Archive for 21/12/2011

سعودی عرب کا کردار اسلام،قرآن اور شاعراللہ  كی توہين کرنے میں پوری دنیا پر آشکار ہے اس ہی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر حالہی میں شاعراللہ کی توہیں آمیزی پرمبنی ویڈیو گيم كی فروخت سعودی عرب میں عروج پر ہے صوت العراق ” خبررساں سائٹ نےلكھا ہے كہ اس كمپيوٹر گيم كا نام ” فسٹ ٹوفائیٹ” ہے اس میں اگر گيم كھيلنے والا نمبر لينا چاہے تو اسے مساجد كو نابود اور قرآن كريم كو پارہ پارہ كرنا پڑتا ہے اور مسجد كے اندر موجود افراد كو قتل كرنا ہوتا ہے۔ اس گيم كو جيتنے كےلیے ضروری ہے كیہ قرآنی نسخہ جات پر فائرنگ كی جائے جو مسجد كے اندر موجود ہیں اور اسكے اگلے مرحلے میں قرآن كو پھاڑنا اور مساجد كو انہدام كرنا شامل ہے۔ یہ گيم سعودی عرب اور مشرق وسطی كے ممالك كے بازاروں میں فروخت كی جا رہی ہے۔ اس گيم كی نسبت اسلام اور قرآن كی توہين كرنے والوں كی طرف بھی دی جا رہی ہے اور بعض اس گيم كو القاعدہ اور وہابی گروہوں كا شاخسانہ كہہ رہے ہیں۔ سعودی عرب كے بعض شہريوں نے اس گيم كی فروخت پر افسوس كا اظہار كيا ہے اور سعودی عرب كی اطلاعات و نشريات سے اس كے خلاف اقدام كرنے كا مطالبہ كيا ہے۔

Advertisements

حزب الله لبنان کے ڈپٹی سکریٹری حجت الاسلام شیخ نعیم قاسم نے گذشتہ روز شیخ یوسف دعموش کی ریاست میں علماء جبل عامل لبنان کے ایک وفد سے ملاقات میں علاقے کی تبدیلیوں اور لبنان کے حالات پر تبادلہ خیالات کیا ۔شیخ نعیم قاسم نے مسلکی ومذھبی اور قبائلی فتنہ گری کی آگ بھڑکائے جانے کے سلسلے میں عالمی وعربی ممالک کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی : ان سازشوں کے مقابل ھمیں اتحاد ویکجہتی کا راستہ اپنانا چاھئے کیوں کہ یہی راستہ کامیابی وکامرانی کا راستہ ہے اور ھم نے لبنان میں اس کے نتائج دیکھیں ہیں ۔ انہوں نے لبنان میں امریکا اوراسرائیل کی جانب سے پھیلائے گئے مذھبی وقبائلی اختلافات کی طرف اشاره کرتے ہوئے کہا : استقامت نے دشمنوں کی سازشوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور سن 2006 کی گرمیوں میں سب نے مل کر اپنے ملک کا دفاع کرکے اس کا عملی نمونہ پیش کیا ۔ حزب الله لبنان کی اس نامور شخصیت نے حزب اللہ لبنان پر منشیات کی تجارت کے کھوکھلے اور بے بنیاد الزامات کو بے اثر بتاتے ہوئے کہا : حزب اللہ لبنان ھرگز حرام طریقے سے قدرت افزائی کے ارادے سے نہ تھی ، نہ ہے اور نہ رہے گی ۔ اس سلسلے میں امریکا کے تمام الزامات بے اثر ہیں اور اب عوام کی نگاہ میں امریکا کی باتوں کی کوئی حیثیت نہی رہی ۔ قابل ذکر ہے کہ کچھ دنوں قبل صھیونی نیوز پیپر هرٹس نے نے دعوی کیا تھا کہ حزب الله لبنان نے اپنے بجٹ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے منشیات کی تجارت شروع کردی ہے جبکہ گذشتہ فروری میں اوباما حکومت نے بھی حزب اللہ لبنان پہ مشنیات کی تجارت کا الزام لگایا تھا ۔

سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ بن عبد العزیز کی طرف سے خلیجی ممالک میں خوف و ہراس پھیلانے پر عمان کے وزیر خارجہ نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ نے اپنے بیان میں بہت زيادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے سعودی عرب اتحاد کے نام پر خلیجی ریاستوں کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ ذرائع نے میڈل ایسٹ آن لائن کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ بن عبد العزیز کی طرف سے خلیجی ممالک میں خوف و ہراس پھیلانے پر عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی  عرب کے بادشاہ نے خلیجی تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں  اپنے بیان میں بہت زيادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے سعودی عرب اتحاد کے نام پر خلیجی ریاستوں کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے یوسف بن علوی نے کہا کہ جس علاقہ میں ہم رہ رہے ہیں یہ علاقہ تیل کی وجہ سے اہم علاقہ ہے اور اس  کو ہمیشہ خطرات رہے ہیں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں لیکن خلیجی ریاستوں کو کوئی خطرہ در پیش نہیں ہے واضح رہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ نے خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے کہا تھا کہ وہ تعاون کے مرحلے سے اتحاد کے مرحلے میں داخل ہوجائیں بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نرم اور خاموش پالیسی کے ذریعہ تمام خلیجی ریاستوں کو سعودی عرب کا حصہ بنانے کی کوشش کررہا ہے بحرین میں اس نے پہلے ہی اپنی فوجیں روانہ کردی ہیں اور یمن ، بحرین اور شام سمیت تمام عرب ممالک میں بھی سعودی عرب کی مداخلت کا سلسلہ جاری ہے۔

جزیرۃ العرب میں رسول اسلام خاتم النبیین رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نورانی ظہور اور الہی معیارات پر قائم اسلامی احکام و دستور سے مقہور دور جاہلیت کے پروردہ امیہ و ابوسفیان کے پوتے یزید ابن معاویہ اور ان کے ذلہ خواروں کے ہاتھوں نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کے بعد ظلم و استبداد کے نشہ میں چور اموی ملوکیت نے عصر جاہلیت کے انسانیت سوز رسم و رواج از سر نو، اسلامی معاشرے میں رواج دینے پر کمر باندھ لی ۔بنی امیہ کے اس استبدادی دور میں حسینی انقلاب کے پاسبان امام زين العابدین علیہ السلام  کی ذمہ داریاں شعب ابی طالب میں محصور توحید پرستوں کی سختیوں ، بدر و احد کے معرکوں میں نبردآزما جیالوں کی تنہائیوں ، جمل و صفین کی مقابلہ آرائیوں میں شریک حق پرستوں اور نہروان و مدائن کی سازشوں سے دوچار علی (ع) و حسن (ع) کے ساتھیوں کی جان فشانیوں اور میدان کربلا میں پیش کی جانے والی عظیم قربانیوں کے مراحل سے کم حیثیت کی حامل نہیں تھیں ۔قرآن کی محرومی ،اسلام کی لاچاری اور آل رسول (ص) کی مظلومی کے ” یزید زدہ ” ماحول میں امام سجاد (ع)  کی حقیقی انقلابی روش میں گویا اسلام و قرآن کی تمام تعلیمات جمع ہوگئی تھیں اور اسلامی دنیا آپ کے کردار و گفتار کے آئینہ میں ہی الہی احکام و معارف کا مطالعہ اور مشاہدہ کررہا تھا ۔روز عاشورا نیزہ و شمشیر اور سنان و تیر کی بارش میں امام حسین (ع) کے ساتھ ان کے تمام عزیز و جاں نثار شہید کردئے گئے مردوں میں صرف سید سجاد (ع) اور بچوں میں امام باقر (ع) شہادت کے کارزار میں زندہ بچے تھے جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ اہل حرم کے قافلہ سالار تھے ۔خون اور آگ کے درمیان امامت و ہدایت کی یہ دونوں شمعیں الہی ارادہ اور فیصلے کے تحت محفوظ رکھی گئی تھیں جنہوں نے اپنی نرم و لطیف حکمت آمیز روشنی کے ذریعہ عاشورا کے پیغامات تاریخ بشریت میں جاوداں بنادئے ۔امام زين العابدین علیہ السلام کو خدا نے محفوظ رکھا تا کہ وہ اپنی 35 سالہ تبلیغی مہم کے دوران عاشورا کے سوگوار کے طور پر اپنے اشکوں اور دعاؤں کے ذریعہ اموی نفاق و جہالت کو ایمان و آگہی کی قوت عطا کرکے عدل و انصاف کی دار پر ہمیشہ کے لئے آویزاں کردیں اور دنیا کے مظلوموں کو بتادیں کہ اشک و دعا کی شمشیر سے بھی استبدادی قوتوں کے ساتھ جہاد و مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ظلم و عناد سے مرعوب بے حسی اور بے حیائي کے حصار میں بھی اشک و دعا کے ہتھیار سے تاریکیوں کے سینے چاک کئے جا سکتے ہیں اور پرچم حق کو سربلندی و سرافرازی عطا کی جا سکتی ہے ۔چنانچہ آج تاریخ یہ کہنے پر مجبور ہے کہ کبھی کبھی اشک و دعا کی زبان آہنی شمشیر سے زیادہ تیز چلتی ہے اور خود سروں کے سروں کا صفایا کردیتی ہے ۔امام زین العابدین ،سید سجاد، عبادتوں کی زینت ، بندگي اور بندہ نوازی کی آبرو ، دعا و مناجات کی جان ، خضوع و خشوع اور خاکساری و فروتنی کی روح سید سجاد جن کی خلقت ہی توکل اور معرفت کے ضمیر سے ہوئی ، جنہوں نے دعا کو علو اور مناجات کو رسائي عطا کردی ،جن کی ایک ایک سانس تسبیح اور ایک ایک نفس شکر خدا سے معمور ہے جن کی دعاؤں کا ایک ایک فقرہ آدمیت کے لئے سرمایۂ نجات اور نصیحت و حکمت سے سرشار ہے امام زين العابدین علیہ السلام کی مناجاتوں کے طفیل آسمان سجادۂ بندگي اور زمین صحیفۂ زندگي بنی ہوئی ہے ۔آپ کی ” صحیفۂ سجادیہ ” کا ایک ایک ورق عطر جنت میں بسا ہوا ہے اور آپ کی صحیفۂ کاملہ کاایک ایک لفظ وحی الہی کا ترجمان ہے اسی لئے اس کو ” زبور آل محمد ” کہتے ہیں آپ خود سجاد بھی ہیں اور سید سجاد بھی ،عابد بھی ہیں اور زین العابدین بھی ۔کیونکہ عصر عاشور کو آپ کے بابا سید الشہداء امام حسین (ع) کا ” سجدۂ آخر ” گیارہ کی شب ، شام غریباں میں آپ کے ” سجدۂ شکر ” کے ساتھ متصل ہے ۔اکہتر قربانیاں پیش کرنے کے بعد امام حسین (ع) نے ” سجدۂ آخر ” کے ذریعہ سرخروئي حاصل کی اور جلے ہوئے خیموں کے درمیان ، چادروں سے محروم ماؤں اور بہنوں کی آہ و فریاد کے بیچ ، باپ کے سربریدہ کے سامنے سید سجاد کے ” سجدۂ شکر ” نے ان کو زین العابدین بنادیا ۔نماز عشاء کے بعد سجدۂ معبود میں رکھی گئی پیشانی اذان صبح پر بلند ہوئی اور یہ سجدہ شکر تاریخ بشریت کا زریں ترین ستارۂ قسمت بن گیا ۔باپ کا سجدۂ آخر اور بیٹے کا سجدۂ شکر اسلام کی حیات اور مسلمانوں کی نجات کا ضامن ہے ۔در حقیقت صبر و شجاعت اور حریت و آزادی کے پاسبان امام زين العابدین ، طوق و زنجیر میں جکڑدئے جانے کے باوجود لاچار و بیمار نہیں تھے بلکہ کوفہ و شام کے بے بس و لاچار بیماروں کے دل و دماغ کا علاج کرنے کے لئے گئے تھے ۔کوفہ بیمار تھا جس نے رسول (ص) و آل رسول (ص) سے اپنا اطاعت و دوستی کا پیمان توڑدیا تھا، کوفہ والے بیمار تھے جن کے سروں پر ابن زیاد کے خوف کا بخار چڑھا ہوا تھا اور حق و باطل کی تمیز ختم ہوگئی تھی شام بیمار تھا جہاں ملوکیت کی مسموم فضاؤں میں وحی و قرآن کا مذاق اڑایا جا رہا تھا اور اہلبیت نبوت و رسالت کومعاذاللہ ” خارجی ” اور ترک و دیلم کا قیدی قرار دیا جا رہا تھا ۔شام والے بیمار تھے جو خاندان رسول کے استقبال کے لئے سنگ و خشت لے کر جمع ہوئے تھے لیکن امام سجاد ان کے علاج کے لئے خون حسین (ع) سے رنگین خاک کربلا ساتھ لے کر گئے تھے کہ بنی امیہ کی زہریلی خوراک سے متاثر کوفیوں اور شامیوں کو خطرناک بیماریوں سے شفا عطا کریں ۔چنانچہ علی (ع) ابن الحسین (ع) اور ان کے ہمراہ خاندان رسول (ص) کی خواتین نے اپنے خطبوں اورتقریروں کی ذوالفقار سے کوفہ و شام کے ضمیر فروشوں کے سردو پارہ کردئے کوفہ جو گہرے خواب میں ڈوبا ہوا تھا خطبوں کی گونج سے جاگ اٹھا شام نے جو جاں کنی کی آخری سانسیں لے رہا تھا زنجیروں کی جھنکار سے ایک نئي انگڑائی لی پورے عالم اسلام میں حیات و بیداری کی ایک ہلچل شروع ہوئی اور اموی حکومت کے بام و در لرزنے لگے

سرینگر;پولیس نے حریت کے دو لیڈران شبیر احمد شاہ اور آغا سید حسن کو سنیچر کے روز اُس وقت حراست میں لیا جب وہ  نصراللہ پورہ بڈگام کی طرف جارہے تھے جہاں ایک فحش ویڈیو فلم منظر عام پر آنے کے بعد صورتحال کشیدہ بنی ہوئی ہے۔اطلاعات کے مطابق شبیر شاہ سنیچر کو بڈگام گئے جہاں انہوں نے انجمن شرعی شیعان کے صدر آ غا سید حسن الموسوی سے ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے حالات پر کڑ ی نظر رکھنے اور شرپسندوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی ضرورت پر زور دیااور دونوں فرقوں کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ مشترکہ طور پر شیعہ سنی برادری کومستحکم بنانے کی طرف دھیان دیںتا کہ شرپسندوں کی ریشہ دیوانیاں کامیاب نہ ہو نے پا ئیں ۔بعد ازں آ غاسید حسن اور شبیراحمد شاہ نصراللہ پورہ کیلئے روانہ ہو ئے تا کہ وہاں جا کر حالات کا صحیح جائزہ لے سکیں لیکن ٹکی پورہ بڈگام میں ہی ریاستی پو لیس نے دونوں رہنمائوں کو گر فتار کر لیا تا کہ وہ نصراللہ پورہ نہ جاسکیں ۔اس سلسلے میں ٹکی پورہ کے مقام پر پہلے سے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور دونوں لیڈران جونہی وہاں پہنچے تو پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی اور دونوں کو گرفتار کرلیا۔اس دوران شبیر شاہ نے بڈگام میں ایک فحش ویڈ یو فلم کے منظر عام پر آ نے کے نتیجہ میں پیدا شدہ صورتحال پر اپنی گہر ی تشویش ظاہر کر تے ہو ئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تحریک کے وسیع تر مفاد میں ریاست کی شیعہ سنی برادری کی عظیم روایت کو زک پہنچانے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہ ہو نے دیں ۔شاہ نے کہا کسی ایک برادری کے کسی بدکردارشخص کی بدکرداری کی سزا بدکردارشخص کو ملنی چا ہئے نہ کہ اس برادری کو جس کی طرف اسے منسوب کیا گیا ہو ۔شبیرشاہ نے عوام کو یاد دلایا کہ ماضی میں بھی تحریک دشمن عناصر نے شیعہ سنی فساد بر پا کر نے کی کئی بار کوششیں کی تھیں لیکن کشمیر کے حریت پسند مسلمانوں نے ہر بار انکی مزموم کوششوں کو ناکام بنا دیا تھا ،اسی طرح ّآ ج کی اس تحریک دشمن سازش کو بھی ناکام کیا جا نا چا ہئے ۔انہوںنے کہا کہ اسلام میں جس طرح فحاشی اور عریانیت جرم ہے ،اسی طرح اس کی تشہیرکرنا بھی جرم ہے ۔ادھر فریڈم پارٹی کا ایک وفدرنگہ حمام نو ہٹہ گیا جہاں طارق احمد بٹ جسے نو ہٹہ چوک میں زخمی کیا گیا تھا اور جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر داعی اجل کو لبیک کہہ گیاتھا ،کے لو احقین سے تعزیت کی

 

سرینگر; جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے سرپرست مولانا عباس انصاری نے کہا کہ اسکندرپورہ بیروہ میں پرامن عزاداری پر پابندی اور طاقت کا استعمال کرنے پر وزیرا علیٰ عمر عبداللہ اورانتظامیہ کی خاموشی کو معنی خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کو عملی طور پر پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کیا گیا ہے جہاں پولیس اپنے طور پر ہر قسم کے فیصلے لینے کی عادی بن چکی ہے۔ عباس انصاری نے سرکار پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ریاست میں شیعہ سنی اتحاد ہوجبکہ یہی افراد کشمیر میں شیعہ سنی منافرت کو ہوا دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عزاداری کی مجالس اور جلوسوں پر بعض ناعاقبت اندیش افراد اور قوم و ملت کا استحصال کرنے والوں کی شہہ پر پابندی عائد کرنا سراسر مداخلت فی الدین ہے جس کا مقابلہ ہر صورت میں کیا جائے ۔ مولانا عباس انصار ی نے پولیس اور انتظامیہ پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مجالس منعقد کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور دوسری طرف مختلف بہانے بناکر انہیں ناکام بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکندر پورہ بیروہ میں ڈویژنل کمشنر کشمیر کے علاوہ ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام نے بھی مجلس کو منعقد کرنے کی اجازت دی تھی تاہم انہیں ایک دن قبل ہی اپنی ہی گھر میں نظر بند کیا گیا جبکہ اتحادا لمسلمین کے صدر مولانا مسرور عباس جب وہاں پہنچے تو انہیں مجلس میں نہ صرف جانے سے روکا گیا بلکہ طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرکے درجنوں پرامن عزاداروں کو زخمی کیا گیا اور بعد میں مسرور عباس کو حراست میںلیا گیا۔ انہوںنے مزید کہا کہ اس طرح کی صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ انتظامیہ میںآپسی تال میل کی کمی ہے اورخالص مذہبی و دینی مجالس کو سیاسی جلسے قلمداد کرکے سیاسی کھیل کھیلے جارہے ہیں۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے ولادت سے لے کر کربلا اور کربلا سے لے کر آخری سانس تک انتہائی کٹھن اور سنگین حالات کو برداشت کرکے عالم انسانیت کے لئے صبر واستقامت کی ایسی بنیادیں فراہم کیں جن سے ہر دور کا انسان استفادہ کررہا ہے  اور حق پر قائم رہتے ہوئے مرنے کا حوصلہ پارہا ہے۔ امام زین العابدین  نے زہد وتقوی اور روحانیت کے جو راستے متعین کئے اور ذہن و قلوب کو جلا بخشنے ، باطن میں روشنی پیدا کرنے، نفس امارہ کو شکست دینے اور خدا کے ساتھ لو لگانے کے لئے دعائوں کا جو ذخیرہ امت کو فراہم کیا ہے دور حاضر میں مادیت سے گھری انسانی زندگی میں اس سے استفادہ کیا جائے تو دنیوی و اخروی نجات کا سامان فراہم ہو سکتا ہے۔ امام زین العابدین  کے یوم شہادت پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام سجاد  واقعہ کربلاکے عینی شاہد ہیں آپ  نے جس طرح واقعہ کربلا کے حقائق کو بیان فرمایا اور اپنی تبلیغ و ادعیہ کے ذریعے دنیا کو واقعہ کربلا کی اصل حقیقتوں سے آگاہ کیا اس سے جاہل اور متعصب عناصر کے اس پروپیگنڈے کے اثرات رفع ہوئے جوانہوں نے شکوک و شبہات کے ذریعے عوام کے اندر پھیلائے ہوئے تھے۔ آپ  نے اپنے کردار وعمل کے ذریعے یزیدیت کو بے نقاب کیا اور حسینیت کے خدوخال کو جس طرح واضح کیا یہ انداز باطل قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی ہرقوت کے لئے رہنما حیثیت رکھتا ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام زین العابدین  کو یہ امتیازی خصوصیت حاصل تھی کہ انہوں نے دعائوں اور مناجات کے ذریعے انسان کو اپنے خالق سے براہ راست مربوط و مخاطب ہونے کا گر سکھایا اور عبادات کے ذریعے اپنے نفس پر کنٹرول کرنے کی رسم ڈالی۔ فقط یہی نہیں بلکہ آپ  کی مناجات اور دعائوں میں دین مبین کی اساس ، توحید کا تصور، رسالت و امامت کا مرتبہ، انسانی مشکلات کا حل، انفرادی و اجتماعی مسائل کی نشاندہی ، ان کے حل کے لیے جدوجہد اور اپنی خامیوں اور غلطیوں کا ازالہ کرنے کا طریقہ موجود ہے۔ آج اگر ہم ” صحیفہ کاملہ ” کی شکل میں ان مناجات کے ذریعے اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کریں تو ہمیں نہ صرف اپنے نفس پر کنٹرول ہوگا بلکہ ہم انسانوں کے دلوں پر حکمرانی کے راز سے آشنا ہو جائیں گے اور صبر و حکمت کے ذریعے دنیا کو مسائل و مشکلات سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کر سکیں گے۔ علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اس وقت پوری انسانیت یزیدیت کے نرغے میں ہے دور حاضرکی یزیدی قوتیں عالم اسلام کی دینی ، علمی، ثقافتی، تہذیبی روایات اورآزادی و استقلال کو ختم کرنے اور وسائل کو تباہ کرنے کے درپے ہیں لہذا اس کٹھن دور اور سنگین مرحلے میں امام سجاد  کے عطا کردہ اصول اور اساسی نقوش سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئے روپ میں آنے والی یزیدیت کو بے نقاب کیا جائے اور امت مسلمہ کی محرومیوں کو اجاگر کرکے لوگوں کے اندر شعور و بیداری پیدا کی جائے۔   

چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے طے شدہ کورکمانڈرز کا اجلاس منسوخ کرکے مسلح افواج کے سربراہان بشمول آئی ایس آئی کے سربراہ اور کچھ قریبی ساتھیوں کو اپنی رہائش گاہ پر تفصیلی ملاقات کیلئے عشائیے پر مدعو کرلیا،انتہائی باوثوق ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ یہ ایک عشائیہ تھا  اور بہت کم مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا ،ذرائع کے مطابق بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آصف سندھیلہ، فضائیہ کے سربراہ راؤ قمر سلیمان،انٹرسروسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی) کے سربراہ  احمد شجاع پاشا اور چند گنے چنے اعلیٰ افسران ہی اس عشائیے میں مدعو کئے گئے،ذرائع کے مطابق مہمانوں کو کہا گیا تھا کہ وہ غیر ضروری پروٹوکول سے اجتناب کرتے ہوئے نجی گاڑیوں میں آرمی ہاؤس راولپنڈی آئیں،ذرائع مطابق مہمانوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ اگر ممکن ہو تو وہ خود گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے عشائیے میں تشریف لائیں،ذرائع کے کا خیال تھا کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سروسز چیفس کو میمو گیٹ اور اس حوالے سے وقوع پذیر ہونے والی صورتحال کے بارے میں اعتماد میں لینا چاہتے تھے جبکہ انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں بھی شرکاء سے تفصیلات کا تبادلہ کیا،آرمی چیف کے خصوصی عشائیے پر ہونے والی یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی جب اس سے قبل آئی ایس پی آر نے آرمی چیف کی صدر آصف زرداری سے فون پر بات چیت کے حوالے سے غیر معمولی وضاحت جاری کی ہے کہ صرف ایک منٹ کی گفتگو ہوئی ہے، ذرائع کے مطابق فوج نے اس وجہ سے بھی یہ ضرورت محسوس کی ہے کیونکہ اس بات چیت سے کئی قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا،مثلاً ذرائع کے مطابق ذرائع ابلاغ کے کچھ حلقوں نے یہ غلط رپورٹیں جاری کیں کہ آرمی چیف نے صدر آصف زرداری کو استحکام اور تحفظ کی ضمانت دی ہے،اس سے قبل ایک متعلقہ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آن لائن سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پیر19 دسمبر کو طے شدہ کورکمانڈرز کی میٹنگ منسوخ کردی گئی،عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس منسوخی کی وجوہات متعلقہ حکام ہی بہتر بتا سکتے ہیں جبکہ کور کمانڈرز کا اجلاس جلد ہی نئے شیڈول کے مطابق بلایا جائے گا،تاہم انہوں نے آرمی ہاؤس میں کسی عشائیے پر ہونے والی ملاقات سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا تھا تاہم ان کے منہ سے یہ بات نکل گئی تھی کہ جس اجلاس کی آپ بات کر رہے ہیںاس کا کورکمانڈرز اجلاس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان مارشل لا کا متحمل نہیں ہوسکتا، ایسی صورتحال آئی تو ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، حکومت کی اقتصادی پالیسی ناکام ہوچکی ہے ،قومی ادارے اگر منظم انداز میں چلائے جائیں تو تین سو ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں۔ کے پی ٹی، پاکستان اسٹیل، پی آئی اے ودیگر اداروں کے ملازمین سے ملاقات کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ریلوے، اسٹیل ملزاور پی آئی اے کو تباہ کردیا گیا ہے حکومت ملنے کی صورت میں قومی اداروں کی نجکاری، ملازمتوں کے تحفظ کے ساتھ کرینگے۔ دوسری جانب نواز شریف حروں کے روحانی پیشوا پیر پگارا کی عیادت کیلئے مقامی اسپتال پہنچے تاہم نواز شریف کی پیر صاحب پگارا سے ملاقات نہ ہوسکی۔ نواز شریف نے پیر صبغت اللہ راشدی سے ملاقات کی جس میں پیر صاحب پگارا کی خیریت دریافت کی۔  پیر صبغت اللہ راشدی نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے پیر صاحب پگارا کو ملاقاتوں سے منع کررکھا ہے۔

کراکس: امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ وینزویلا، ایران اور کیوبا کے مابین گرم جوشی سے بڑھتے ہوئے تعلقات وینزویلا کے عوام کیلئے فائدہ مند نہ ہونگے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما نے اخبار ایل یونیورسل کو ای میل انٹرویو کیا ہے کہ وینزویلا ایک خود مختار قوم ہے اور امریکہ اس کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد یا بدیر وینزویلا کے لوگ اس بات کا فیصلہ کر لینگے کہ انسانی بنیادی حقوق کی پامالی کرنے والے ممالک کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہونی چاہئے۔ وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز اور ایرانی صدر احمدی نژاد کے مابین ہونے والی حالیہ ملاقات میں تیل پیدا کرنے والے دونوں ممالک سے باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے جس سے کراکس اور واشنگٹن کے مابین تناؤ میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ امریکہ ایران پر پابندیاں عائد کر کے ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنا چاہتا ہے۔ گزشتہ مئی میں امریکہ نے وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے پر امریکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پچاس ملین ڈالر کی تیل مصنوعات ایران بھیجنے پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ادھر وینزویلا کے صدر ہوگوشاویز نے ملک میں حقوق انسانی اور ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے امریکی صدر باراک اوباما کی تنقید پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوبامہ کو چاہئے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھیں اور دوسروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز رہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں وینزویلین صدر نے کہا کہ امریکی صدر ہم پر لفظی حملے کر رہا ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اوبامہ سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے۔ اپنے ملک کے نظام حکومت پر توجہ رکھے جو کہ اس کی وجہ سے تباہی کے راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمیشہ سے وینزویلا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا رہا ہے اور ابھی بھی وہ ایسا ہی کر رہا ہے۔

ٹوکیو … جاپان نے ایرانی تیل کی درآمد بند کرنے کے امریکی مطالبے کومستردکردیا۔واشنگٹن کے دورے پرآئے جاپانی وزیرخارجہ کوئشیروگیمبا نے امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن سے ملاقات کی۔ جس کے بعدمیڈیا سے گفت گومیں ان کا کہناتھا کہ جاپان ایران سے تیل کی درآمد بند نہیں کرے گا۔ایرانی اداروں پرپابندی اس کے جوہری پروگرام پرخدشات کے سبب لگائی گئی ہے ،لیکن تیل کی خریداری الگ معاملہ ہے۔جاپانی وزیرخارجہ نے واضح کیاکہ ان کاموقف ہے کہ اگرایران سے خام تیل کی درآمد روک دی گئی تویہ عالمی معیشت کے لیے خطرناک ہوگا۔اس لیے جاپان نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران سے خام تیل کی خریداری جاری رکھے گا

نیویارک…این جی ٹی…امریکی شخص نے اپنی پرانی کار کی رفتار بڑھانے کیلئے اس کی چھت پر کروز میزائل نصب کر دیا۔ جب ذہانت ،مہارت اور دیوانگی ایک ساتھ مل جائیں تو اسی قسم کے منفرد شاہکار سامنے آتے ہیں۔حال ہی میں ایک امریکی شخص نے اپنی پرانی کار کی رفتار کو بڑھا نے کیلئے اس کی چھت پر ایک کروز میزائل نصب کر دیا ہے۔ 100میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی 1967کایہ Chevrolet کارکا ماڈل اب اس میزائل کی مدد سے 300میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کار کے انجن سے 30فٹ لمبا آگ کا شعلہ بھی خارج ہوتا ہے جس کے نتیجے میں یہ کار تیزی سے گزرتے ہوئے اپنے پیچھے گہرے دھوئیں کے بادل چھوڑتی نظر آتی ہے  امریکی شہری کی اس نازیبہ حرکت سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خطرناک ترین نیوکلر وارہیڈ لے جانے والاکروز میزائل نہایت آسانی سے ایک عام شہری کے ہاتھ لگ سکتا ہے تو کیا یہ امریکی اور اسرائیلی دہشت گردوں کی پہنچ سے دور ہے?۔۔۔ کیا ہمارے ملک میں یہ اسلحہ عام ہے نہیں، یہ تو ساری دنیا میں دہشت گردی پھیلانے والے اور امن پسند ممالک پر دہشت گردی کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگا کر بے گناہ مسلمانوں کا خون اپنے اوپر حلال سمجھنے والے امریکی،اسرائیلی اور یورپی ممالک میں خطرناک ترین اسلحہ عام ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ خلیجی تعاون کونسل کے اجلاس میں شامی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عرب امن معاہدے پر عملدرآمد کے پہلے قدم کے طور پر ملک میں خونریزی کا سلسلہ بند کرے۔ اجلاس میں عرب رہنماؤں نے شام سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’فوری طور پر قتل و خونریزی بند کرے، مسلح تنازعے کی تمام علامات اٹھا لے اور قیدیوں کو رہا کرے۔‘‘شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد نے کئی ہفتوں کی پس و پیش کے بعد پیر کو عرب ملکوں سے طے پانے والے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں شام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ معاہدے کے تمام نکات پر عملدرآمد کرے اور ملک میں عرب لیگ کے مبصرین کو آنے کی اجازت دے۔ اجلاس کی ایک اور خاص بات شام کے حلیف ایران کو جاری کیا جانے والا انتباہ تھا۔ عرب ملکوں نے ایران سے کہا کہ وہ خلیجی تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا سلسلہ بند کرے۔ کونسل نے ایران کی جانب سے عرب ملکوں میں فرقہ وارانہ تنازعات کو ابھارنے پر بھی تشویش ظاہر کی۔فروری اور مارچ میں سعودی عرب  نے عرب ملک بحرین میں شیعہ اکثریت کی بغاوت کچلنے میں مدد دینے کے لیے اپنے ایک ہزار فوجی وہاں بھیجے تھے۔ اس کے بعد سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں کافی کشیدگی پیدا ہو چکی ہے۔ علاوہ ازیں ایران کے اتحادی ملک شام کی غالب سنی آبادی بھی شیعہ خاندان کے زیر حکمرانی ہے۔ خلیجی رہنماؤں نے شاہ عبد اللہ کی اس تجویز سے بھی اتفاق کیا کہ عرب ملکوں کو اپنے اب تک کے باہمی تعاون کو وسیع تر اتحاد میں بدل دینا چاہیے۔ شاہ عبد اللہ نے پیر کو ایران کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ خطے کے بعض ممالک سعودی عرب اور اس کے ہمسایہ عرب ملکوں کی سلامتی کو ہدف بنا رہے ہیں۔  خلیجی تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں کونسل کی رکنیت کے خواہش مند ملکوں اردن اور مراکش میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے خلیجی ترقیاتی فنڈ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس فنڈ کے تحت دونوں ملکوں کو ڈھائی ڈھائی ارب ڈالر دیے جائیں گے۔

امریکی حکام نے عراق میں موجود ایک ایرانی اپوزیشن گروپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کا تجویز کردہ منصوبہ قبول کرتے ہوئے اپنے ارکان کو عراق ہی میں کسی نئی جگہ پر منتقل کر دے۔ واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی حکام کی طرف سے یہ مطالبہ کل پیر کی رات کیا گیا۔ ایران  کے سیاسی منحرفین کے اس گروپ کو اپنے ارکان کو عراق ہی میں کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا اس لیے کہا گیا ہےکہ اس تنظیم کے عراقی حکومت کے ساتھ پائے جانے والے طویل تنازعے کو ختم کیا جا سکے۔ اس گروپ کا نام پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن ہے  اور اسے امریکہ،ایران اور عراق ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔ اس تنظیم کے ارکان کی طرف سے سن 2003 میں عراق کے سابق ‌ڈکٹیٹر صدام حسین کے دور حکومت کے خاتمے سے پہلے تک عراقی سرزمین سے ایران پر حملے کیے جاتے تھے۔ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان مسلح ارکان کے کیمپ اشرف نامی مرکز کو بند کرنے کا اردہ رکھتی ہے۔ اس کیمپ میں تقریبا 3000 ایرانی منحرفین رہتے ہیں۔ کیمپ اشرف بغداد کے شمال میں واقع ہے اور عراقی حکومت کہہ چکی ہے کہ وہ پیپلز مجاہدین کے اس کیمپ کو اس سال کے آخر تک بند کر دینا چاہتی ہے۔ لیکن سال رواں کے ختم ہونے میں اب دو ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور ایرانی سیاسی منحرفین اور بغداد حکومت ابھی تک کیمپ اشرف کی بندش اور ان جلاوطن ایرانیوں کی کسی دوسری جگہ منتقلی سے متعلق کوئی قابل عمل حل نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔امریکی حکام کے مطابق اقوام متحدہ نے پیپلز مجاہدین کو جس دوسری جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے وہ جگہ بغداد ائرپورٹ کے نزدیک واقع ہے۔ پیپلز مجاہدین کو مجاہدین خلق بھی کہا جاتا ہے اور امریکی اہلکاروں کے مطابق اقوام متحدہ کی سوچ یہ ہے کہ ان ایرانی جلاوطن شہریوں کی بغداد ائرپورٹ کے قریب منتقلی کے بعد خود اقوام متحدہ کا ادارہ ہی ان کی مونیٹرنگ بھی کرے گا۔ عالمی ادارے کے منصوبے کے مطابق بعد میں یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ ان ایرانی اپوزیشن کارکنوں اور جلاوطن شہریوں کو مہاجرین کے طور پر دوسری جگہوں پر آباد کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایرانی حکومت کے ان مخالفین کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہو گا۔ ان میں سے بعض اپنی ایران واپسی سے خوف کھاتے ہیں کیونکہ ایران میں انہیں ریاست کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔مجاہدین خلق کے بہت سے دیگر ارکان کو امریکہ اور کئی دوسرے ملک دہشت گرد بھی سمجھتے ہیں۔ مجاہدین خلق کے مسلح ارکان نے ستر کے عشرے میں ایران میں رضا شاہ پہلوی کے خلاف ایک گوریلا تحریک میں بھی حصہ لیا تھا۔ رضا شاہ پہلوی کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی اور اسی لیے مجاہدین خلق کی طرف سے امریکی اہداف پر بھی کئی گوریلا حملے کیے گئے تھے۔ مجاہدین خلق سے عراق ہی میں کسی دوسرے جگہ منتقل ہو جانے پر آمادگی کا مطالبہ کرنے والے امریکی حکام نے اپنا نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا، لیکن انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ایرانی اپوزیشن تنظیم کو اقوام متحدہ کے منصوبے پر ردعمل کے سلسلے میں حقیقیت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

عراق سے امریکی فوجی انخلاء کے بعد شیعہ اور سنی حکومتی حکام کے مابین ایک بحران کا آغاز ہو گیا ہے۔ عراق کے سنی نائب صدر طارق الہاشمی کی گرفتاری کے لیے عراقی حکومت کی جانب سے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ایک ایسے مسلح اسکواڈ کو منظم کیے ہوئے تھے، جس نے کئی حکومتی اور سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔ طارق الہاشمی کے دارالحکومت بغداد سے نیم خود مختار کرد علاقے کردستان میں پہنچنے کی اطلاع ہے۔ سنی نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری کے اجراء کے بعد کئی علاقوں میں تناؤ کی کیفیت محسوس کی جا رہی ہے۔ اس تازہ کشیدگی پر تمام امن پسند عراقی عوام کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ جبکہ اس کے برخلاف تمام سازشی قوتیں خاص کر امریکی، اسرائیلی اور سعودی حکومتیں پریشان اور دباو کا شکار محسوس ہوتی ہیں

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے مصر میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے برتاؤ کو ’شرمناک‘ اور ’دھچکے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ کلنٹن کا یہ بیان ان ویڈیوز اور تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں سکیورٹی فورسز کو خواتین مظاہرین کے کپڑے پھاڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ عموماﹰ اس انداز کا سخت رویہ اختیار نہ کرنے والی ہلیری کلنٹن نے کہا کہ مصر میں انقلاب اور حسنی مبارک کے اقتدار سے علیحدہ ہو جانے کے بعد وہاں حکومت خواتین کو سیاسی نمائندگی دینے میں ناکام ہو گئی ہے اور سڑکوں پر خواتین کی تذلیل کی جا رہی ہے۔جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا، ’ایک مربوط انداز سے خواتین کو بے عزت کرنا، ریاست اور اس کے یونیفارم کی ذلت ہوتی ہے۔ یہ عظیم لوگوں کا خاصا ہر گز نہیں ہوتی۔‘ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر نظر آنے والی ایک ویڈیو میں ہیلمٹ پہنے ایک سرکاری فوجی ایک خاتون کو بری طرح پیٹ رہا تھا جبکہ اس مار پیٹ کے دوران اس خاتون کے کپڑے پھٹ گئے تھے اور وہ نیم برہنہ ہو چکی تھی۔ سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹس پر نظر آنے والی تصاویر میں ایک فوجی بڑی عمر کی ایک روتی ہوئی خاتون کو پیٹ رہا تھا۔ کلنٹن نے کہا کہ مصر میں حالیہ واقعات کسی دھچکے سے کم نہیں۔ ’خواتین انہی سڑکوں پر پیٹی اور بے عزت کی جا رہی ہیں، جن سڑکوں پر چند ماہ قبل انہوں نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر انقلاب کے لیے آواز اٹھائی تھی۔‘ انہوں نے ملکی فیصلہ سازی میں عورتوں کو درست نمائندگی نہ دینے پر مصر کی فوجی انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ’اب ان خواتین کو انتہاپسندوں اور سکیورٹی فورسز دونوں کا سامنا ہے۔ خواتین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ صحافیوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں کی گئی ہیں اور خواتین کو سڑکوں پر پیٹا جا رہا ہے۔‘ ہلیری کلنٹن نے ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں کہا، ’سڑکوں پر خواتین کو پیٹنا، ثقافت کا حصہ نہیں ایک جرم ہے اور مجرم کو قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔‘

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں تحریر اسکوائر پر جمع مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا تازہ سلسلہ پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے منگل کو بھی مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تحریر اسکوائر پر جھڑپیں پیر کی شب بھی جاری رہیں۔ منگل کی صبح بھی مظاہرین وہاں موجود تھے، جن کے خلاف فوج اور پولیس نے ہتھیاروں کے ساتھ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل بھی استعمال کیے ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق تحریر اسکوائر اور اس کے قریبی علاقوں میں جمعے کو شروع والے پرتشدد مظاہروں کے دوارن ہلاکتوں کی تعداد تیرہ ہو چکی ہے  جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔ فوجی جنرلز اور ان کے مشیروں نے جمہوریت نوازوں کی جانب  سے جاری مظاہروں کی مذمت کی ہے۔ بعض نے بہت ہی سخت الفاظ میں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مصری حکام کی جانب سے طاقت کے استعمال پر تنقید کی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے ہتھیار مہیا کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ مصر کو چھوٹے ہتھیاروں کی فراہمی بند کر دیں۔ مصر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے دوران ہزاروں تاریخی اور نایاب دستاویزات بھی تباہ ہو گئی ہیں۔ ان میں مخطوطے بھی شامل ہیں۔ یہ دستاویزات قاہرہ میں قائم Institute d’Egypte میں ویک اینڈ پر لگنے والی آگ کے نتیجے میں جل کر راکھ ہو گئیں۔ یہ آگ سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کےد رمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں لگی۔ بعدازاں شہریوں اور ماہرین تعلیم پر مشتمل رضاکاروں نے اس مرکز میں بچ جانے والی کتابوں اور دستاویزات کو نکالنے پر دو دِن صَرف کیے۔یہ انسٹی ٹیوٹ نپولین بونا پارٹ نے اٹھارویں صدی کے آخر میں مصر پر فرانس کی جانب سے چڑھائی کے دوران قائم کیا تھا۔ وہاں موجود کتابوں، جرنلز اور دیگر دستاویزات کی تعداد ایک لاکھ بانوے ہزار تھی۔ ریٹائرڈ جنرل اور عسکری مشیر عبدالمنعم کاتو نے اس مرکز پر لگنے والی آگ سے متعلق بات کرے ہوئے کہا: ’’جب آپ مصر اور اس کی تاریخ کو اپنے آنکھوں کے سامنے جلتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ پھر بھی آپ ان آوارہ گردوں کےلیے پریشان ہیں جنہیں ہٹلر کی بھٹیوں میں جلا دیا جانا چاہیے۔‘‘ ان ہنگاموں کی وجہ سے پارلیمانی انتخاب کا عمل بھی متاثر ہے، جو اٹھائیس نومبر کو شروع ہوئے اور گیارہ جنوری تک جاری رہیں گے۔ تاہم فوج کا کہنا ہے کہ اقتدار کی سویلین حکمرانوں کو منتقلی کے جس عمل کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ نبھایا جائے گا۔ ان انتخابات کے اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ا‌خوان المسلمین سمیت کٹر النور کو برتری حاصل کر سکتی ہیں۔

پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں غیرت کے نام پر کم از کم 675 خواتین کو قتل کر دیا گیا۔ انسانی حقوق کے اس ادارے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے یہ اعدادوشمار خبر رساں ادارے اے ایف پی  کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں رواں برس جنوری سے ستمبر کے دوران ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے دسمبر کے دوران پیش آنے والے واقعات کی معلومات فی الحال ترتیب دی جا رہی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے اہلکار کی جانب سے دیے گئے ان اعدادوشمار سے قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جنہیں اکثر دوسرے درجے کے شہری خیال کیا جاتا ہے اور وہاں گھریلو تشدد کے خلاف کوئی قانون بھی نہیں ہے۔ ایچ آر سی پی کے اس اہلکار کے مطابق رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران قتل کی گئی خواتین میں سے کم از کم اکہتر کی عمریں اٹھارہ سال سے کم تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ستمبر تک قتل کی گئی عورتوں میں سے تقریباﹰ ساڑھے چار سو پر ’ناجائز تعلقات‘ کا الزام تھا جبکہ ایک سو انتیس کو اپنی مرضی سے شادی کرنے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ بعض عورتوں کو قتل سے پہلے انہیں جنسی زیادتی یا پھر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ساڑھے چار سو کے قریب خواتین کو ناجائز تعلقات رکھنے کے الزام پر قتل کیا گیا ساڑھے چار سو کے قریب خواتین کو ناجائز تعلقات رکھنے کے الزام پر قتل کیا گیا کم از کم انیس خواتین کو ان کے بیٹوں نے قتل کیا، انچاس اپنے اپنے والد کے ہاتھوں جان سے گئیں جبکہ ایک سو انہتر کو ان کے شوہروں نے مار دیا۔ گزشتہ برس اس کمیشن نے غیرت کے نام پر ہونے والی سات سو اکانوے ہلاکتوں کی رپورٹ دی تھی۔ اس تناظر میں اس اہلکار کا کہنا ہے کہ رواں برس بھی ان ہلاکتوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہو گا۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے مطابق قتل کے نام پر قتل کی وارداتوں کے حوالے سے کسی حد تک پیش رفت کے باوجود حکومت کو خواتین کے قتل کے مرتکب افراد کو سزائیں دینے کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس اکثر اوقات ایسے مقدمات کو نجی اور خاندانی امور قرار دیتے ہوئے خارج کر دیتی ہے۔

نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں والدین کی طرف سے نوزائیدہ بچوں کو قتل کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پولیس کے بقول اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ والدین ان بچوں کی پیدائش نہیں چاہتے۔ نیپال کی پولیس کی طرف سے شائع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پندرہ مہینوں کے دوران نومولود بچوں کو ہلاک کرنے کے ستائیس واقعات رونما ہوئے ہیں۔ اس سے قبل، اس سے بھی پندرہ ماہ قبل نوزائیدہ بچوں کو قتل کرنے کے واقعات سترہ رہے تھے۔ کٹھمنڈو پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار دھیرج پرتاب سنگھ نے نوزائیدہ بچوں کو ہلاک کرنے کے اس سفاکانہ عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’ایسے واقعات میں زیادہ تر والدین بچوں کی پیدائش نہیں چاہتے، اس لیے وہ ان بچوں کو پیدا ہونے کے بعد ہلاک کر دیتے ہیں‘۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے دھیرج پرتاب سنگھ نے مزید کہا کہ اگرچہ اس طرح کے واقعات کی ایک بڑی وجہ ناخواندگی اور شعور کی کمی بھی ہے لیکن اس تناظر میں معاشرتی مسائل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جو نیپال کے سماج میں رچے بسے ہوئے ہیں۔دھیرج پرتاب سنگھ کے بقول، ’نیپال کے معاشرے میں مخصوص حالات میں کسی خاتون کے حاملہ ہونے کو کئی وجوہات کی بنا پر قبول نہیں کیا جاتا، جن میں زنا کے علاوہ زنائے محرم جیسے واقعات بھی شامل ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ بچوں کو قتل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ والدین لڑکا چاہتے ہیں، ’ایسے واقعات میں زیادہ تر بچیوں کو قتل کیا جاتا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پندرہ مہنیوں کے دوران جمع ہوئے اعداد و شمار کے مطابق جن ستائیس نوزائیدہ بچوں کو ہلاک کیا گیا، ان میں سولہ بچیاں تھیں۔ پولیس حکام کے بقول کئی والدین اپنے نومولود بچوں کو کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر، سڑک یا دریا کے کنارے ہلاک کر کے یا زندہ ہی چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس طرح کے بہت سے واقعات منظر عام پر نہیں آتے۔ دھیرج پرتاب سنگھ کے بقول اکیلے چھوڑ دیے جانے والے کچھ ایسے بچوں کو پولیس نے ہیلتھ کیئر سینٹرز میں بھی منتقل کیا ہے۔ تاہم اس تناظر میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ نیپال میں کئی غیر سرکاری ادارے اسقاط حمل کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ نیپال کی خواتین کی پولیس کا ایک خصوصی مرکز بھی ایسے پروگرامز چلا رہا ہے، جن کے تحت بالخصوص خواتین کو ’سیکس ایجوکیشن‘ دی جاتی ہے۔