Archive for 22/12/2011

اپنے مذمتی بیان میں سربراہ شیعہ علماء کونسل نے زخمی طلبہ کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے جامعہ پنجاب کے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ دلوں سے کدورتیں اور نفرتیں نکال کر یونیورسٹی کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے باہم متحد ہوں اور شرپسند عناصر کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں۔علامہ سید ساجد علی نقوی کی زیرصدارت مرکزی و صوبائی ذمہ داروں کا اجلاس راولپنڈی میں منعقد ہوا۔ جس میں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں یوم حسین ع کے پروگرام میں شرپسندوں کی جانب سے پتھراؤ سے متعدد طلبہ کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرچہ بنیادی آئینی و شہری حقوق کی خاطر کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم بہتر نظم و نسق کی خاطر یونیورسٹی انتظامیہ سے اجازت کے باوجود کسی کے اشارے پر شرپسند عناصر کی جانب سے فتنہ انگیزی کا کھیل کھیلا گیا، جس سے نہ صرف یونیورسٹی کا تقدس پامال ہوا بلکہ طلبہ کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کو بھی روکنے کی کوشش کی گئی، جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھی شہرت کے حامل ججوں کا تقرر کر کے اس سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے اور مجرم کیفر کردار تک پہنچیں، تاکہ مستقبل میں کسی کو ایسا اقدام کرنے کی جرات نہ ہو سکے۔ اپنے مذمتی بیان میں علامہ ساجد نقوی نے زخمی طلبہ کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے جامعہ پنجاب کے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ دلوں سے کدورتیں اور نفرتیں نکال کر یونیورسٹی کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے باہم متحد ہوں اور شرپسند عناصر کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں۔ دریں اثنا علامہ سید ساجد علی نقوی کی صدارت میں مرکزی و صوبائی ذمہ داروں کے اجلاس میں حسینی مشن امام بارگاہ ڈرگ روڈ کراچی میں شرپسندوں کے حملے اور پولیس اور انتظامیہ کے جانبدارانہ رویے کی بھی مذمت کی گئی اور قرارداد کے ذریعہ مطالبہ کیا کہ پولیس کو خلاف قانون اقدام اور اپنی حدود سے تجاوز کا حق نہیں پہنچتا، لہذا بلاتاخیر متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

Advertisements

اسرائیل کب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو قبول کرتا ہے اور امریکہ کی سریع الحرکت فوج افغانستان میں صرف اسی لئے بیٹھی ہے کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات پر قبضہ جما لے، اگرچہ ان کو بارہا ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اُس کی تاریخ دیکھیں تو اس نے جھوٹا یا سچا ایک اسامہ بن لادن ایبٹ آباد سے نکال کر مار دیا۔امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر کشیدگی میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے تو پاکستان پر بھی ایٹمی مواد کی پیداوار کو روکنے لئے دباؤ بڑھا رہا ہے، تاہم ایران پر عالمی پابندیاں عائد کر رہا ہے اور ان پابندیوں کو اس لئے ضروری سمجھتا ہے کہ اس طرح ملٹری آپریشن کے بغیر ایران کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھنے سے روک سکتا ہے۔ وہ مغرب میں اپنے اتحادیوں پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دے چکا ہے کہ وہ ایران کے خلاف عائد پابندیوں کو عملی جامہ پہنانے میں مدد دیں۔ اس معاملہ کو امریکہ سلامتی کونسل میں بھی لے جانا چاہتا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی (IAEA) نے کسی قرارداد کو جو ایران کے خلاف ہو کو فی الحال سلامتی کونسل کے پاس بھجوانے کے عمل کو ملتوی کر دیا ہے، تاکہ دنیا کو کچھ وقت میسر آسکے تاکہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرسکے۔ عالمی ایٹمی ادارے کا اگلا اجلاس مارچ 2012ء میں ہو گا۔  اگرچہ امریکہ ایران کے خلاف ایسی کوششیں تو کر رہا ہے مگر سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ، ایران کے ایٹمی پروگرام کا ہوّا کھڑا کر کے ان سے مال اینٹھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان کو بھی امریکیوں نے یہ سمجھایا کہ یہ پروگرام پاکستان کے خلاف ہے، اس پر پاکستانیوں کا ردعمل معمول کا تھا کہ ایران نے ہمارے پروگرام پر اعتراض نہیں کیا تو ہم ان کے پروگرام پر کیوں اعتراض کریں۔ دوسرے امریکہ پاکستان پر ایٹمی مواد کی پیداوار روکنے پر ایران جیسا دباؤ ڈال رہا ہے تو پاکستان اور ایران دونوں ہی امریکی دباؤ کا شکار ہیں۔ پھر پاکستان کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ایران کے ایٹمی معاملے میں پڑے اور اپنی اہمیت بڑھائے کیونکہ اس کی سرحدوں کے قریب ایٹمی تنصیبات پر حملہ سے پاکستان متاثر ہو سکتا ہے اور ایٹمی تابکاری کے اثرات پاکستان تک پہنچ کر تباہی مچا سکتے ہیں۔ اسرائیل بار بار یہ دہرا رہا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ ضروری ہو گیا ہے۔ اس سے پاکستان کی سرحدوں کے قریب جنگ چھڑ سکتی ہے، جو ایک ایٹمی ملک کے لئے درست نہیں ہو گا۔ اسرائیل اگر ایران پر حملہ کرتا ہے تو انتہائی شدید ہو گا اور ایران کی کم از کم 200 تنصیبات اس کی زد میں آئیں گی۔ اس سے پہلے ایران کا فضائی دفاعی نظام، میزائل داغنے کے مراکز، ریڈار، مواصلاتی نظام تباہ کیا جائے گا اور پھر جا کر وہ ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکے گا۔ یہ ایک قسم کی مکمل جنگ ہو گی جو پاکستان کا رُخ بھی کر سکتی ہے۔  اسرائیل کب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو قبول کرتا ہے اور امریکہ کی سریع الحرکت فوج افغانستان میں صرف اسی لئے بیٹھی ہے کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات پر قبضہ جما لے، اگرچہ ان کو بارہا ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اُس کی تاریخ دیکھیں تو اس نے جھوٹا یا سچا ایک اسامہ بن لادن ایبٹ آباد سے نکال کر مار دیا۔ اسی طرح وہ اگر ایران پر حملہ آور ہوتا ہے تو وہ پاکستان پر اسرائیل کے جہازوں کے ذریعے حملہ آور ہو سکتا ہے۔ اس حملے سے افغانستان بھی بُری طرح متاثر ہو گا بلکہ پورا خطہ جس میں بھارت بھی شامل ہو گا اس کی زد میں آسکتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے اور مسائل پیدا ہو جائیں گے۔  بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک کو جلا ملے گی، جو ہمارے اسٹرٹیجک مفادات کے خلاف ہے۔ دوسری طرف اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو وہ پھر عالمی ایٹمی تنظیم اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدہ سے آزاد ہو گا۔ وہ اپنے تمام ذرائع استعمال کرے گا اور اسرائیل کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگ جائے گا۔ اس کا لبنان میں پھیلا ہوا ہاتھ حزب اللہ اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو بند کر کے دنیا میں تیل کی سپلائی روک سکتا ہے، جو دنیا کی مشکلات میں بے پناہ اضافے کا باعث بن جائے گا۔  یہ اسرائیل کو بہت بھاتا ہے، اسرائیلیوں کی تعداد بہت کم ہے، وہ دنیا کی تعداد کم کر کے اپنے آپ کو آبادی کے لحاظ سے اچھے مقام پر کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر حملہ ہوا تو پھر ایران کو ایٹمی اسلحہ بنانے کا حق مل جائے گا کہ وہ اپنے دفاع میں یہ کر رہا ہے۔ ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر قدم بہ قدم ایک ایسا روڈمیپ تیار کرائے، جس سے عرب بھی ناراض نہ ہوں اور ایران کا وقار بھی مجروح نہ ہو۔ وہ ایران کا اعتماد بھی بحال کر سکتا ہے اور وہ بشمول روس و چین ایران کو ایٹمی چھتری فراہم کر سکتا ہے اور امریکہ مسلمان بھائی عربوں کو لوٹنے کا جو پروگرام بنا رہا ہے اس سے اُن کو بچایا جا سکے۔   ابھی تک عالمی ایٹمی ایجنسی نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کے جو انسپیکشن کئے ہیں اُن میں اس نے سختی اور اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنے عالمی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاملے کو پیش نظر رکھا ہے اور ایران نے بھی اُن کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے۔ انہوں نے اس کی تصدیق کی ہے کہ اس معاملے میں ملٹری کا عمل دخل موجود نہیں ہے۔ ایرانی کہتے ہیں کہ ایرانی ایٹمی پروگرام کا ہوّا اسی طرح کا ایک جھوٹا فریب ہے جیسا کہ عراق میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا، عراق پر قبضہ کے بعد بھی کبھی کچھ حاصل نہ ہو سکا، اگر ایسا نہ بھی ہو تب بھی پاکستان کی سرحدوں کے خلاف کوئی جنگ پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ تحریر:نصرت مرزا

پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم کا پرچم لہرانا یا دفتر کھولنا قانوناً جرم ہے۔ اس پر سخت کارروائی ہو گی۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے کہا کہ اٹھارہ دسمبر کو مینار پاکستان لاہور میں ہونے والی دفاع پاکستان کانفرنس میں کالعدم دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ کے پرچم لہرانے کا نوٹس لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کو اس حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ رپورٹ آنے پر ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم کا پرچم لہرانا یا دفتر کھولنا قانوناً جرم ہے۔ اس پر سخت کارروائی ہو گی۔ رانا ثناءاللہ خان نے کہا کہ کالعدم سپاہ صحابہ غیرقانونی ہے۔ اسے سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔  ایک سوال کے جواب میں پنجاب کے وزیر قانون نے کہا کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر مرحوم کے صاحبزادے اور امریکی کنٹریکٹر وائن سٹائن پاک افغان سرحد کے قریب شمالی وزیر ستان میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مغویوں کو طالبان گروہ نے اغوا کیا ہے۔ ان کی بازیابی کے لئے مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات اور بیروزگاری کے باعث اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔  وزیر قانون نے کہا کہ قصور میں تحریک انصاف کے جلسے سے کرسیاں اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور عمران خان کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔ کیونکہ وہی جانتے ہیں کہ کہاں سے لوگ آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کرائے پر مزدوروں سے جلسہ بھرا گیا۔ جنہیں وعدے کے مطابق دوپہر کا کھانا دیا گیا اور نہ ہی یومیہ اجرت، جس پر وہ جاتے ہوئے کرسیاں اٹھا کر لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو انتظار ہے کہ تحریک انصاف کی مقامی قیادت درخواست دے تاکہ مقدمہ درج کیا جا سکے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں 12 بم دھماکوں میں کم سے کم 57 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئےہیں۔ فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں 12 بم دھماکوں میں کم سے کم 57 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئےہیں۔ حکام کے مطابق بغداد اورمضافات میں 12 بم دھماکے ہوئے۔ دھماکے سڑک کنارے نصب بموں اور بارود سے بھری گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے۔جس میں 57 افراد ہلاک ہوئے، زخمیوں کو اسپتال پہنچایا جارہاہے اور فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے، وزیر اعظم نوری المالکی نے نائب صدر طارق الہاشمی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مسلح افراد کے گروپ بنا رکھے ہیں، جو حکومتی شخصیات کی ہلاکتوں میں ملوث ہے۔ اسی سلسلے میں طارق الہاشمی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ابھی تک کسی بھی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے بعض ذرائع کے مطابق عراق میں ہونے والے بم دھماکوں میں امریکہ اور سعودی عرب کا ہاتھ ہے۔

مصر کے سیاسی رہنماؤں اور خواتین نے مصری فوج کی طرف سے مصری خواتین کے ساتھ نازیبا سلوک اور عورتوں کو بے پردہ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کی فوجی کونسل امریکی آلہ کار ہے اور مصر امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ گھناؤنی سازش اور ناپاک عزائم کا شکار ہے۔  نہرین نیٹ کے حوالے سے نقل کیا ہےکہ مصر کے سیاسی رہنماؤں  اور خواتین نے مصری فوج کی طرف سے مصری خواتین کے ساتھ نازیبا سلوک اور عورتوں کو بے پردہ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کی فوجی کونسل امریکی آلہ کار ہے اور مصر امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ گھناؤنی سازش اور ناپاک عزائم کا شکار ہے۔  مصرکے صدارتی انتخابات کی ممکنہ امیدوار بثینہ کامل نے کہا ہے کہ ہم ان عورتوں کی حمایت میں مظاہرہ کررہے ہیں جن کی فوج نے عصمت دری اور جن کو بے پردہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مصری خواتین مصری انقلاب کی دل وجان سے حفاظت کریں گی۔  ایک اور مصری فعال ابراہیم مدحت شکری نے کہا ہے کہ مصر کی فوجی کونسل نے اسرائیلی فوجیوں کو اجیر کررکھا ہے تاکہ وہ مصر کی جوان لڑکیوں کو بے پردہ کریں۔ واضح رہے کہ مصر کی فوجی انتظآمی کونسل سے وابستہ فوجیوں نے کچھ مصری خواتین کو بے پردہ کرکے زمین پر گھسیٹا تھا جس کے بعد مصری عوام کے احتجاج میں شدت آگئی ہے اور مصری عوام فوجی کونسل کو امریکی آلہ کار اورسابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی باقی ماندہ عناصر میں قراردے رہی ہے۔

پنجاب یونیورسٹی لاہور میں یوم حسین ع کے انعقاد کے حوالے سے امامیہ طلبہ نے تمام ضروری کارروائی کی ہوئی تھی اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے باقاعدہ پروگرام کا اجازت نامہ لیا گیا تھا مگر گزشتہ رات سے ہی امامیہ طلبہ کو جمعیت کے غنڈوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے آج (جمعرات) امام حسین ع کو خراج عقیدت پیش کرنے اور اُمت مسملہ کو وحدت کا پیغام دینے کے حوالے سے یوم حسین ع کا انعقاد کیا جانا تھا۔ آج صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب اسلامی جمعیت طلبہ کے ڈیڑھ سو سے زائد غنڈے پروگرام کو ثبوتاژ کرنے کیلئے پنجاب یونیورسٹی کے گراونڈ میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور امامیہ طلبہ کو یونیورسٹی کے گیٹ نمبر دو پر روکنے کی کوشش کی۔ امامیہ طلبہ کی جانب کوشش کی گئی کہ معاملات خراب نہ ہوں اور افہام و تفہیم سے معاملہ حل ہو جائے، مگر اسلامی جمعیت کے طلبہ کی زبان پر ایک جملہ تھا کہ ہم یہ پروگرام کسی صورت نہیں ہونے دیں گے، پروگرام کرانے کے اصرار پر جمیت کے غنڈوں نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی اور امامیہ طلبہ پر پھتراؤ شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں دس سے زائد امامیہ طلبہ زخمی ہو گئے۔ 
زخمی ہونے والوں میں سابق مرکزی صدر آئی ایس او عارف حسین قمبری بھی شامل ہیں۔ اسلامی جمعیت کے غنڈوں کی درندگی اس وقت مزید دیکھنے میں آئی، جب جناح اسپتال میں زخمیوں کو داخل کرایا جا رہا تھا کہ ایک بار پھر جمعیت کے دو سو سے زائد غنڈوں نے جھتے کی شکل میں اسپتال کے باہر کھڑے امامیہ طلبہ پر دھاوا بول دیا، جس کے نتیجے میں سابق مرکزی صدر سید فرحان حیدر زیدی، شیخ سہیل، عمار آغا سمیت مزید پانچ افراد زخمی ہو گئے۔  سابق مرکزی آئی ایس او ناصر عباس شیرازی نے بتایا کہ یوم حیسن ع کے حوالے سے امامیہ طلبہ نے تمام ضروری کارروائی کی ہوئی تھی اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے باقاعدہ پروگرام کا اجازت نامہ لیا گیا تھا، مگر گزشتہ رات سے امامیہ طلبہ کو جمعیت کے غنڈوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں، ناصر عباس شیرازی کا کہنا تھا کہ انہوں نے متوقع صورتحال کے پیش نظر جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماء لیاقت بلوچ کو فون کیا اور تمام صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جس پر لیاقت بلوچ نے انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی رہنما سے بات کرنے اور یوم حسین ع کے پروگرام میں خلل پیدا نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی، اُن کا کہنا تھا کہ اسلامی جمعیت کے اس اقدام کے خلاف آج شام چار بجے ملک کے تمام بڑے شہروں پریس کانفرنسز کی جائیں گے اور احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ آئی ایس او پاکستان نے اس واقعہ پر تین روزہ سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔   عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پروگرام سے ایک رات قبل ہی جمعیت نے جان بوجھ کر اُسی گراونڈ میں اور اُسی وقت شان صحابہ کے نام سے ایک اور پروگرام کے پوسٹرز لگا دیئے، جس کا مقصد یوم حسین ع کے پروگرام کو روکنا تھا

کراچی تحفظ مدارس و مساجد و امام بارگاہ ملت جعفریہ کے رہنما علامہ عباس کمیلی نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی اورکور کمانڈرکی توجہ مبذول کراتے ہوئے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ دیگر مسالک کی طرح ملت جعفریہ کے لیے بھی  ہرفیزمیں امام بارگاہ کے لیے زمین الاٹ کی جائے دینی مدرس جامعہ علمیہ فوری بندکرنے کا نوٹس غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ وہ منگل کوکراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر علامہ سید فیاض حسین نقوی، علامہ ڈاکٹر شبیر میثمی، مولانا شیخ محمد سلیم، مولانا محمد علی رمضانی، مولانا علی رضا و دیگر بھی موجود تھے۔ علامہ عباس کمیلی نے گورنر اور وائس چانسلر جامعہ کراچی سے مطالبہ کیا کہ جامعہ کراچی میں شیعہ مسجد کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرکے انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے اور شیعہ قوم کو احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پھر پرامن دینی مدارس کے خلاف کیے جانے والے اقدامات پر شدید احتجاج کرتے ہیں اور ہمیشہ کی طرح آج پھراسی پلیٹ فارم سے ملت جعفریہ کی طرف سے تمام مکاتب فکرکو اتحاد بین المسلمین اور امن و آشتی اور صلح کے ساتھ وطن عزیزپاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہم امیدکرتے ہیں کہ غیرمنطقی، غیراخلاقی اور ظالمانہ اقدامات کے ذریعے وطن عزیزمیں افراتفری اوربے چینی پھیلانے کی کوششوں سے گریزکیاجائے گا اورملک جوایک سنگین اور نازک صورتحال سے گزر رہا ہے ان حالات میں نامعقول اقدامات کے ذریعے وطن عزیزمیں امن وامان کومزیدخراب کرنے کی کوشش نہ کی جائے گی۔