روس میں ہندوؤں کی مقدس کتاب پر پابندی، مطالبہ مسترد

Posted: 30/12/2011 in Afghanistan & India, All News, Russia & Central Asia

بھارت میں شدید احتجاج کے بعد ایک روسی عدالت نے ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگود گیتا کے ایک ترجمے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں استغاثہ نے دعویٰ کیا تھا کہ گیتا کا روسی زبان میں ایک مشہور ترجمہ دراصل انتہا پسندانہ لٹریچر ہے، جو اس کے ماننے والوں کو ’دہشت گردانہ‘ کارروائیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ استغاثہ کا مطالبہ تھا کہ ہندوؤں کی مقدس ترین کتاب کے اس ترجمے کو بھی ممنوعہ کتابوں کی اُسی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے، جس میں اڈولف ہٹلر کی تحریر کردہ کتاب ’میری جدوجہد‘ شامل ہے۔  روس میں بھگود گیتا کا ترجمہ سن 1968 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں گیتا کے اصلی متن کے علاوہ اس پر سوامی پربھو پادا کی طرف سے کیے گئے تبصرے بھی شامل ہیں۔ سوامی پربھو پادا ’انٹر نیشنل ہرے کرشنا تحریک‘ ISKCON کے بانی تھے۔ استغاثہ کی طرف سے اس کتاب کو ممنوعہ قرار دینے کا مطالبہ جون میں سائبیریا کے علاقے میں ہرے کرشنا تحریک کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔روسی جنرل پراسیکیوٹر کے دفتر نے سن 2004 اور 2005 میں اس تحریک پر ’نیشنل چیک‘ رکھنے کا کہا تھا۔ روس کے اخبار The Izvestia daily کے مطابق جس وقت عدالت نے فیصلہ سنایا،کمرہ عدالت ہرے کرشنا تحریک کے کارکنوں کی تالیوں سے گونج اٹھا۔ اس تحریک کے ایک مقامی رہنما کا کہنا تھا، ’’ہم بغیر کسی بُغض کے اور انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ فیصلہ قبول کرتے ہیں‘‘۔ اس مقدمے کے آغاز سے یہ خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا کہ دونوں اتحادی اور اسٹریٹیجک پارٹنر ملکوں کے مابین تعلقات ایک بند گلی میں داخل ہو سکتے ہیں۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ ’’ایسے جاہل اور غلط سمت میں جانے والے افراد کی کارروائی ہے، جو خاص طرح کے مقاصد کا حصول چاہتے ہیں۔ یہ مقدمہ ایک ایسی مذہبی کتاب پر حملہ ہے، جو بھارت کی ’عظیم تہذیب کی اصل روح کی وضاحت‘ کرتی ہے۔‘‘ گزشتہ ہفتے بھارتی پارلیمان کا ایک اجلاس اس لیے معطل کرنا پڑ گیا تھا کہ اس بارے میں ایوان میں زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ کئی مظاہرین نے کولکتہ کے قریب روسی قونصل خانے کے باہر احتجاج بھی کیا تھا۔ سن 1997 میں بنایا جانے والا روس کا ایک متنازعہ قانون نہ صرف فعال مذہبی گروپوں کی رجسٹریشن بلکہ غیر ملکی مشنری کام کو محدود کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

Comments are closed.