Archive for 29/12/2011

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس سرجن ڈاکٹر سید باقر  شاہ کوگولیاں مار کر شہید کر دیا ہے۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس سرجن ڈاکٹر سید باقر شاہ کوگولیاں مار کر شہید کر دیا ہے۔ڈاکٹر باقر شاہ نے سانحہ خروٹ آباد میں ہلاک ہونے والے چیچن کےپانچ شہریوں کا پوسٹمارٹم کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ نے ہلاک ہونے والے پانچ چیچن باشندوں کی پوسٹارٹم رپورٹ تیار کی تھی جس میں انہوں نے واضع طور پر کہا تھا کہ پانچ چیچن باشندوں کی ہلاکتیں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہوئیں تھیں۔ اس واقعہ کے فوراً بعد اس وقت کے سینئیر سٹی پولیس آفیسر داؤد جونیجو اور فرنٹیئر کور کے کرنل فیصل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والے پانچ غیر ملکی افراد خودکش حملہ آور تھے جو کہ تخریب کاری کے لیے کوئٹہ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن سکیورٹی فورسز نے تخریب کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ ڈاکٹرسید باقر شاہ کی پوسٹمارٹم رپورٹ نے سکیورٹی فورسز کے اس دعوے کو نہ صرف بے بنیاد قرار دیا تھا بلکہ انہوں نے سانحہ خروٹ آباد سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ کے جج محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں قائم ہونے والے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے بھی اہم گواہ کے طور پر اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔ اس دوران پولیس کی وردی میں ملبوس بعض نامعلوم افراد نے پرنس روڑ پر ڈاکٹر باقر شاہ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا جس میں وہ زخمی ہوئے تھے۔ واقعہ کے بعد صوبائی حکومت نے نہ صرف سٹی تھانہ کے ایس ایچ او کو برطرف کیا تھا بلکہ بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ ڈاکٹر سید باقر شاہ کو سکیورٹی فراہم کی جائے لیکن آج جمعرات کو جب وہ ہسپتال سے گھر کی طرف جا رہے تھے تو اس وقت ان کے ساتھ کوئی سکیورٹی گارڈ نہیں تھا۔ واقعہ کے بعد ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال پہنچ گئی جنہوں نے ڈاکٹرسید باقر شاہ کی شہادت  کی ذمہ داری صوبائی حکومت  اور سکیورٹی فورسز پر عائد کر دی ہے

Advertisements

بحرین کے منحوس اور امریکہ نواز بادشاہ شیخ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے بیٹے بھی بحرین کے بے گناہ عوام کو ظلم و ستم کرنے اور ازیتیں دینے میں شامل ہوگئے ہیں۔المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین کے منحوس اور امریکہ نواز بادشاہ شیخ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے بیٹے بھی بحرین کے بے گناہ عوام کو ظلم و ستم کرنے اور ازیتیں دینے میں شامل ہوگئے ہیں۔ بحرین میں انسانی حقوق کے سرگرم رکن نبیل رجب کا کہنا ہے کہ معلوم نہیں کہ حقد بن عیسی آل خلیفہ کب وزیر داخلہ اور دفاع  کو حکم دےگا کہ وہ لوگوں کے لوٹے ہوئے اموال کو واپس کردیں انھوں نے کہا کہ بحرین میں نسل پرستی بڑھ رہی ہے اور آل خلیفہ اپنے مخآلفین کا قلع و قمع کرنے میں مشغول ہیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ بحرینی حکومت وہی کام کررہی ہے جو اسرائيلی حکومت مقبوضہ فلسطین میں فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے۔ واضح رہے کہ بحرینی حکومت اپنے تخت و تاج کو بچآنے کے لئے سعودی عرب اور امریکہ کے تعاون سے بحرینی عوام پر سنگين جرائم کا ارتکاب کررہی ہے، ہزاروں افراد کو جیل میں بند کردیا گیا ہے اور حاملہ عورتوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنیا جارہا ہے