آرمی چیف کی اہم فوجی کمانڈرز کو میمو معاملے پربریفنگ

Posted: 21/12/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir

چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے طے شدہ کورکمانڈرز کا اجلاس منسوخ کرکے مسلح افواج کے سربراہان بشمول آئی ایس آئی کے سربراہ اور کچھ قریبی ساتھیوں کو اپنی رہائش گاہ پر تفصیلی ملاقات کیلئے عشائیے پر مدعو کرلیا،انتہائی باوثوق ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ یہ ایک عشائیہ تھا  اور بہت کم مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا ،ذرائع کے مطابق بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آصف سندھیلہ، فضائیہ کے سربراہ راؤ قمر سلیمان،انٹرسروسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی) کے سربراہ  احمد شجاع پاشا اور چند گنے چنے اعلیٰ افسران ہی اس عشائیے میں مدعو کئے گئے،ذرائع کے مطابق مہمانوں کو کہا گیا تھا کہ وہ غیر ضروری پروٹوکول سے اجتناب کرتے ہوئے نجی گاڑیوں میں آرمی ہاؤس راولپنڈی آئیں،ذرائع مطابق مہمانوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ اگر ممکن ہو تو وہ خود گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے عشائیے میں تشریف لائیں،ذرائع کے کا خیال تھا کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سروسز چیفس کو میمو گیٹ اور اس حوالے سے وقوع پذیر ہونے والی صورتحال کے بارے میں اعتماد میں لینا چاہتے تھے جبکہ انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں بھی شرکاء سے تفصیلات کا تبادلہ کیا،آرمی چیف کے خصوصی عشائیے پر ہونے والی یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی جب اس سے قبل آئی ایس پی آر نے آرمی چیف کی صدر آصف زرداری سے فون پر بات چیت کے حوالے سے غیر معمولی وضاحت جاری کی ہے کہ صرف ایک منٹ کی گفتگو ہوئی ہے، ذرائع کے مطابق فوج نے اس وجہ سے بھی یہ ضرورت محسوس کی ہے کیونکہ اس بات چیت سے کئی قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا،مثلاً ذرائع کے مطابق ذرائع ابلاغ کے کچھ حلقوں نے یہ غلط رپورٹیں جاری کیں کہ آرمی چیف نے صدر آصف زرداری کو استحکام اور تحفظ کی ضمانت دی ہے،اس سے قبل ایک متعلقہ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آن لائن سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پیر19 دسمبر کو طے شدہ کورکمانڈرز کی میٹنگ منسوخ کردی گئی،عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس منسوخی کی وجوہات متعلقہ حکام ہی بہتر بتا سکتے ہیں جبکہ کور کمانڈرز کا اجلاس جلد ہی نئے شیڈول کے مطابق بلایا جائے گا،تاہم انہوں نے آرمی ہاؤس میں کسی عشائیے پر ہونے والی ملاقات سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا تھا تاہم ان کے منہ سے یہ بات نکل گئی تھی کہ جس اجلاس کی آپ بات کر رہے ہیںاس کا کورکمانڈرز اجلاس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Comments are closed.