Archive for 23/12/2011

شام میں سکیورٹی عمارت کے باہر دو خودکش حملوں میں تیس افراد ہلاک اور 100 زخمی ہوگئے ہیں۔ شام کے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام میں سکیورٹی عمارت کے باہر دو خودکش حملوں میں تیس افراد ہلاک اور 100 زخمی ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ دھماکے دارالحکومت دمشق میں ہوئے۔ ٹی وی کے مطابق یہ دھماکے القاعدہ نے جنرل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ اور ایک اور ایجنسی کے دفاتر کے باہر کیے۔ القاعدہ دہشت گرد تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے

عراق کے دارالحکومت بغداد میں کل شام تک مجموعی طور پر 19 بم دھماکے ہوئے جن میں شہید ہونے والوں کی تعداد 72 تک پہنچ گئی ہے۔براثا خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں کل شام تک مجموعی طور پر 19 بم دھماکے ہوئے جن میں شہید ہونے والوں کی تعداد 72 تک پہنچ گئی ہے۔ عراق کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق کل رات انیسواں بم دھماکہ ہوا جس میں 3 افراد زخمی ہوئے ، رائٹرز کے مطابق کل عراق میں مجموعی طور پر انیس بم دھماکوں میں 72 افراد شہید ہوگئے جن میں عام شہریوں کی بڑي تعداد شامل ہے، عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی اور نائب وزير اعظم صالح المطلک  دونوں کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں عراقی عدالت نے عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیئے ہیں جبکہ نائب وزير اعظم صالح المطلک کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے البتہ امریکہ نے دہشت گردوں کے حامی سیاسی رہنماؤں کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ عراق میں امریکہ بحران جاری رکھنے چاہتا ہے۔

 مسجد نور ایمان کے خطیب جمعہ مولانا مرزا یوسف حسین کی اہلیہ نرگس صاحبہ اور آیت اللہ عقیل غروی صاحب کے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے جس پر تمام  پاکستان میں بسنے والے شیعیان اہلبیت اور خاص کر کراچی کے مومنین دونوں رہبران ملت سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتے ہیں۔ آیت اللہ عقیل غروی صاحب بھائی کے انتقال کے سبب واپس ہندوستان روانہ ہو گئے ہیں۔ جہاں وہ اپنے بھائی کی تجویر وتدفین شرکت کرین گے۔ نیز آیت اللہ نے کراچی میں اپنی تمام مصروفیات منسوخ کردی ہیں اور پروگراموں کی انتظامیاں سے آیت اللہ عقیل غروی صاحب نے انتہائی معزرت کی ہے، اس موقع پر تمام شیعیان اہلبیت سے مرحومیں کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ کی درخواست کی جاتی ہے۔

اسلام آباد(طارق عزیز)وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے صدر زرداری کی رخصتی کی صورت میں فاروق لغاری بننے کی بجائے اسمبلیاں توڑ کر صدر کے ساتھ عوام میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ ساتھ آئے تھے ساتھ جائیں گے۔ اگر کسی سازش کے تحت صدر مملکت کو عہدہ سے فارغ کیا جاتا ہے تو وہ وزیراعظم رہنے کی بجائے اسمبلیاں توڑ کر حکومت ختم کرنے کو ترجیح دیں گے اور اپنا مقدمہ لے کر عوام کے پاس جائیں گے۔ اوصاف ذرائع کو معلوم ہوا ہے کہ صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کے درمیان طویل ملاقات میں یہ بات زیر غور آئی کہ اگر مقتدر حلقے یا عدلیہ کی طرف سے صدر زرداری کو عہدے سے فارغ کیا جاتا ہے تو اس صورت میں حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ وزیراعظم گیلانی نے واضح کیا ہے کہ اس صورت میں وہ فاروق لغاری بننے کی بجائے اسمبلیاں توڑ کر حکومت ختم کر دیں گے اور نئے مینڈیٹ کیلئے عوام سے رجوع کریں گے۔ ذرائع کو معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم گیلانی کو یہ پیشکش کی جا رہی ہے کہ صدر زرداری کی ایوان صدر سے رخصتی کی شکل میں وہ وزیراعظم رہ سکتے ہیں اور حکومت جاری رکھ سکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی زرداری کی جگہ کسی اور شخصیت جو صاف ستھری کردار کی حامل ہو انہیں صدر مملکت بنایا جا سکتا ہے۔ اوصاف کو معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر صدر گئے تو پھر وزیراعظم، حکومت اور اسمبلیاں بھی جائیں گی۔ وزیراعظم گیلانی کا کہنا ہے کہ سابق صدر فاروق لغاری نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر کے سرائیکی خطہ پر بے وفائی کا جو داغ لگایا تھا وہ صدر کے ساتھ رخصت ہو کر وہ داغ دھو دیں گے۔ صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کسی بھی سازش کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں، وہ سرنڈر کرنے کی بجائے حالات کا مقابلہ کریں گے جس کی جھلک وزیراعظم گیلانی کی قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ذرائع کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے صدر زرداری اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایوان صدر کے خلاف کسی قسم کی سازش میں وزارت عظمیٰ کے عہدے کو آڑے نہیں آنے دیں گے۔ وزیراعظم گیلانی سمجھتے ہیں کہ وہ پیپلزپارٹی اور صدر زرداری کی وجہ سے ایوان وزیراعظم بیٹھے ہیں، زرداری کی ایوان صدر سے کسی سازش کے تحت رخصتی کی صورت میں ان کا وزیراعظم رہنا محترمہ بے نظیر بھٹو، صدر زرداری، بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی سے غداری ہوگی جس کے وہ کسی صورت میں مرتکب نہیں ہو سکتے۔ اوصاف ذرائع کے مطابق وزیراعظم گیلانی پیپلزپارٹی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا وہ احسان چکانا چاہتے ہیں جب سابق صدر پرویز مشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان جولائی، اگست 2007ء میں دبئی میں ملاقات ہوئی اور مل کر چلنے کی بات چیت چل رہی تھی تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف سے اپنی گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا تھا کہ جنرل صاحب ہمارا بندہ (یوسف رضا گیلانی) آپ نے پانچ سال سے جیل میں ڈال رکھا ہے ہم آپ سے کیا بات کریں۔ پیپلزپارٹی کے سینئر وائس چیئرمین گیلانی اڈیالہ جیل میں بند ہیں پہلے آپ انہیں رہا کریں پھر اگلی بات ہوگی۔ جس کے بعد یوسف رضا گیلانی کی رہائی ممکن ہوئی تھی۔ وزیراعظم گیلانی محترمہ کے اس احسان کو نہیں بھولے اور زرداری کی طرف سے وزیراعظم بنائے جانے پر بھی ان کے احسان مند ہیں۔ ان وجوہات کی بنیاد پر وزیراعظم گیلانی نے کسی قسم کی بے وفائی یا قیادت سے غداری کی بجائے صدر مملکت کا مکمل ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے

اسلام آباد (نیوزایجنسیاں)تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی نے صدر آصف علی زر داری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے ۔اعظم سواتی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ صدر زرداری ملک میں مستقل رہنے کیلئے نہیں آئے اور وہ دوبارہ بیرون ملک چلے جائیں گے۔اس لئے انہیں میموکیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک ملک چھوڑنے سے روکا جائے اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے ۔ ایڈووکیٹ طارق اسد کی وساطت سے جمع کروائی گئی درخواست میں اعظم سواتی نے یہ استدعا بھی کی ہے کہ سلیمان فاروقی ایوان صدر میں ڈیفیکٹو وزیر اعظم کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں اور صدر کی ایما پر تمام احکامات وہی جاری کرتے ہیں ۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ میمو کیس کے حوالے سے سلیمان فاروقی کے تمام ایس ایم ایس ،ای میلز اور ٹیلیفونک رابطوں کا ریکارڈ بھی طلب کیا جائے ،،اور اس ریکارڈ کی روشنی میں میمو کی تحقیقات کی جائے

وزیراعظم گیلانی پچھلے چند دنوں سے حکومت اور ایسٹبلشمنٹ کے باہم شیر و شکر ہونے کی نوید دے رہے تھے، لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے وہ دباو کی صورت میں پھٹ پڑے ہیں، وہ محسوس کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت شاید ہی 2012ء کا سورج طلوع ہوتا دیکھ سکے۔قومی اسمبلی کا اجلاس سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی چوتھی برسی کی تقریبات کے باعث ایک ہفتے کے لئے ملتوی ہو گیا ہے۔ جمعرات کے اجلاس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا خطاب معمول کا خطاب نہیں تھا۔ قبل ازیں وہ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں قائداعظم کے یوم پیدائش کی مناسبت سے تقریب سے خطاب کر کے آئے تھے وہ اس تقریب میں بین السطور بہت کچھ یہ کہہ کر آئے تھے۔ لیکن انہوں نے رہی سہی کسر قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکال دی، انہوں نے پہلی بار کھل کر حکومت کو لاحق خطرات کا ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو ختم کرنے (pack up) پیک اپ کی سازش کی جا رہی ہے، اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ انہیں منتخب لوگ چاہئیں یا آمریت۔   جب وزیراعظم گیلانی ایوان میں آئے تو انہوں نے انتہائی جذباتی انداز میں اسٹیبلشمنٹ کو للکارا، حکومتی ارکان کو جو پچھلے کئی روز سے میمو گیٹ سکینڈل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں وزیراعظم کے طرز کلام پر حیران و ششدر تھے ان کو جمہوری نظام کی بساط لپٹتے دکھائی دے رہی تھی جبکہ اپوزیشن، مسلم لیگ (ن) حکومت کی بے بسی کو انجوائے کر رہی تھی، لیکن اس مشکل صورتحال قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان جمہوری نظام کے استحکام کے لئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔  انہوں نے جمعرات کو ہی وزیراعظم کی پارلیمانی قوت بڑھا دی اور کہا کہ وہ ایک بار پھر حکومت کو اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ ملک میں ایسے غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کرتے، اگر حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور گھر بھجوانے کے لئے غیر جمہوری اقدام کی حمایت کرنا ہوتی تو تین سال قبل کرتے، جب آصف علی زرداری ہم سے اور ایسٹبلشمنٹ سے وعدہ خلافی کر کے خود صدارتی امیدوار بن گئے۔ وزیراعظم گیلانی پچھلے چند دنوں سے حکومت اور ایسٹبلشمنٹ کے باہم شیر و شکر ہونے کی نوید دے رہے تھے، لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے وہ دباو کی صورت میں پھٹ پڑے ہیں، وہ محسوس کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت شاید ہی 2012ء کا سورج طلوع ہوتا دیکھ سکے۔   یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کے بجائے ایک ہفتہ کی چھٹی دے دی اور 29 دسمبر کی شام پانچ بجے اجلاس بلا لیا وزیراعظم ایوان میں گویا ہوئے، پارلیمنٹ ہاوس کی غلام گردشوں میں وزیراعظم گیلانی کا جارحانہ انداز میں خطاب اور اس کے تناظر میں حکومت کا مستقبل موضوع گفتگو تھا حکومتی ارکان کے چہروں سے ان کی پریشانی نمایاں نظر آتی تھی۔تحریر:نواز رضا

کراچی کے علاقے بیم پورہ میں کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی یزیدی دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے شیعہ نوجوان کو شہید کر دیا۔ نمائندے کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے بیم پورہ میں جمعہ کے روز کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی درندوں نے فائرنگ کرکے 25 سالہ شیعہ نوجوان کاشف علی کو شہید کر دیا۔عینی شاہدین کاکہنا ہے کہ شہید کاشف علی کو ناصبی وہابی درندوں نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے کام کے سلسلہ میں جا رہے تھے ،شہید کے سر اور سینہ میں گولیاں لگی ہیں جس کے سبب ان کی موقع پر شہادت ہو گئی ۔شہید کی باڈی رضویہ امام بارگاہ منتقل کر دی گئی۔ شہید کاشف علی انجمن شباب المومنین کے مشہور و معروف نوحہ خواں رجب علی کے چھوٹے بھائی تھے۔  نمائند کے مطابق دوسرے سانحہ میں  کراچی کے علاقے شادمان ٹاون میں کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے فرقہ پرست دہشتگردوں نے شیعہ مومن شرف مہدی کو فائرنگ کر کے شہید کردیا۔ شہید شرف مہدی کراچی کے علاقے انچولی 19 نمبر کے رہائشی تھے۔ فائرنگ کے فوراَ بعد شرف مہدی کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ شرف مہدی شہید ہوچُکے ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق شہید شرف مہدی کی باڈی انچولی امام بارگاہ لائی جارہی ہے. واضح رہے کہ گذشتہ طویل عرصہ سے شہر کراچی سمیت ملک بھر میں کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی اور طالبان ناصبی یزیدی دہشت گردوں نے ملت جعفریہ کے نوجوانوں اور عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے نتیجہ میں اب تک سیکڑوں شیعیان حیدر کرار (ع) شہید و زخمی ہو چکے ہیں

اسلام آباد: وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت سمیٹنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ ہم حکومت میں رہیں یا نہ رہیں لوگوں کی خدمت کرتے رہینگے۔ تفصیلات کے مطابق یوم قائد اعظم سے حوالے سے منعقدہ نوجوانوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آمریت نے ہمیشہ آئین اور جمہوریت پر حملہ کیا، اب بھی جمہوریت کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں۔ ہر جمہوری حکومت پر الزامات لگائے گئے اور قیام پاکستان کیساتھ ہی محلاتی سازشیں شروع ہوگئیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں پر غداری کے الزامات سے ملک دو ٹکڑے ہوا، قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ جمہوریت چاہیے یا آمریت۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فوج منظم ادارہ ہے جو آئین پر عمل کرتا ہے۔

واشنگٹن: امریکہ میں ٹیکسوں پر چھوٹ کے معاملے پر اوباما انتظامیہ اور ری پبلیکنز میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر ایوانِ نمائندگان نے سال کے اختتام تک ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں توسیع نہ کی تو لگ بھگ سولہ کروڑ امریکیوں کو اوسطاً سالانہ ایک ہزار ڈالرز فی کس اضافی ٹیکس دینا پڑے گا۔ امریکہ کے صدربراک اوباما نے ایوانِ نمائندگان پر زور دیا ہے کہ وہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں توسیع کے اس قانون کی منظوری دے جسے سینیٹ نے گزشتہ ہفتے منظور کرلیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما نے ایوانِ نمائندگان کے ری پبلکن اسپیکر جان بینر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ہنگامی اقدام کے طور پر ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں دو ماہ کی توسیع کی منظوری پہ زور دیا۔ بیان کے مطابق گفتگو میں صدر کا کہنا تھا کہ قانون میں دو ماہ کی توسیع کے بعد ڈیموکریٹس اور ری پبلکن قانون ساز وں کو قانون کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کے منصوبے پہ مذاکرات کا وقت میسر آجائے گا جس کا مطالبہ ریپبلکنز کر رہے ہیں۔ قبل ازیں مجوزہ قانون پہ سینیٹ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہاؤس اسپیکر جان بینر نے ڈیموکریٹس کو منصوبے پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دی تھی۔ری پبلکن رہنماؤں نے یہ تجویز ایک ایسے وقت میں پیش کی ہے جب سینیٹ اراکین کی سالانہ تعطیلات شروع ہوچکی ہیں۔ واضح رہے کہ ری پبلکن ایوانِ نمائندگان میں اکثریت رکھتے ہیں جب کہ سینیٹ کا کنٹرول صدر اوباما کی جماعت ڈیموکریٹس کے پاس ہے۔ دریں اثنا ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ رکن اسٹینی ہوئر نے کہا ہے کہ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام  سینیٹ کے جانب سے گزشتہ ہفتے منظور کیے گئے قانون کے حامی ہیں۔ تنخواہوں پہ نافذ ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم ”نیشنل ریٹائرمنٹ سسٹم” سے مستفید ہونے والے افراد کے لیے مختص کی جاتی ہے اور اگر آئندہ دس روز کے دوران کانگریس نے دی گئی چھوٹ میں توسیع نہ کی تو تنخواہ دار طبقے پہ عائد ٹیکسوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے مذکورہ قانون میں دو ماہ کی توسیع کے بل پہ رائے شماری معطل کرتے ہوئے ڈیموکریٹس سے کہا تھا کہ وہ قانون میں ایک سال کی توسیع کے لیے مذاکرات کا نیا دور شروع کریں۔ اجلاس کے بعد ایوان کے اسپیکرجان بینر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایوان کے ری پبلکن اراکین نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے اور اب تاخیر کی ذمہ داری سینیٹ پہ عائد ہوگی۔ ایوانِ نمائندگان کی جانب سے سینیٹ کے منظور کردہ بِل کی منظوری نہ دیے جانے پر صدر اوباما نے سخت برہمی ظاہر کی تھی۔ اپنے بیان میں امریکی صدر نے ایوان کے اسپیکر اور ری پبلکن اراکین سے کہا تھا کہ وہ سیاست اور اختلافی امور کو ایک طرف رکھ کے ان معاملات پہ پیش رفت کریں جن پر دونوں جماعتیں متفق ہوچکی ہیں۔ صدر اوباما نے کہا تھا کہ امریکی عوام اس کھیل سے تنگ آچکی ہے اور اس سے کہیں بہتر سلوک کی مستحق ہے۔ ڈیمو کریٹ سینیٹرز پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ ان کا سال کے اختتام سے قبل کسی نئے معاہدے کے لیے مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔ وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر ایوانِ نمائندگان نے سال کے اختتام تک ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں توسیع نہ کی تو لگ بھگ سولہ کروڑ امریکیوں کو اوسطاً سالانہ ایک ہزار ڈالرز فی کس اضافی ٹیکس دینا پڑے گا۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق قانون کی منظوری نہ دیے جانے کی صورت میں تقریباً بیس لاکھ بیروزگار امریکی بھی انہیں دستیاب انشورنس سے محروم ہوجائیں گے۔

مصری حکام نے غزہ کی مصر سے محلق گیارہ کلومیٹر سرحد پر قائم واحد راہداری کو بند کر دیا جہاں سے اب کسی فلسطینی کو مصر داخل ہونے یا واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مصری حکام نے یہ فیصلہ فلسطینی حکام کی جانب سے مسافروں کو لانے لیجانے والی بس کمپنی کو تبدیل کرنے پر احتجاجا کیا۔  سرحدات اور کراسنگز کی بنائی گئی جنرل کمیٹی نے مسافروں کو غزہ سے مصر لجانے والی بسوں کی ’’غزہ کمپنی‘‘ کو تبدیل کر دیا جس کے بعد کراسنگ کی مصری انتظامیہ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ’’غزہ کمپنی‘‘ کو دوبارہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ فلسطینی حکام کو اچانک بتایا گیا کہ مصریوں نے ان کی بسوں کو مصر داخل ہونے سے روک دیا ہے جس کی وجہ بس کی کمپنی بدلنا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ آج غزہ سے کوئی مسافر مصر نہیں جا سکے گا تاہم اس مشکل پر قابو پانے کے لیے کام جاری ہے۔

کراچی …الفا ظ کا وقت گذر چکا ہے ،ساری دنیا میں حکومتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنے تمام پر امن اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے اسرائیل کو اس بات پر مجبور کریں کہ غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے ان کاروائیوں میں اقتصادی پابندیاں،ثقافتی بائیکاٹ،اور سفارتی تعلقات ختم کرنے سمیت سفیروں کو واپس بلانے جیسے اقدامات کئے جائیں۔پاکستان کے ایوانوں میں غزہ کے محاصرے کے خاتمہ کے لئے قرار داد منظور کی جائے۔ان خیالات کا اظہار فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سرپرست رہنماؤں سابق رکن قومی اسمبلی مظفر احمد ہاشمی،علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی،علماء عقیل انجم،مولانا صادق رضا تقویٰ اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی ترجمان صابر کربلائی نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی رہنماؤں کاکہنا تھا کہ گذشتہ چار برس سے فلسطین کا ایک علاقہ غزہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے محاصرے میں ہے صرف محاصرہ ہی نہیں بلکہ معاشی،سیاسی،سفارتی اور ثقافتی محاصرہ کیا گیاہے جس کے نتیجہ میں غزہ کے 1.5ملین انسانوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور ایسے وقت میں ضروری ہے کہ صرف مسلم امہ ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو غزہ کے محصورین کی امداد اور اس غیر قانونی و غیر انسانی محاصرے کے خلاف سراپا احتجاج بن جانا چائیے ۔ان کاکہنا تھا کہ بحیثیت پاکستانی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی،سفارتی،معاشی و سماجی مسائل کا حل صرف اور صرف مسئلہ فلسطین کے حل میں ہی پنہاں ہے،ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطین کا دفاع در اصل پاکستان کا دفاع ہے لہذٰا پاکستان کا ایک شہری ہونے کی حیثیت سے ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ دفاع فلسطین کے لئے اپنے آ پ کو پیش کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ایوان بالا ”سینیٹ“ میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سرپرست کونسل کے رکن حاجی محمد عدیل خان نے غزہ کے حوالے سے ایک قرار داد جمع کروا دی ہے جس پر تاحال بات چیت عمل میں نہیں آئی ہے ،لہذٰا ہم پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی و لسانی اکائیوں سے اپیل کرتے ہیں اور سینیٹ کے ممبران سے بھی گذارش کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے محاصرے کے خلاف اس قرار داد کو منظور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ان رہنماؤں نے کہا کہ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان 10 جنوری2012ء کو اسلام آباد میں غزہ پر صیہونی جارحیت کے چار سال مکمل ہونے پر فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور اسلامی تحریک مزاحمت حماس کو اسرائیل کے خلاف عظیم الشان مزاحمت پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے سیمینار کا انعقاد کرے گی جس میں حاجی محمد عدیل خان، جنرل (ر) حمید گل ، علامہ ناصر عباس جعفری ،مولانا عبد الرشید ترابی اورندیم احمد خان سمیت تحریک اسلام کے سربراہ علامہ حیدر علو ی اور اقلیتوں کے رہنما جے سالک کو مدعو کیاجائے گا

پاک فوج کے تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ افغان فوج کے مذکورہ افسر نے پاکستان کے خلاف اس حملے کی سازش افغان اور بھارتی انٹیلی جنس کی ایماء پر تیار کی۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 26 نومبر کا نیٹو حملہ ایک سازش کے تحت کیا گیا تھا جس میں افغان فوج کا مذکورہ افسر اور افغان اور ایک دوسرے ملک کے انٹیلی جنس اہلکار شامل ہیں۔ پاکستان نے 26 نومبر کو مہمند ایجنسی کے علاقے میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کرنے کی ’سازش‘ کا ذمہ دار افغان فوج کے مقامی کمانڈر کو قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغان فوجی کمانڈر کے بارے میں یہ انکشاف اس تفتیش کے بعد سامنے آیا ہے جو پاکستان نے اس واقعے کے بارے میں اپنے طور پر کی ہے۔ اس تفتیش کے کچھ حصے پاکستان نے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے حوالے بھی کیے ہیں جو اس سارے معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ پاکستانی فوجی حکام کا خیال ہے کہ افغان نیشنل آرمی کے مذکورہ افسر کے خلاف پاکستان نے جو شواہد نیٹو افواج کو فراہم کیے ہیں ان کی بنیاد پر اس افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس تفتیش کے نتائج سے باخبر ایک سینئر فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ 26 نومبر کو پاکستانی چوکی پر حملے کی تمام تر ذمہ داری افغان نیشنل آرمی کے اس فوجی کمانڈر پر عائد ہوتی ہے جس کی زیرکمان اس علاقے میں افغان فوج پٹرولنگ کرتی ہے۔  پاک فوج کے تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ افغان فوج کے مذکورہ افسر نے پاکستان کے خلاف اس حملے کی سازش افغان اور بھارتی انٹیلی جنس کی ایماء پر تیار کی۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 26 نومبر کا نیٹو حملہ ایک سازش کے تحت کیا گیا تھا جس میں افغان فوج کا مذکورہ افسر اور افغان اور ایک دوسرے ملک کے انٹیلی جنس اہلکار شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سلالہ کے مقام پر پاکستانی پوسٹ پر حملے میں کوئی امریکی اہلکار ملوث نہیں تھا۔ اس معاملے کی تحقیق پر مامور سینئر پاکستانی فوجیوں نے مقامی فوجی کمانڈرز کے انٹرویوز اور واقعاتی شہادتوں کی بنا پر اس رات پیش آنے والے واقعے کی جو تصویر بنائی ہے اس کے مطابق 25اور 26 نومبر کی درمیانی رات سلالہ چیک پوسٹ پر تعینات محافظوں نے ایک ایسے مقام پر نقل و حرکت دیکھی جو ماضی میں طالبان شدت پسندوں کی آمد و رفت کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس پہاڑی نالے کی گزر گاہ کے بارے میں امریکی حکام نے پاکستان کو انٹیلی جنس فراہم کی تھی کہ سوات اور مالاکنڈ کی جانب جانے والے طالبان شدت پسند یہ راستہ اختیار کرتے ہیں۔ پاکستانی پوسٹ کے کمانڈر نے یہ نقل و حرکت دیکھتے ہی گولی چلانے کا حکم جاری کر دیا کیونکہ اس طرح کی صورتحال کے لیے فوجی کمان کو یہی طریقہ کار اختیار کرنے کا حکم (ایس او پیز) دیا گیا ہے۔ فغان فوجی گشتی پارٹی ایک ایسے مقام پر موجود تھی جو روزمرہ کے گشتی زون میں نہیں آتا اور اس علاقے میں گشتی پارٹی کو داخل ہونے سے بہتر گھنٹے قبل پاکستانی حکام کو اطلاع فراہم کرنا ہوتی ہے۔ اور پاکستانی پوسٹ کی جانب سے افغان پارٹی پر براہ راست فائرنگ کی گئی، اس کے باوجود افغان گشتی پارٹی کی جانب سے اس صورتحال کے لیے مقرر کردہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔ اس فائرنگ کے چند منٹ کے اندر ہی فضا میں نیٹو کے ہیلی کاپٹر آئے اور انہوں نے پاکستانی پوسٹ پر فائرنگ کی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پاکستانی فوجی پوسٹ پر سے جنہیں مشتبہ شدت پسند سمجھ کر فائرنگ کی گئی وہ افغان فوج کی گشتی پارٹی تھی۔  پاکستانی تفتیش کاروں کے مطابق یہ سب سازش کے تحت ہوا۔ اس کی وجہ فوج کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ افغان فوجی گشتی پارٹی ایک ایسے مقام پر موجود تھی جو روزمرہ کے گشتی زون میں نہیں آتا اور اس علاقے میں گشتی پارٹی کو داخل ہونے سے بہتر گھنٹے قبل پاکستانی حکام کو اطلاع فراہم کرنا ہوتی ہے۔ دوسری وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ پاکستانی پوسٹ کی جانب سے افغان پارٹی پر براہ راست فائرنگ کی گئی، اس کے باوجود افغان گشتی پارٹی کی جانب سے اس صورتحال کے لیے مقرر کردہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔ پاکستانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی چیک پوسٹ کی پوزیشن مقامی افغان کمانڈرز کو اچھی طرح معلوم تھی اس کے باوجود جوابی کارروائی کے لیے نیٹو افوج کو بلانا ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ پاکستانی حکام نے کہا کہ مقامی افغان فوجی کمانڈر نے ایک سازش کے تحت گشتی پارٹی کو ممنوعہ علاقے میں بھیجا، پھر فائر کی زد میں آتے ہی بلا تاخیر یا بلا تنبیہ نیٹو حملے کی دعوت دینے کے خصوصی ‘لنک سولہ’ کو استعمال کیا جو صرف شدت پسندوں کے خلاف بڑی کارروائیوں کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ پاکستانی حکام نیٹو افواج کو اس حد تک اس حملے میں قصوروار ٹھہراتے ہیں کہ لنک سولہ پر حملے کی دعوت ملنے پر کنٹرول روم میں موجود نیٹو افسر نے حملہ کرنے کی جگہ کو نقشے پر چیک کیے بغیر حملہ آور روانہ کر دیے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر نیٹو کا متعلقہ افسر غفلت کا مظاہرہ نہ کرتا اور مروجہ طریقہ کار کے مطابق نقشے پر سے حملے کا مقام دیکھ لیتا تو اس معلوم ہو جاتا کہ نہ صرف یہ مقام پاکستانی سرحد کے اندر تھا بلکہ وہاں ایک پاکستانی فوجی چوکی بھی موجود تھی۔ خیال رہے کہ نیٹو کی جانب سے بھی اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور یہ تحقیقاتی رپورٹ 27 دسمبر کو جاری کی جانی ہے۔

کوئٹہ میں 25 محرم الحرام کا مرکزی جلوس علمدار روڈ سے برآمد ہو کر اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا بہشت زینب (ہزارہ قبرستان) پر پہنچ کر اختتام پذیر ہو گیا۔مائندے کے مطابق جلوس عزاء امام زین العابدین (ع) 25 محرم الحرام کا مرکزی جلوس امام بارگاہ سیدآباد سے برآمد ہوا جس میں عزاداروں‌ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کوئٹہ میں 25 محرم الحرام کا مرکزی جلوس علمدارروڈ سے برآمد ہو کر اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا بہشت زینب (ہزارہ قبرستان) پر پہنچ کر اختتام پذیر ہو گیا۔ اس دوران علم، ذوالجناح اور تعزیے بھی برآمد ہوتے رہے، جلوس میں علمائے کرام کے علاوہ بچے اور مرد بھی بہت بڑی تعداد میں موجود تھے۔ مرکزی مجلس سے علامہ ابن الحسن حیدری نے حق و باطل کے معرکے میں امام زین العابدین (ع) پر ہونے والے مظالم کے مصائب بیان کئے۔ جلوس عزاء میں امام بارگاہ سیدآباد، امام بارگاہ ناصرآباد، امام بارگاہ پنجابی، امام بارگاہ نچاری، امام بارگاہ مومن آباد ودیگرنے شرکت کی جلوس کے شرکا راستے بھر سینہ کوبی، زنجیر زنی اور نوحہ خوانی کرتے رہے۔ اس موقع پر لوگوں کی سہولت کے لئے جگہ جگہ پانی، شربت اور دودھ کی سبیلیں اور طبی کیمپ قائم کئے گئے تھے جبکہ کئی مقامات پر لنگر اور نذر و نیاز کی تقسیم کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ کوئٹہ میں 25 محرم الحرام کے موقع پر پولیس، رینجرز، سادہ لباس اہلکار، ٹریفک پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اضافی اہلکار فرائض انجام دے رہے تھے۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے جلوس کی سیکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئےتھے۔ جلوس کے راستے میں کلوز سرکٹ کیمرے نصب کیے گئے تھے  جبکہ دوسرے جانب ہزارہ ٹاون کے علاقے سے بھی جلوس عزاء برآمد ہوئے جس میں امام بارگاہ ولی عصر،امام بارگاہ پنجتن ، امام بارگاہ بابلحوائج ، امام بارگاہ ابولفضل عباس ودیگر نے شرکت کی. بعد ازاں جگہ جگہ نیاز کابھی اہتمام کیاگیاتھا

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تھرکول پراجیکٹ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کوئلہ کے ذخائر سے 10 ہزار میگا واٹ بجلی 30 سال تک حاصل ہو سکتی ہے جبکہ گیس کے ساتھ 100 ملین بیرل ڈیزل بھی 30 سال تک حاصل کیا جا سکتا ہے۔پاکستانی ایٹمی سائنس دانوں نے تھر کے علاقہ میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کر لیا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں تھرکول پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت منصوبہ میں دلچسپی نہیں لے رہی۔ سندھ حکومت سے درخواست ہے کہ 9 ارب فراہم کرے۔ 2013ء میں ایک سو میگا واٹ بجلی بننا شروع ہو جائے گی۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا کہ کوئلہ کو 11 تاریخ کو آگ لگائی اور اس کے بعد ہائی ائر پریشر دیا تھا جس کے بعد گزشتہ روز کافی زیادہ مقدار میں گیس نکلنی شروع ہوئی ہے جسے ہم نے جلا دیا ہے اس سے صحرا میں رات کو کافی روشنی ہوئی ہے، گیس منصوبہ کے مطابق نکل رہی ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا کہنا تھا کہ چین میں ہونے والی کانفرنس میں، میں نے منصوبہ کی تفصیلات بیان کیں تو شرکاء نے قرار دیا کہ یہ منصوبہ پاکستان میں تبدیلی کاباعث بنے گا ہم چند سال بعد سوچیں گے ہم اتنے غریب کیوں ہیں، اس کوئلہ کو پہلے کیوں نہیں نکالا گیا۔ یہ تین سال کا منصوبہ تھا جس کو ڈیڑھ سال میں مکمل کر لیا گیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس سے گیس کی مقدار بڑھتی جائے گی ہم چاہتے ہیں کہ حکومت فنڈ مہیا کرے تاکہ بجلی بنانے کے لیے مشینری خریدی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ منظور شدہ منصوبہ کے مطابق اگر رقم فراہم کی جائے تو 2013ء میں 100 میگاواٹ بجلی بننا شروع ہو جائے گی۔ اس کے بعد جتنی بجلی ہم چاہیں گے وہ بن سکتی ہے۔ یہ پراسیس ہمارے کنٹرول میں ہے ان کا کہنا تھا کہ مجھے سندھ حکومت نے بلاک پانچ دیا ہوا ہے اس سے 10000 میگاواٹ بجلی بن سکتی ہے اور یہ بجلی 30 سال تک بنتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت منصوبہ میں فنڈنگ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ صدر اور وزیر اعظم نے بھی کہا لیکن وزارت خزانہ کی کوئی مجبوریاں ہو سکتی ہیں۔ میں حکومت سندھ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے وسائل میں سے 9 ارب دے اس سے ملک اور صوبہ کی تقدیر بدل سکتی ہے یہ رقم فراہم کردی جائے تو ہم جلد سے جلد بجلی بنا سکتے ہیں اور 1۰00 میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کے لئے مزید رقم لی جاتی ہے اس سلسلہ میں کسی بیرونی ملک سے بھی معاہدہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئلہ سے گیس کے ساتھ ڈیزل بھی بن سکتا ہے اور یہ 30 سال میں 100 ملین بیرل ڈیزل حاصل ہو سکتا ہے۔