Archive for January, 2012

کراچی ڈاکٹر محسن کو انکے گھر کے باہر صبح ۱۰ بجے کے قریب سر پر گولی مار کر شہید کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر محسن  فیڈرل بی ایریا بلاک ۱۲ ، گلبرگ میں واقع اپنے گھر کے باہر موجود تھے کہ  موٹر سائیکل پر سوار ناصبی وہابی کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا، شہید کے سر میں گولی لگی اور اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی درجہ شہا دت پر فائض ہوئے۔ رپورٹ کیمطابق ڈاکٹر محسن کاروان آل عبا کے سرپرست اور ایک فعال شخصیت تھے، آج صبح وہ اپنے گھر کے باہر موجود تھے تو موٹر سائکل پر سوار پہلے سے گھات لگائے دہشت گردوں نے فائرنگ کردی جسکے نتیجے میں انکے سر پر گولی لگی۔ شہید دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کے والد گرامی تھے۔ ابھی کراچی میں شہید ہونے والے تین شیعہ وکلا اور کوئٹہ میں شہید ہونے والے تین جوانوں کا سوئم بھی نہیں ہوا تھا کہ آج صبح ڈاکٹر جعفر محسن کو شہید کردیا گیا۔ شیعہ قوم کی ہونے والی نسل کشی کو حکومتی سر پرستی حاصل ہے اور شیعہ قوم کا غم و غصہ حق بجانب ہے۔ اسپتال میں موجود شیعہ تنظیم کے نمائندے نے بتایا کہ حکومت شاید اس بات کو سمجھ نہیں پارہی یا پھر خود جان بوجھ کر توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ اب شیعہ قوم کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور  پاکستان کی بقا کی خاطر ہماری خاموشی کو شاید ہماری کمزوری سمجھا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ وعوام اگر بپھر گئی تو پھر شیعہ قوم اپنے راستے میں آنے والی ہر روکاوٹ کو پیروں تلے روندتی چلی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سازشی عناصر اور ایجنسیاں بھی شیعہ قوم میں تفرقہ ڈالنے کی نئی نئی سازشوں کو تانے بانے بنے میں مصروف ہیں لیکن حکومت جان لے کہ شیعہ قوم متحد ہے اور اپنے خلاف ہونے والی ہر سازش کو بھی سمجھ رہی ہے اور سازشی عناصر پر بھی گہری نظر ہے۔ شہید ڈاکٹر جعفر محسن کا جسد ابھی ضیا الدین اسپتال سے کچھ دیر بعد مسجد خیر العلم  یا رضویہ امام بارگاہ منتقل کر دیا جائے گا۔

گذشتہ کئی روز سےملک میں ملت جعفریہ کے نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے جس میں کالعمد دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی سمیت القاعدہ اورطالبان دہشت گرد ناصبی  اور وہابی درندے ملوث ہیں ،تاہم حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف کوئی کاروائی کرنے سے قاصر ہے اور ملک ان دہشت گردوں کے لئے ایک جنت کی مانند بنا ہوا ہے دہشت گرد ناصبی اور وہابی طالبان دہشت گرد جہاں چاہتے ہیں معصوم اور نہتے  شیعہ مسلمانوں کا خون بہا دیتے ہیں. پاکستان کے مختلف شہروں میں جاری شیعہ نوجوانوں کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ میں امریکی و صہیونی گماشتے ملوث ہیں۔ ہم معصوم اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی شہادتوں پر دہشت گرد اور متعصب گروہوں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی سمیت القاعدہ اورطالبان دہشت گرد ناصبی  اور وہابی درندوں کی شدید مذمت کرتے ہیں پاکستان کے مختلف شہروں میں دن دیہاڑے بے گناہ اور معصوم شیعہ نوجوانوں کی دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں مظلومانہ شہادتیں حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہیں؟ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی صفوں کے اندر کالعدم دہشت گرد گروہوں کے سرغنہ عناصر اور ان کے معاون ارکان کو نکال باہر کریں کہ جن کا مقصد ملک میں شیعہ سنی فسادات کو ہوا دینا اور اپنے غیر ملکی آقاؤں امریکا و اسرائیل کی ایماء پر مملکت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔ ۔جبکہ شیعہ علماء کونسل جعفریہ الائنس اور مجلس وحدت مسلمین اور ان سے منسلک تمام ذمہ داروں  سمیت دیگر ملی تنطیموں نے ان کی مظلومانہ شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے  کاروان آل عبا کے روح رواں اور آل عباامام بارگاہ گلبر گ کے ٹرسٹی ڈاکٹر محسن جعفر کے بہیمانہ قتل پر جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی  اور دیگر علماءکرام اور عما ئدین نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے اس ظالمانہ اقدام کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے کالعدم دہشت گرد تنظیم کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے. شہداء کے ورثاء سے اظہار تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور شہداء کے قاتل ضرور بے نقاب ہوں گے  خدا شہید کو جوار معصومیں ّ سے ملحق کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاکرے.آمین

Advertisements

پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں واقع ملٹری اکیڈمی پر متعدد راکٹ داغے گئے ہیں۔ اس حملے سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں تاہم اکیڈمی کی بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا ہے۔  ایبٹ آباد میں جمعے کی صبح پاکستانی فوج کی ایک اکیڈمی پر ہوئے اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں سے کچھ ہی فاصلے پر دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کا گھر تھا۔ گزشتہ برس دو مئی کو امریکی کمانڈوز نے ایک خفیہ آپریشن کرتے ہوئے اسی گھر میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ علی الصبح مقامی وقت کے مطابق قریب تین بجے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول پر راکٹ داغے گئے۔ پاکستانی حکام نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نو راکٹ داغے گئے، جس سے تین راکٹ اکیڈمی کی بیرونی دیوار سے ٹکرائے۔عسکری حوالے سے انتہائی اہم تصور کیے جانے والے شہر ایبٹ آباد اعلیٰ پولیس اہلکار امتیاز حسین شاہ نے کہا ہے کہ اس حملے میں کوئی بھی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کرنے کے بعد سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔  امتیاز حسین شاہ کے بقول اس علاقے میں سکیورٹی ہر وقت الرٹ رہتی ہے، اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ اس پر تشدد کارروائی کے بارے میں حقائق جلد ہی اکٹھے کر لیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ تاہم یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد شائد القاعدہ کے حامی جنگجوؤں نے اس اکیڈمی کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہو۔

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ایرانی سکیورٹی محافظوں نے چھ پاکستانی تاجروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ چھ پاکستانی تاجر جمعرات کے دن اپنی بکریوں کے ساتھ ایرانی سرحد میں داخل ہوئے تھے۔ خبر رساں ادارے اے پی نے بتایا ہے کہ پاکستانی حکام کے اس دعویٰ کے جواب میں ایرانی حکام نے فوری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ پاکستانی بندرگاہی شہر گوادر کے ڈپٹی کمشنر عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا۔ ان پاکستانی تاجروں کو اس وقت ایرانی سکیورٹی گارڈ نے مبینہ طور پر ہلاک کیا، جب وہ گوادر سے ملحقہ ایرانی سرحد پار کر کے ہمسایہ ملک میں داخل ہوئے۔ عبدالرحمان نے امریکی نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام ہلاک شدگان کی لاشیں پاکستان کے حوالے نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس واقعہ پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے بقول اس واقعہ کی صداقت ثابت ہو جانے کے باوجود تہران اور اسلام آباد کے تعلقات میں خرابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پاکستان اور ایران کے مابین دو طرفہ تعلقات طویل المدتی بنیادوں پر ہیں اور اس کا ایک اہم عنصر علاقائی سلامتی کو تصور کیا جاتا ہے۔ایران اور پاکستان کی سرحدوں پر اس طرح کے واقعات پہلے بھی رونما ہوتے رہے ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں تین ایرانی سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر پاکستانی سرحدی علاقے ماشکیل میں داخل ہو کر ایک پاکستانی کو ہلاک کر دیا تھا۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اگرچہ ان تینوں ایرانی سرحدی محافظوں کو گرفتار کر لیا تھا تاہم بعد ازاں مقتول کے گھر والوں سے ایک ڈیل کے نتیجے میں ان رہاکر دیا گیا تھا۔ پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ کے واقعات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اسی لیے وہاں پر تشدد واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستانی اور ایرانی حکام نے سرحد پار اسمگلنگ روکنے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ خیز پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔

متنازعہ بھارتی مصنف سلمان رشدی کو گزشتہ ہفتے جےپور ميں منعقدہ ادبی ميلے ميں حصہ لينے سے روک ديا گيا تھا۔ تاہم اب اس واقعہ کو بھارت ميں سياسی پہلو سے ديکھا جا رہا ہے۔بھارت ميں جاری تنازع اس وقت شروع ہوا جب جے پور ميں منعقدہ ساتويں ادبی ميلے ميں متنازعہ مصنف سلمان رشدی کی شرکت کی خبريں سامنے آئيں۔ وہاں مقيم مسلمانوں نے اس پر احتجاج کيا۔ اس حوالے سے رشدی نے اپنی جان کو لاحق خطرے کے باعث ادبی ميلے ميں شرکت سے انکار کرديا۔ ليکن بعد ميں انہوں نے خطرے کو علاقائی پوليس کی جانب سے من گھڑت کہانی ٹھہراتے ہوئے اپنے خلاف سازش قرار ديا۔ اطلاعات کے مطابق، رشدی اس ميلے ميں ويڈيو کے ذريعے ايک خطاب بھی کرنے والے تھے جسے بعد ميں سيکورٹی خدشات کے باعث ميلے کی انتظاميہ نے پروگرام سے خارج کر ديا تھا۔ بھارت ميں موجود تجزیہ کار اس پورے معاملے کو سياسی نقطہ نظر سے ديکھ رہے ہيں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ رشدی کو جان بوجھ کر ادبی ميلے سے دور رکھنا، آزادی رائے اور آزادی خيال کے خلاف ہے تو کچھ لوگ اس اقدام کو محض ايک سياسی چال بتا رہے ہيںٹائمز آف انڈيا کے ايک بلاگ ميں مصنف پرشنت پانڈے نے سلمان رشدی کے معاملے کو کانگريس کی بزدلی قرار ديتے ہوئے اسے بھارت کے ليے دنيا بھر ميں شرمناک بھی کہا۔ ان کا خیال ہے کہ چند قدامت پسند مسلمان گروہوں کی دھمکيوں کے پيش نظر، کانگريس حکومت کا يہ اقدام يوپی ميں ہونے والے انتخابات ميں مسلمان طبقوں کے ووٹ حاصل کرنے کے ليے تھا۔ اپنے بلاگ ميں پرشنت پانڈے نے بھارتی عوام کو مجموعی طور پر قدامت پسند قرار ديا۔ ان کا يہ بھی خیال ہے کہ رشدی کا معاملہ اپنی نوعيت کا آخری معاملہ نہيں، مستقبل ميں بھی جب کبھی مذہب سے جڑا مسئلہ سامنے آئے گا، بھارتی حکومتيں اسی قسم کے فيصلے کريں گی۔ ٹائمز آف انڈيا کے ايسوسی ايٹ ايڈيٹر جَگ سوريا نے لکھا ہے کہ يہ معاملہ سلمان رشدی کے ليے تو ايک معمولی رکاوٹ کی مانند ہے، ليکن يہ ان تمام لوگوں کے ليے بہت بڑی جيت ہے جو اس قسم کے معمولی جرائم ميں ملوث ہيں۔ ان کے بلاگ پر اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے يہ سوال اٹھايا کہ اگر سلمان رشدی کی کتاب متنازعہ ہے اور اس سے کسی کی مذہبی دل آزاری ہوتی ہے تو کتاب يا شخصيت کو پزيرائی دينا کيوں ضروری ہے۔ ايک اور بلاگر منہاز مرچنٹ نے بھی کانگريس حکومت کو قصور وار ٹھہرايا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ حاصل کرنے کے ليے حکومت نے سيکولرازم پر سمجھوتہ کيا۔ ان کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کے چند نمائندگان اور حکومتی اہلکاروں کے اس باہمی تعاون والے سمجھوتے کے نتيجے ميں اسلام کا نام خراب ہوتا ہے جبکہ دراصل اسلام ايک آزاد خيال مذہب ہے۔دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کی ويب سائٹ پر شائع ہونے والے ايک بلاگ ميں لکھا گیا ہے کہ رشدی کے حوالے سے پيدا ہونے والی صورتحال سے عالمی طور پر، ايک ابھرتی ہوئی جمہوری طاقت کی بھارتی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ بلاگر کا ماننا ہے کہ اس طرح جعلی انٹيلیجنس رپورٹوں کی من گھڑت کہانی بنانے سے علاقائی اور ملکی حکومت کی بدنامی ہوئی ہے۔ برطانيہ ميں مقيم بھارتی مصنف سلمان رشدی اپنی 1988ء ميں شائع ہونے والی کتاب The Satanic Verses کے بعد دنيا بھر کے مسلمانوں کے غصے اور تنقيد کا شکار بنے۔ مسلمانوں کے مختلف دھڑوں کے مطابق، اس کتاب ميں لکھی باتيں اسلام اور نبی کے ليے توہين آميز ہيں۔ اس حوالے سے ايران کے آیت اللہ خمینی نے 1989ء ميں سلمان رشدی کے قتل کا ايک فتوی بھی جاری کيا۔ 1991ء ميں اس کتاب کا جاپانی زبان ميں ترجمہ کرنے والے ہٹوشی اگراشی اور اطالوی ترجمہ کرنے والے ايٹورے کيپريولے، دونوں افراد تشدد کا شکار بنے اور ان پر حملے ہوئے۔ سلمان رشدی کا کہنا ہے کہ انہيں آج تک دھمکيوں کا سلسلہ جاری ہے۔

گزشتہ قریب ایک دہائی کے دوران کے شدید ترین شمسی طوفان کے باعث پیدا ہونے والی شعائیں منگل کے روز کرہ ارض سے ٹکرا گئیں۔ ان شمسی شعاؤں کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے امریکہ کی ایک ایئرلائن نے اپنی فلائٹس کا روٹ تبدیل کر دیا۔  دوسری جانب آسمان کا مشاہدہ کرنے والے شوقین حضرات کو ان شعاؤں کے زمینی کُرے سے ٹکرانے کے باعث پیدا ہونے والے رنگوں کا نظارہ کرنے کا موقع ملا۔  امریکی ڈیلٹا ایئرلائن کے مطابق شمسی شعاؤں کے طوفان کے خطرات اور اس سبب کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے اس نے امریکہ اور ایشیا کے درمیان چلنے والی اپنی پروازوں کا راستہ تبدیل کر دیا تھا۔  امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے مطابق حالیہ طوفان اکتوبر 2003ء کے بعد کا شدید ترین شمسی طوفان تھا۔ مزید یہ کہ اس شمسی طوفان کے زمینی مقناطیسی میدان سے ٹکرانے کے سبب کورونل ماس ایجکشن ‘Coronal mass ejection’  عمل ہوا ہے، یعنی اس سبب شمسی ہوائیں چلنے کے علاوہ بہت ہی باریک ذرات پر مشتمل شعاعیں خلا میں بکھری ہیںامریکی خلائی ایجنسی کے مطابق یہ شمسی شعاعیں زمین پر موجود انسانوں کے لیے تو کم از کم کسی طور پر خطرناک نہیں ہیں، مگر یہ خلائی سیاروں اور شارٹ ویو ریڈیو لہروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔  ماہرین کے مطابق شمسی شعاؤں کے زمین سے ٹکرانے کا یہ سلسلہ بدھ 25 جنوری تک جاری رہا۔ اس طوفان کی بدولت قطبین کے قریب موجود مصنوعی سیاروں کے آپریشن میں ممکنہ مسئلے کے باعث ڈیلٹا ایئرلائن کی پروازوں کا راستہ تبدیل کیا گیا۔ اٹلانٹا میں قائم دنیا کی اس دوسری سب سے بڑی ایئر لائن کے ترجمان انتھونی بلیک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کسی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے اس ایئر لائن کی بعض پروازوں کا روٹ تبدیل کر دیا گیا تھاشمسی طوفان کے باعث زمین سے ٹکرانے والے فوٹانز کی بدولت شمالی قطب کے قریب مختلف رنگوں کی روشنی کا مشاہدہ بھی  کیا گیا۔ ناردرن لائٹس کے نام سے جانے والی یہ رنگا رنگ روشنی سال کے اسی عرصے میں عام طور پر تو قطب شمالی کے قریبی علاقوں میں نظر آتی ہی ہے مگر شمسی طوفان کے باعث ان روشنیوں کا نظارہ اسکاٹ لینڈ اور شمالی انگلینڈ کے علاوہ امریکہ کے بعض علاقوں میں بھی کیا گیا۔  ’نیشنل اوشینک اینڈ ایٹماسفیر ایڈمنسٹریشن اسپیس ویدر پریڈکشن سنٹر‘ سے تعلق رکھنے والے ماہر طبیعات ڈؤگ بیسکر Doug Biesecker کے بقول حالیہ طوفان کا آغاز اتوار کے روز سورج کے وسطی سطح پر اٹھنے والے ایک درمیانے سائز کا شعلہ اٹھنے سے ہوا۔ بیسکر کے بقول یہ طوفان تو بہت غیر معمولی نہیں تھا مگر اس کے سبب بہت تیز رفتار کورونل ماس ایجکش سورج کی سطح سے ہوئی۔ اس کی رفتار 6.4 ملین کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

تہران یونیورسٹی میں نماز جمعہ کے خطیب نے یورپی ممالک کی طرف سے 6 ماہ بعد ایران کے تیل پر پابندی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی تیل کے خریداربہت زيادہ ہیں، یورپی ممالک ابھی سے ایرانی تیل کی خرید کیوں نہیں بند کردیتے؟ یورپ نے امریکہ کی تقلید کرتے ہوئے خود کو بدبخت بنادیا ہے۔ رپورٹ تہران یونیورسٹی میں آج نماز جمعہ آیت اللہ سید احمدی خاتمی کی امامت میں منعقد ہوئی جس  میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی، نماز جمعہ کے خطیب نے یورپی ممالک کی طرف سے 6 ماہ بعد ایران کے تیل پر پابندی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی تیل کے خریداربہت زيادہ ہیں، یورپی ممالک ابھی سے  ایرانی  تیل کی خرید کیوں نہیں بند کردیتے؟ انھوں نے کہا کہ یورپ مالک نے امریکہ کی تقلید کرتے ہوئے خود کو بدبخت کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران نے اقتصادی پابندیوں کے باوجود خاطر خواہ پیشرفت حاصل کی ہے اور تیل پر پابندیوں کے نتیجے میں ایران کا تیل پر انحصار مزید کم ہوجائےگا۔ خطیب جمعہ نے یورپی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی تیل کو6 ماہ کے بعد نہ خریدنے کے بجائے ابھی سے ایرانی تیل کی خرید بند کیوں نہیں کردیتے؟  انھوں نے کہا کہ اگر یورپ ایسا کرےگا تو وہ بد بخت ہوجائےگا کیونکہ آج یورپ شدید مالی اور اقتصادی بحران کا شکارہے۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ اس قصہ میں سعودی عرب کا مؤقف  تعجب آور اور قابل غور ہے جو یورپی ممالک کو اطمینان دلا رہا ہے کہ ایران کے تیل پر پابندی کے بدلے وہ ان کے تیل کی ضرورت کو پورا کرےگا انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ سرزمین حجاز کے عوام کی دولت کو یورپی ممالک کے ہاتھوں فروخت کرے اورعلاقائی عوام انھیں اس بات کی جازت بھی نہیں دیں گے کیونکہ علاقائی عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ سعودی عرب امریکی اور اسرائیلی پٹھو ہے اور اسے مسلمانوں کے احساسات کو ٹھیس پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گي

اسرائیل کے خفیہ دارے موساد کے سابق سربراہ نے دعوی کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کی میزائل ٹیکنولوجی دنیا کے 90 فیصد ممالک سے بھی جدیدترہے۔فلسطینی خبررساں ایجنسی سما کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیل کے خفیہ دارے موساد کے سابق سربراہ میئر ڈاگان نے دعوی کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کی میزائل ٹیکنولوجی دنیا کے 90 فیصد ممالک سے  جدید ترہے۔ ڈاگان کے مطابق حزب اللہ لبنان کی میزائل ٹیکنولوجی کے پیش نظر اگر جنگ ہوجائے اور شام بھی اس جنگ میں شامل ہوجائے تو اس سے اسرائيل کا اندرونی محاذ کمزور ہوجائے گا اور اسرائيل ،  شام اور حزب اللہ کے میزائلوں کا مقابلہ  نہیں کرپائےگا۔ ڈاگان کا کہنا ہے کہ وہ شام اور اسرائيل کے درمیان صلح کی حمایت کرتا ہےبشرطیکہ شام حزب اللہ کو ہتھیار ڈالنے اور حزب اللہ اور ایران کے ساتھ تعاون ترک کردے تواس کے بدلے میں اسرائیل کو بھی جولان کی پہاڑیوں سے پیچھے ہٹنے پر غور کرنا چاہیے

شام کے مختلف شہروں میں آج امریکہ نواز عرب ممالک اور مغربی ممالک کے خلاف شامی عوام نےزبردست مظاہرہ کیا ہے اور امریکہ اور اس کے غلام عرب حکام کی ناپاک سازشوں کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہےشام کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام کے مختلف شہروں میں آج امریکہ نواز عرب ممالک اور مغربی ممالک کے خلاف شامی عوام نےزبردست مظاہرہ کیا ہے اور امریکہ اور اس کے غلام عرب حکام کی ناپاک سازشوں کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ مظاہرین نے عرب لیگ کو امریکی لیگ قراردیتے ہوئے شام کے خلاف عربی اور مغربی ممالک کی سازش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔مظاہرین نے شام کے معاملات میں عرب لیگ اور امریکی مداخلت کی شدید مخالفت کی ہے اور شام کے صدر بشار اسد کی صدارت میں شام میں ہونے والی اصلاحات کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا ہے۔شامی مظاہرین نے دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج کی کارروائی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے شامی فوج کا شکریہ ادا کیا ہے۔ مظاہرے دارالحکومت دمشق سمیت الحسکہ، طرطوس ، لاذقیہ، حلب، دیر الزور اور دیگر شہروں میں ہوئے۔ شامی مظاہرین نے شام کے خلاف عربی اور مغربی سازشوں کو ناکام بنانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے واضح رہے کہ سعودی عرب اور قطر ملکر شام میں امریکی اور اسرائیلی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس  سلسلے میں وہ شام میں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے ہيڈ کوارٹر سے 20لاکھ ڈالرکي کوکين کے دو تھيلے برآمد ہوئے ہیں۔برطانوی اخبار ٹيلي گراف کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہيڈ کوارٹر سے 20لاکھ ڈالرکي کوکين کے دو تھيلے برآمد ہوئے ہیںاخبار کےمطابق دو ملين ڈالر ماليت کي منشيات کتابوں کے بيگ ميں چھپائي گئي تھيں جس پر عالمي ادارے کا لوگو چسپاں تھا. پوليس کے مطابق يہ تھيلے ميکسيکو سے بھيجے گئے ليکن جب اوہائيو ميں پارسل کي جانچ پڑتال کي گئي توان کا پتہ تلاش نہيں کيا جاسکا جس پر اسے اقوام متحدہ کو بھيج ديا گيا. نيويارک پوليس ڈيپارٹمنٹ کے ڈپٹي کمشنر پال براؤن کے مطابق مکتوب اليہ کا نام نہ ہونے پر کورئير سروس نے يہ سوچا کہ اقوام متحدہ کي علامت چسپاں ہے لہذاا نہوں نے وہاں بھيج ديا

عراق کے دارالحکومت بغداد ميں کار بم دھماکے سے 28 افراد ہلاک ہو گئے ہیں.الجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد ميں کار بم دھماکے سے 28 افراد ہلاک ہو گئے ہیں. مشرقي بغداد ميں ايک اسپتال کے باہر جنازے کے نزديک کاربم دھماکے کے نتيجے ابتدائي طور پر 20 افراد ہلاک اور 50 زخمي ہو گئے.وزارت داخلہ کے مطابق بغداد کے ڈسٹرکٹ زعفرانیہ ميں پيش آنے والا دھماکہ خودکش تھا.جس ميں بارود سے بھري گاڑي کا استعمال کيا گيا. اور دھماکہ ايسے وقت ميں ہوا جب لوگ اسپتال سے جنازے کو لے جانے کي تياري کر رہے تھے.

روس نے اعلان کیا ہے کہ روس شام کے صدر بشار اسد کے استعفی پر مبنی کسی بھی قرارداد کو ویٹو کردےگا۔الجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روس نے تاکید کی ہے کہ وہ عربی اور مغربی ممالک کی طرف سے ہر ایسی قرارداد کو ویٹو کردےگا جس میں شام کےصدر بشار اسد سے  استعفی کا مطالبہ کیا گيا ہو روس نے شام کے خلاف عربی اور مغربی ممالک کی قرارداد کے ابتدائی مسودے کو بھی ناقابل قبول قراردیا ہے

شامی حکومت کی مخالف قومی کونسل گروپ کے ایک رکن نے شام کے خلاف سعودی عرب کی جدید سازش کا پردہ فاش کیا ہے سعودی عرب ، شام میں عبوری کونسل تشکیل دینے اور اسے سرکاری طور پر تسلیم کرنے کی سازش کررہا ہے۔الیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شامی حکومت کے مخالف قومی کونسل گروپ کے ایک رکن رمضان نے شام کے خلاف سعودی عرب کی جدید سازش کا پردہ فاش کا ہے۔ قومی کونسل کے رکن کے مطابق سعودی عرب شام میں ایک عبوری کونسل تشکیل دینے کی کوشش کررہا ہے اور اس سلسلے میں سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے شام مخالف دہشت گردوں کے ساتھ قاہرہ میں بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب شام کی اس عبوری کونسل کو سرکاری طور پر تسلیم کرلےگا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور قطر امریکہ اور اسرائیل کے ہمراہ شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

جرمن حکومت کا پاکستانی قائم مقام سفیر کو طلب کر کے تینوں شہریوں کی گرفتاری پر احتجاج،جرمنی کے جریدوں اور نیوز ایجنسیز نے انکشاف کیا ہے کہ پشاور سے گزشتہ ہفتے گرفتار ہونیوالے جرمن شہری جاسوس تھے۔ مشہور جریدے اسپیغل کے مطابق پشاور میں جرمن جاسوس ادارے کا دفتر عرصے سے کام کر رہا ہے۔ جرمنی کے مشہور جریدے اسپیغل نے جرمن سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ گزشتہ ہفتے گرفتار ہونے تینوں جرمن شہری فیڈرل انٹیلی جنس سروسز بی این ڈی کے رکن تھے۔ اسپیغل کے مطابق بی این ڈی نے ایک عرصے سے پشاور میں دفتر قائم کیا ہوا ہے۔ اسپیغل کے مطابق جرمنی کی حکومت نے بھی پاکستانی قائم مقام سفیر کو طلب کر کے جرمنی کی طرف سے تینوں شہریوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مبینہ جرمن جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد اور برلن کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔   جرمن وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر مزید وضاحتوں کی ضرورت ہے۔ جرمن اور پاکستانی سیکورٹی حلقوں میں موجود ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ تینوں گرفتار افراد جرمنی کے فارن ایجنٹ ہیں، انہیں گرفتاری کے بعد اسلام آباد میں جرمن سفارت خانے کے حوالے کر دیا گیا تھا اور انہیں اتوار کی شب ایک پرواز کے ذریعے جرمنی پہنچا دیا گیا ہے۔ ادھر پشاور پولیس کے مطابق تینوں گرفتار افراد خود کو جرمن این جی او، جی آئی زیڈ کے سٹاف اور کبھی سفارتخانے کے سٹاف ہونے کا دعوی کرتے تھے۔ تینوں جرمن شہریوں کو اتوار کے روز جرمنی روانہ کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق امریکہ نے بھارت کو آمادہ کر لیا ہے کہ وہ پاکستان کو ایران کی نسبت سستی گیس فراہم کرے گا جبکہ امریکہ نے اپنی طرف سے بھی گیس دینے کی پیش کش کر دی ہے۔امریکہ نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو روکنے کیلئے پاکستان کو سستی گیس فراہم کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ ایران سے گیس حاصل کرنے کی بجائے ترکمانستان سے گیس حاصل کرنے کے منصوبے پر توجہ دی جائے۔ ذرائع کے مطابق پاک ایران گیس منصوبہ رکوانے کیلئے پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر اور دیگر سفارتکار سرگرم ہو گئے ہیں اور انھوں نے بجلی و توانائی کے شعبے سے متعلق پاکستانی حکام سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفارتکار پاکستانی حکام کو باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایرانی گیس پاکستان کیلئے بہت مہنگی ہے، کیونکہ ایرانی گیس کی قیمت فی ایم ایم بی ٹی یو 12 ڈالر ہے، جبکہ ایل این جی 18ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، اس کے مقابلے میں امریکی حکام پاکستان کو ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن منصوبے پر کام کیلئے دباو ڈال رہے ہیں، اس منصوبے پر بات چیت کیلئے ہی پاکستانی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین اس وقت بھارت میں موجود ہیں۔ امریکی حکام نے پاکستان میں گیس کے موجودہ بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مدد فراہم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی ادارے یو ایس ایڈ کے حکام نے وزارت پیٹرولیم کے عہدیداران سے ملاقات کرتے عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کو ساڑھے 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ایل این جی فراہم کر سکتے ہیں، یہ وہ قیمت ہے جو 4 یا 5 سال پہلے عالمی مارکیٹ میں تھی۔ امریکی سفارتکاروں نے پاکستان کو اپنے پاس سے بھی گیس فروخت کرنے کی پیشکش کی ہے اور اس کی قیمت 4 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات 3 سے 4 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو کا عندیہ دیا ہے۔ ادھر بھارت سے بھی اطلاعات ہیں کہ بھارت نے پاکستان کو ایران کی نسبت سستی گیس فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے اس حوالے سے پاکستانی وزیر توانائی ڈاکٹر عاصم حسین اور ان کے بھارتی ہم منصب نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان ایران سے گیس نہ لے تو بھارت اس کی مدد کر سکتا ہے اس حوالے سے آئندہ ہفتے تمام معاملات بھی طے کر لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خدیجۃ الکبریٰ فاؤنڈیشن پاکستان کے امدادی کاموں کے انچارج عباس حیدر نے بتایا کہ فاؤنڈیشن نے روز اول سے ہی سندھ کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں جبکہ مستقبل میں مزید امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔خدیجۃ الکبریٰ فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام سندھ کے علاقوں میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہونے والے افراد کی امداد کے سلسلہ میں 3000 ( تین ہزار ) گرم کمبل تقسیم کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خدیجۃ الکبریٰ فاؤنڈیشن پاکستان نے سندھ بھر میں بشمول گاؤں محرم علی ( ڈسٹرکٹ ٹنڈو محمد خان )، گوٹھ سعید خان لغاری اور احمد خان لاشاری ( ڈسٹرکٹ ٹنڈو الہ یار )، گاؤں گل محمد دھمباج ( ڈسٹرکٹ حیدر آباد ) اور ڈسٹرکٹ بدین کے گاؤں پیروز خان جمالی کرے علاقوں میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی کفالت کرتے ہوئے 3000 کمبل تقسیم کئے ہیں۔ خدیجۃ الکبریٰ فاؤنڈیشن پاکستان کے امدادی کاموں کے انچارج عباس حیدر نے بتایا ہے کہ فاؤنڈیشن نے روز اول سے ہی سندھ کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں جس کے سلسلہ میں اب تک مکانات کی تعمیر جیسے کاموں سمیت اب موسم سرما کی شدت کے باعث متاثرہ خاندانوں میں 3000 کمبل تقسیم کئے جاچکے ہیں جبکہ مستقبل میں مزید امدادی سرگرمیاں بھی جاری رہیں گی۔

غیرقانونی و غیر اخلاقی پالیسیوں کے باعث پوری دنیا میں امریکہ کی ساکھ میں منفی تاثر کا اضافہ ہوا، امریکہ میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا، کئی محاذوں پر ایران سے منہ کی کھانا پڑیں۔سال 2011 دنیا کیلئے تبدیلیوں کا سال ثابت ہوا، عرب ممالک میں ہونیوالے مظاہروں کے باعث مصر کے صدر حسنی مبارک، لبیا کے معمر قذافی اور تیونس کے علی زین العابدین کو اقتدار چھوڑنا پڑا جبکہ مختلف ممالک کے 90 سے زائد شہروں میں سرمایہ دارانہ نظام کیخلاف وال اسٹریٹ تحریک کے نام سے مظاہرے سال بھر جاری رہے۔ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق 2 جنوری 2011 کو ایران نے جاسوسی کرنے والے 2 امریکی ڈرون مار گرائے، 9 جنوری کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس امریکی جہاز جاپانی سمندری حدود میں تعینات کر دیا گیا، 9 جنوری کو ہی سوڈان کی تقسیم کیلئے شہریوں نے ریفرنڈم کے ذریعے نیا ملک بنانے کا فیصلہ سنایا، 16 جنوری کو تیونس میں عبوری صدر نے حلف اٹھایا۔  مصر میں 40 لاکھ افراد نے 2 فروری کو اقتدار چھوڑنے کیلئے صدر حسنی مبارک کے خلاف تاریخی مظاہرہ کیا، 11 فروری کو حسنی مبارک مستعفی ہوئے اور اقتدار فوج کے حوالے کیا، 22 فروری کو لبیا کے صدر معمر قذافی نے ملک چھوڑنے سے انکار کر دیا، 10 مارچ کو جاپان میں زلزلے اور سونامی سے شدید تباہی آئی اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، 14 مارچ کو تیسرے ری ایکٹر میں دھماکا ہوا ہزاروں لاشیں برآمد ہوئی جبکہ جاپان میں زلزلے سے تباہیوں اور ایٹمی تابکاری کا سلسلہ 20 مارچ تک جاری رہا، یکم اپریل کو بھارت کی آبادی ایک ارب 21 کروڑ تک پہنچ گئی جبکہ رواں سال دنیا کی آبادی 7 ارب سے تجاوز کر گئی۔  برطانیہ کے شہزادے ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی شادی 29 اپریل کو ہوئی جسے دنیا بھر میں ٹی وی چینلز کے ذریعے براہ راست دکھایا گیا، 2 مئی کو پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے ذریعے اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی، 15 مئی کو آئی ایم ایف کا سربراہ ڈومینک اسٹراس ہوٹل ملازمہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار ہوا، 31 مئی کو یوکرائن میں مقابلہ حسن میں حصہ لینے کی وجہ سے 19 سالہ مسلم لڑکی کاتیہ کورن کو سنگسار کیا گیا۔ بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے کو 23 جون کو عدالت نے 6 سال قید کی سزا سنائی، 27 جون کو عالمی عدالت نے لبیا کے صدر معمر قذافی اور ان کے بیٹے کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے، 28 جون کو کرسٹائن لاگارڈ آئی ایم ایف کی پہلی خاتون سربراہ بن گئی، 9 جولائی جنوبی سوڈان کے نام سے ایک نیا ملک بنایا گیا، 13 جولائی کو بھارتی شہر ممبئی میں 3 بم دھماکوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔  ایران نے ایک بار پھر جاسوسی کرنے والے امریکی ڈورن کو 20 جولائی کو مار گرایا، 29 جولائی کو ترکی کے 3 فوجی سربراہوں کو مستعفی کیا گیا، یکم اگست کو دنیا بھر سے 25 لاکھ زائرین حج ادا کرنے کیلئے مدینہ پہنچے، 3 اگست کو حسنی مبارک لوہے کے پنجرے میں عدالت پیش ہوئے، 7 اگست کو لندن میں پولیس کے خلاف ہونے والے مظاہرے ہنگاموں میں تبدیل ہوئے، 22 اگست کو لبیا کے صدر معمر قذافی کے 2 بیٹے گرفتار کئے گئے، 4 ستمبر کو 4 لاکھ اسرائیلی شہری مہنگائی کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے، 13 ستمبر کو افغانستان میں امریکی سفارتخانے اور نیٹو ہیڈکوارٹر پر کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے حملے میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔ سپین میں 16 ستمبر کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف 3 لاکھ لوگوں نے احتجاج کیا، 20 ستمبر کو سابق افغان صدر برہان الدین ربانی خودکش حملے میں ہلاک ہوئے، 5 اکتوبر کو بھارت نے دنیا کا سستا ترین ٹیبلیٹ کمپیوٹر متعارف کرایا۔  15 اکتوبر کو دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مظاہرے کئے، 20 اکتوبر کو لبیا کے صدر معمر قذافی کی ہلاکت سے لبیا پر 42 سالہ حکمرانی کا دور ختم ہوا۔ 27 اکتوبر کو یمن میں پہلی بار پرامن احتجاج کی اجازت دی گئی، 4 نومبر کو غزہ جانے والے امدادی جہاز پر اسرائیلی فوجیوں کا حملہ ہوا، 25 نومبر کو ایران میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے 12 جاسوس گرفتار کئے گئے، 4 دسمبر کو ایک بار پھر ایران نے امریکی جاسوس ڈرون مار گرایا، 14 دسمبر کو یہودیوں نے 700 سال پرانی مسجد شہید کرنے کی کوشش کی اور 18 دسمبر کو عراق میں 9 سالہ امریکی جنگ کا خاتمہ ہوا اور امریکی فوجیوں کا آخری دستہ بغداد سے روانہ ہوا۔

مبصرین خانپور واقعہ کی بڑی وجہ پنجاب حکومت کے کالعدم تنظیموں سے رابطوں اور سرپرستی کو قرار دیتے ہیں۔ سٹی تھانہ خانپور میں ملک اسحاق سمیت سولہ افراد پر مقدمہ درج ہو چکا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ گڈگورننس کا راگ الاپنے والی پنجاب حکومت، ملک اسحاق کو کیسے گرفتار کرتی ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اگر ملک اسحاق کو گرفتار نہ کیا گیا اور اس پر مقدمہ نہ چلایا گیا تو یہ تاثر ملت تشیع میں زور پکڑے گا کہ اُن کا ناحق خون بہانے میں پنجاب حکومت برابر کی شریک ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلٰی، جو اپنے آپ کو خادم اعلٰی پنجاب کہتے ہیں، وہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کیلئے کیا اقدامات کرتے ہیں۔زمین سخت ہے اور آسمان بھی دور، انسان جائے بھی تو کہاں؟ ہر روز ایک نئی داستان رقم ہو رہی ہے اور آنے والا ہر دن کئی گھروں کے چراغ گل ہونے کی خبر دے رہا ہے، کہیں بم دھماکے ہوتے ہیں تو کہیں ٹارگٹ کلنگ، کوئی اغوا ہو رہا ہے تو کسی کو فقط اس جرم کی پاداش میں موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے کہ اس کے نام کیساتھ لفظ علی، حسن یا حسین آتا ہے اور شائد اس سے بڑھ کر یہ جرم ہے کہ ان کے آباو اجداد نے اس ملک کی خاطر اتنی بڑی قربانیاں دیں، کسی کی باری لگ گئی ہے تو کوئی اگلے نشانے پر ہے، اس ملک میں کوئی پوچھنے والا نہیں، حکمرانوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے، وہ تو فقط اپنی حکومت کے پانچ سال مکمل کرنے کیلئے تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں، بھلے ملک میں خون کی ہولی کھیلی جاتی رہے۔ جب کبھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کو طالبان اور دہشتگردی کا نام دیکر اگلے واقعہ کا انتظار کیا جاتا ہے، خون اتنا ارزاں ہے کہ جب اور جہاں جس فرقہ پرست کو موقعہ ملتا ہے وہ اپنا کام کر دکھاتا ہے۔سانحہ مستونگ میں چھبیس شہداء کا واقعہ ہو یا سانحہ اختر آباد، آج تک عوام یہ خبر سننے کو ترس گئے ہیں کہ واقعہ کے اصل محرکات کیا تھے۔؟ کس نے مجرموں کو پناہ دی اور کس نے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی، آج تک کسی کو پتہ نہیں چل سکا، یہاں مجرموں کی گرفتاری تو دور کی بات ہے ایف آئی آر تک درج نہیں کی جاتی، پاسبان جعفریہ کے سربراہ عسکری رضا کی شہادت اور ملزموں کیخلاف جس انداز میں ایف آئی آر درج ہوئی وہ پوری قوم جانتی ہے، بلوچستان ہائی کورٹ نے سانحہ مستونگ کا ازخود نوٹس لیا، لیکن تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی، اس کی وجہ کیا ہے؟ کسی کو معلوم نہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ عوام کا عدالتوں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے اور دہشتگرد پراعتماد ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ ان کے دھمکانے سے جج اپنے فیصلے فوراً تبدیل کر لیتے ہیں، مستبقل میں حالات مزید خراب ہونگے، سانحہ خانپور انہی واقعات کا تسلسل ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو ٹھیک ہونے میں مزید چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امام بارگاہ دربار حسین ع سے چہلم امام حسین علیہ السلام کا جلوس برآمد ہوا اور ابھی چند فرلانگ کے فاصلہ پر پہنچا ہی تھا کہ کھمبے کیساتھ بوسیدہ قرآنی اوراق اور مقدس کاغذات کے ڈبے میں نصب کیا گیا بم پھٹ گیا۔ اس واقعہ میں سب سے زیادہ شہادتیں بستی حاجن سے تعلق رکھنی والی بلوچ فیملی کی ہوئیں، جن کے گیارہ افراد شہید ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، بستی حاجن کا نام تبدیل کر کے اب بستی شہداء رکھ دیا گیا ہے۔ جب اس بستی کا نام ذہن میں آتا ہے تو بے ساختہ آنکھوں سے اشک رواں ہو جاتے ہیں۔اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے مناظر کو قرطاس پر اُتارنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ میں نے یہ مناظر اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھے ہیں کہ شہداء کے ورثاء شدت غم سے نڈھال تھے، اکثر لوگوں کی آنکھیں رو رو کر پتھرا گئی تھیں، کہیں سے آواز آ رہی تھی کہ ہم نے اپنا بیٹا حضرت علی اکبر ع کے صدقے میں دیا ہے، کہیں سے صدائیں آ رہی تھیں کہ اے میرے بچے جا تجھے ہم نے علی قاسم ع کے صدقے میں دے دیا، کوئی ماں کہہ رہی تھی اے فاطمہ الزہرہ سلام اللہ علیہا مجھ سے راضی ہو جانا میں نے اپنے دو جوان بیٹے تیرے حسین ع کے صدقے میں قربان کر دئیے ہیں۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لیاقت پور، ظاہر پیر، رکن پور، اوچ شریف، احمد پور شرقیہ، بہاولپور، ملتان، مظفر گڑھ، علی پور، سیت پور، صادق آباد سمیت لاہور، اسلام آباد سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جنازے میں شرکت کیلئے پہنچ گئے۔ اکثر لوگ ذہنی طور پر آمادہ ہو کر آئے تھے کہ وہ مطالبات کی منظوری تک وہاں دھرنا دیں گے اور جس طرح پاسبان جعفریہ کے سربراہ عسکری رضا شہید کے نامزد ملزم اورنگ زیب فاروقی کے خلاف پچاس ہزار سے زائد لوگوں نے گورنر ہاؤس کراچی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیکر اپنے مطالبات منظور کرا لئے تھے وہ بھی عزت کا راستہ اپناتے ہوئے خانپور تھانہ صدر کے باہر نئی تاریخ رقم کریں گے اور دنیا کو بتا دیں گے کہ تشیع کا خون اتنا ارزاں نہیں، مگر اُن کی یہ سب تدبیریں کارآمد ثابت نہ ہوئیںپنجاب پولیس کی لاپرواہی اور غفلت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ خانپور میں جیسے ہی بم بلاسٹ ہوا تو ایس ایچ او اظہر خان نے آر پی او بہاولپور کو بتایا کہ دھماکہ ٹرانسفارمر پھٹ جانے کا نتیجہ ہے، جس کے باعث آر پی او بہاولپور نے فوراً میڈیا پر بیان داغ دیا کہ یہ واقعہ ٹرانسفارمر کے پھٹنے سے ہوا ہے۔ ایس ایچ او نے غلط بیانی کی، مگر یہ بات حیران کن ہے کہ دوسرا برآمد ہونے والا بم جسے ناکارہ بنایا گیا وہ ٹرانسفارمر والی جگہ سے ہی برآمد ہوا، اسے اتفاق کہیں یا پھر یہ کہیں کہ اس واقعہ میں ایس ایچ او ملوث ہے۔ خانپور کے اکثر مومینین اسے محض اتفاق قرار دیتے پر تیار نہیں۔  ایم ڈبلیو ایم ضلع رحیم یار خان کے سیکرٹری جنرل اصغر تقی سے اس حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے اس سانحہ کی ذمہ داری کالعدم دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی کے رہنماء ملک اسحاق پر عائد کی، اسی طرح شیعہ علماء کونسل کے ضلعی رہنما مولانا ضمیر حسین بھی اس واقعہ میں ملک اسحاق کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کو بھی ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک اسحاق ضلع رحیم یار کے علاقے ٹرنڈا سوئے خان سے تعلق رکھتا ہے جو تحصیل خانپور سے فقط بیس سے پچیس کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ملک اسحاق کی رہائی کے بعد خانپور میں ایک ریلی بھی نکالی گئی تھی، جس میں ہزاروں کی تعداد میں افراد اکھٹے ہوئے، اس ریلی میں ملک اسحاق کا استقبال کیا گیا اور شہر میں باقاعدہ تقریر کا اہتمام کیا گیا، جس میں آن ریکارڈ شیعہ کافر کے نعرے لگائے گئے اور ملک اسحاق کی تمام تقریر ملت تشیع کے خلاف تھی۔  ملک اسحاق نے ایک بار نہیں، بلکہ کئی مرتبہ اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پہلے والا کام کرے گا، دنیا جانتی ہے کہ وہ پہلے کیا کام کرتا تھا، اس ساری صورتحال کے پیش نظر ضلع رحیم یار خان کی مختلف شخصیات نے ڈی پی او رحیم یار خان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا کہ ملک اسحاق اس علاقے کیلئے خطرہ ہے، لہٰذا اس دہشتگرد کو پابند سلاسل کیا جائے۔ ملک اسحاق نے رہائی کے فوراً بعد ہی مختلف علاقوں میں دورے شروع کر دئیے تھے، جس میں علی پور گھلواں کا دورہ بھی شامل ہے، جس کے بعد اس دہشتگرد کو نظر بند کر دیا گیا اور لاہور ہائیکورٹ نے دوبارہ نظر بندی کے ختم کرنے کے احکامات جاری کئے، اس وقت ملک اسحاق آزادانہ نقل و حرکت کر رہا ہے۔   واضح رہے کہ ضلع رحیم یار خان میں تریسٹھ برسوں میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ مبصرین خانپور  واقعہ کی بڑی وجہ پنجاب حکومت کے کالعدم تنظیموں سے رابطوں اور سرپرستی کو قرار دیتے ہیں۔ سٹی تھانہ خانپور میں ملک اسحاق سمیت سولہ افراد پر مقدمہ درج ہو چکا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ گڈگورننس کا راگ الاپنے والی پنجاب حکومت، ملک اسحاق کو کیسے گرفتار کرتی ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اگر ملک اسحاق کو گرفتار نہ کیا گیا اور اس پر مقدمہ نہ چلایا گیا تو یہ تاثر ملت تشیع میں زور پکڑے گا کہ اُن کا ناحق خون بہانے میں پنجاب حکومت برابر کی شریک ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلٰی، جو اپنے آپ کو خادم اعلٰی پنجاب کہتے ہیں، وہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کیلئے کیا اقدامات کرتے ہیں۔….تحریر: نادر بلوچ

اپنے اخباری بیان میں شیعہ علماء کونسل کے سربراہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کے سدباب کے لئے مناسب حکمت عملی ترتیب دے کر عوام کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے مرکزی ترجمان نے گذشتہ دنوں لاہور میں جعلی ادویات سے متعدد ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے ورثا اور لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس افسوسناک واقعہ کی مکمل چھان بین اور تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک اخباری بیان میں ترجمان نے مزید کہا کہ ملک میں ایک طرف تو مختلف مسائل و مشکلات میں گھرے عوام کے لئے علاج معالجے کی بنیادی سہولیات ناپید ہیں اور اوپر سے اگر کہیں یہ سہولیات دستیاب ہوں تو وہاں پر جعلی ادویات کے ذریعے اس قسم کے واقعات کا وقوع پذیر ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ ترجمان نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ مستقبل میں ایسے واقعات کے سدباب کے لئے مناسب حکمت عملی ترتیب دے کر عوام کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے

شاور میں متعین اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل حسن درویش وند سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کا کہنا تھا کہ امام خمینی ایک روحانی شخصیت کے علاوہ ایک عالمی رہنماء اور مدبر سیاستدان تھے جنہوں نے دوسروں کیلئے کئی ایک قابل تقلید مثالیں قائم کیں، پاکستان اور ایران اسلامی بھائی چارے اور دوستی کے لازوال رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کرامت اللہ خان چغرمٹی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران اسلامی بھائی چارے اور دوستی کے لازوال رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، امام خمینی کو جو اعلیٰ مقام حاصل ہوا ہے وہ بہت ہی کم شخصیات کو ملتا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسمبلی چیمبر میں پشاور میں متعین اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل حسن درویش وند سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، سپیکر صوبائی اسمبلی نے کہا کہ آیت اللہ امام خمینی ایک روحانی شخصیت کے علاوہ ایک عالمی رہنماء اور مدبر سیاستدان تھے جنہوں نے دوسروں کیلئے کئی ایک قابل تقلید مثالیں قائم کیں، انہوں نے کہا کہ امام خمینی کو جو اعلیٰ مقام حاصل ہوا ہے وہ بہت ہی کم شخصیات کو ملتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم اور پائیدار ہو رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ دونو ں برادر اسلامی ممالک کے عوام میں بھی نجی طور بھی خوشگوار تعلقات قائم ہیں، صوبہ خیبر پختونخوا بالخصوص پشاور کے گھرانوں میں فارسی بولی اور سمجھی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ وفود کی ملاقاتوں سے ممالک کے نہ صرف تعلقات مزید مضبوط ہوتے ہیں بلکہ ان سے عوام بھی ایک دوسرے کے قریب تر ہوتے ہیں، ایرانی قونصل جنرل حسن درویش وند نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بالخصوص پشاور کو اپنا دوسرا گھر تصور کرتے ہیں، پشاور انہیں اپنے دیس جیسا محسوس ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور ایران کی تہذیب و ثقافت اور رسم و رواج میں تقریباً یکسانیت ہے، اس موقع پر حسن درویش وند نے سپیکر صوبائی اسمبلی کو ایران کے دورے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی، ملاقات میں سپیکر اسمبلی نے ایرانی قونصل جنرل کو اسمبلی کا سونئر پیش کیا جبکہ ایرانی قونصل جنرل نے سپیکر صوبائی اسمبلی کو ایران کی سوغات پر مشتمل ایک تحفہ پیش کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے تیل پر یکطرفہ پابندیاں آزاد ریاستوں پر معاشی دباﺅ ڈالنے اور انہیں نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ ایران پر پابندیوں سے خطے کی صورتحال مزید بگڑے گی جس کا اثر پوری دنیا پر پڑیگا۔ بیلا روس کی حکومت نے یورپی یونین کی جانب سے ایران پر پابندیوں کی شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام ناقابل قبول ہے۔ بیلا روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کا یہ اقدام قابل افسوس ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے تیل پر یکطرفہ پابندیاں آزاد ریاستوں پر معاشی دباﺅ ڈالنے اور انہیں نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ ایران پر پابندیوں سے خطے کی صورتحال مزید بگڑے گی جس کا اثر پوری دنیا پر پڑیگا۔

واضح رہے کہ 2006ء سے امریکی فوج میں جنسی جرائم اور گھریلو تشدد میں 30 فیصد اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں میں 43 فیصد اضافہ ہوا۔امریکی فوج میں پہلے کی نسبت خودکشیوں کی تعداد میں کمی اور گھریلو تشدد اور جنسی جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2011ء میں 278 امریکی فوجیوں نے خودکشی کی اور یہ تعداد 2010ء میں سامنے آنے والی تعداد سے 9 فیصد کم ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ 4 سال میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکی فوج میں خودکشیوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، خودکشیوں کے علاوہ اس رپورٹ میں فوجیوں میں حادثات کے بعد سامنے آنے والے ذہنی دباو کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس مرض میں فوجیوں کی تعداد 4 لاکھ 72 ہزار سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔   پینٹاگون میں نیوز کانفرنس کے دوران جنرل پیٹر چارلی نے صحافیوں کو بتایا، اگرچہ اس رپورٹ میں بہت سی اچھی خبریں ہیں، لیکن ان کے ساتھ ساتھ بری خبریں بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں اس صورتِحال کو سلجھانے کے لیے ابھی بہت کام کرنا ہے۔ واضح رہے کہ 2006ء سے امریکی فوج میں جنسی جرائم اور گھریلو تشدد میں 30 فیصد اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں میں 43فیصد اضافہ ہوا، منظرِ عام پر آنے والی اس رپورٹ میں ایک 2010ء کی رپورٹ کا بھی تذکرہ ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج یا تو خودکشی کے بارے میں سوچنے والے فوجیوں کی حالت پر دھیان نہیں دے رہی یا پھر فوج ان کی طبیعت سے ناآشنا ہے۔ رپورٹ میں اس صورتِحال کی وجہ امریکی فوجیوں کی عراق اور افغانستان میں تعیناتی بھی بتائی گئی ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سال 2011ء میں فوج میں جنسی تشدد کے 2290 واقعات رونما ہوئے جو 2006ء کے مقابلے میں 64 فیصد زیادہ ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے فوجی سپاہیوں میں خودکشی اور جنسی تشدد کے رجحان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 2011ء میں 164 فوجی اہلکاروں نے خودکشی کی۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سال 2011ء میں فوج میں جنسی تشدد کے 2290 واقعات رونما ہوئے جو 2006ء کے مقابلے میں 64 فیصد زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دس میں سے 6 جنسی تشدد کے واقعات میں ذمہ داروں نے شراب نوشی کی ہوئی تھی۔ جنسی تشدد کے زیادہ تر واقعات خاتون فوجی اہلکاروں کے خلاف وقوع پذیر ہوئے۔

بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق افغان طالبان نے قطر میں امریکا کے ساتھ ہونے والے اپنے مذاکرات سے متعلق بلیو پرنٹ پاکستان کو فراہم کر دیا ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے اپنے مذاکرات سے طالبان نے کسی دوسرے ملک کو آگاہ کیا ہے۔افغان طالبان نے امریکا کے ساتھ ہونے والے اپنے باضابطہ مذاکرات کی تفصیلات سے پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے حکام طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں نظرانداز کیے جانے پر امریکا سے ناراض ہیں، دونوں ممالک نے پروفیسر برہان الدین کے قتل کے بعد تعطل کا شکار ہونے والی مشترکہ امن کوششوں کی بحالی پر اتفاق کر لیا ہے، جبکہ پاکستان میں طالبان دور کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی حمایت جبکہ پڑوسی ممالک کی اس عمل میں شمولیت کی شدید مخالفت کی ہے۔ بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق ایک افغان عہدیدار نے بتایا کہ افغان طالبان نے قطر میں امریکا کے ساتھ ہونے والے اپنے مذاکرات سے متعلق بلیو پرنٹ پاکستان کو فراہم کر دیا ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے اپنے مذاکرات سے طالبان نے کسی دوسرے ملک کو آگاہ کیا ہے۔ افغان رہنما کے مطابق طالبان نے مذاکرات کی تمام تر معلومات کی فراہمی کے بعد پاکستان سے پوچھا ہے کہ اس کو کسی چیز پر اعتراض ہے؟ اس کی کیا ترجیحات ہیں؟ اس کے علاوہ افغان طالبان نے ان مذاکرات اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں حقانی نیٹ ورک کو مطلع کیا ہے۔ دوسری جانب ایک افغان سفارتکار نے بتایا کہ مذاکراتی عمل میں نظرانداز کئے جانے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے رہنمائوں نے مشترکہ امن کوششیں بحال کرنے پر اتفاق کیا۔ سفارتکار کے مطابق افغان حکومت چاہتی ہے کہ صدر زرداری یا وزیر اعظم گیلانی کابل کا دورہ کریں

ضلعی عہدیداران کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی امیر بحراللہ خان نے کہا کہ امریکہ آستین کا سانپ ہے اور اس نے ہمیشہ پاکستان کو ڈسا ہے، سپلائی بحالی کا فیصلہ حکمرانوں کو مہنگا پڑیگا۔جماعت اسلامی ضلع پشاور کے امیر بحراللہ خان ایڈووکیٹ نے اعلان کیا ہے کہ 3 فروری کو پشاور سے ہزاروں لوگ نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے خلاف پارلیمنٹ ہائوس کے گھیرائو کے لئے اسلام آباد پہنچیں گے، ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے جماعت اسلامی ضلع پشاور کے ضلعی عہدیداران کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اُنہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سینکڑوں چھوٹی بڑی گاڑیوں پر مشتمل جلوس 3 فروری 9 بجے صبح ہشتنگری چوک سے روانہ ہوگا اور اسلام آباد میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی بھی صورت افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکی افواج کو پاکستان کے راستے سپلائی بحال نہیں ہونے دے گی، جامعت اسلامی پشاور کے امیر نے کہا کہ امریکہ آستین کا سانپ ہے اور اس نے ہمیشہ پاکستان کو ڈسا ہے، سپلائی بحالی کا فیصلہ حکمرانوں کو مہنگا پڑیگا۔

ایس یو سی خیبر پختونخوا کے سربراہ کا کراچی میں ایک ہی خاندان کے تین وکلاء کے قتل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہر قائد میں آئے روز ٹارگٹ کلنگ کے واقعات صوبائی اور مرکزی حکومت کی نااہلی اور بے بسی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے سربراہ علامہ محمد رمضان توقیر نے کراچی میں 3 وکلاء کی شہادت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہر قائد میں دہشتگردوں اور فرقہ پرستوں کا مکمل راج ہے، آئے روز ٹارگٹ کلنگ کے واقعات صوبائی اور مرکزی حکومت کی نااہلی اور بے بسی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اسلام ٹائمز کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یکم محرم الحرام سے اب تک روزانہ کی بنیاد پر اہل تشیع کو چن چن کر مارا جا رہا ہے، لیکن حکمران حسب معمول خاموشی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں، اور دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ملت تشیع کے افراد یونہی نشانہ بنتے رہے تو صورتحال حکمرانوں کیلئے بھی ناقابل برداشت ہو سکتی ہے۔ علامہ رمضان تو قیر نے مزید کہا کہ کالعدم تنظیموں کے بدنام زمانہ دہشتگردوں کی آزادانہ نقل حرکت باعث تشویش ہے، اور اسی وجہ سے کراچی میں فرقہ واریت کے واقعات پیش آ رہے ہیں، انہوں نے ایڈووکیٹ بدر منیر جعفری، ان کے بیٹے شکیل جعفری اور بھتیجے کفیل جعفری کی شہادت پر ان کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تینوں شہداء کے قاتلوں سمیت دیگر اہل تشیع کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور انہیں عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔

کراچی میں تین وکلاء کے جنازوں کے موقع پر شیعہ علمائے کرام نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار نہیں کیا گیا تو ملت جعفریہ ہر قسم کا حکومتی رابطہ منقطع کر دے گی۔ملت جعفریہ لیگل ایڈ کمیٹی کے وکلاء کی شہادت حکومتی نااہلی اور کالعدم جماعتوں کی حکومتی سرپرستی کا شاخسانہ ہے، ان خیالات کا اظہار کراچی میں تین وکلاء کی نماز جنازہ سے قبل جامعہ مسجد و امام بارگاہ دربار حسینی ملیر کالا بورڈ کے باہر شیعہ علمائے کرام نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، پریس کانفرنس میں موجود شیعہ علمائے کرام مولانا باقر زیدی، مولانا مرزا یوسف حسین، مولانا ذوالفقار جعفری، مولانا شیخ حسن صلاح الدین، مولانا جعفر سبحانی، مولانا علی انور جعفری، مولانا حیدر عباس عابدی، مولانا شبیر حسن میثمی، مولانا عقیل موسٰی، محمد مہدی، چچا وحید الحسن و دیگر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یکم محرم سے ملت جعفریہ کے عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے، وزیر داخلہ اور گورنر سندھ سوائے جھوٹے دعوؤں کے سوا کوئی عملی اقدام نہیں کر رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی گورنر سندھ نے ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کالعدم جماعت کے رہنماء اور سی آئی ڈی کے ایس ایس پی چوہدری اسلم کو گرفتار کرنے کے جھوٹے دعوے کیے جو کہ تاحال پورے نہیں کیے گئے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے 18 فروری تک یکم محرم سے لیکر اب تک شہید ہونے والے شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار نہیں کیا تو ملت جعفریہ اپنے فیصلوں میں خود مختار ہے اور ملت جعفریہ ہر قسم کا حکومتی رابطہ منقطع کر دے گی، جس کے بعد پیش آنے والے تمام تر حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہو گی۔  رہنماؤں نے شہید ہونے والے وکلاء کے خانوادوں کے جسد خاکی کو جلدی دفنانے اور جلوس جنازہ کے راستہ کو تبدیل کرنے کے ساتھ پرامن سوگ و ہڑتال میں دکانوں کو جلدی کھولنے کیلئے دی جانے والی دھمکیوں پر ایک سیاسی جماعت کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملت جعفریہ کا کوئی شخص لاوارث نہیں، ملت جعفریہ کبھی بھی، کسی کی بھی ڈکٹیشن پر نہیں چلی ہے، اگر آج کے بعد کوئی اس قسم کی حرکت کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

مرکزی نائب صدر کا کہنا ہے کہ آج جہاں عالمِ اسلام کو متحد رہنے کی ضرورت ہے وہیں شرپسند عناصر کے خلاف مشترکہ آواز بلند کرنے کی بھی ضرورت ہے۔امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی نائب صدر برادر عسکری مہدی نے کراچی میں وکلاء کی بیگناہ ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتے اور خانوادہ شہداء سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلام اور ملک دشمن غیر ملکی ایجنڈا ہے، جس پر ایک مخصوص گروہ عمل پیرا ہے، جو پورے ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سامراجی قوتیں پاکستان کو افغانستان بنانے کے ایجنڈے کی تکمیل پر عمل پیرا ہیں جبکہ حکومت پاکستان غیر ملکی ایجنڈے کو روکنے میں ناکامی کا شکار ہو چکی ہے، اگر سکیورٹی اداروں نے ابھی بھی شر پسند عناصر کے خلاف کارروائی نہ کی تو ملک تباہی سے دو چار ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یکم محرم سے شیعہ نسل کشی جاری ہے اور حکومت کالعدم جماعتوں کے سامنے بے بسی کا مظاہرہ کر رہی ہے، ہمارا خون ملک کی بنیادوں میں شامل ہے اور اس لئے ہم صبر کا دامن اپنے ہاتھوں سے نہیں چھوڑتے، لیکن ہماری صبر کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فی الفور کالعدم تنظیم کے خلاف کارروائی کی جائے، تاکہ فرقہ واریت کو ہوا دینے اور اتحاد بین المسلمین کو کمزور کرنے کی غیر ملکی سازشوں کو روکا جا سکے۔  عسکری مہدی نے کہا کہ آج جہاں عالمِ اسلام کو متحد رہنے کی ضرورت ہے، وہیں شرپسند عناصر کے خلاف آواز بلند کرنے کی بھی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں شیعہ مقدسات کی توہین کرنا اسلام دشمنی کی نشاندہی کرتا ہے، ان اسلام دشمن عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ ملت تشیع میں پائے جانے والی بے چینی ختم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام محبِ وطن حلقوں کو چاہیے کہ شر پسند عناصر کے خلاف متحد ہو جائیں، تاکہ ملک بھر میں امن و امان برقرار رہے۔

اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چیپٹر سات کے تحت عائد کردہ پابندیوں کا پابند ہے، تاہم پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ان پابندیوں کی زد میں نہیں آتا۔دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ایران پر اقوام متحدہ یا امریکی پابندیوں کی زد میں نہیں آتا۔ اس حوالے سے پاکستان اپنے موقف پر قائم ہے۔ امریکا کے ساتھ سیاسی روابط کی بحالی کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ بگرام ایئربیس پر 31 پاکستانی قید ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط نے اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چیپٹر سات کے تحت عائد کردہ پابندیوں کا پابند ہے، تاہم پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ان پابندیوں کی زد میں نہیں آتا اور یہ منصوبہ ضرور مکمل ہو گا، پاکستان نے اس حوالے سے اپنا موقف تبدیل نہیں کیا،اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں‌ ہو گا۔ ترجمان نے بتایا کہ افغانستان کی بگرام ایئر بیس پر 31 پاکستانی قید ہیں، ان پاکستانیوں کی رہائی کے لئے کابل میں پاکستانی سفیر امریکی مشن کے ساتھ رابطے میں ہیں۔  ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطے معمول کے مطابق جاری ہیں، تاہم پاک امریکہ سیاسی روابط ابھی تک منقطع ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے مجوزہ دورہ افغانستان کے لئے ابھی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔ پاکستان افغانستان میں مقامی مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے لیے یو این ایچ سی آر کو قابل عمل منصوبہ تیار کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ قطر میں طالبان کا دفتر کھولنے کے لیے مبینہ پاکستانی معاونت سے متعلق سوال پر ترجمان نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ روس کی بھارت کو ہھتیاروں کی فراہمی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک کو ہتھیاروں کی دوڑ سے گریز کرنا ہو گا۔

جماعت اسلامی کے امير کا منصورہ ميں مختلف وفود سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پانچ فروری کو کشميريوں کے ساتھ اظہار يکجہتی پورے جوش و خروش کے ساتھ منايا جائے گا۔جماعت اسلامی کے امير سيد منور حسن نے کہا ہے کہ پاکستان امريکی مفادات کے ليے اس کی ڈکٹيشن قبول نہ کرے۔ ان خيالات کا اظہار سيد منور حسن نے لاہور ميں جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ ميں مختلف وفود سے گفتگو ميں کيا، ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو انتہائی پسنديدہ ملک قرار دے کر اور قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر ايران کے بجائے بھارت سے ڈيزل اور پٹرول خريدنے کی تيارياں کی جا رہی ہيں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ فروری کو کشميريوں کے ساتھ اظہار يکجہتی پورے جوش و خروش کے ساتھ منايا جائے گا۔

بیرونی قوتیں نہیں چاہتی کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات صحیح ہوں، اسی لئے وہ ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ مختلف کالعدم تنظیمیں ان واقعات میں ملوث ہیں جو نام بدل بدل کر اپنے ناپاک عزائم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آج تک کسی بھی دہشتگرد کو گرفتار نہیں‌ کیا گیا۔ جب تک ہمارے ملک کے ادارے اور ایجنسیاں بیرونی دباوء میں بنائی گئی پالیسیاں تبدیل نہیں ‌کریں گی، تب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ہم سمجھتے ہے کہ فرقہ واریت اسلام کے خلاف ہے، جمعیت علماء‌ پاکستان ملک میں اتحاد و اتفاق کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔  امریکہ تو اسلام دشمن ملک ہے، وہ نہیں‌ چاہتا کہ کوئی بھی اسلامی ملک ایٹمی طاقت بنے۔ پاکستان کے چند محب وطن سائنسدان تھے، جن کی وجہ سے آج پاکستان واحد ایٹمی قوت ہے۔ دوسری جانب امریکہ پاکستان کو بھی برداشت نہیں‌ کر سکتا کہ وہ ایٹمی طاقت بنا رہا۔ اسے ایٹمی قوت بننے کی وجہ سے آج ہم مزید دباوء کا شکار ہیں اور ان کی نظریں ہماری ایٹمی تنصیبات پر بھی ہیں۔ اگرچہ کے پاکستان ایران سے غریب اور محکوم ملک ہے، لیکن پھر بھی امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کے پاس ایٹمی طاقت ہو۔  دوسری جانب ایران تو پہلے سے ہی امریکہ کیخلاف ہے تو امریکہ دوسرے اسلامی ملک کے ایٹمی طاقت بننے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امریکہ نہیں‌ چاہتا کہ ایک عظیم اسلامی جمہوری ملک ایٹمی طاقت بنےآج یہاں پر فرقہ واریت کو اسی لئے ہوا دی جا رہی ہے، تاکہ یہاں کے لوگ ایران کیخلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔ امریکہ یہی چاہتا ہے کہ مستقبل میں ‌اگر ایران پر حملہ کرے تو یہاں پر اُسکی راہ ہموار ہو۔ لیکن اللہ کا شکر ہے امریکہ آج تک اس میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اسلئے میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کو اس سلسلہ میں کامیابی نہیں ملی اور اسی لئے ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ اور اگر وہ حملہ کرتا بھی ہے تو یہ اسکی تباہی و بربادی کا باعث بنے گا۔پاکستان کی پالیسیاں خود کی بنائی ہوئی نہیں ہیں، یہ ایک محکوم ملک ہے، اس کی تمام تر پالیسیاں دباو کے تحت ہیں، یہ آزاد مملکت نہیں ہے، یہ سپُر پاور کے زیر اثر ہے۔ پاکستان امریکہ سمیت سعودی عرب کے بھی زیر اثر ہے، جسکی وجہ سے پاکستان کہ کوئی مثالی پالیسیاں نہیں ہیں کہ ہم ان کی حمایت کریں۔ آج پاکستان کے تمام ہمسائے اس سے شکایت کر رہے ہیں۔ چاہیئے وہ انڈیا، چین یا ایران ہی کیوں نہ ہو۔ ہم خود اہنے دشمن ہیں۔ عالم اسلام میں اس وقت صرف ایران ہی ایسا واحد ملک ہے، جو نام نہاد سُپر پاوروں‌ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے، کیونکہ وہ ایک آزاد اور اسلامی جمہوری ملک ہے۔

مغربی قوتیں چاہتی ہیں کہ خطے میں آمر حکمرانوں، تکفیری تنظیموں، باسابقہ اسلامی تنظیموں اور بعض شدت پسند عناصر کی مدد سے ایک ایسا نظام ایجاد کرے جو خطے میں مذہبی جنگ کا باعث بن جائےخطے میں ایک سال قبل جنم لینے والی اسلامی بیداری کی لہر نے امریکہ کے پٹھو حکمرانوں کو سرنگونی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔ امریکہ کے سامنے نئے پیدا ہونے والے سیاسی حالات کے مدنظر دو راستے موجود تھے۔ ایک یہ کہ خاموشی سے بیٹھ کر اپنے پٹھووں کی یکے بعد دیگرے سرنگونی کا تماشا کرتے رہے اور دوسرا یہ کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان حالات کا مقابلہ کرے اور اپنی پوری کوشش کرے کہ مغرب کے بنیادی اصول یعنی خطے سے سستی انرجی کی ترسیل اور اسرائیل کی قومی سلامتی کی یقین دہانی کو محفوظ بنا سکے۔ اس بیداری کی لہر میں عوام ایسے ڈکٹیٹرز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جنہیں امریکہ نے ان پر زبردستی ٹھونس رکھا تھا۔ ان آمر حکمرانوں کی سرنگونی کا منطقی نتیجہ انقلابی ممالک سے امریکی اثر و رسوخ کا مکمل خاتمہ ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ چاہتا ہے کہ وہ سیاسی حالات کو ایسے رخ میں لے جائے کہ اسکے مفادات کو کم از کم نقصان پہنچے۔  آج اگر اسرائیلی تھنک ٹینکس سے یہ سوال پوچھا جائے کہ شام میں بدامنی کیوں پھیلا رہے ہیں تو انکی جانب سے دو جواب سامنے آئیں گے۔ پہلا جواب یہ کہ شام پر دباو ڈالنے کا مقصد اسلامی مزاحمت کے مرکز ایران سے مقابلہ کرنا ہے۔ اور دوسرا جواب یہ کہ مغربی مفادات کے حصول کیلئے انہیں چاہئے کہ وہ براہ راست ایران کو اپنے حملے کا نشانہ بنائیں تاکہ خطے میں اسلامی مزاحمت کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔
امریکہ کئی عشروں سے یہ اعلان کر رہا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ خطے میں اسکی حامی قوتوں کو ختم کیا جائے تاکہ ہم اس جنگ میں کم از کم اخراجات کے ذریعے اپنے اھداف کو حاصل کر سکیں۔  شام میں صدر بشار اسد کی سرنگونی مغربی دنیا کی آرزو ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل شام میں سرگرم عمل ہے تاکہ اس طریقے سے ایران کو آسانی سے شکست دے سکے۔ بین الاقوامی امن فوجی کی موجودگی کے باوجود حزب اللہ لبنان کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیاں بھی اسی تناظر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔  بعض ماہرین کے نزدیک شام میں مغربی قوتوں کی مداخلت ایک بڑے ھدف کا مقدمہ ہے جسکے ذریعے وہ حقیقی خودمختار اور جہادی اسلام کے مقابلے میں امریکی اسلام متعارف کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔  پہلا نظریہ رکھنے والے ماہرین شام کو ایران سے مربوط مسائل کے ضمن میں دیکھتے ہیں جبکہ دوسرے نظریئے کے حامل ماہرین کی نگاہ زیادہ جامع ہے اور وہ اس بات کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں کہ ایک تیر میں دو شکار کئے جائیں اور ایران کا مسئلہ بھی حل ہو جائے اور خطے میں اسلامی بیداری کی لہر پر بھی قابو پا لیا جائے۔ انکا خیال ہے کہ ایران کو خطے میں اسلامی بیداری کی امواج سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے جسکے نتیجے میں خطے سے امریکی اثر و رسوخ کے خاتمے یا کمی کو ایران کی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔  مغربی قوتیں چاہتی ہیں کہ خطے میں آمر حکمرانوں، تکفیری تنظیموں، باسابقہ اسلامی تنظیموں اور بعض شدت پسند عناصر کی مدد سے ایک ایسا نظام ایجاد کرے جو خطے میں مذہبی جنگ کا باعث بن جائے۔ یہ منصوبہ شمالی افریقہ سے جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلا ہوا ہے اور اس سازش کا مرکز اسرائیل ہے۔  شام میں مغربی قوتوں کے مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہو سکے اور خانہ جنگی بھی بند گلی سے روبرو ہو گئی۔ شام کی فوج میں بھی وہ تفرقہ نہیں ڈال سکے۔ لہذا انکے پاس واحد راستہ مذہبی جنگ کا آغاز کروانا ہے۔
شام سے مختلف رپورٹس کی روشنی میں اب تک پانچ ہزار افراد قتل کئے جا چکے ہیں جن میں تین ہزار عام شہری جبکہ دو ہزار فوجی شامل ہیں۔ قتل کئے جانے والے افراد میں سات سو ایسے شیعہ افراد بھی شامل ہیں جنکا لڑائی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں مذہبی فسادات پھیلائے جانے کی سازش ہو رہی ہے۔  حزب اللہ لبنان کی طاقت اب تک شام میں مذہبی فسادات شروع نہ ہونے کا باعث بنی ہے۔ مغربی قوتوں کے پاس شام کی حکومت کو سرنگون کرنے کا واحد راستہ وہاں پر مذہبی فسادات شروع کروانا تھا جبکہ انہیں یہ پریشانی بھی لاحق تھی کہ کہیں حزب اللہ لبنان اپنی توانائی اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے لبنان سے بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدت پسند افراد کو شام بھیجنے میں رکاوٹ نہ بن جائے۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور خطے میں شیعہ تنظیمیں ان مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور جانتی ہیں کہ مغرب نے خطے میں جو عظیم سازشیں تیار کر رکھی ہیں یہ انکی شکست اور بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بحرین کی صورتحال بھی بالکل ایسی ہی ہے۔ وہاں عوامی تحریک کے آغاز میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ ایک شیعہ سنی جنگ ہے لیکن شیعہ قوتوں کی ہوشیاری نے انکے اس مذموم پروپیگنڈہ کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔  سعودی عرب میں ملک عبداللہ کی موت ایک بڑے سیاسی زلزلے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس سال سب کو توقع ہے کہ سعودی عرب میں سیاسی نظام کسی بڑی تبدیلی سے دوچار ہو گا۔ سعودی عرب نہ فقط مشرق وسطی میں ایک خاص جیوپولیٹیکل حیثیت کا حامل ہے بلکہ امریکہ اور مغربی دنیا کی اقتصاد اور معیشت کیلئے دھڑکتے ہوئے دل کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ سعودی عرب سے ہر روز ایک کروڑ بیرل خام تیل مغربی ممالک کی جانب ارسال کیا جاتا ہے جس میں کسی بھی قسم کا خلل مغربی دنیا کیلئے بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔  یہ تمام حقائق خطے اور مشرق وسطی میں سیاسی تبدیلیوں کی نسبت مغربی دنیا کی حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس خطے کے حالات کو اپنے کنٹرول میں لینے سے متعلق انکی کوششوں کی وجوہات کی بھی اچھی طرح وضاحت کرتے ہیں۔ دوسری طرف اسلامی مزاحمتی بلاک بھی ان مغربی چالوں کے مقابلے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے محو تماشا نہیں بلکہ انتہائی ہوشیاری اور سمجھ داری سے ان کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔ وہ ان تمام مغربی اقدامات کو نظر میں رکھے ہوئے ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مناسب اور منطقی موقف اپنا سکے

حضرت امام حسن مجتبی (ع) نے معاویہ کے سیاسی و نفسیاتی دباؤ اور صلح قبول کرنے کے بعد عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: معاویہ یہ تصور کرتا ہے کہ شاید میں اسے خلافت کے لئے سزاوار سمجھتا ہوں اور میں خود اس کا اہل نہیں ہوں معاویہ جھوٹ بولتا ہے ہم کتاب خدا اور پیغمبر اسلام کے حکم کے مطابق خلافت اور حکومت کے سب سے زيادہ حقدار اور سزاوار ہیں اور پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد سے ہی ہم پر ظلم و ستم کا آغاز ہوگیا۔ تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے فرزند ہیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے ہیں،15 رمضان المبارک سن تین ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے وہ حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ کے پہلے فرزند ہیں پیغمبر اسلام نے ان کا نام حسن رکھا اور یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہیں تھا۔حضرت امام حسن مجتبی (ع) نے معاویہ کے سیاسی و نفسیاتی دباؤ اور صلح قبول کرنے کے بدع عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: معاویہ  یہ تصور کرتا ہے کہ شاید میں اسے خلافت کے لئے سزاوار سمجھتا ہوں اور میں خود اس کا اہل نہیں ہوں معاویہ جھوٹ بولتا ہے ہم کتاب خدا اور پیغمبر اسلام کے حکم کے مطابق خلافت اور حکومت کے سب سے  زيادہ حقدار اور سزاوار ہیں اور پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد سے ہی ہم پر ظلم و ستم کا آغاز ہوگیا۔

امام حسن علیہ اسلام ۔۔۔ ولادت تا شہادت
امام حسن (ع)کی کنیت ؛ ابو محمد، اور سبط اکبر، زکی، مجبتی آپ کے مشہور القاب تھے، پیغمبر اسلام کو حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کے ساتھ خاص محبت اور الفت تھی۔ جب تک پیغمبر اسلام زندہ تھے امام حس ن وامام حسین علیہمالسلام  ان کے ہمراہ تھے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امام حسن (ع) پیغمبراسلام کے نواسے تھے لیکن قرآن نے انہیں فرزندرسول کادرجہ دیا ہے اوراپنے دامن میں جابجا آپ کے تذکرہ کو جگہ دی ہے خود سرورکائنات نے بے شمار احادیث آپ کے متعلق ارشادفرمائی ہیں ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ میں حسنین کودوست رکھتا ہوں اور جو انہیں دوست رکھے اسے بھی قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔    ایک صحابی کابیان ہے کہ میں نے رسول کریم کو اس حال میں دیکھاہے کہ وہ ایک کندھے پرامام حسن کو اور ایک کندھے پر امام حسین کو بٹھائے ہوئے لیے جارہے ہیں اورباری باری دونوں کا منہ چومتے جاتے ہیں ایک صحابی کابیان ہے کہ ایک دن آنحضرت نماز پڑھ رہے تھے اور حسنین آپ کی پشت پرسوار ہو گئے کسی نے روکناچاہا تو حضرت نے اشارہ سے منع کردیا(اصابہ جلد ۲ص ۱۲) ۔  ایک صحابی کابیان ہے کہ میں اس دن سے امام حسن کوبہت زیادہ دوست رکھنے لگا ہوں جس دن میں نے رسول کی آغوش میں بیٹھ کر انہیں داڑھی سے کھیلتے دیکھا(نورالابصارص ۱۱۹) ۔  مدینہ میں اس وقت مروان بن حکم والی تھا اسے معاویہ کاحکم تھاکہ جس صورت سے ہوسکے امام حسن کوہلاک کردو مروان نے ایک رومی دلالہ جس کانام ”الیسونیہ“ تھا کوطلب کیااوراس سے کہا کہ تو جعدہ بنت اشعث کے پاس جاکراسے میرایہ پیغام پہنچادے کہ اگرتوامام حسن کوکسی صورت سے شہید کردے گی توتجھے معاویہ ایک ہزاردینارسرخ اورپچاس خلعت مصری عطاکرے گا اوراپنے بیٹے یزیدکے ساتھ تیرا عقد کردے گا اوراس کے ساتھ ساتھ سودینا نقد بھیج دئیے دلالہ نے وعدہ کیا اور جعدہ کے پاس جاکراس سے وعدہ لے لیا، امام حسن اس وقت گھرمیں نہ تھے اوربمقام عقیق گئے ہوئے تھے اس لیے دلالہ کوبات چیت کااچھاخاصا موقع مل گیا اوروہ جعدہ کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔الغرض مروان نے زہربھیجااورجعدہ نے امام حسن کوشہدمیں ملاکر دیدیا امام علیہ السلام نے اسے کھاتے ہی بیمارہوگیے اورفوراروضہ رسول پرجاکر صحت یاب ہوئے زہرتوآپ نے کھالیا لیکن جعدہ سے بدگمان بھی ہوگئے، آپ کوشبہ ہوگیا جس کی بناپرآپ نے اس کے ہاتھ کاکھاناپیناچھوڑدیااوریہ معمول مقررکرلیاکہ حضرت قاسم کی ماں یاحضرت امام حسین کے گھرسے کھانامنگاکرکھانے لگے ۔ مدینہ منور میں آپ ایام حیات گزاررہے تھے کہ ”ایسونیہ“ دلالہ نے پھرباشارہ مروان جعدہ سے سلسلہ جنبائی شروع کردی اورزہرہلاہل اسے دے کرامام حسن کاکام تمام کرنے کی خواہش کی، امام حسن چونکہ اس سے بدگمان ہوچکے تھے اس لئے اس کی آمدورفت بندتھی اس نے ہرچندکوشش کی لیکن موقع نہ پاسکی بالآخر، شب بست وہشتم صفر ۵۰کووہ اس جگہ جاپہنچی جس مقام پرامام حسن سورہے تھے آپ کے قریب حضرت زینب وام کلثوم سورہی تھیں اورآپ کی پائیتی کنیزیں محوخواب تھیں، جعدہ اس پانی میں زہرہلاہل ملاکرخاموشی سے واپس آئی جوامام حسن کے سرہانے رکھاہواتھا اس کی واپسی کے تھوڑی دیربعدہی امام حسن کی آنکھ کھلی آپ نے جناب زینب کوآوازدی اورکہا ائے بہن، میں نے ابھی ابھی اپنے نانااپنے پدر بزرگوار اور اپنی مادرگرامی کوخواب میں دیکھاہے وہ فرماتے تھے کہ اے حسن تم کل رات ہمارے پاس ہوگے، اس کے بعدآپ نے وضوکے لیے پانی مانگااورخوداپناہاتھ بڑھاکرسرہانے سے پانی لیا اورپی کرفرمایاکہ اے بہن زینب ”این چہ آپ بودکہ ازسرحلقم تابنافم پارہ پارہ شد“ ہائے یہ کیساپانی ہے جس نے میرے حلق سے ناف تک ٹکڑے ٹکڑے کردیاہے اس کے بعدامام حسین کواطلاع دی گئی وہ آئے دونوں بھائی بغل گیرہوکرمحوگریہ ہوگئے، اس کے بعدامام حسین نے چاہاکہ ایک کوزہ پانی خودپی کرامام حسن کے ساتھ ناناکے پاس پہنچیں، امام حسن نے پانی کے برتن کوزمین پرپٹک دیاوہ چورچورہوگیاراوی کابیان ہے کہ جس زمین پرپانی گراتھا وہ ابلنے لگی تھی ۔الغرض تھوڑی دیرکے بعد امام حسن کوخون کی قے آنے لگی آپ کے جگرکے سترٹکڑے طشت میں آگئے آپ زمین پرتڑپنے لگے، جب دن چڑھاتوآپ نے امام حسین سے پوچھاکہ میرے چہرے کارنگ کیساہے ”سبز“ ہے آپ نے فرمایاکہ حدیث معراج کایہی مقتضی ہے، لوگوں نے پوچھاکہ مولاحدیث معراج کیاہے فرمایاکہ شب معراج میرے نانا نے آسمان پر دو قصر ایک زمردکا، ایک یاقوت سرخ کادیکھاتوپوچھاکہ ائے جبرئیل یہ دونوں قصرکس کے لیے ہیں، انہوں نے عرض کی ایک حسن کے لیے اوردوسرا حسین کے لیے پوچھادونوں کے رنگ میں فرق کیوں ہے؟ کہاحسن زہرسے شہیدہوں گے اورحسین تلوارسے شہادت پائیں گے یہ کہہ کرآپ سے لپٹ گئے اوردونوں بھائی رونے لگے اورآپ کے ساتھ درودیواربھی رونے لگے۔اس کے بعدآپ نے جعدہ سے کہا افسوس تونے بڑی بے وفائی کی، لیکن یادرکھ کہ تونے جس مقصد کے لیے ایساکیاہے اس میں کامیاب نہ ہوگی اس کے بعد آپ نے امام حسین اوربہنوں سے کچھ وصیتیں کیں اور آنکھیں بندفرمالیں پھرتھوڑی دیرکے بعدآنکھ کھول کرفرمایاائے حسین میرے بال بچے تمہارے سپرد ہیں پھربند فرما کرناناکی خدمیں پہنچ گئے ”اناللہ واناالیہ راجعون“ ۔ امام حسن کی شہادت کے فورا بعدمروان نے جعدہ کواپنے پاس بلاکردو عورتوں اور ایک مرد کے ساتھ معاویہ کے پاس بھیج دیامعاویہ نے اسے ہاتھ پاؤں بندھواکردریائے نیل میں یہ کہہ کرڈلوادیاکہ تونے جب امام حسن کے ساتھ وفا نہ کی، تویزیدکے ساتھ کیاوفاکرے گی۔(روضة الشہداء ص ۲۲۰تا ۲۳۵طبع بمبئی ۱۲۸۵ءء وذکرالعباس ص ۵۰طبع لاہور ۱۹۵۶ء)

اسلامی جمہوریہ پاکستان، ایران اور سعودی عرب میں آج رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت اور حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے مجالس عزا اور جلوس عزا مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ نکالے جائیں گے  اس موقع پر عزاداروں نے سینہ زنی اور گریہ و ماتم کریں گے جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں رات سے ہی مجالس کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس میں عزاداروں نے کثیر تعداد میں شرکت اور مقرریں نے رسول اسلام اور امام حسن مجتبٰی علیہ اسلام کے فضائل اور زندگی کے مختلف پہلوں کو اجاگر کیا اور شہادت کے مقصد کو بیان کیا۔ رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران ، قم، اور مشہد سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں آج 28 صفر کو  رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانگدازرحلت اور حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے مجالس عزا اور جلوس عزا مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ نکالے گئے اس موقع پر عزاداروں نے سینہ زنی اور گریہ و ماتم کیا۔علماء اور ذاکرین نے پیغمبر اسلام کے اخلاق ، سیرت اور شان  و منزلت اور حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں تاریخی حقائق عوام کے سامنے پیش کئے ۔ سعودی عرب میں آج جنت البقیع میں آنے والے زائریں پر سعودی مذبی پولیس نے وحشیانہ اور توہیں آمیز سلوک کرتے ہوئے زائرین کو جنت البقیع سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی اور  آج کی اہم تریں مناسبت کے موقع پر ان سلفی مسلک وہابیوں نے خدا، رسول و آل رسول اور اسلام سے دشمنی میں کوئی کسرنہ چھوڑی اس اقدام سے سعودی حکومت کا امت مسلمہ کے ساتھ  اپنے منافقانہ رویہ اظہار کیا جس پر مدینہ میں موجود شیعہ و سنی مسلمانوں نے شدید احتجاج اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا

یمن کے ڈکٹیٹر عبد اللہ صالح یمن چھوڑ کر امریکہ کے لئے روانہ ہوگئے ہیں جبکہ یمنی عوام عبد اللہ صالح پر مقدمہ چلانے اور اسے پھانسی دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ یمن کے ڈکٹیٹر عبد اللہ صالح یمن چھوڑ کر امریکہ کے لئے روانہ ہوگئے ہیں جبکہ یمنی عوام عبد اللہ صالح پر مقدمہ چلانے اور اسے پھانسی دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق یمن کے صدر نے یمنی عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے اشتباہات کی بنا پر معاف کریدں۔ یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق عبد اللہ صالح علاج کے لئے امریکہ گئے ہیں اور وہ پارٹی کی قیادت کے لئے واپس آجائیں گے۔ادھر یمن کے عوام یمنی صدر عبد اللہ صالح پر مقدمہ قائم کرنے اور اس کی پھانسی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اور سعودی عرب  دو ایسے ممالک ہیں جو عرب ڈکٹیروں کی پناہ گاہ ہیں

بحرین میں 14 فروری اتحاد نے آل خلیفہ کی امریکہ نوازملعون حکومت کے خلاف ایک عالم دین کے فتوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بحرینی عوام بالخصوص بحرینی جوانوں سے کہا ہے کہ وہ آل خلیفہ کی سرنگونی تک اپنی جد وجہد کو جاری رکھیں۔العوامیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین میں 14 فروری اتحاد نے آل خلیفہ کی امریکہ نوازملعون حکومت کے خلاف ایک عالم دین کے فتوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بحرینی عوام بالخصوص بحرینی جوانوں سے کہا ہے کہ وہ آل خلیفہ کی سرنگونی تک اپنی جد وجہد کو جاری رکھیں۔ بحرین کے ایک ممتاز عالم دین نے بحرین کی ظالم وجابر حکومت کے خلاف  فتوی صادر کیا ہے جس ميں آل خلیفہ حکومت کو امریکہ اور اسرائیل کی حامی حکومت قراردیا گیا ہے اور حکومت کے ظلم و ستم کے مقابلے میں عوام کو جہادکی دعوت دی گئی ہے 14 فروری اتحاد نے اپنے بیان میں اس فتوی کی حامیت کرتے ہوئے جوانوں سے کہا ہے کہ وہ آل خلیفہ کی یزیدی اور امریکی حکومت کے خلاف کمربستہ ہوجائیں اور اپنے جہاد کو آل خلیفہ حکومت کے زوال اور  سرنگونی تک جاری رکھیں

سعودی عرب کی منحوس وہابی حکومت سے منسلک سلفی وہابیوں نے جنت البقیع میں آل رسول (ص) ، اصحاب رسول (ص) اور ازواج رسول (ص) کی قبروں کی بے حرمتی کی ہے جس کے بعد مدینہ منورہ میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں العالم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کی منحوس وہابی(دشمن خدا،دشمن رسول اور دشمن دین اسلام) حکومت سے منسلک سلفی وہابیوں نے جنت البقیع میں آل رسول (ص) ، اصحاب رسول (ص) اور ازواج رسول کی قبروں کی بے حرمتی کی ہے جس کے بعد مدینہ منورہ میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آل سعود حکومت سے وابستہ جرائم پیشہ عناصر نے جنت البقیع میں آل رسول (ص) ، اصحاب رسول (ص) اور ازواج رسول کی قبروں کی بے حرمتی کی ہے۔ سعودی درندوں نے جنت البقیع میں آج شہادت رسول اللہ اور امام حسن مجتبٰی علیہ اسلام کی مناسبت سے تعزیت کے لیے جنت البقیع آنے والے زائرین کے ساتھ بھی توہین آمیز سلوک کرتے ہوئے انھیں جنت البقیع سے باہر نکالنے کی کوشش کی ، آل رسول (ص) و اصحاب رسول اور ازواج رسول کی قبروں کی بے حرمتی کے بعد مدینہ منورہ  کے حالات سخت کشیدہ ہوگئے ہیں وہابیوں کے علاوہ شیعہ اور سنی مسلمانوں میں مذہبی سعودی پولیس کے اس وحشیانہ اقدام پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

عراق کے سلامتی ادارے کے سربراہ نےکہا ہے کہ عراق کے بعض اعلی سیاسی رہنما طارق الہاشمی کے ساتھ دہشت گرد کارروائیوں میں شریک ہیں۔فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراق کے سلامتی ادارے کے سربراہ  قاسم عطا نےکہا ہے کہ عراق کے بعض اعلی سیاسی رہنما طارق الہاشمی کے ساتھ  دہشت گرد کارروائیوں میں شریک ہیں اس نے کہا کہ طارق الہاشمی کے محافظوں کے اعترافات سے معلوم ہوتا ہے کہ اعض اعلی سیاسی رہنما بھی طارق الہاشمی کے ساتھ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ عراق کی ایک عدالت نے طارق الہاشمی کے ہمراہ مزید 15 افراد کو گرفتار کرنے کا حکم صادر کیا ہے ان افراد کا تعلق  عراق کی وزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے بتایا جاتا ہے

نائجیریا کے مسلم اکثریتی آبادی والے شمالی حصے میں جمعے کی شام ہونے والے متعدد بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ایک پچاس سے تجاوز کرگئی۔خبر ایجنسی اے پی کے مطابق مختلف مقامات پر متعدد بموں اور خود کار ہتھیاروں سے کیے گئے یہ سلسلہ وار حملے ملک کے شمالی حصے کے سب سے بڑے اور مجموعی طور پر دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے شہر کانو میں کیے گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ان حملوں کے دوران کانو کے شہر میں بار بار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہر کے متعدد حصے فائرنگ کی آوازوں سے گونجتے رہے۔ بین الاقوامی رضا کار ادارے ریڈ کراس کے مطابق بد امنی کے سبب ایک سو پچاس سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ ان حملوں کے فوری بعد حکام نے کانو میں حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے کرفیو لگا دیا ہے۔ کانو کی آبادی نو ملین کے قریب ہے اور اس شہر کو خاص طور پر انتہا پسند مسلمانوں کے بوکو حرام نامی گروپ کی پر تشدد کارروائیوں کا سامنا ہے۔ نائجیریا کے اکثر نامور مسلمان مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کا تعلق اسی شہر سے ہے۔کانو سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ حملے مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے شروع ہوئے اور شہر میں فائرنگ کی آوازیں مسلسل سنائی دیتی رہیں۔ مختلف خبر ایجنسیوں کے مطابق یہ حملے کانو میں بوکو حرام کی پہلی بڑی اور مربوط لیکن کئی مقامات پر کی جانے والی کارروائی ہیں۔ان حملوں کے دوران ایک بڑا بم دھماکہ شہر میں پولیس کے علاقائی ہیڈ کوارٹرز پر بھی کیا گیا، جو اتنا شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں دور دور تک کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ امریکی خبر ایجنسی اے پی کے نمائندے کے مطابق یہ حملہ ایک خود کش کار بم حملہ تھا جس میں ایک انتہا پسند اپنی گاڑی کے ساتھ پولیس ہیڈ کوارٹرز کے کمپاؤنڈ میں گھس گیا جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ امینو رِنگیم کے بقول اس دھماکے سے پولیس ہیڈ کوارٹرز کی چھت اڑ گئی اور عمارت کے دیگر حصوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ نائجیریا میں نیشنل ایمرجنسی مینیجمنٹ ایجنسی کے اہلکار ابوبکر جبریل نے بتایا کہ ان حملوں کے دوران شہر میں تین پولیس اسٹیشنوں کو بھی بم دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ایک بم حملہ ریاستی سکیورٹی سروس کے علاقائی صدر دفاتر پر بھی کیا گیا۔کانو سے موصولہ دیگر رپورٹوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک صحافی کے علاوہ کم از کم تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کے دوران ایک پاپسورٹ آفس پر کیے گئے بم حملے میں کم ازکم تین امیگریشن اہلکاروں اور متعدد شہریوں کی ہلاکت کی رپورٹیں بھی ملی ہیں۔ شہر میں اس وقت 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ ہے اور عام شہری اپنے گھروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی حتمی تعداد کافی زیادہ ہو سکتی ہے، جس کا اصل اندازہ کرفیو اٹھائے جانے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔ ان حملوں کے بعد بوکو حرام کے ایک ترجمان نے صحافیوں کے نام ایک پیغام میں کہا کہ یہ منظم حملے بوکو حرام کی کارروائی ہیں، جو اس لیے کی گئی کہ ریاستی حکومت نے اس گروپ کے پولیس کی زیر حراست ارکان کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

متنازعہ برطانوی مصنف سلمان رشدی نے بھارت کے مؤقر ادبی میلے ’جے پور لٹریری فیسٹیول‘ میں موت کے خوف سے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میلے میں شرکت کے حوالے سے رشدی کو اپنے قتل کیے جانے کا خوف ہے۔اپنے ایک بیان میں سلمان رشدی نے کہا کہ انہیں بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیوں سے ایسی اطلاعات ملیں کہ ان کو قتل کرنے کے لیے پیشہ ور قاتلوں کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’مہاراشٹر اور راجھستان کے انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق مجھے مارنے کے لیے قاتلوں کو رقم دی گئی ۔ گو کہ ان کے درست ہونے پر یقین نہیں کیا جا سکتا، تاہم ایسی صورت حال میں بھارت جانا نہ صرف میرے اہل خانہ کے ساتھ  شاید زیادتی ہے بلکہ میلے میں شرکت کرنے والوں اور وہاں آنے والے ادیبوں کے ساتھ بھی زیادتی ہو۔‘ رشدی کے مطابق انہیں بھارت نہ جا پانے پر بہت دکھ ہے۔ خیال رہے کہ 1989 میں ایرانی رہنما آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کو متنازعہ کتاب ’سیٹینک ورسز‘ تحریر کرنے پر واجب القتل ہونے کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ بھارتی نژاد رشدی برطانیہ میں بھی سکیورٹی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ رشدی کو ان کی ایک اور کتاب ’مڈ نائٹ چلڈرن‘ پر بکرز پرائز بھی دیا جا چکا ہے۔ رشدی کے مطابق وہ میلے میں ویڈیو لِنک کے ذریعے  شاید خطاب کر سکیں گے۔اس میلے میں شرکت کے حوالے سے سلمان رشدی کو بھارت کے شدت پسند مسلمان حلقوں اور تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں بھی دی جا رہی تھیں۔ بھارتی حکومت نے رشدی کی آمد کے پیش نظر میلے میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ برطانوی مصنف اور میلے کے منتظمین میں سے ایک، ولیم ڈیلرمپل نے میلے میں رشدی کی عدم شرکت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ رشدی آئندہ برس اس میلے میں آ سکے گا۔ جے پور کا ادبی میلہ جنوبی ایشیا کا اہم ترین ادبی میلہ مانا جانے لگا ہے۔ اس برس اس میلے میں دو سو ساٹھ سے زائد ادیب شرکت کر رہے ہیں۔

واشنگٹن : بڑی طاقتوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دے دیا تاہم اس کے لئے تہران پر سنجیدہ روئیے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ مغربی سفارتکاروں کے بقول اس حوالے سے بڑی طاقتیں ایران کے جوہری تنازعے پر یکساں موقف نہیں رکھتیں، واضح رہے کہ ان طاقتوں میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکہ شامل ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی  سربراہ کیتھرین ایشٹن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتکاری کا راستہ تمام تر پابندیوں اور فوجی حملے کے شبہات کے باوجود کھلا ہوا ہے۔ بیان کے مطابق یورپی یونین اس حوالے سے ایران کے ردعمل کا انتظار کر رہی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ روز چین نے اپنے ملک میں آنے والے ایرانی وفد جس کی سربراہی ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری کر رہے تھے، کو جوہری تنازعے پر بات چیت کو اولین ترجیح بنانے کو کہا۔ چینی خبررساں ادارے کے مطابق چین کا ماننا ہے کہ ایرانی جوہری تنازعہ پرامن طریقہ سے مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہئے، اس سلسلے میں پابندیاں اور فوجی حملہ کارگر ثابت نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ہیلیری کلنٹن نے واشنگٹن میں جرمن ہم منصب کے ہمراہ کہا ہے کہ ہم کوئی تصادم نہیں چاہتے بلکہ ہم ایرانی عوام کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے عندئیے کے باوجود بڑی طاقتیں ایران کو مذاکرات شروع کرنے کے لئے دی جانے والی مراعات کے حوالے سے منقسم نظر آتی ہین۔

واشنگٹن: امریکی صدر باراک اوباما نے ایک بار پھر ایرانی قیادت کو خط لکھ کر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی اور خارجہ یا کسی کی رکن ظہور الامین نے بتایا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ایرانی قیادت کے نام پر تیسرا خط تھا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک باہمی بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کو یقینی بنائیں۔ تاہم ظہور الامین کا کہنا تھا کہ سابقہ دو خطوط کی طرح اس خط کا بھی جواب نہیں دیا گیا چونکہ ایرانی قیادت اس بات کے بخوبی آگاہ ہے کہ اسرائیل ایک صیہونی قوت ہے اور اس کا دفاع امریکہ کی اہم پالیسی کا حصہ ہے۔ انہوں نے امریکی صدر کی جانب سے بھیجے جانے والے دو سابقہ خطوط کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ خطوط ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام کے نام لکھے گئے تھے۔

لندن: برطانوی حکومت نے ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کا نشریاتی لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔ برطانوی میڈیا کو کنٹرول کرنے والے ادارے ”آف کام” کے مطابق پابندی کا اطلاق ہفتے سے ہوگا۔ آف کام کا کہنا ہے کہ ایران کے انگریزی زبان میں نشر ہونے والے ریاستی چینل نے نشریاتی قوانین کی ایسی خلاف ورزیاں کی تھیں جن کا تعلق ادارت سے تھا۔ نگراں ادارے کا کہنا تھا کہ ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی نے گزشتہ سال عائد کیا گیا ایک لاکھ پونڈ جرمانہ بھی تاحال ادا نہیں کیا۔ اسی بنا پر چینل کو بیس جنوری سے سکائی نیٹ ورک سے ہٹا دیا جائے گا۔ ایرانی ٹی وی پر یہ جرمانہ اس وقت عائد کیا گیا تھا جب اس نے نیوز ویک اور چینل فور سے تعلق رکھنے والے زیرِ حراست صحافی مظائر بہاری کا انٹرویو نشر کیا جس کے بارے میں آف کام کا موقف ہے کہ انٹرویو جبرا لیا گیا۔ آف کام کا کہنا تھا کہ پریس ٹی وی نے بتایا تھا کہ وہ یہ جرمانہ ادا کرنے کے قابل نہیں اور نہ ہی وہ اس پر رضا مند ہیں۔ مظائر بہاری کے انٹرویو کی تحقیقات کے دوران آف کام کو احساس ہوا کہ چینل کے ادارتی فیصلے برطانیہ کی بجائے تہران میں کیے جاتے ہیں

اسلام آباد: سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا ہے کہ پاک امریکا تعلقات اہم ہیں’ تاہم تعاون کے  قواعد و ضوابط مرتب کرنے کی اور امریکا کو لگام دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسی چیز میں ابہام نہ رہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان بشیر کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے پاک امریکا تعلقات کااز سر نو جائزہ لینے کے لئے سفارشات مکمل کر لی ہیں’ اب پارلیمنٹ بھیجی جائیں گی جہاں ان کو حتمی شکل دی جائے گی۔ پارلیمانی عمل مکمل ہونے کے بعد شروع ہونے والے مذاکرات میں پارلیمنٹ کی منظورہ کردہ سفارشات فائدہ مند ہونے کے ساتھ سب کچھ واضح ہوگا۔ امریکی خصوصی نمائندہ مارک گراسمین کا مذاکرات کے حوالے  سے بیان اخبار میں پڑھا ہے اور اس سے ہم اتفاق کرتے ہیں۔ ہم نے امریکی وزارت خارجہ سے بھی کہا تھا کہ پارلیمانی عمل مکمل ہونے کے بعد دوبارہ سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جائیں گے۔ 

کراچی: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل ‘ میں شائع حسین حقانی کے انٹرویو میں کہا گیا ہے کہ کچھ قوتیں ہمیں خوف میں زندہ رکھنا چاہتی ہیں۔ لیکن ان کی یہ کوششیں زیادہ دیر تک کامیاب نہیں رہ سکتی’ میرے استعفیٰ دینے کے لئے فوری بعد صدر آصف علی زرداری بیمار پڑ گئے ۔ حسین حقانی پاکستان جرنیلوں کے ڈی فیکٹو قیدی ہیں۔ زرداری اور گیلانی  حقانی کے اہم محافظین ہیں’ گیلانی پر توہین عدالت کے الزامات ان کی وزارت اعلیٰ کو ختم کر سکتے ہیں ‘ فوج حکومت کے خاتمے پر تیار نہیں ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حقانی کے انٹرویو میں کہا گیا ہے کہ نومبر تک واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اب پاکستانی جرنیلوں کے ڈی فیکٹو قیدی ہیں امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اس وقت نظر بندی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی نظر بندی کی وجہ یہ ہے کہ انہوںنے فوج کو ناراض کیا ہے۔ حسین حقانی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فورسز ہمیں اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خوف میں زندہ رکھنا چاہتی ہیں لیکن بالکل اسی طرح جیسے سوویت یونین کی جی بی اور مشرقی جرمنی کی اسٹاسی Stasi اپنے لوگوں کودبانے میں کامیاب نہیں ہوئی اسی طرح پاکستان میں بھی یہ فورسز طویل عرصے تک کامیاب نہیں ہوں گی۔ انٹرویو میں حقانی نے میمو گیٹ اسکینڈل کے تمام الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اس نے میمو کو نہ تو گھڑا اور نہ اسے تحریر کیا۔ صدر آصف علی زرداری کی غیر مقبول حکومت پر نظر نہ آنے والے دبائو پر حقانی نے کہا کہ میرے استعفیٰ دینے کے فوری بعد صدر آصف علی زرداری بیمار پڑ گئے جس پر ایک نفسیاتی جنگ شروع کر دی گئی اور ان کے ملک سے فرار کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ حقانی کہتے ہیں کہ اگر اس طرح کی تمام نفسیاتی جنگوں میں اعصاب پر قابو رکھا جائے تو کچھ نہیں ہوتا۔ اخبار کے مطابق آصف علی زرداری اور وزیر اعظم گیلانی حقانی کے اہم محافظین ہیں اور دونوں اپنی سیاسی بقا ء کی مسلسل جنگ لڑ رہے ہیں۔ گیلانی پر توہین عدالت کے الزامات ان کی وزارت عظمی کو ختم کر سکتے ہیں’ زرداری پر دیرینہ کرپشن کے الزامات بھی تعاقب میں ہیں اور ان کے حریف سپریم کورٹ میں ان کے صدارتی استثنیٰ کو ختم کراسکتے ہیں۔ اگر صدر کو ملزم ٹھہرا دیا گیا تو حکومت گر جائے گی اور اس کے ساتھ ہی حقانی ا ور ا س کے مقاصد بھی ڈوب جائیں گے۔ اخبار کے مطابق چیزیں حقانی کے حق میں ابھی بھی جا سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ فوج اور اس کے حلیف حقانی سے نفرت کرتے ہوں اور حکومت میں ان کے دوستوں کو زخم دینا چاہتے ہوں لیکن وہ حکومت کے خاتمے پر تیار نہیں ‘ رسمی طور پر کچھ حد تک وہ ملک کی باگ ڈور سنبھال سکتے ہیں

ملک بھر کی مذہبی ،سیاسی و کشمیری جماعتوں کے قائدین، عسکری ماہرین،جید علماء کرام ، طلبا، وکلاء اور تاجر رہنمائوں نے دفاع پاکستان کونسل کی دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو کی سپلائی لائن بحال کرنے کی کوشش کی گئی تو کراچی سے خیبر تک لوگ سڑکوں پر نکل کر کنٹینروں کو زبردستی روکیں گے اور اس کے لئے سپلائی روٹ پر دھرنے دیں گے، وزیر اعظم امریکی جنگ سے الگ ہونے کی تاریخ دیں، پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتیں ملکی دفاع میں ناکام ہو گئیں، پاکستان کی سرزمین افغان بھائیوں کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے،بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیکر تجارت ملک کو اپاہج بنانے اور تباہ و برباد کرنے کے مترادف ہے،  بھارت پاکستانی دریائوں پر سے قبضہ چھوڑ دے ، دریائوں میں پانی نہیں آئے گا تو پھر خون بہے گا، پاکستانی حدود میں گھسنے والے ڈرون طیارے مار گرائے جائیں، ہم لڑنا نہیں چاہتے لیکن اگرا مریکہ نے پاکستانی سرحدوں کو پامال کرنا نہ چھوڑا تو پھر فیصلے میدانوں میں ہوں گے،دفا ع پاکستان کونسل کشمیر کمیٹی کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ قرار دینے کی سفارشات کی شدید مذمت کرتی ہے۔  لیاقت باغ راولپنڈی میں ہونے والی دفاع پاکستان کانفرنس سے دفا ع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، امیر جماعت الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید، جنرل(ر)حمید گل، سید منور حسن ، شیخ رشید احمد، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر،اعجاز الحق ،پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، سردار عتیق احمد خاں، جنرل (ر)مرزا اٍٍٍٍسلم بیگ و دیگر نے خطاب کیااس موقع پر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور آمنہ مسعود جنجوعہ کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ حافظ محمد سعید کے خطاب سے قبل لاکھوں شرکاء کی جانب سے زبردست نعرے بازی کی گئی اور شرکاء نے کھڑے ہوئے ان کا بھرپور استقبال کیا۔دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے اپنے خطاب میں کہاکہ ملک کے تحفظ اور امریکی تسلط سے آزادی کیلئے ہمیں اللہ نے ایک کر دیا ہے پورا ملک غیروں کے رہم و کرم پر ہے ایک جرنیل نے فوج سے غداری کی سب کو بے بس کر کے ظالم کی گود میں ڈال دیا ہمیں مشرف کی پالیسیاں ختم کرنا ہوں گے اور امریکہ کی حمایت سے نکلنا ہوگا۔

پیرس: فرانسیسی وزیر دفاع جیرار لونگ نے کہا ہے کہ افغانستان میں چار غیر مسلح فرانسیسی فوجیوں کا قاتل افغان سپاہی ماضی میں فوج سے فرار ہوگیا تھا اور وہ طالبان کے ایک درپردہ کارندے کے طور پر افغان فوج میں دوبارہ بھرتی ہوا تھا۔ اس اکیس سالہ افغان فوجی نے جمعے کے روز فائرنگ کر کے چار فرانسیسی فوجیوں کو ہلاک اور پندرہ کو زخمی کر دیا تھا۔ اس ملزم کے طالبان کا کارندہ ہونے سے متعلق فرانسیسی وزیر دفاع نے اپنا بیان اس واقعے کے ایک روز بعد کابل میں اپنے دورے کے دوران ایک افغان جنرل کی طرف سے بریفنگ کے بعد دیا۔ اس حملے کے بعد افغانستان میں فرانسیسی فوجیوں کی طرف سے افغان دستوں کی تربیت اور ان کے ساتھ مشترکہ عسکری کارروائیاں معطل کی جا چکی ہیں۔

نیو یارک: تیز رفتار ہواؤں کے ساتھ آنیوالا برفانی طوفان امر یکا کے شمال مشرقی علاقے سے ٹکرا گیا۔ سفید چادر نے ہر شے کو ڈھانپ لیا جبکہ نظام زندگی درہم برہم ہونے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق شدید برفانی طوفان نے وسطی پنسلو ینیا سے کنیٹیکٹ تک ایک بڑے علاقے کو متاثر کیا ہے۔ نیویارک، فلاڈلفیا، بوسٹن اور واشنگٹن سمیت کئی علاقوں میں برفباری ہوئی۔ کئی مقامات پر سڑکیں اور عمارتیں برف سے ڈھک گئیں۔ فلاڈلفیا انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی ترجمان نے بتا یا کہ انھیں چھیاسٹھ پروازیں منسوخ کرنی پڑیں۔ سیاٹل کے جنوب میں دو لاکھ سے زائد گھر اور متعدد تجارتی مقامات برفباری کے باعث بجلی سے محروم ہوگئے۔ اس سال موسم سرما میں امریکا کی کئی ریاستیں غیر معمولی سردی اور برفباری کی لپیٹ میں ہیں۔ پینسلوینیا سے نیویارک تک مسلسل برفباری سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوچکے ہیں برفباری کے باعث سڑکیں بند ہوگئی ہیں جس سے لوگوں کو سفر میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھاری سامان لیجانے والے ٹرک برفباری کے باعث پھنس کر رہ گئے ہیں۔ تمام تر مشکلات کے باوجود کئی شہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد برفباری سے لطف اندوز ہوتی رہی۔ نیویارک شہر میں اب تک تین سے پانچ انچ تک برف پڑچکی ہے۔ فلاڈ یلفیا میں دو سے چار انچ بوسٹن میں تین انچ موٹی برف کی تہہ جم چکی ہے۔

رباط /ریاض: پاکستان کے سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے کیلئے عرب ممالک کے حمایت کیلئے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ وہ گذشتہ روز لندن سے اردن پہنچ گئے ہیں اور اس کے بعد سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک میں بھی جائیں گے جہاں وہ مقامی قیادت سے اپنی وطن واپسی کیلئے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اردن میں وہ مقامی فرمانروا شاہ عبداللہ دوئم سے ملاقات کریں گے۔ ان کے اس دورے کا مقصد وطن واپسی کے حوالے سے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔ سابق صدر اردن کے بعد سعودی عرب بھی جائیں گے جہاں وہ سعودی فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور دیگر رہنمائوں سے ملاقات کریں گے۔ پرویز مشرف وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے عرب ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف نے ستائیس سے تیس جنوری تک وطن واپسی کا اعلان کر رکھا ہے لیکن ملک میں ان کے بعض بہی خواہ انہیں واپس نہ آنے کا مشورہ دے رہے ہیں کیونکہ اہم حکومتی عہدیداران یہ کہہ چکے ہیں کہ مشرف واپس آئے تو انہیں کراچی ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کر کے لانڈھی جیل بھیج دیا جائے گا جبکہ بعض حکومتی رہنما بشمول میاں رضا ربانی مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کی سزا موت ہے۔

لندن: سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے اور اس کی سالمیت کو دائو پر لگانے کیلئے منصوبہ بند سازشیں کر رہا ہے۔ برطانیہ میں ایک موقر روز نامہ سے انٹرویو کے دوران پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کی جڑوں کو کمزور کرنے کیلئے در پردہ سازشیں کر رہا ہے اور ان کا مقصد ہے کہ پاکستان کو کمزور کر کے اس پر غلبہ پایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں غلبہ اور تسلط کی جو تشویش سامنے آتی ہے اسکا مطلب ہیں کہ کوئی ملک دوسرے ملک پر چڑھائی کر کے اس ملک پر قبضہ کرے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ بھارت اگر اسی طرح کی پالیسی پر گامزن رہا تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کبھی بہتری نہیں آسکتی۔ پرویز مشرف نے کہا کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار کے دوران بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے تھے جبکہ پاکستان نے اپنی پالیسی میں لچک دکھا کر بھارت کو اشارہ دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ تمام حل طلب مسائل کے حل کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا بھارت اور پاکستان اگرچہ نزدیکی ہمسایہ ہیں تاہم اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تلخیوں میں کمی آنے کے بجائے روز بہ روز ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا خواہشمند نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس مسئلے پر اپنی پالیسی پاکستان پر واضح کر رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ماضی کی تلخیوں کو بھول کر بھارت اور پاکستان کو مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہئے اور تمام حل طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرکے ایک دوسرے کے قریب تر آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو بر صغیر میں قیام امن کی فضاء قائم ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں ملک عالمی سطح پر ایک کلیدی رول ادا کرنے کے اہل ہونگے۔

واشنگٹن: جدید ارضیاتی تاریخ میں سال 2011 نواں گرم ترین سال تھا۔ اس بات کا انکشاف خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا  کے سائنس دانوں نے کیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جدید ارضیاتی ریکارڈ کے مطابق 1880 سے اب تک 9 گرم ترین سال ریکارڈ کئے گئے جن میں سال 2011ء نواں گرم ترین سال تھا۔ ایک اور امریکی ادارے ”این او اے اے” کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں اوسطاً درجہ حرارت کے  حساب سے 2011ء 23واں گرم ترین سال تھا۔ ناسا کے ایک ادارے ”گوڈیرڈ انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈی” کے مطابق سال 2011ء میں اوسطاً درجہ حرارت کی سطح 0.92 ڈگری فارن ہائیٹ (0.5سینٹی گریڈ) تھی۔ بیسویں صدی عیسوی وسط میں درجہ حرارت مناسب درجوں پر رہا اور انسٹی ٹیوٹ نے 1880ء سے درجہ حرارت کو ریکارڈ کرنا شروع کیا تھا۔