امریکی حکومت اور حزب اختلاف میں شدید ترین اختلافات

Posted: 23/12/2011 in All News, Breaking News, Important News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

واشنگٹن: امریکہ میں ٹیکسوں پر چھوٹ کے معاملے پر اوباما انتظامیہ اور ری پبلیکنز میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر ایوانِ نمائندگان نے سال کے اختتام تک ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں توسیع نہ کی تو لگ بھگ سولہ کروڑ امریکیوں کو اوسطاً سالانہ ایک ہزار ڈالرز فی کس اضافی ٹیکس دینا پڑے گا۔ امریکہ کے صدربراک اوباما نے ایوانِ نمائندگان پر زور دیا ہے کہ وہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں توسیع کے اس قانون کی منظوری دے جسے سینیٹ نے گزشتہ ہفتے منظور کرلیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما نے ایوانِ نمائندگان کے ری پبلکن اسپیکر جان بینر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ہنگامی اقدام کے طور پر ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں دو ماہ کی توسیع کی منظوری پہ زور دیا۔ بیان کے مطابق گفتگو میں صدر کا کہنا تھا کہ قانون میں دو ماہ کی توسیع کے بعد ڈیموکریٹس اور ری پبلکن قانون ساز وں کو قانون کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کے منصوبے پہ مذاکرات کا وقت میسر آجائے گا جس کا مطالبہ ریپبلکنز کر رہے ہیں۔ قبل ازیں مجوزہ قانون پہ سینیٹ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہاؤس اسپیکر جان بینر نے ڈیموکریٹس کو منصوبے پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دی تھی۔ری پبلکن رہنماؤں نے یہ تجویز ایک ایسے وقت میں پیش کی ہے جب سینیٹ اراکین کی سالانہ تعطیلات شروع ہوچکی ہیں۔ واضح رہے کہ ری پبلکن ایوانِ نمائندگان میں اکثریت رکھتے ہیں جب کہ سینیٹ کا کنٹرول صدر اوباما کی جماعت ڈیموکریٹس کے پاس ہے۔ دریں اثنا ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ رکن اسٹینی ہوئر نے کہا ہے کہ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام  سینیٹ کے جانب سے گزشتہ ہفتے منظور کیے گئے قانون کے حامی ہیں۔ تنخواہوں پہ نافذ ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم ”نیشنل ریٹائرمنٹ سسٹم” سے مستفید ہونے والے افراد کے لیے مختص کی جاتی ہے اور اگر آئندہ دس روز کے دوران کانگریس نے دی گئی چھوٹ میں توسیع نہ کی تو تنخواہ دار طبقے پہ عائد ٹیکسوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے مذکورہ قانون میں دو ماہ کی توسیع کے بل پہ رائے شماری معطل کرتے ہوئے ڈیموکریٹس سے کہا تھا کہ وہ قانون میں ایک سال کی توسیع کے لیے مذاکرات کا نیا دور شروع کریں۔ اجلاس کے بعد ایوان کے اسپیکرجان بینر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایوان کے ری پبلکن اراکین نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے اور اب تاخیر کی ذمہ داری سینیٹ پہ عائد ہوگی۔ ایوانِ نمائندگان کی جانب سے سینیٹ کے منظور کردہ بِل کی منظوری نہ دیے جانے پر صدر اوباما نے سخت برہمی ظاہر کی تھی۔ اپنے بیان میں امریکی صدر نے ایوان کے اسپیکر اور ری پبلکن اراکین سے کہا تھا کہ وہ سیاست اور اختلافی امور کو ایک طرف رکھ کے ان معاملات پہ پیش رفت کریں جن پر دونوں جماعتیں متفق ہوچکی ہیں۔ صدر اوباما نے کہا تھا کہ امریکی عوام اس کھیل سے تنگ آچکی ہے اور اس سے کہیں بہتر سلوک کی مستحق ہے۔ ڈیمو کریٹ سینیٹرز پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ ان کا سال کے اختتام سے قبل کسی نئے معاہدے کے لیے مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔ وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر ایوانِ نمائندگان نے سال کے اختتام تک ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں توسیع نہ کی تو لگ بھگ سولہ کروڑ امریکیوں کو اوسطاً سالانہ ایک ہزار ڈالرز فی کس اضافی ٹیکس دینا پڑے گا۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق قانون کی منظوری نہ دیے جانے کی صورت میں تقریباً بیس لاکھ بیروزگار امریکی بھی انہیں دستیاب انشورنس سے محروم ہوجائیں گے۔

Comments are closed.