Archive for 31/12/2011

اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے جوبلی کلاتھ مارکیٹ کے قریب کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شیعہ مومن نویر عباس شہید ہوگئے۔ مزید اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات تقریباَ 12 بجے کے قریب ایک 30 سالہ شیعہ نوجوان نوید عباس ولد ناظر حسین کو کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے فرقہ پرست دہشتگردوں نے نشانہ بنایا۔ شیعہ نوجوان نوید عباس ولد ناظر حسین سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی گولی لگنے سے موقعے پر ہی شہید ہوگئے۔ 30سالہ شہید نوید عباس ولد ناظر حسین کراچی کے علاقے لانڈھی کے رہائشی تھے۔ شہید نوید عباس کو فائرنگ کے بعد سول اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ 3 گنٹے انتظار کرنے کے باوجود لواحقین کی عدم موجودگی کی بناء پر ایدھی سرد خانے منتقل کردیا گیا تھا۔ آج صبح شہید نوید عباس کے لواحقین نے شہید کا جسد خاکی ایدھی سینٹر سے وصول کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کی کہ نوید عباس کا تعلق ملت تشیع سے تھا شہید کی نماز جنازہ بعد نماز ظہرین لانڈھی لال گراونڈ میں ادا کردی گئی ہے شہید کی میت اپنے آبائی شہیر ملتان روانہ کر دی گئی ہے

Advertisements

لیبیا کے سابق مقتول رہ نما معمر قذافی کی بیٹی عائشہ قذافی نے اسرائیلی حکومت سے سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔ایک عربی ویب سائٹ نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے حوالے سیانکشاف کیا ہے کہ عائشہ قذافی نے تل ابیب کے اعلی سیاسی عہدیداران سے انہیں اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے۔ عائشہ قذافی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ الجزائر کی حکومت انہیں کسی بھی وقت نئی لیبیائی حکومت کے سپرد کر سکتی ہے جہاں ان کا عدالتی ٹرائل کیا جائے گا۔ اسرائیلی سیٹلائٹ چینل کے مطابق عائشہ قذافی نیاسرائیل سے سیاسی پناہ طلب کرنے کے لیے سابق امریکی اٹارنی نک کا فمین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ عائشہ قذافی کا کہنا ہے کہن وہ اس وقت اسرائیل کو اپنے لیے سب سے محفوظ ملک سمجھتی ہیں

مقبوضہ بیت المقدس…اسرائیل نے مصرمیں آئندہ آنے والی اسلام پسند حکومت کا مقابلہ کرنے کی تیاری شروع کر دی، اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اس کا مصر سے تعلقات ویسے نہیں رہینگے جیسے سادات اور مبارک کے دور حکومت میں تہے۔ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق مصر میں دینی جماعتوں کی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد اسرائیل کو سخت تشویش لاحق ہے اور ان کی حکومت کے قیام کے امکانات کے بعد قاہرہ کے ساتھ نئے انداز میں تعلقات کے لیے پیش بندی شروع کر دی ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیلی فوج کا ایک بڑا حصہ جسے انتہا پسند یہودی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے ،مصر کے ساتھ “ٹرننگ پوائنٹ” کی تیاری کا حامی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں فوج کا دوسرا گروپ فوری طور پر مصر کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی کا حامی نہیں بلکہ اسکا موقف ہے کہ فی الحال مصر اور اسرائیل کے درمیان طے پائے سابقہ معاہدوں پر عملدرآمد تک انتظار کیا جائے۔ نئے منصوبے کے تحت صہیونی فوج کی بڑی تعداد کو جزیرہ نماء سینا میں حالت جنگ میں تعینات کیا جائیگا۔ حالانکہ مصر اسرائیل امن معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی تھی اسرائیل اور مصر دونوں اپنے اپنے زیرانتظام جزیرہ سینا میں فوج کو مسلح حالت میں نہیں رکھیں گے۔ تاہم اس شرط کے باوجود اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد کو اسلحہ سمیت جزیرہ نما سیناء میں تعینات کیا گیا ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف کسی بیرونی حملے کی صورت میں لبنانی حزب اللہ کے ارکان جزیرہ نما سینا کے راستے اسرائیل میں داخل ہو کرصہیونی مفادات کو نقصان پہنچا سکتے۔

کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی تھانے کےمتعصب ایس ایچ او ندیم بیگ کو بر طرف کر دیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق آئی جی سندھ پولیس نے ایک حکم نامے میں ایس ایچ او شاہ فیصل کالونی پولیس اسٹیشن ندیم بیگ کو برطرف کر دیا ہے اور ان کی جگہ دوسرے پولیس آفیسر کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ شاہ فیصل کالونی کے متعصب سابقہ پولیس آفیسر ندیم بیگ نے 2 محرم الحرام کو شاہ فیصل کالونی تھانے کی حدود میں قائم مسجدوامام بارگاہ حسینی مشن پر لگائی گئی پانی کی سبیل پر دہشت گردوں کی کاروائی میں بنفس نفیس  موجود تھے جسے عینی شاهدین نے پانی کی سبیل پر لاتوں سے ٹهوکریں مارتا ہوا دیکهاتھا دوسری مرتبہ25 محرم الحرام کے روز شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کے موقع پر نکالے گئے جلوس عزاء میں پولیس کی ناقص سیکورٹی انتظامات اور نا اہلی کے سبب جامعہ فاروقیہ سے ندہشت گردوں نے جلوس عزاء ، مسجد و امام بارگاہ حسینی مشن پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں خواتین وبچوں سمیت دو شیعہ نوجوان گولیاں لگنے سے زخمی ہو گئے تھے تاہم متعصب سابق پولیس آفیسر ندیم بیگ نے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنے سے گریز کرتے ہوئے شیعہ بے گناہ نوجوانوں پر ہی مقدمہ قائم دائر کردیا ۔ جس پرشیعہ علمائے کرام نے  آئی جی سندھ کے سامنے شاہ فیصل کالونی کے متعصب سابقہ پولیس آفیسر ندیم بیگ کے خلاف شواہد فراہم کئے تھے اورچند روز قبل شیعہ علما کونسل ،جعفریہ الائنس ،ائمہ مساجد امامیہ ،شیعہ ایکشن کمیٹی ،امامیہ اسٹوڈنٹس سمیت دیگر شیعہ عمائدین نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ شاہ فیصل کالونی کے متعصب ایس ایچ او  کو فوری طور پر برطرف کیا جائے-

عراق:عراق کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرنے والے سابق معزول صدر صدام حسین کو واصل جہنم ہوئے پانچ سال بیعد گئے پانچویں برسی جمعہ کے روز واقع ہوئی۔ موصوف امریکہ اور اسرائیل کے خاص الخاص نمائندے تھے جو خطے میں ان دونوں مما لک کے مفادات کے سب سے بڑے حامی تھے اور قومی دولت اور وسائل کو عوام الناس کی ترقی پر خرچ کرنے کے بجائے اپنی مادر پدر عیاشیوں، امریکی اور اسرائیلی احکامات کی بجا آوری اور خاص کر شیعیان حضرت علی علیہ السلام کو تباہ و برباد کرنے پر خرچ کرتے تھے۔ جس طرح آجکل سعودی عرب حکمران (آل سعود) اپنے ملکی تمام تر وسائل کو امت اور قوم کی تعلیم و تربیت پر خرچ کرنے کے بجائے، اپنی مادر پدرعیاشیوں نیز اپنے مولا، سید و سردار اور آقائے نامدار حضرت امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی حفاظت کرنے، اپنے ڈوبتے ہوئے اقتدار کو اسلام دشمن منافقیں و کفارکے ساتھ مل کر طول دینے اور امن پسند اسلام ممالک میں فتنہ و فساد پھیلانےکے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ آل سعود اور آل خلیفہ اپنے سابق پالتو کتے  صدام کے انجام سے سبق حاصل کریں ورنہ ان کا مستقبل بھی سابقہ عراقی صدر صدام جیسا نہ ہو ۔۔۔۔۔۔صدام عراق کے شہر ہرت کے ایک غریب گھرانے میں 1937 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایک سوتیلے باپ کے سائے میں پرورش پائی جس سے انہوں نے سفاکی اور جبر کا سبق بچپن میں ہی سیکھ لیا تھا۔ جوانی میں وہ باز پارٹی سے وابستہ ہوگئے اور 1956 میں جنرل عبدالکریم قاسم کے خلاف ایک ناکام بغاوت میں حصہ لیا۔ 1959 میں صدام حسین کو عراق سے فرار ہو کر قاہرہ میں پناہ لینا پڑی وہ چار سال بعد عراق پہنچے اور باز پارٹی کے اندر تیزی سے ترقی پائی یہاں تک کہ بعث پارٹی نے 1968 میں عبدالرحمن محمد عارف سے اقتدار چھین لیا اور صدام حسین جنرل احمد الحسن البکر کے بعد دوسرے لیڈر بن کر ابھرے۔ ایران میں 1996 میں امریکہ مخالف اسلامی انقلاب آنے کے بعد صدام حسین نے 1980 میں ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ دی۔ جنگ خلیج آٹھ سال تک جاری رہی جس میں دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اگست 1990 میں صدام نے قرط پر چڑھائی کر کے اسے عراق میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا جس کے باعث لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ خلیج جنگ کے بعد عراق حکومت کے اندر اختلافات شروع ہوگئے۔ صدام حسین نے اپنے دامادوں کو بھی نہیں چھوڑا انہیں بھی قتل کر دیا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد عراق کو سرکش ریاست قرار دیا گیا۔ امریکہ صدر بش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے دعویٰ کیا کہ صدام حسین وسیع تباہی کے ہتھیار حاصل کر رہے ہیں جو خطے میں مغربی مفادات کیلئے نقصان دہ ہے لہٰذا اتحادی افواج نے مارچ 2003 میں عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت ختم کر دی جبکہ صدام حسین کی گرفتاری کا اعلان دسمبر 2003 میں کیا گیا۔ صدام کے دو بیٹے ہا اور قصیرط جو روپوش تھے بائیس جولائی کو موصل میں امریکی فوج کے چھاپے کے دوران مارے گئے۔ دسمبر 2003 میں امریکی حکام نے صدام حسین کی گرفتاری کا اعلان کیا اور تیس جون 2004 کو انہیں عراق حکام کے حوالے کر دیا گیا جس کے بعد ان پر دجیل میں قتل عام کا مقدمہ چلایا گیا جبکہ پانچ نومبر 2006 کو صدام حسین کو پھانسی کی سزا سنائی اور تیس دسمبر کی صبح عراق کے معزول صدر صدام حسین کو پھانسی دیدی گئی۔

کراکس: دنیا میں امریکہ کی کھل کر مخالفت کرنے والے عالمی رہنمائوں میں سے ایک وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا امریکہ نے ایسی خفیہ ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جس کے ذریعے وہ لاطینی امریکہ کے بائیں بازو کے حکمرانوں کو سرطان کے مرض میں مبتلا کر سکتا ہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت عجیب ہے کہ لاطینی امریکہ کے کئی رہنمائوں کو سرطان کا مرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر بہت حیران کن ہے لیکن وہ کسی قسم کا الزام عائد نہیں کر رہے۔ ہوگو شاویز کو اس سال کے آغاز میں کینسر کی تشخیص کے بعد علاج کرانا پڑا تھا۔ گزشتہ روز ارجنٹائن نے اعلان کیا کہ خاتون صدر کرِسٹینا فرنانڈز، کینسر میں مبتلا ہوگئی ہیں۔ ان کے علاوہ پیرا گوئے کے صدر فرناندو لوگو، برازیل کی صدر دِلما روزیف اور ان کے پیشرو، لولا ڈی سِلوا کو بھی کینسر کا علاج کرانا پڑا۔ تمام حکمرانوں کی بیماریوں کی کڑیاں جوڑتے ہوئے وینیزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا ممکنات کے قوانین کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اس کی وضاحت کرنا بہت مشکل ہے کہ لاطینی امریکہ میں سے، ہم چند ایک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں الزام نہیں لگا رہا لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ انہوں، یعنی امریکہ نے کوئی ٹیکنالوجی بنا کر، ہم سب کو کینسر میں مبتلا کر دیا ہو اور اب ہمیں پتہ چل رہا ہو؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں اس کا پتہ ہی پچاس سال یا کئی سال بعد چلے؟ میں صرف ایک خیال کا اظہار کر رہا ہوں لیکن یقینا، یہ بہت زیادہ تعجب کی بات ہے کہ ہم سب کو کینسر ہوا ہے۔

بشکک: کرغزستان کے نئے صدر المازبک اتمبیوف نے اپنے ملک کے دارالحکومت بشکک کے ایئرپورٹ پر امریکی فوج کی موجودگی کو خطے کے ممالک کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2014 تک اس ایئرپورٹ کو مکمل طور پر سویلین ایئرپورٹ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے امریکی نائب وزیر خارجہ رابرٹ بلیک سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایئرپورٹ استعمال کرنے کی فیس جو کہ ایک سو پچاس ملین ڈالر سالانہ ہے دیتا ہے وہ خطرے کا نعمل البدل نہیں ہم اپنا یہ ایئرپورٹ امریکی فوج کے حوالے رکھ کر وسطی ایشیا کے ممالک کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

امریکی اور اسرائیلی جارہانہ دھمکیوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی تجارتی مال برداری کو روکنے کی دھمکی دی ہے اب ایک اہم سمندری علاقے میں فوجی مشقوں کے دوران طویل فاصلے تک مار کر سکنے والے ایک راکٹ کا تجربہ کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ایرانی فوج کے ایک اعلیٰ نمائندے کے مطابق یہ مجوزہ راکٹ ٹیسٹ کل ہفتے کی صبح کیا جائے گا۔ ایرانی بحریہ ان دنوں خلیج فارس کے بین الاقوامی پانیوں میں اپنی کئی روزہ جنگی مشقیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ قبل ازیں ایرانی حکام نے نئی امریکی تنبیہات کے باوجود ایک بار پھر دھمکی دی کہ اگر مغربی ملکوں نے ایرانی تیل کی برآمدات پر کوئی پابندیاں لگائیں تو آبنائے ہرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں گزر سکے گا۔