صدر زرداری کی وطن آمد عارضی ہے، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

Posted: 19/12/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News, USA & Europe

امریکی اخبار کے مطابق پاکستانی و مغربی حکام نے گزشتہ ہفتے کہہ دیا تھا کہ صدر کی واپسی محترمہ کی برسی میں شرکت کے لئے ہوگی جس کے بعد وہ طویل یا مستقل طور پر لندن یا دبئی منتقل ہو جائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی 27 دسمبر کو اپنی مرحوم اہلیہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کے لئے ہے جس کے بعد وہ طویل عرصے کے لئے لندن یا دبئی میں قیام کریں گے۔ یہ دعویٰ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پاکستانی و مغربی حکام کے حوالے سے کیا ہے۔ اخبار کے مطابق میمو گیٹ اسکینڈل نے پاکستان کے معاملات میں اس کی طاقتور فوج کے ہاتھ مضبوط کردیئے ہیں اور حکومت کے تمام تر مفاہمتی دعوؤں کے باوجود آئندہ ہفتوں میں فوج اور حکومت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا، فوج اور حکومت کے درمیان کشیدہ ماحول نے صدر آصف علی زرداری کو جلد وطن واپس آنے پر مجبور کیا۔ فوج کے اصرار پر پاکستان کی سپریم کورٹ اس اہم مقدمے کا آغاز کر رہی ہے جس کا مقصد اکتوبر میں سامنے آنے والے متنازعہ میمو میں صدر زرداری کی حکومت کے ملوث ہونے یا نہ ہونے سے متعلق تحقیقات کرنا ہے۔  اخبار کے مطابق اس مقدمے سے پاکستانی فوج اور حکومتی رہنماؤں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے جس سے اسامہ بن لادن اور مہمند ایجنسی پر نیٹو حملے کے بعد پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی امریکی کوششیں مشکلات کا شکار ہوگئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فوج اور سویلین قیادت میں تصادم کی راہ پر کھڑے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ میمو کے منظر عام پر آتے ہیں فوج نے حکومت سے ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ یہ متنازعہ دستاویز امریکہ میں اس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی نے تیار کیا ہے، حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بھی اس مطالبے میں آواز ملاتے ہوئے فوری اقدام کا مطالبہ کیا۔  اخبار کا کہنا ہے کہ حکومت نے میمو میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پارلیمنٹ، میڈیا، سول سوسائٹی اور عالمی برادری پاکستان میں فوجی آمریت کو برداشت نہیں کرے گی، تاہم گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے جواب میں عدالت سے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی فوج کے مورال کو گرانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔  اخبار کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی ڈرامائی انداز میں روانگی اور اچانک کراچی آمد پر پاکستانی تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سول حکام نے خارجہ اور قومی سلامتی پالیسی کے بعد ملکی معاملات میں بھی فوج کے اثر رسوخ کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔ اخبار کے بقول امریکہ سے کشیدہ تعلقات نے بھی فوجی جرنیلوں کو پاکستانی معاملات میں آزادانہ رسائی میں مدد فراہم کی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق صدر زرداری کے منتخب ہونے کے بعد سے فوج ان سے خوش نہیں اور وکی لیکس کے کئی مراسلوں میں یہ بات سامنے بھی آئی تھی۔ مثال کے طور پر مارچ 2009ء کے ایک مراسلے میں امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن نے سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کو بتایا گیا کہ آصف زرداری کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر اور کیانی مجھے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔  ایک اور مراسلے میں جنرل کیانی نے امریکی سفیر کو کہا کہ وہ زرداری پر مستعفی ہونے اور بیرون ملک جانے کے لئے دباؤ ڈالیں گے۔ اخبار کے بقول موجودہ حالات میں فوج کے لئے بغاوت کرنا مشکل ہے تاہم جنرل کیانی بدعنوانی اور نااہل سول انتظامیہ کے کام پر فرسٹریشن کا شکار ہیں اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے طویل ملاقات کے باوجود چند سرکاری عہدیداران کا کہنا ہے کہ فوج اور حکومت کے درمیان کشیدگی میں آئندہ دنوں میں اضافہ ہوگا۔  ایک عہدیدار کے بقول فوج اور حکومت نے دو مختلف موقف اختیار کئے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تنازعہ اب انتہائی عروج پر پہنچ چکا ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستانی و مغربی حکام نے گزشتہ ہفتے کہہ دیا تھا کہ صدر کی واپسی محترمہ کی برسی میں شرکت کے لئے ہوگی جس کے بعد وہ طویل یا مستقل طور پر لندن یا دبئی منتقل ہوجائیں گے اور اس تاثر کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ زرداری یا ان کے کسی ساتھی نے نہیں بتایا کہ کتنا عرصہ پاکستان میں قیام کریں گے۔

Comments are closed.