بغل میں چھری منہ میں رام رام، جمعیت کی دوغلی پالیسی آشکار ہو گئی

Posted: 30/12/2011 in All News, Educational News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کے رہنما ایک جانب یونیورسٹی میں قیام امن کیلئے مجلس وحدت مسلمین کو تعاون کی یقین دہانی کروا رہے تھے دوسری جانب جمعیت کے غندے یونیورسٹی میں مقیم شیعہ طلباء کو ہراساں کر رہے تھے۔پنجاب یونیورسٹی میں یوم حسین ع کے انعقاد کی تقریب کو سبوتاژ کرنے والے اسلامی جمعیت طلبہ اور اس کی سرپرست جماعت ’’جماعت اسلامی ‘‘ کی دوغلی اور منافقانہ پالیسی اس وقت ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی جب جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں سے مذاکرت میں مصروف تھے اور ان مذاکرات میں انہوں نے آئی ایس او پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن دوسری جانب جماعت اسلامی کی ہی بغل بچہ طلبہ جماعت ’’اسلامی جمعیت طلبہ ‘‘ کے غنڈوں نے پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں مقیم شیعہ طلبہ کو زدوکوب کرنے اور ان کے کمروں سے ان کا سامان نکال کر باہر پھینکنے میں مصروف تھے۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ کو اپنے خصوصی ذرائع نے جمعیت گردی کا شکار طلبہ کے نام، کمرہ نمبرز اور ہاسٹل نمبرز کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق ہاسٹل نمبر تین کے کمرہ نمبر 139 بی سے آصف علی کے خلاف جارحیت کی گئی اس واردات میں جمعیت کے شہراد اختر ہاسٹل نمبر تین کمرہ نمبر 245، مناظر کھمبی(لاء ڈیپارٹمنٹ ہاسٹل نمبر 16)، محمد امین (ڈیپارٹمنٹ IQTM ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 98 مزید دس لڑکوں کے ہمراہ آصف علی کے کمرے میں آئے، قتل کی دھمکیاں دیں، کاغذات، کتب اور سامان جس میں آصف علی کے ایوارڈ اور سرٹیفیکیٹس شامل تھے اپنے ساتھ اٹھا کر لے گئے اور مقدس کاغذات کی بے حرمتی کی۔ یاد رہے کہ آصف علی پنجاب یونیورسٹی کے ٹاپ کرنیوالے طلبہ میں سے ایک ہیں اور انہیں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے امتحان میں ٹاپ کرنے پر خصوصی انعامات بھی موصول ہو چکے ہیں۔ آصف علی جس نے اپنی محنت سے ملک کا نام روشن کیا اس کے ساتھ اس کی مادرعلمی میں یہ سلوک ہو رہا ہے کہ اس کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کے کمرے کو تالہ لگا دیا گیا اور اسے ہاسٹل سے نکال دیا گیا ہے اس جارحیت پر جہاں ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ خاموش ہے وہاں یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی آنکھیں موند رکھی ہیں۔
دوسرے طلبہ میں محمد علی سلمان ان کا ہاسٹل نمبر 3 اور کمرہ نمبر 310 ہے، ان کے خلاف جمعیت کے جن غنڈوں نے کارروائی کی ان میں شہزاد اختر (ہاسٹل نمبر 3 کمرہ نمبر 245 مناظر کھمبی (لاء ڈیپارٹمنٹ ہاسٹل نمبر 16) محمد امین (ڈیپارٹمنٹ IQTM ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 98) 10 مزید لڑکوں کے ہمراہ کمرے میں آئے اور ان کا سامان اٹھا کر لے گئے جس میں کمپیوٹر LCD اور ATM کارڈ اور نقدی  4000 اور 6000 کے چیکس شامل ہیں۔ ہاسٹل نمبر 9 کے کمرہ نمبر 113 سے ہی عامر عباس اور نعیم عباس کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس بے شرمی کی کارروائی میں محمد امین (ڈیپارٹمنٹ IQTM ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 98) 8 دیگر افراد کے ہمراہ کمرہ میں آئے اور ان کا ذاتی سامان، اسناد اور کتابیں جلا دیں، ان کتابوں میں قرآنی دعاؤں کی کتب بھی شامل ہیں۔ ہاسٹل نمبر 9 کے ہی کمرہ نمبر 13 میں مقیم قیصر عباس کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں حافظ ماجد (کیمیکل ڈیپارٹمنٹ ہاسٹل نمبر 9)محمد امین (ڈیپارٹمنٹ IQTM ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 98) 8 دیگر افراد کے ہمراہ کمرہ میں آئے اور تالا توڑ کر سامان اور کاغذات اٹھا کر لے گئے۔ ہاسٹل نمبر 8 کے کمرہ نمبر 100 میں مقیم کاظم علی کو بھی ان غنڈوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اس کارروائی میں حافظ ندیم جو کہ ہاسٹل نمبر 8 کا ناظم بھی ہے اور رانا جاوید 10 افراد کے ہمراہ ان کے کمرے میں آئے اور ان کے سنی روم میٹ کو دھکے دے کر باہر نکالا اور کاظم علی کا سارا سامان اٹھا کر ساتھ لے گئے اور کمرے کو ڈبل لاک کر دیا۔ ہاسٹل نمبر 9 کے کمرہ نمبر 75 میں مقیم مزمل حسین کو بھی جمعیت کے کارکنوں نے اپنی یزیدیت کا نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں کچھ نامعلوم افراد ان کے کمرے میں آئے سامان اور کاغذات لے گئے اور کمرہ ڈبل لاک کر دیا۔ ہاسٹل نمبر گیارہ کے کمرہ نمبر 717 میں مقیم اطہر عباس کے کمرے میں بھی جمعیت کے بدنام زمانہ غنڈے آئے جن کی سربراہی طیب فریدی اور طلحہ علی (جیالو جی ڈیپارٹمنٹ ہاسٹل نمبر 11 کمرہ نمبر 26) کر رہے تھے، غندوں نے کمرے میں آ کر اطہر عباس کو قتل کی دھمکیاں دیں اور سامان لے گئے۔  ہاسٹل نمبر 8 کے کمرہ نمبر 26 میں رہنے والے محمد آصف کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا کارروائی میں حافظ ندیم جو کہ ہاسٹل نمبر 8 کا ناظم بھی ہے جس نے دیگر لڑکو ں سے آصف سے گھر فون کالز کروائیں اور قتل کی دھمکیاں دیں اور یونیورسٹی سے دور رہنے کا کہا۔ ہاسٹل نمبر 9 کے کمرہ نمبر 119 میں مقیم عرفان علی کے کمرے میں رات 10 بجے دس مسلح لڑکے آئے جن کی سربراہی سعید (ناظم IJT  ڈیپارٹمنٹ IER ہاسٹل نمبر 4 کمرہ نمبر 220) بابر رفیق غوری (ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 50) اور واجد علی(ہاسٹل نمبر 9) کر رہے تھے نے عرفان علی کے کمرے کا تالا توڑا اور تمام سامان نکا ل کر اپنے ساتھ لے گئے اور تمام نصابی کتابیں اور دینی مقدس کتابیں نذرآتش کر دیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے غنڈوں کی جانب سے شیعہ طلبہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے جب کہ جماعت اسلامی امن وسلامتی کے کھوکھلے دعوئے کرتی ہے جس سے اس کی حقیقت عام آدمی پر آشکار ہو جانی چاہیں۔ آئی ایس او پاکستان لاہور ڈویژن کے صدر ناصر عباس نے جمعیت کے اس دوغلے رویے کی مذمت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ جمعیت کی غنڈوں گردی اور سیاست معاویہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور انسانی حقوق کے اداروں کو ان کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور جمعیت کی حالت بغل میں چھری اور منہ میں رام رام والی ہے۔

Comments are closed.