہوتے ہیں پھر اقتدار میں کیوں نہیں آتی، تو میں انہیں کہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ ہٹ جائے پھر دیکھو جمعیت اقتدار میں آتی ہے کہ نہیں، ہم تو یہی کہتے ہیں کہ فوج بیرک کے ساتھ واسطہ رکھے اور ہمیں بیلٹ کے ساتھ واسطہ رکھنے دے۔

Comments are closed.