سرینگرجموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے سرپرست مولانا عباس انصاری کا عزاداری کے جلوسوں پر طاقت کے استعمال پر شدید ردعمل

Posted: 21/12/2011 in Afghanistan & India, All News, Important News, Religious / Celebrating News

سرینگر; جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے سرپرست مولانا عباس انصاری نے کہا کہ اسکندرپورہ بیروہ میں پرامن عزاداری پر پابندی اور طاقت کا استعمال کرنے پر وزیرا علیٰ عمر عبداللہ اورانتظامیہ کی خاموشی کو معنی خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کو عملی طور پر پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کیا گیا ہے جہاں پولیس اپنے طور پر ہر قسم کے فیصلے لینے کی عادی بن چکی ہے۔ عباس انصاری نے سرکار پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ریاست میں شیعہ سنی اتحاد ہوجبکہ یہی افراد کشمیر میں شیعہ سنی منافرت کو ہوا دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عزاداری کی مجالس اور جلوسوں پر بعض ناعاقبت اندیش افراد اور قوم و ملت کا استحصال کرنے والوں کی شہہ پر پابندی عائد کرنا سراسر مداخلت فی الدین ہے جس کا مقابلہ ہر صورت میں کیا جائے ۔ مولانا عباس انصار ی نے پولیس اور انتظامیہ پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مجالس منعقد کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور دوسری طرف مختلف بہانے بناکر انہیں ناکام بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکندر پورہ بیروہ میں ڈویژنل کمشنر کشمیر کے علاوہ ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام نے بھی مجلس کو منعقد کرنے کی اجازت دی تھی تاہم انہیں ایک دن قبل ہی اپنی ہی گھر میں نظر بند کیا گیا جبکہ اتحادا لمسلمین کے صدر مولانا مسرور عباس جب وہاں پہنچے تو انہیں مجلس میں نہ صرف جانے سے روکا گیا بلکہ طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرکے درجنوں پرامن عزاداروں کو زخمی کیا گیا اور بعد میں مسرور عباس کو حراست میںلیا گیا۔ انہوںنے مزید کہا کہ اس طرح کی صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ انتظامیہ میںآپسی تال میل کی کمی ہے اورخالص مذہبی و دینی مجالس کو سیاسی جلسے قلمداد کرکے سیاسی کھیل کھیلے جارہے ہیں۔

Comments are closed.