القاعدہ پاکستانی انتہاپسندوں کو متحد کرنے میں مصروف

Posted: 24/12/2011 in Afghanistan & India, All News, Breaking News, Important News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News, USA & Europe

القاعدہ کی اعلیٰ قیادت ان کوششوں میں ہے کہ پاکستانی قبائلی علاقے میں مختلف انتہاپسندوں کے گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کر کے امریکہ کے خلاف افغانستان میں جاری جنگ میں شدت پیدا کی جائے۔ اسامہ بن لادن کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کے نئے سربراہ ایمن الظواہری متاثر کن پروفائل کے حامل نہیں اور  اس تناظر میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ ایک خلا کے ساتھ باقی رہے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اڑتالیس سالہ ابُو یحییٰ اللبی کی صورت میں ایک اعلیٰ لیڈر سامنے آیا ہے جو القاعدہ میں اسامہ بن لادن کی جگہ لے سکتا ہے۔ اللبی ان دنوں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متحرک اور گروہوں میں منقسم طالبان کو متحد کرنے کی کوششوں میں ہے۔ابو یحییٰ اللبی نے سن 2005 میں بگرام کی انتہائی سکیورٹی والی امریکی جیل سے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ابھی تک وہ امریکی ڈرون حملوں سے بچنے میں کامیاب رہا ہے۔ وہ لیبیا میں بھی سن 1990 کی دہائی میں مقتول لیڈر معمر القذافی کے خلاف مسلح تحریک شروع کرنے کی ناکام کوشش کر چکا ہے۔اللبی نے 27 نومبر کے روز جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر وانا سے 15 کلو میٹر کی دوری پر واقع بڑے قصبے اعظم وارسک میں قبائلی علاقوں کے مختلف گروہوں کے ایک اجلاس کی صدارت کی تھی۔ اس اجلاس میں قبائلی انتہاپسند کم از کم اس پر راضی دکھائی دیتے ہیں کہ وہ متحد ہو کر ایک بینر کے تحت مسلح سرگرمیوں کو آگے بڑھائیں۔ اس کے بعد محسود اور حقانی گروپ کے درمیان پانچ دسمبر کو بھی ایک اجلاس بلایا گیا لیکن اس میں کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔اس میٹنگ میں اللبی نے قبائلی جنگی سرداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے نظریاتی اور دوسرے اختلافات کو پس پشت ڈال کر متحد ہوتے ہوئے اپنی سرگرمیوں پر فوکس کریں تا کہ لادین قوتوں پر ضرب لگائی جا سکے۔ میٹنگ کا مقام پاکستان کے حامی جنگی سردار مولوی نذیر احمد کے کمانڈر شمس اللہ کا کمپاؤنڈ تھا۔ اس میٹنگ میں حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی کے علاوہ شمالی وزیرستان کے طالبان کے اہم کمانڈر حافظ گُل بہادر بھی موجود تھے۔قبائلی علاقوں میں انتہاپسندوں کو دو زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک اچھے طالبان اور دوسرے برے طالبان کہلاتے ہیں۔ اچھے طالبان سے مراد وہ جنگی سردار اور ان کے لشکری ہیں جو افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے ساتھ برسر پیکار ہیں۔ برے طالبان میں تحریک طالبان پاکستان کو شمار کیا جاتا ہے۔ اس تحریک نے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کے ساتھ حقانی گروپ اور حافظ گل بہادر کے انتہاپسندوں کے ساتھ بھی پنجہ آزمائی سے گریز نہیں کیا۔ اللبی اچھے اور برے طالبان کو ایک کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ نئی تنظیم میں دنیا کے مختلف حصوں میں متحرک مسلمان عسکریت پسندوں کے گروپوں کو شامل کر کے ان کی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں پلان کیا جائے گا۔ شریک گروپوں نے افغان طالبان کے لیڈر ملا عمر کو اپنا سربراہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

Comments are closed.