Archive for 30/12/2011

یمن کے صدرعلی عبداللہ صالح صدارتی اختیارات نائب صدر کو منتقل کر چکے ہیں، اب وہ امریکہ جانے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن امریکی حکام نے ان کے لیے ویزہ جاری کرنے پر سوچ بچار کر رہے ہیں۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح برسوں تک اپنے ملک کے اقتدار پر براجمان رہے ہیں۔ ان کی منصب صدارت سے رخصتی پرزور عوامی تحریک کے باعث ممکن ہوئی۔ خلیجی تعاون کونسل کے پیش کردہ پلان کے تحت انہوں نے صدر کے اختیارات اپنے نائب صدر کو منتقل کر دیے ہیں۔ وہ نئے صدر کے انتخاب تک یمن کے صدر ضرور رہیں گے۔ اپنے اقتدار کے دور میں وہ دہشت گردی کی جنگ میں امریکی حلیف بھی تھے۔ اپنے ملک میں سرگرم انتہاپسندوں کی سرکوبی کے لیے وہ امریکی معاونت بھی حاصل کیے رہے۔ اس وقت یمن کے عوام شدت کے ساتھ ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ان کو خلیجی تعاون کونسل کے منتقلی ِاقتدار کے فارمولے کے تحت مقدموں سے استثنیٰ حاصل ہے۔علی عبداللہ صالح امریکہ بظاہر علاج کی غرض سے جانا چاہتے ہیں۔ امریکہ ان کی درخواست پر غور تو ضرور کر رہا ہے لیکن اس کا امکان کم ہے کہ یمنی عوام کے دباؤ کے تحت صنعاء حکومت ان کو جب مستقبل میں طلب کرتی ہے تو امریکہ ان کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن سکے گا۔ خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم امریکی تھنک ٹینک بروکنگز کی برانچ کے تنازعات کے ایکسپرٹ ابراہیم شرقیہ کا خیال ہے کہ صالح صورت حال کا احساس کرتے ہوئے اب ملک سے جلد روانہ ہونے کی فکر میں ہیں۔ امریکہ جانے کی خواہش کا اظہار علی عبداللہ صالح کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے دوران سامنے آیا تھا، جب ان کے مخالف مظاہرین کو ان کے حامیوں کی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا اور اس میں کم از کم نو مظاہرین کی ہلاکت ہوئی تھی۔ یہ مظاہرین صالح کو حاصل عدالتی استثنیٰ  کے خلاف متحرک تھے۔صالح کے خلاف مقدمہ چلانے کی تحریک کا آغاز تعِز شہر سے ہوا ہے اور یمن میں اس تحریک کو ایک اور انقلاب کا نام دیا گیا ہے۔ تعِز سے ہزاروں افراد نے دارالحکومت صنعا کی جانب مارچ کیا اور اس دوران ان کے ساتھ بے شمار دوسرے لوگ بھی شامل ہوتے گئے۔ یہ لوگ حکومت میں ہر سطح پر صالح کے حامی ملازمین کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں فارغ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان مظاہرین کا خیال ہے کہ مختلف مقامات پر براجمان صالح کے حامی افراد اپنے دوست احباب کو بچانے کی فکر میں صالح مخالفین کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کر رہے۔ مبصرین کے خیال میں موجودہ صورتحال میں صالح کو اب امریکہ روانہ ہونے کی جلدی ہے۔ صالح کی امریکی ویزے کی درخواست پر امریکی حلقوں میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی دارالحکومت کے اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ادارتی بورڈ نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس صورت حال میں امریکی حکام نے ویزہ دینے میں غور و فکر کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ دوسری جانب صالح کے رشتہ داروں نے ابو ظہبی میں سکونت کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ یمن میں صدارتی انتخابات اگلے سال اکیس فروری کے روز ہوں گے۔

Advertisements

بھارت میں شدید احتجاج کے بعد ایک روسی عدالت نے ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگود گیتا کے ایک ترجمے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں استغاثہ نے دعویٰ کیا تھا کہ گیتا کا روسی زبان میں ایک مشہور ترجمہ دراصل انتہا پسندانہ لٹریچر ہے، جو اس کے ماننے والوں کو ’دہشت گردانہ‘ کارروائیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ استغاثہ کا مطالبہ تھا کہ ہندوؤں کی مقدس ترین کتاب کے اس ترجمے کو بھی ممنوعہ کتابوں کی اُسی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے، جس میں اڈولف ہٹلر کی تحریر کردہ کتاب ’میری جدوجہد‘ شامل ہے۔  روس میں بھگود گیتا کا ترجمہ سن 1968 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں گیتا کے اصلی متن کے علاوہ اس پر سوامی پربھو پادا کی طرف سے کیے گئے تبصرے بھی شامل ہیں۔ سوامی پربھو پادا ’انٹر نیشنل ہرے کرشنا تحریک‘ ISKCON کے بانی تھے۔ استغاثہ کی طرف سے اس کتاب کو ممنوعہ قرار دینے کا مطالبہ جون میں سائبیریا کے علاقے میں ہرے کرشنا تحریک کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔روسی جنرل پراسیکیوٹر کے دفتر نے سن 2004 اور 2005 میں اس تحریک پر ’نیشنل چیک‘ رکھنے کا کہا تھا۔ روس کے اخبار The Izvestia daily کے مطابق جس وقت عدالت نے فیصلہ سنایا،کمرہ عدالت ہرے کرشنا تحریک کے کارکنوں کی تالیوں سے گونج اٹھا۔ اس تحریک کے ایک مقامی رہنما کا کہنا تھا، ’’ہم بغیر کسی بُغض کے اور انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ فیصلہ قبول کرتے ہیں‘‘۔ اس مقدمے کے آغاز سے یہ خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا کہ دونوں اتحادی اور اسٹریٹیجک پارٹنر ملکوں کے مابین تعلقات ایک بند گلی میں داخل ہو سکتے ہیں۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ ’’ایسے جاہل اور غلط سمت میں جانے والے افراد کی کارروائی ہے، جو خاص طرح کے مقاصد کا حصول چاہتے ہیں۔ یہ مقدمہ ایک ایسی مذہبی کتاب پر حملہ ہے، جو بھارت کی ’عظیم تہذیب کی اصل روح کی وضاحت‘ کرتی ہے۔‘‘ گزشتہ ہفتے بھارتی پارلیمان کا ایک اجلاس اس لیے معطل کرنا پڑ گیا تھا کہ اس بارے میں ایوان میں زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ کئی مظاہرین نے کولکتہ کے قریب روسی قونصل خانے کے باہر احتجاج بھی کیا تھا۔ سن 1997 میں بنایا جانے والا روس کا ایک متنازعہ قانون نہ صرف فعال مذہبی گروپوں کی رجسٹریشن بلکہ غیر ملکی مشنری کام کو محدود کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

یونان میں آرتھوڈوکس مسیحیوں کی ایک انتہائی مالدار اور مضبوط اثر و رسوخ کی حامل خانقاہ کے ایبٹ کو زمین کی فروخت کے اسکینڈل میں جیل بھیج دیا گیا۔ ماسکو اور ایتھنز کے قدامت پسند حلقوں نے اس پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ایک ہزار برس پرانی مقدس واتو پیدی خانقاہ ماؤنٹ ایتھوس کے علاقے میں واقع ہے جو کہ آرتھوڈوکس مسیحیت کا ایک مضبوط گڑھ ہے۔ بدھ کے روز جیل بھیجے جانے والے ایبٹ افرائیم کی گرفتاری سے روس کے ساتھ بھی تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے، جس نے اس اقدام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ قبرصی نژاد  56 سالہ افرائیم پر الزام ہے کہ انہوں نے چھ برس قبل ایک اسکیم کا منصوبہ تیار کیا تھا جس کے تحت مسیحی راہبوں نے سرکاری عہدیداروں کو سستی زرعی اراضی کو ایتھنز کی پرکشش رہائشی املاک کے عوض تبادلے پر آمادہ کر لیا تھا۔ اس اراضی میں جھیلیں بھی شامل تھیں۔ وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے یونانی ریاست کو کروڑوں یورو کا نقصان پہنچا تھا۔افرائیم جن کا اصلی نام واسیلیوس کوتسو ہے، نے ان تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ انہیں یونان کی سب سے بڑی جیل کوری ڈالوس میں حراست میں رکھا جا رہا ہے اور اگر ان پر جرم ثابت ہو گیا تو انہیں طویل عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑ سکتا ہے۔ وکلائے استغاثہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ان پر عائد الزامات کی سنگینی کے باعث انہیں مقدمے کی سماعت سے قبل ہی جیل میں رکھا جائے۔ یونانی قانون سازوں نے اس اسکینڈل پر تین سابق حکومتی وزراء کے بارے میں بھی تحقیقات کی تھیں مگر انہیں حاصل استثناء کی بناء پر یہ سلسلہ روک دیا گیا تھا۔ ان وزراء کا کہنا ہے کہ انہوں نے ادنٰی درجے کے سرکاری اہلکاروں کے مشورے پر اس منصوبے کی توثیق کی تھی تاہم اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے اعلٰی افسران نے ایسا کرنے کو کہا تھا۔بہت سے یونانی شہریوں کے نزدیک ملک کے اقتصادی مسائل کے لیے پادریوں کی بجائے سیاست دانوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی ضرورت ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی جماعت لاؤس پارٹی کے رہنما جارج کارات زافیرس نے کہا، ’’انہوں نے افرائیم کو تو جیل بھیجنے میں انتہائی عجلت کا مظاہرہ کیا جبکہ یونانی عوام کے پیسے خورد برد کرنے والے لوگ اب بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔‘‘ کئی سرکاری عہدیداروں کے بارے میں پارلیمانی تحقیقات کے باوجود ابھی تک کسی بھی اعلٰی سیاست دان پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ ادھر سیاہ لباس میں ملبوس درجنوں راہبوں نے جیل کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے ایبٹ افرائیم کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے عقیدت مندوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی ان کے حق میں حمایت حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ اس معاملے پر روس اور یونان کی خارجہ امور کی وزارتوں میں بھی تلخ بیانات کا تبادلہ ہوا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ’’ہمیں یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کی سفارشات کے باوجود  یونانی عدالت کی جانب سے انہیں مقدمہ چلنے سے قبل ہی گرفتار کرنے کے  فیصلے پر سخت تشویش لاحق ہے۔‘‘ یونان کی وزارت خارجہ نے روسی تشویش کو مسترد کر دیا ہے۔ روس میں لاکھوں آرتھوڈوکس مسیحی ماؤنٹ ایتھوس کمیونٹی کے عقیدت مند ہیں۔

لندن(پی اے) عراق کے نیوکلےئر ری ایکٹر پر 1981ء میں فضائی حملے کے اسرائیلی فیصلے سے امریکی حیرت زدہ اور ششدر رہ گئے تھے، یہ انکشاف نیشنل آر کائیوز کی جاری کردہ دستاویزات سے ہوا جو گزشتہ روز منظر عام پر آئیں ،اسرائیل کا قریبی اتحادی ہونے کے باوجود امریکہ کو اسرائیل نے عراق کے ایٹمی ری ایکٹر پر حملے کے بارے میں پیشگی متنبہ نہیں کیا تھا، اسرائیل نے جون 1981 ء میں عراق کے اوسیرک ری ایکٹر پر فضائی حملہ کیا تھا اس حملے کا حکم اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم بیگن نے جاری کیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق جب عراقی ری ایکٹر پر حملے کی اطلاع آئی تو اس وقت واشنگٹن میں برطانوی سفیر سرنکولس ہینڈرسن امریکی ڈیفنس سیکرٹری کیسپر وائن برگر کے ساتھ تھے اور برگر نے کہا کہ ان کے خیال میں بیگن حواس کھو بیٹھے ہیں سرنکولس نے لندن کو کیبل کیا اس وقت عراق میں برطانیہ کے سفیر سرسٹیفن ایگرٹن نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کے ایف 15 فائٹرز طیاروں کو فضا میں دیکھ کر عراق میں حیرت زدہ ہوگئے تھے، اطالوی نیشنل ڈے پر استقبالیہ کے اجتماع میں ڈپلومیٹک کور نے اس حملے کے میزائل ری ایکشن پر غور کیا تھا۔

اسلام آباد : میمو کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ صدر ریاست کے سربراہ اور قابل احترام ہیں، میڈیا میں آنے والی بعض خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت نے پارلیمنٹ کی ناکامی کی بات کی ہے نہ ہی صدر کے مواخذے کی بات کی ہے،ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ 3 نومبر کے اقدامات کی توثیق کر دیتی تو آج جج یہاں نہ بیٹھے ہوتے۔ اسی طرح فوج کے سربراہ اور جوان بھی قابل احترام ہیں کیونکہ وہ ملک کے دفاع کے لئے خون دے رہے ہیں۔جنرل جیمز کے حوالے سے وکیل صفائی کی جانب سے اٹھائے گئے ایک نکتے کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا سپہ سالار جو کہہ رہا ہے وہ نہ مانیں اور باہر والے کی بات مانیں کیا یہ ممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میمو کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے،حسین حقانی کی وکیل نے جمعرات کو اپنے دلائل میں میمو کو جھوٹا اور کاغذ کا ٹکڑا قرار دیا اور کہا کہ درخواستیں بھاری جرمانے کے ساتھ مسترد کی جائیں۔عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میمو محض کاغذ کا ٹکڑا ہے جو ایک امریکی شہری نے ایک امریکی شہری کے ذریعے ایک امریکی شہری کو لکھا اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منصور اعجاز جھوٹا اور بدنیت ہے وہ تین سال سے ہماری فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف لکھ رہا ہے ۔ انہوں نے اس امر پر تعجب کا اظہار کیا کہ اس(منصور اعجاز) کی بات پر آئی ایس آئی چیف نے آخر کس طرح اعتماد کر لیا؟ ان کا کہنا تھا کہ میمو کی حیثیت ایک مضروضے سے زیادہ نہیں۔ دوران سماعت جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا عدالت محض مفروضوں اور تخیلات پر مبنی درخواستوں کو مفادعامہ کے نام پر سن سکتی ہے۔ انہوں نے آبزرویشن دی کہ درخواست گزاروں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ان کے حقوق پر واقعی زد پڑی ہے۔ حسین حقانی کی وکیل نے جمعرات کو درخواستوں کے ناقابل سماعت ہونے کے حق میں دلائل مکمل کر لئے جبکہ درخواست گزاروں میں سے بھی دو نے دلائل مکمل کر لئے اور باقی کو عدالت نے ہدایت کی ہے کہ وہ آج جمعہ کو دلائل مکمل کریں ۔ توقع ہے کہ اس کیس میں آج درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ حسین حقانی کی وکیل نے جمعرات کو اپنے دلائل میں موقف اپنایا کہ بنیادی حقوق کے مقدمات کا اختیار چار لوگوں کے لئے ہے جن کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہ ہو جبکہ میمو کیس کے درخواست گزار تو صاحب حیثیت ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی درخواست گزار نے حسین حقانی کے خلاف دادرسی نہیں مانگی بلکہ وفاق کے خلاف مانگی گئی ہے۔ کسی درخواست میں آپ کے موکل کے خلاف کوئی بات نہیں کی گئی۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میمو محض کاغذ کا ٹکڑا ہے جو ایک امریکی شہری نے ایک امریکی شہری کے ذریعے ایک امریکی شہری کو لکھا اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ منصور اعجاز جھوٹا اور بدنیت ہے وہ تین سال سے ہماری فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف لکھ رہا ہے اس کی بات پر آئی ایس آئی چیف نے آخر کس طرح اعتماد کر لیا۔ میمو کی حیثیت ایک مفروضے سے زیادہ نہیں۔ اس پر جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ کیا عدالت محض مفروضوں اور تخیلات پر مبنی درخواستوں کو مفادعامہ کے نام پر سن سکتی ہے۔ درخواست گزاروں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ان کے حقوق پر واقعی زد پڑی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میمو کاغذ کا ٹکڑا نہیں ، اگر ایسا ہوتا تو آرمی چیف وزیراعظم اور حسین حقانی اس کے وجود سے انکار کرتے۔ جسٹس شاکر اللہ جان اور جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ میمو سے کسی پاکستانی شخصیت کا کوئی تعلق نہیں تو بھی یہ تحقیق تو ہونی چاہئے کہ یہ کس نے اور کیوں لکھا۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میمو میں منصور اعجاز نیشنل سکیورٹی ٹیم کی بات کرتا ہے جبکہ پاکستان میں ایسی کوئی ٹیم نہیں ہے۔ صرف اہم ناموں کے لئے عدالت کے اختیار سماعت کا دائرہ وسیع نہ کیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کبھی اس تخصیص کے تحت سماعت نہیں کی۔ عدالت میں جو بھی آتا ہے اسے سنا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر بعض اخبارات میں عدالت کے حوالے سے شائع ہونے والے ریمارکس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی پارلیمنٹ کی ناکامی کی بات نہیں کی۔ ہم پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں اگر پارلیمنٹ 3 نومبر کے اقدامات کی توثیق کر دیتی تو آج جج یہاں نہ بیٹھے ہوتے۔ عاصمہ جہانگیر نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت متعدد مقدمات میں یہ طے کر چکی ہے کہ وہ براہ راست اسی وقت کوئی کیس سنے گی جب دادرسی کے لئے کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو۔درخواست گزار اس معاملہ پر ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں جیمز جونز کا بیان حلفی پڑھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا سپہ سالار کہہ رہا ہے کہ میمو حقیقت ہے ہم اس کی بات مانیں یا اس بیرونی فرد کی۔ ہمارے لئے اپنا چیف آف آرمی اسٹاف اہم اور قابل احترام ہے اور وہ جوان بھی جو ملکی دفاع کے لئے خون دے رہے ہیں۔ اس پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ہمیں بھی ان جوانوں پر فخر ہے ہمیں احساس ہے کہ ملکی دفاع کے لئے خون دیا جا رہا ہے تاہم فوج کے ماضی میں اٹھائے جانے والے بعض اقدامات کی وجہ سے ہمیں ان کی دانش پر شک ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے اس موقع پر فوج کے بارے میں جو بات کی اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی کی بے عزتی کریں۔ آپ اپنے کیس پر دلائل دیں۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اس وقت سول حکومت کمزور ہے ۔ عبوری دور ہے وہ فوج کے سامنے کھڑی نہیں ہو سکتی۔ ڈی جی آئی ایس آئی کو ملک کے چیف ایگزیکٹو کو بتا کر جانا چاہئے تھا۔ اس پر جسٹس شاکراللہ جان نے کہا کہ وہ تحقیقات کے لئے نہیں بلکہ معلومات کے حصول کے لئے گئے تھے اور وہ بھی اس لئے کہ میمو میں صدر کا نام لیا گیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ درخواستیں دائر کرنا سیاسی معاملہ ہے۔ درخواست گزاروں کے مقاصد ابھی سوالیہ نشان ہیں۔ بعض درخواست گزار میرے موکل کے خلاف مخاصمت رکھتے ہیں ان کے دور میں میرے موکل پر تشدد ہوا۔ یہ لوگ چونکہ خود ایسے کام کرتے ہیں اس لئے میرے موکل سے بھی ایسی ہی توقع کر رہے ہیں۔ 1999ء میں شہباز شریف امریکہ گئے اور امریکی قیادت سے کہا کہ ہمیں فوجی مداخلت کا خطرہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر مقاصد سیاسی ہیں تو بھی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ کیوں ہیں میمو پر چار چار اجلاس ہوئے استعفیٰ لیا گیا۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ چار چار اجلاس تو آپ کی برطرفی پر بھی ہوئے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر آپ لوگ درخواست لے کر یہاں ہی آئے تھے اور حقائق تک پہنچنے کی استدعا کی تھی۔ عاصمہ جہانگیر کے بعد بیرسٹر ظفر اللہ اور طارق اسد نے دلائل دیئے جس کے بعد سماعت آج جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔ آج عدالت کے روبرو میاں نواز شریف کے وکیل رشید اے رضوی اپنے جوابی دلائل کا آغاز کریں گے

کوئٹہ …کوئٹہ میں ارباب کرم خان روڈ پر المشرق لائن کے قریب سابق وفاقی وزیر میر نصیر خان مینگل کے صاحبزادے کے گھر پر زور دار دھماکا ہواجس کے نتیجے میں10افراد جاں بحق اور 21زخمی ہوگئے ہیں ہلاکتوں کی تصدیق پولیس اور ریسکیوذرائع نے تو کردی ہے تاہم سرکاری ذرائع نے اب تک تصدیق نہیں کی ہے ۔دھماکا میر نصیر مینگل کے بیٹے کے گھر کے باہرموجود ایک گاڑی میں ہوا بتایا جاتا ہے کہ دھماکا خیز مواد اسی گاڑی میں نصب کیا گیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر میڈیا اور پولیس کو دیکھ کر بعض مسلح افراد نے ہوائی فائرنگ بھی کی،جبکہ میڈیا کے لوگوں کے کیمرے توڑنے کی بھی اطلاع ملی ہے،جبکہ فائرنگ سے ایک رپورٹر کے زخمی ہوا ہے۔پولیس اور لیوی کے جوان علاقے میں موجود ہیں،ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو سول اسپتال اور بی ایم سی میں منتقل کیا گیا ہے۔دریں اثناء معلو م ہوا ہے کہ میرنصیر کے صاحبزادے سخت سکیورٹی میں سول اسپتال پہنچے جہاں انھوں نے زخمیوں کی عیادت کی۔دھماکے بعد قریبی بعد گھروں میں آگ لگ گئی اور شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ادھر جیو نیوز کے نمائندے ندیم کوثر کے مطابق دھماکے میں میں دس افراد جاں بحق اور21زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ریسیکیو ذرائع کے مطابق سول اسپتال اور بی ایم سی میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔جبکہ علاقے کو پولیس اور سیکیورٹی نے گھیرے میں لے لیا ہے،دھماکے کے بعد علاقے کی بجلی منقطع کردی گئی ۔دھماکے کی آواز میلوں دور تک سنی گئی اور اس سے دور تک کی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔پولیس اور انتظامیہ نے میڈیا سمیت کسی کو بھی دھماکے والی جگہ پر جانے سے روکا۔واضح والی جگہ رہائشی علاقہ ہے اور یہاں پر اکا دکا یہاں پر دکانیں بھی ہیں۔علاقے میں افراتفری کی کیفیت ہے۔ ریسکیوں ٹیمیں اور فائربریگیڈ امدادی کاموں میں مصروف ہے۔ زیادہ تر زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ لایا گیا ہے۔

قاہرہ… مصری پولیس نے دارالحکومت قاہرہ میں سترہ غیر سرکاری تنظیموں این جی او کے دفاتر پر چھاپے مارکر دستاویزات اور دوسرا سامان ضبط کر لیا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بتایا کہ پولیس نے دوامریکی تنظیموں نیشنل ڈیمو کریٹک انسٹی ٹیوٹ اورانٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ سمیت سترہ این جی اوز کے دفاتر پرچھاپے مارے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ امریکا مصر کو دی جانے والی ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی سالانہ فوجی امداد پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل کہہ چکی ہے کہ وہ جمہوریت نوازوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ملنے والے فنڈز کی تحقیقات کرے گی اور ملکی امور میں غیر ملکی مداخلت برداشت نہیں کرے گی۔مصر کی انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں حکمراں فوجی کونسل سے اقتدار جلد سے جلد سول حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں

 

ریاض…سعودی مجلس شوری کے رکن اور ممتاز سعودی عالم دین حاتم الشریف کے مطابق مسیحیوں کو کرسمس پر مبارک باد دینا گناہ نہیں بلکہ مستحب عمل ہے۔لندن سے شائع ہونے والا عربی اخبار الحیاة کو انٹرویو دیتے ہوئے شیخ شریف کا کہنا ہے کہ اسلام میں غیر مسلم کو اسکے مذہبی تہوار یا کسی اور موقع پر تہنیت دینے میں کوئی ممانعت نہیں، انکے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلموں کو تہنیت کرتے ہوے کہتے تھے السلام علی من اتبع الھدیٰ۔یاد رہے کہ جب سے سعودی عرب اپنے نوجوانوں کو غیر ممالک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیئے بھیج رہا ہے اس وقت سے یہ غیر مسلموں کی تہنیت متنازع مسئلہ چلا آرہا ہے

ریاض … سعودی عرب نے امریکا سے قریبا 30 ارب ڈالر مالیت کے لڑاکا طیارے خریدلیے ہیں جن میں 84 ایڈوانس ایف 15بھی شامل ہیں۔ڈیل سے امریکامیں 50ہزار نوکریاں پیدا ہوں گی۔انتیس اعشاریہ 4ارب ڈالر مالیت کی اس ڈیل کااعلان امریکا کے محکمہ خارجہ نے کیا ہے۔جن میں 70 پرانے ایف 15 طیاروں کو جدید بنانے کامعاہدہ بھی شامل ہے۔محکمہ خارجہ کے سیاسی وفوجی امور کے بیوروکے سربراہ اینڈریو شپیرو نے بتایاکہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے لیے خطے کی سیکیورٹی کے لحاظ سے کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ان کاکہناہے کہ خطے کو جن خطرات کاسامنا ہے ان میں سے ایک ایران ہے

 لندن……ٹوئٹر پر پیغام لکھتے ہو ئے احتیا ط برتیں،امریکی ادارہ برائے ہو م لینڈ سیکیو رٹی نے بلا گس اور ٹو ئٹر اکا وئنٹس پر نگا ہ رکھنی شر وع کر دی۔برطا نوی اخبا ر ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق آ پ اپنے فیس بک اور ٹو ئٹر اکا ؤنٹ پر کیا پیغا ما ت لکھتے ہیں اس پر امریکی ادارے بر ائے ہو م لینڈ سکیورٹی کی نظر ہے لہذا پیغا ما ت پو سٹ کرنے میں احتیا ط سے کا م لینا ضر وری ہے ۔ Drill, Strain,Collapse, Outbreak اور وائرس جیسے الفاظ آ پ کے پیغا ما ت کو مشکو ک بنا سکتے ہیں کیو نکہ یہ الفا ظ محکمہ ہو م لینڈ سیکیورٹی کی واچ لسٹ میں شامل ہیں ۔ رپورٹ کے مطا بق اگر آ پ اپنے بلا گ یا اکا ؤنٹ پر پوسٹ کیے جانے والے پیغا م میں ایسے الفا ظ استعمال کرتے ہیں جواس واچ لسٹ کا حصہ ہیں تو ممکن ہے کہ آ ٓ پ کے اکا ؤ نٹ پر خفیہ ادار وں کی نظر ہو اور آ پ کی جا سو سی بھی کی جا رہی ہو۔ واضح رہے کہ یہ انکشاف ایک آ ن لا ئن پرائیوئیسی گر وپ کی جا نب سے کیا گیا ہے لیکن اس کے بعد امریکی حکو مت کی جا نب سے اس دعوے کی تر دید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے ۔

اسلام آباد… پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے میمو کیس میں منصور اعجاز، سابق سفیر برائے امریکا حسین حقانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر رضا ربانی کی زیر صدارت جاری ہے جس میں میمو کیس اور نیٹو حملے سے متعلق امور زیر غور ہیں۔ سینیٹر رضا ربانی نے میڈیا کو بتایا کہ ان تینوں افراد کو 10جنوری کو طلب کیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منصور اعجاز کو رائج سفارتی ذرائع سے بلایا جائے گا۔

جیکب آباد… پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ کی نماز جنازہ جیکب آباد میں ادا کرنے کے بعد میت سبی کے قریب آبائی گوٹھ روانہ کردی گئی ہے جہاں انہیں سپردخاک کیا جائیگا۔ گزشتہ روز کوئٹہ میں قتل ہونے والے پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ کی نمازجنازہ جیکب آباد کی جامع مسجد میں ادا کردی گئی ہے۔جس کے بعد ان کی میت سبی کے قریب آبائی علاقے گوٹھ لاڑی تنیاں روانہ کردی گئی جہاں انہیں سپرد خاک کردیا جائیگا۔ ڈاکٹر باقر شاہ کی نمازجنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ڈاکٹرباقرکو کوئٹہ میں جمعرات کو اس وقت گولیوں کونشانہ بنایاگیا جب وہ اپنی ڈیوٹی کے بعد اسپتال سے سبزل روڈ پر اپنے گھرپہنچے تھے

اسلام آباد… وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کوئٹہ میں پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ کے قتل کو نیا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ پارلیمنٹ ہاوٴس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں رحمن ملک کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں ڈاکٹر باقر شاہ کے قتل کے حوا لے سے پولیس کے مطابق پولیس سرجن باقر شاہ کی ذاتی دشمنی بھی تھی اور تحقیقات میں ان کی ذاتی دشمنی کے پہلو پر بھی غور کیا جار ہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اہم شخصیات کو ٹارگٹ کرکے حکومت پر الزامات لگانے کی سازش جاری ہے، کچھ لوگ بلوچستان کو علیحدہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ پاکستان کے خلاف کام کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں دشمن موجود ہے اور چھوٹی سطح پر دراندازی ہور ہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیان کو غلط انداز سے پیش کیا گیا ہے ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ یوم عاشورہ کے روز عزاداروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوئی تھی، اگر فوج نہ آتی تو حالات خراب ہو جاتے۔وزیر مملکت ہیومن ریسورس اینڈ ڈویلپمنٹ اور (ق) لیگ کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوم عاشور پر ضلعی انتظامیہ عزاداروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے، کالعدم جماعت صحابہ کرام کا نام استعمال کر کے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے جھنگ کے حالات خراب کرنا چاہتی ہے۔ جھنگ سٹی میں روزانہ کوئی نہ کوئی واقعہ ہو جانا انہی عزائم کا حصہ ہے۔ شیخ وقاص اکرم نے ضلعی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کالعدم جماعت کی آلہ کار بنی ہوئی ہے اور حکومت پنجاب کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کے دباؤ میں آ کر جھنگ کے حالات کو خراب کرنے والے عناصر کو گرفتار کرنے کرنے کی بجائے بے گناہ عزداروں پر مقدمات بنا رہی ہے۔  وزیر مملکت نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ یوم عاشورہ کے روز عزاداروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوئی تھی، اگر فوج نہ آتی تو حالات خراب ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے جلوس پر حملہ کرنے والے شرپسندوں کو گرفتار نہیں کیا لیکن کالعدم جماعت اپنے سیاسی فائدے کے لیے بے گناہ لوگوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم جماعت جھنگ کا امن خراب کر کے اپنے عزائم پورا کرنا چاہتی ہے جس کو عوام ناکام بنا دینگے، یہ لوگ عوام میں اپنی قدر کھو چکے ہیں اس لیے محرم میں لوگوں کی ہمدردی کے لیے آئے روز کوئی نہ کوئی واقعہ کرتے رہتے ہیں۔ شیخ وقاص اکرم نے پنجاب حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جھنگ کے حالات خراب کرنیوالے عناصر کی پشت پناہی کرنا چھوڑ دے ورنہ جھنگ کی عوام سراپا احتجاج بن جائیگی۔

سیاسی اور منشور کمیٹی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا ہے کہ امریکہ کا ہدف پاکستان کی افواج ہیں، فوج اور حکومت میں ہم آہنگی قوم اور ملک کی ضرورت ہے۔سنی اتحاد کونسل کے مرکزی دفتر میں کونسل کی سیاسی کمیٹی اور منشور کمیٹی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے کہا ہے کہ بجلی اور گیس کے بحران نے ملکی معیشت تباہ اور عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، گیس کی بندش کی وجہ سے ہزاروں صنعتیں بند اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں، قومی صنعتوں کے ساتھ اب غریب لوگوں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، حکمران طبقے میں سے کسی کو نہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے اور نہ گیس کا، اس لیے وہ عوام کے دکھ درد کو نہیں سمجھ سکتے، ملک کی 5 بڑی جماعتیں شریک اقتدار ہیں جو عوامی مسائل حل نہ ہونے کی برابر کی ذمہ دار ہیں، سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 10 کروڑ لوگوں پر حکومت کرنے والی مسلم لیگ پچھلے تین چار سالوں میں کچھ نہیں کر سکی۔ صاحبزادہ فضل کریم نے مزید کہا کہ امریکہ کا ہدف پاکستان کی افواج ہیں، عالمی سامراج اس خطے میں اپنے مقاصد کے لیے پاک فوج کو کمزور کرنا چاہتا ہے، فوج اور حکومت میں ہم آہنگی قوم اور ملک کی ضرورت ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے مزید کہا کہ جمہوریت کے ثمرات کبھی بھی عام آدمی تک نہیں پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک بکھرتا ہوا معاشرہ بنا دیا گیا ہے، جسے جوڑنے کے لیے قومی قیادت کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے مزید کہا کہ حکمران بجلی اور گیس کے بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں، ایسا نہ ہوا تو ہم قوم کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دیں گے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے طویل المیعاد پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔

منصورہ میں ہونے والے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جماعت اسلامی اور ایم ڈبلیو ایم کے اکابرین کی موجودگی میں آئی ایس او اور جمعیت کی ایک مشترکہ میٹنگ رکھی جائے گی جس میں موجودہ حالات کے تناظر میں مکمل افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کے ساتھ یوم حسین ع کے عنوان سے ایک بڑے پروگرام کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور جماعت اسلامی کے اکابرین کے مابین پنجاب یونیورسٹی لاہور میں یوم حسین ع کے حوالے سے طلبہ تنظیموں امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور اسلامی جمعیت طلبہ میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے تدارک اور پنجاب کے اس اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے میں یوم حسین ع کی تقریب کے انعقاد کے لیے ہونے والے مذاکرات کے دوران اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکزی جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ، صوبائی راہنما امیر العظیم، حفیظ خان، جمعیت کے صوبائی صدر رسل خان، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری علامہ محمد امین شہیدی، مرکزی سیکرٹری تربیت علامہ ابوذر مہدوی، سیکرٹری اطلاعات ناصر شیرازی، افسر حسین خان، مولانا احمد اقبال رضوی اور اسد نقوی کے مابین دوستانہ ماحول میں ہونے والے ان مذاکرات میں سانحہ پنجاب یونیورسٹی کے مضمرات اور اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، دونوں جماعتوں کے اکابرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بعض شر پسند عناصر شیعہ سنی وحدت کو توڑنے کے لیے ایسے مواقع سے سوء استفادہ کرتے ہوئے فسادات برپا کرتے ہیں۔ امام حسین ع شیعہ اور سنی کا مشترکہ سرمایہ ہیں ان کی یاد میں پروگراموں کا انعقاد اور ان کی شہادت کا فلسفہ بیان کرنا شیعہ اور سنی کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ میٹنگ میں طے پایا کہ جس طرح ملک کے دیگر علاقوں کے تعلیمی اداروں میں امام حسین علیہ السلام کی سیرت و کردار پر روشنی ڈالنے اور ان کے عظیم فلسفہ کو بیان کرنے کے لیے مشترکہ پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، اسی طرح لاہور کے تعلیمی اداروں میں بھی اس سنت حسنہ کو زندہ رکھا جائے اور فریقین کے مابین اختلاف ختم کرنے کی شعوری جدوجہد کی جائے تاکہ ایسے مواقع پر اختلافات پیدا کر کے فسادات برپا کرنے والوں کو شرانگیزی کا موقع نہ ملے، چونکہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور جماعت اسلامی کے مابین خوشگوار، برادرانہ اور محبت آمیز تعلقات ہیں اور دونوں جماعتیں ملت اسلامیہ کی وحدت کے لیے جہدو جہد پر یقین رکھتی ہیں اور مولانا مودودی مرحوم کا بھی یہی مشن تھا، اس لیے ان تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ طلبہ تنظیموں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے والے عناصر کی کوششوں کو شعوری طور پر ناکام بنایا جائے، جماعت اسلامی اور ایم ڈبلیو ایم کے اکابرین کی موجودگی میں آئی ایس او اور جمعیت کی ایک مشترکہ میٹنگ رکھی جائے جس میں موجودہ حالات کے تناظر میں مکمل افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کے ساتھ یوم حسین ع کے عنوان سے ایک بڑے پروگرام کے انعقاد کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے، تاکہ ملت اسلامیہ کی وحدت کو زیادہ سے زیادہ پروموٹ کیا جا سکے۔ دونوں جماعتوں کے اکابرین نے پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والے اس جھگڑے کے دوران طلبہ کو زد و کوب کرنے، طلبہ کے کمروں میں گھس کر انہیں دھمکیاں دینے اور انہیں یونیورسٹی سے نکالنے کے عمل کی مذمت کی اور ان ناخوشگوار واقعات کے ازالہ کے لیے فورہی قدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ملک بھر میں شروع ہونے پروپیگنڈے اور اخلاق سے گرے ہوئے میگزین کی اشاعت نہ صرف بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس کے سدباب کے لیے شعوری طور پر مؤثر اقدامات اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ میٹنگ میں طے پایا کہ دونوں جماعتوں کے مابین کے اکابرین کی ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے، اس موقع پر پاکستان اور ملت اسلامیہ کے مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاؤن کے سلسلہ کو بہتر بنانے اور اسے آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ قبل ازیں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی اور جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ کے مابین ہونے والی ایک ملاقات کے دوران ملک کی سیاسی صورتحال، قوعمی و نجی اداروں میں پائی جانے والی کرپشن اور عام انتخابات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کے رہنما ایک جانب یونیورسٹی میں قیام امن کیلئے مجلس وحدت مسلمین کو تعاون کی یقین دہانی کروا رہے تھے دوسری جانب جمعیت کے غندے یونیورسٹی میں مقیم شیعہ طلباء کو ہراساں کر رہے تھے۔پنجاب یونیورسٹی میں یوم حسین ع کے انعقاد کی تقریب کو سبوتاژ کرنے والے اسلامی جمعیت طلبہ اور اس کی سرپرست جماعت ’’جماعت اسلامی ‘‘ کی دوغلی اور منافقانہ پالیسی اس وقت ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی جب جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں سے مذاکرت میں مصروف تھے اور ان مذاکرات میں انہوں نے آئی ایس او پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن دوسری جانب جماعت اسلامی کی ہی بغل بچہ طلبہ جماعت ’’اسلامی جمعیت طلبہ ‘‘ کے غنڈوں نے پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں مقیم شیعہ طلبہ کو زدوکوب کرنے اور ان کے کمروں سے ان کا سامان نکال کر باہر پھینکنے میں مصروف تھے۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ کو اپنے خصوصی ذرائع نے جمعیت گردی کا شکار طلبہ کے نام، کمرہ نمبرز اور ہاسٹل نمبرز کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق ہاسٹل نمبر تین کے کمرہ نمبر 139 بی سے آصف علی کے خلاف جارحیت کی گئی اس واردات میں جمعیت کے شہراد اختر ہاسٹل نمبر تین کمرہ نمبر 245، مناظر کھمبی(لاء ڈیپارٹمنٹ ہاسٹل نمبر 16)، محمد امین (ڈیپارٹمنٹ IQTM ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 98 مزید دس لڑکوں کے ہمراہ آصف علی کے کمرے میں آئے، قتل کی دھمکیاں دیں، کاغذات، کتب اور سامان جس میں آصف علی کے ایوارڈ اور سرٹیفیکیٹس شامل تھے اپنے ساتھ اٹھا کر لے گئے اور مقدس کاغذات کی بے حرمتی کی۔ یاد رہے کہ آصف علی پنجاب یونیورسٹی کے ٹاپ کرنیوالے طلبہ میں سے ایک ہیں اور انہیں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے امتحان میں ٹاپ کرنے پر خصوصی انعامات بھی موصول ہو چکے ہیں۔ آصف علی جس نے اپنی محنت سے ملک کا نام روشن کیا اس کے ساتھ اس کی مادرعلمی میں یہ سلوک ہو رہا ہے کہ اس کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کے کمرے کو تالہ لگا دیا گیا اور اسے ہاسٹل سے نکال دیا گیا ہے اس جارحیت پر جہاں ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ خاموش ہے وہاں یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی آنکھیں موند رکھی ہیں۔
دوسرے طلبہ میں محمد علی سلمان ان کا ہاسٹل نمبر 3 اور کمرہ نمبر 310 ہے، ان کے خلاف جمعیت کے جن غنڈوں نے کارروائی کی ان میں شہزاد اختر (ہاسٹل نمبر 3 کمرہ نمبر 245 مناظر کھمبی (لاء ڈیپارٹمنٹ ہاسٹل نمبر 16) محمد امین (ڈیپارٹمنٹ IQTM ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 98) 10 مزید لڑکوں کے ہمراہ کمرے میں آئے اور ان کا سامان اٹھا کر لے گئے جس میں کمپیوٹر LCD اور ATM کارڈ اور نقدی  4000 اور 6000 کے چیکس شامل ہیں۔ ہاسٹل نمبر 9 کے کمرہ نمبر 113 سے ہی عامر عباس اور نعیم عباس کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس بے شرمی کی کارروائی میں محمد امین (ڈیپارٹمنٹ IQTM ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 98) 8 دیگر افراد کے ہمراہ کمرہ میں آئے اور ان کا ذاتی سامان، اسناد اور کتابیں جلا دیں، ان کتابوں میں قرآنی دعاؤں کی کتب بھی شامل ہیں۔ ہاسٹل نمبر 9 کے ہی کمرہ نمبر 13 میں مقیم قیصر عباس کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں حافظ ماجد (کیمیکل ڈیپارٹمنٹ ہاسٹل نمبر 9)محمد امین (ڈیپارٹمنٹ IQTM ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 98) 8 دیگر افراد کے ہمراہ کمرہ میں آئے اور تالا توڑ کر سامان اور کاغذات اٹھا کر لے گئے۔ ہاسٹل نمبر 8 کے کمرہ نمبر 100 میں مقیم کاظم علی کو بھی ان غنڈوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اس کارروائی میں حافظ ندیم جو کہ ہاسٹل نمبر 8 کا ناظم بھی ہے اور رانا جاوید 10 افراد کے ہمراہ ان کے کمرے میں آئے اور ان کے سنی روم میٹ کو دھکے دے کر باہر نکالا اور کاظم علی کا سارا سامان اٹھا کر ساتھ لے گئے اور کمرے کو ڈبل لاک کر دیا۔ ہاسٹل نمبر 9 کے کمرہ نمبر 75 میں مقیم مزمل حسین کو بھی جمعیت کے کارکنوں نے اپنی یزیدیت کا نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں کچھ نامعلوم افراد ان کے کمرے میں آئے سامان اور کاغذات لے گئے اور کمرہ ڈبل لاک کر دیا۔ ہاسٹل نمبر گیارہ کے کمرہ نمبر 717 میں مقیم اطہر عباس کے کمرے میں بھی جمعیت کے بدنام زمانہ غنڈے آئے جن کی سربراہی طیب فریدی اور طلحہ علی (جیالو جی ڈیپارٹمنٹ ہاسٹل نمبر 11 کمرہ نمبر 26) کر رہے تھے، غندوں نے کمرے میں آ کر اطہر عباس کو قتل کی دھمکیاں دیں اور سامان لے گئے۔  ہاسٹل نمبر 8 کے کمرہ نمبر 26 میں رہنے والے محمد آصف کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا کارروائی میں حافظ ندیم جو کہ ہاسٹل نمبر 8 کا ناظم بھی ہے جس نے دیگر لڑکو ں سے آصف سے گھر فون کالز کروائیں اور قتل کی دھمکیاں دیں اور یونیورسٹی سے دور رہنے کا کہا۔ ہاسٹل نمبر 9 کے کمرہ نمبر 119 میں مقیم عرفان علی کے کمرے میں رات 10 بجے دس مسلح لڑکے آئے جن کی سربراہی سعید (ناظم IJT  ڈیپارٹمنٹ IER ہاسٹل نمبر 4 کمرہ نمبر 220) بابر رفیق غوری (ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 50) اور واجد علی(ہاسٹل نمبر 9) کر رہے تھے نے عرفان علی کے کمرے کا تالا توڑا اور تمام سامان نکا ل کر اپنے ساتھ لے گئے اور تمام نصابی کتابیں اور دینی مقدس کتابیں نذرآتش کر دیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے غنڈوں کی جانب سے شیعہ طلبہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے جب کہ جماعت اسلامی امن وسلامتی کے کھوکھلے دعوئے کرتی ہے جس سے اس کی حقیقت عام آدمی پر آشکار ہو جانی چاہیں۔ آئی ایس او پاکستان لاہور ڈویژن کے صدر ناصر عباس نے جمعیت کے اس دوغلے رویے کی مذمت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ جمعیت کی غنڈوں گردی اور سیاست معاویہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور انسانی حقوق کے اداروں کو ان کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور جمعیت کی حالت بغل میں چھری اور منہ میں رام رام والی ہے۔