میموکاغذاکا ٹکڑا نہیں، اپنے سپہ سالار کی بات مانیں یا باہر والے کی،چیف جسٹس

Posted: 30/12/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir

اسلام آباد : میمو کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ صدر ریاست کے سربراہ اور قابل احترام ہیں، میڈیا میں آنے والی بعض خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت نے پارلیمنٹ کی ناکامی کی بات کی ہے نہ ہی صدر کے مواخذے کی بات کی ہے،ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ 3 نومبر کے اقدامات کی توثیق کر دیتی تو آج جج یہاں نہ بیٹھے ہوتے۔ اسی طرح فوج کے سربراہ اور جوان بھی قابل احترام ہیں کیونکہ وہ ملک کے دفاع کے لئے خون دے رہے ہیں۔جنرل جیمز کے حوالے سے وکیل صفائی کی جانب سے اٹھائے گئے ایک نکتے کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا سپہ سالار جو کہہ رہا ہے وہ نہ مانیں اور باہر والے کی بات مانیں کیا یہ ممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میمو کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے،حسین حقانی کی وکیل نے جمعرات کو اپنے دلائل میں میمو کو جھوٹا اور کاغذ کا ٹکڑا قرار دیا اور کہا کہ درخواستیں بھاری جرمانے کے ساتھ مسترد کی جائیں۔عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میمو محض کاغذ کا ٹکڑا ہے جو ایک امریکی شہری نے ایک امریکی شہری کے ذریعے ایک امریکی شہری کو لکھا اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منصور اعجاز جھوٹا اور بدنیت ہے وہ تین سال سے ہماری فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف لکھ رہا ہے ۔ انہوں نے اس امر پر تعجب کا اظہار کیا کہ اس(منصور اعجاز) کی بات پر آئی ایس آئی چیف نے آخر کس طرح اعتماد کر لیا؟ ان کا کہنا تھا کہ میمو کی حیثیت ایک مضروضے سے زیادہ نہیں۔ دوران سماعت جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا عدالت محض مفروضوں اور تخیلات پر مبنی درخواستوں کو مفادعامہ کے نام پر سن سکتی ہے۔ انہوں نے آبزرویشن دی کہ درخواست گزاروں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ان کے حقوق پر واقعی زد پڑی ہے۔ حسین حقانی کی وکیل نے جمعرات کو درخواستوں کے ناقابل سماعت ہونے کے حق میں دلائل مکمل کر لئے جبکہ درخواست گزاروں میں سے بھی دو نے دلائل مکمل کر لئے اور باقی کو عدالت نے ہدایت کی ہے کہ وہ آج جمعہ کو دلائل مکمل کریں ۔ توقع ہے کہ اس کیس میں آج درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ حسین حقانی کی وکیل نے جمعرات کو اپنے دلائل میں موقف اپنایا کہ بنیادی حقوق کے مقدمات کا اختیار چار لوگوں کے لئے ہے جن کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہ ہو جبکہ میمو کیس کے درخواست گزار تو صاحب حیثیت ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی درخواست گزار نے حسین حقانی کے خلاف دادرسی نہیں مانگی بلکہ وفاق کے خلاف مانگی گئی ہے۔ کسی درخواست میں آپ کے موکل کے خلاف کوئی بات نہیں کی گئی۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میمو محض کاغذ کا ٹکڑا ہے جو ایک امریکی شہری نے ایک امریکی شہری کے ذریعے ایک امریکی شہری کو لکھا اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ منصور اعجاز جھوٹا اور بدنیت ہے وہ تین سال سے ہماری فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف لکھ رہا ہے اس کی بات پر آئی ایس آئی چیف نے آخر کس طرح اعتماد کر لیا۔ میمو کی حیثیت ایک مفروضے سے زیادہ نہیں۔ اس پر جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ کیا عدالت محض مفروضوں اور تخیلات پر مبنی درخواستوں کو مفادعامہ کے نام پر سن سکتی ہے۔ درخواست گزاروں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ان کے حقوق پر واقعی زد پڑی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میمو کاغذ کا ٹکڑا نہیں ، اگر ایسا ہوتا تو آرمی چیف وزیراعظم اور حسین حقانی اس کے وجود سے انکار کرتے۔ جسٹس شاکر اللہ جان اور جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ میمو سے کسی پاکستانی شخصیت کا کوئی تعلق نہیں تو بھی یہ تحقیق تو ہونی چاہئے کہ یہ کس نے اور کیوں لکھا۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میمو میں منصور اعجاز نیشنل سکیورٹی ٹیم کی بات کرتا ہے جبکہ پاکستان میں ایسی کوئی ٹیم نہیں ہے۔ صرف اہم ناموں کے لئے عدالت کے اختیار سماعت کا دائرہ وسیع نہ کیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کبھی اس تخصیص کے تحت سماعت نہیں کی۔ عدالت میں جو بھی آتا ہے اسے سنا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر بعض اخبارات میں عدالت کے حوالے سے شائع ہونے والے ریمارکس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی پارلیمنٹ کی ناکامی کی بات نہیں کی۔ ہم پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں اگر پارلیمنٹ 3 نومبر کے اقدامات کی توثیق کر دیتی تو آج جج یہاں نہ بیٹھے ہوتے۔ عاصمہ جہانگیر نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت متعدد مقدمات میں یہ طے کر چکی ہے کہ وہ براہ راست اسی وقت کوئی کیس سنے گی جب دادرسی کے لئے کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو۔درخواست گزار اس معاملہ پر ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں جیمز جونز کا بیان حلفی پڑھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا سپہ سالار کہہ رہا ہے کہ میمو حقیقت ہے ہم اس کی بات مانیں یا اس بیرونی فرد کی۔ ہمارے لئے اپنا چیف آف آرمی اسٹاف اہم اور قابل احترام ہے اور وہ جوان بھی جو ملکی دفاع کے لئے خون دے رہے ہیں۔ اس پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ہمیں بھی ان جوانوں پر فخر ہے ہمیں احساس ہے کہ ملکی دفاع کے لئے خون دیا جا رہا ہے تاہم فوج کے ماضی میں اٹھائے جانے والے بعض اقدامات کی وجہ سے ہمیں ان کی دانش پر شک ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے اس موقع پر فوج کے بارے میں جو بات کی اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی کی بے عزتی کریں۔ آپ اپنے کیس پر دلائل دیں۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اس وقت سول حکومت کمزور ہے ۔ عبوری دور ہے وہ فوج کے سامنے کھڑی نہیں ہو سکتی۔ ڈی جی آئی ایس آئی کو ملک کے چیف ایگزیکٹو کو بتا کر جانا چاہئے تھا۔ اس پر جسٹس شاکراللہ جان نے کہا کہ وہ تحقیقات کے لئے نہیں بلکہ معلومات کے حصول کے لئے گئے تھے اور وہ بھی اس لئے کہ میمو میں صدر کا نام لیا گیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ درخواستیں دائر کرنا سیاسی معاملہ ہے۔ درخواست گزاروں کے مقاصد ابھی سوالیہ نشان ہیں۔ بعض درخواست گزار میرے موکل کے خلاف مخاصمت رکھتے ہیں ان کے دور میں میرے موکل پر تشدد ہوا۔ یہ لوگ چونکہ خود ایسے کام کرتے ہیں اس لئے میرے موکل سے بھی ایسی ہی توقع کر رہے ہیں۔ 1999ء میں شہباز شریف امریکہ گئے اور امریکی قیادت سے کہا کہ ہمیں فوجی مداخلت کا خطرہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر مقاصد سیاسی ہیں تو بھی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ کیوں ہیں میمو پر چار چار اجلاس ہوئے استعفیٰ لیا گیا۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ چار چار اجلاس تو آپ کی برطرفی پر بھی ہوئے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر آپ لوگ درخواست لے کر یہاں ہی آئے تھے اور حقائق تک پہنچنے کی استدعا کی تھی۔ عاصمہ جہانگیر کے بعد بیرسٹر ظفر اللہ اور طارق اسد نے دلائل دیئے جس کے بعد سماعت آج جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔ آج عدالت کے روبرو میاں نواز شریف کے وکیل رشید اے رضوی اپنے جوابی دلائل کا آغاز کریں گے

Comments are closed.