اوباما کے دفاعی بل پر دستخط، پاکستان کی امداد رک گئی

Posted: 02/01/2012 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان کو دی جانے والی امداد پر قدغن لگانے کا مقصد اس پر دبائو بڑھانا ہے کہ وہ اپنے ملک میں دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد کی پیداوار کو روکے جو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہے۔امریکی صدر بارک اوباما نے 662 ارب ڈالر کے دفاعی بل پر تحفظات کے باوجود دستخط کر دیئے جس کی ایک شق کے تحت پاکستان کی 70 کروڑ ڈالر کی جزوی امداد بھی مشروط ہو گئی، امریکی صدر کے دستخط کے بعد سینیٹ اور ایوان نمائندگان کا منظور کردہ بل ڈیفنس آتھرائزیشن بل باقاعدہ قانون بن گیا، بل کے تحت دہشتگروں کے خلاف انتظامیہ کے اختیارات محدود ہو جائیں گے۔  اتوار کو امریکی صدر نے بل پر دستخط ہوائی میں کیے جہاں وہ چھٹیاں گزار رہے ہیں، بل پر دستخط کرنے کے ساتھ صدر اوباما نے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں انہوں نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے صرف اس لیے دستخط کیے تاکہ امریکی فوج کے جنگی آپریشن متاثر نہ ہوں۔ بل کے تحت پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر کی امداد اب باضابطہ طور پر اس عمل سے مشروط ہو چکی ہے کہ پاکستان دیسی ساختہ بموں سے نمٹنے کی حکمت عملی کا اعلان کرے۔ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے اراکین پر مشتمل مذاکراتی پینل نے گزشتہ ماہ اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ پاکستان کو دی جانے والی 70 کروڑ ڈالر کی امداد روک دی جائی، یہ اتفاق رائے اس پینل کے اجلاس میں ہوا تھا جو امریکا کے 662 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ پر بحث کر رہا تھا۔ اس اتفاق رائے کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان کو دی جانے والی 70 کروڑ ڈالر کی امداد روکی نہیں گئی بلکہ اسے امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ حکمت عملی کی تیاری کے اعلان سے مشروط کیا گیا ہے۔  بل میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو ملنے والی امداد کا 40 فیصد حصہ سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خارجہ کی جانب سے کانگریس کو پیش کی جانے والی رپورٹ سے مشروط کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کی امداد امریکی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کی اس یقین دہانی کے ساتھ مشروط ہو گی کہ پاکستان دہشت گردی اور بارودی مواد کی روک تھام کیلئے اقدامات کر رہا ہے۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان کو دی جانے والی امداد پر قدغن لگانے کا مقصد اس پر دبائو بڑھانا ہے کہ وہ اپنے ملک میں دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد کی پیداوار کو روکے جو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہے، کیونکہ دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجیوں کو نشانہ بنانے کیلئے شدت پسندوں کا موثر ہتھیار ہے۔ امریکی دفاعی بل کے تحت امریکا ان مالیاتی اداروں کے خلاف بھی نئی پابندیاں متعارف کرائے گا۔ جن کے ایران کے مرکزی بینک کے ساتھ کاروباری تعلقات ہیں۔ پابندیوں سے قبل ایسے اداروں کو 2 سے 6 ماہ تک کی مہلت دی جائے گی، خدشات ہیں کہ امریکا کی ایران پر نئی پابندیوں کے نتیجے میں، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ امریکی ریڈیو کے مطابق صدر بارک اوباما نے بل کی ان شقوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا جن کا تعلق مشتبہ دہشت گردوں کو حراست میں لینے اور تفتیش کرنے اور مقدمہ چلانے سے ہے، تقریب میں انہوں نے کچھ قانون سازوں کی سرزنش کی، جنہوں نے بل میں ملک کو محفوظ بنانے کیلئے انسداد دہشت گردی سے متعلق عہدیداروں کی استعداد کو محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔

Comments are closed.