Archive for 19/12/2011

امریکی اخبار کے مطابق پاکستانی و مغربی حکام نے گزشتہ ہفتے کہہ دیا تھا کہ صدر کی واپسی محترمہ کی برسی میں شرکت کے لئے ہوگی جس کے بعد وہ طویل یا مستقل طور پر لندن یا دبئی منتقل ہو جائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی 27 دسمبر کو اپنی مرحوم اہلیہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کے لئے ہے جس کے بعد وہ طویل عرصے کے لئے لندن یا دبئی میں قیام کریں گے۔ یہ دعویٰ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پاکستانی و مغربی حکام کے حوالے سے کیا ہے۔ اخبار کے مطابق میمو گیٹ اسکینڈل نے پاکستان کے معاملات میں اس کی طاقتور فوج کے ہاتھ مضبوط کردیئے ہیں اور حکومت کے تمام تر مفاہمتی دعوؤں کے باوجود آئندہ ہفتوں میں فوج اور حکومت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا، فوج اور حکومت کے درمیان کشیدہ ماحول نے صدر آصف علی زرداری کو جلد وطن واپس آنے پر مجبور کیا۔ فوج کے اصرار پر پاکستان کی سپریم کورٹ اس اہم مقدمے کا آغاز کر رہی ہے جس کا مقصد اکتوبر میں سامنے آنے والے متنازعہ میمو میں صدر زرداری کی حکومت کے ملوث ہونے یا نہ ہونے سے متعلق تحقیقات کرنا ہے۔  اخبار کے مطابق اس مقدمے سے پاکستانی فوج اور حکومتی رہنماؤں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے جس سے اسامہ بن لادن اور مہمند ایجنسی پر نیٹو حملے کے بعد پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی امریکی کوششیں مشکلات کا شکار ہوگئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فوج اور سویلین قیادت میں تصادم کی راہ پر کھڑے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ میمو کے منظر عام پر آتے ہیں فوج نے حکومت سے ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ یہ متنازعہ دستاویز امریکہ میں اس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی نے تیار کیا ہے، حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بھی اس مطالبے میں آواز ملاتے ہوئے فوری اقدام کا مطالبہ کیا۔  اخبار کا کہنا ہے کہ حکومت نے میمو میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پارلیمنٹ، میڈیا، سول سوسائٹی اور عالمی برادری پاکستان میں فوجی آمریت کو برداشت نہیں کرے گی، تاہم گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے جواب میں عدالت سے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی فوج کے مورال کو گرانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔  اخبار کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی ڈرامائی انداز میں روانگی اور اچانک کراچی آمد پر پاکستانی تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سول حکام نے خارجہ اور قومی سلامتی پالیسی کے بعد ملکی معاملات میں بھی فوج کے اثر رسوخ کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔ اخبار کے بقول امریکہ سے کشیدہ تعلقات نے بھی فوجی جرنیلوں کو پاکستانی معاملات میں آزادانہ رسائی میں مدد فراہم کی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق صدر زرداری کے منتخب ہونے کے بعد سے فوج ان سے خوش نہیں اور وکی لیکس کے کئی مراسلوں میں یہ بات سامنے بھی آئی تھی۔ مثال کے طور پر مارچ 2009ء کے ایک مراسلے میں امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن نے سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کو بتایا گیا کہ آصف زرداری کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر اور کیانی مجھے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔  ایک اور مراسلے میں جنرل کیانی نے امریکی سفیر کو کہا کہ وہ زرداری پر مستعفی ہونے اور بیرون ملک جانے کے لئے دباؤ ڈالیں گے۔ اخبار کے بقول موجودہ حالات میں فوج کے لئے بغاوت کرنا مشکل ہے تاہم جنرل کیانی بدعنوانی اور نااہل سول انتظامیہ کے کام پر فرسٹریشن کا شکار ہیں اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے طویل ملاقات کے باوجود چند سرکاری عہدیداران کا کہنا ہے کہ فوج اور حکومت کے درمیان کشیدگی میں آئندہ دنوں میں اضافہ ہوگا۔  ایک عہدیدار کے بقول فوج اور حکومت نے دو مختلف موقف اختیار کئے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تنازعہ اب انتہائی عروج پر پہنچ چکا ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستانی و مغربی حکام نے گزشتہ ہفتے کہہ دیا تھا کہ صدر کی واپسی محترمہ کی برسی میں شرکت کے لئے ہوگی جس کے بعد وہ طویل یا مستقل طور پر لندن یا دبئی منتقل ہوجائیں گے اور اس تاثر کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ زرداری یا ان کے کسی ساتھی نے نہیں بتایا کہ کتنا عرصہ پاکستان میں قیام کریں گے۔

Advertisements

جنوری میں صدر کو دوبارہ دل کا دورہ پڑ سکتا ہے، اس بار منزل دبئی نہیں لندن ہو گی جہاں سے استعفیٰ آئیگا، 27 دسمبر کو زرداری ’’الوداعی خطاب‘‘ کریں گے، پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس باقی ماندہ وقت مشروط طور پر گزارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا، ڈرامے کا آخری ایکٹ جنوری میں شروع ہو گا، اپنی نااہلی سے ڈرتے ہوئے وزیراعظم سوئس حکومت کو صدر کیخلاف خط لکھیں گے، صدر کو عہدہ چھوڑنے پر سوئس کیسز سے بچنے کی رعایت دی جا سکتی ہے ملک کے موجودہ اور مستقبل کے سیاسی منظر نامہ کے حوالے سے مقتدر اور باخبر حلقوں کے حوالے سے ذرائع نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے پاکستان پہنچنے کے باوجود ملک میں جاری افواہوں اور سازشوں کا طوفان دم توڑنے کا نام نہیں لے رہا، اب ایک نئی خفیہ سازش کا حوالہ دیا جا رہا ہے جس کے مطابق زرداری صاحب کا کراچی لوٹنا دراصل اس سیاسی کھیل کا آخری منظر ہے جس کا آغاز جنوری میں شروع ہونے والا ہے۔ اس نئی سازش کے لکھاری کے بقول جو ان حلقوں تک رسائی رکھتے ہیں جہاں اس طرح کی کہانیاں سیاسی حکومتوں کے خلاف سنائی جاتی رہتی ہیں، کے مطابق صدر پاکستان کو دوبارہ جنوری میں ’’دل کا دورہ پڑ سکتا ہے‘‘ اور اس دفعہ ان کی منزل دبئی کی بجائے لندن ہو سکتی ہے جہاں سے وہ خرابی صحت کی بناء پر اپنا استعفیٰ بھی بھیج سکتے ہیں۔ ایک سیاسی پنڈت کے بقول پاکستان میں جب بھی سیاست دان اقتدار میں ہوں تو اس وقت اس طرح کی سازشیں ہر وقت بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں کیونکہ اس طرح کا کھیل سیاسی حکومتوں کے ساتھ کھیلنا بہت آسان ہو جاتا ہے اور افواہوں اور جوڑ توڑ کی منڈی میں اس طرح کے سودے دستیاب ہوجاتے ہیں جو عام و خاص کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔   ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایسی نئی تھیوری کا پتہ چلا ہے جس کے مطابق کہ اگر جنوری میں صدر زرداری کو دوبارہ دل کا دورہ پڑنے کی خبر سامنے آ جائے تو پھر سمجھا جانا چاہیے کہ وہی کچھ ہونے والا ہے جو انہوں نے پاکستانی سیاسی ستاروں کی چالیں دیکھ کر بتایا ہے۔ اس ’’سیاسی نجومی‘‘ کے مطابق پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ باقی ماندہ وقت مشروط طور پر گزارے، بلکہ ایک لکھے ہوئے سکرپٹ پر صرف اداکاری کر ے۔ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے این آر او کے خلاف دی گئی فائنل ہدایت کے بعد کہ اب وزیراعظم گیلانی کے پاس کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ سوئس حکومت کو اپنے صدر اور پارٹی کے سربراہ کے خلاف دوبارہ مقدمات کے لئے خط لکھیں (اگرچہ وزیراعظم گیلانی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی بجائے سیاست ترک کر دیں گے)۔ اگر وزیراعظم خط نہیں لکھتے تو پھر سپریم کورٹ انہیں توہین عدالت کے الزام میں نااہل قرار دے سکتی ہے جس سے ان کی حکومت ختم ہو سکتی ہے، تاہم زرداری صاحب کو یہ آفر کی جارہی ہے کہ وہ سوئس کیسز دوبارہ کھلوانے سے بچنے کے لیے اگر صدارت چھوڑ دیں تو انہیں رعایت دی جا سکتی ہے۔  رپورٹ کے مطابق وزیراعظم گیلانی کی فوج کے ساتھ صدر زرداری کو بچانے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں اور ایک ہی مسئلے کا حل بتایا جا رہا ہے کہ صدر زرداری خود صدارت اور سیاست چھوڑ دیں۔ اس کے بدلے میں ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان میں سیاست کرنے کی اجازت ہو گئی اور ان کی پارٹی کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ یوں زرداری صاحب بلاول کے مستقبل کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی کو انتقامی کارروائیوں سے بچانے کے لیے خود صدارت چھوڑنے پر تیار ہو جائیں گے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسی پس منظر میں موجودہ سیاسی ڈرامے کا آخری ایکٹ جنوری میں شروع ہو گا جس میں آصف علی زرداری صدر نہیں رہیں گے لیکن اس سے پہلے انہیں ستائیس دسمبر کو نوڈیرو میں بے نظیر بھٹو کے چوتھی برسی پر تقریر کرنے کا موقع دیا جائے گا جو ایک لحاظ سے ان کا ’’الوداعی خطاب‘‘ ہو گا۔ اس خطاب کے بعد جنوری میں صدر زرداری کی طبعیت ایک بار پھر ناساز ہو جائے گی، دل کے عارضے کی وجہ سے انہیں ایوان صدر سے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے چکلالہ ائیر بیس لے جایا جائے گا جہاں سے انہیں علاج کے لیے ایک خصوصی طیارے پر بیرون ملک روانہ کیا جائے گا، لیکن اس دفعہ ان کی منزل دبئی کی بجائے لندن ہو گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن میں انہیں ہسپتال میں داخل کرا دیا جائے گا جہاں وہ فروری تک رہیں گے۔  فروری کے آخر میں صدر صاحب اپنے صدارتی اور پارٹی کے عہدوں سے خرابی صحت کی بنیاد پر مستعفی ہوجائیں گے۔ ان کی جگہ سندھ سے ہی پیپلز پارٹی سے ہی تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص کو صدر بنایا جائے گا جس پر’’ سب‘‘ کا اتفاق ہو گا۔ تاہم اس دروان سینیٹ آف پاکستان کے انتخابات ہوں گے اور پیپلز پارٹی کو سینٹ میں اکثریت لینے دی جائے گی جو کہ آخری ایکٹ (اسے ڈیل سمجھیں) کا حصہ ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کو سینیٹ میں اکثریت مل جانے کے بعد وزیراعظم گیلانی خود ہی اپنی حکومت اور پارلیمنٹ کو توڑنے کی سفارش کریں گے اور ساتھ ہی ایک کیئرٹیکر حکومت قائم ہو جائے گی جو کہ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی صوبائی اسمبلیاں بھی توڑ دی جائیں گی۔ اس اثناء میں عمران خان ایک پٹیشن لے کر سپریم کورٹ پہنچ جائینگے کہ جب تک ملک بھر میں نئے ووٹ رجسٹر نہیں ہوتے اس وقت تک نئے انتخابات نہیں ہونے چاہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہاب الخیری صاحب بھی ایک پٹیشن لے کر عدالت کے دروازے پر پہنچ جائینگے کہ جب تک ملک سے کرپٹ لوگوں کا احتساب نہیں ہوتا، اس وقت تک نئے انتخابات نہیں ہونے چاہیں۔ ذرائع کے مطابق عدالت یہ دونوں درخواستیں مان کر نگران حکومت کو نوے دن میں انتخابات کرانے کی آئینی شق سے بری کر دے گی اور انتخابات 2013ء کے وسط تک کے لیے ملتوی کر دیئے جائینگے۔ انتخابات کے بعد ایک نئی لیڈرشپ سامنے آئے گی جس پر عوام کے علاوہ عالمی برادری بھی بھروسہ کرے گی، یہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ نئی لیڈرشپ کون ہے۔

کراچی : کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری ساتویں بین الاقوامی کتب میلے کے تیسرے دن اتوار کی تعطیل کے باعث عوام کا سمندر امنڈ آیا ۔ پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اتوار کو کتابوں کی ریکارڈ فروخت ہوئی ۔ انہوں نے کہاکہ ایک اندازے کے مطابق کروڑوں روپے کی مالیت سے زائدکی کتابوں کی خریداری کی گئی۔ خرید ار ی کا سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گیا لاکھوں افراد نے کتب میلے کا دورہ کیا ۔ پارکنگ مکمل طور پر بھری ہوئی تھی جب کہ سڑکوں کے اطراف میں بھی ڈبل پارکنگ کی گئی تھی اتوار کے روز عا م تعطیل ہونے کے باعث صبح سے ہی لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا اور دوپہر تک ایکسپو سینٹر کے تینوں ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھر چکے تھے ۔بڑے پیمانے پر لوگوں کی آمد ورفت کے باعث انہیں کتب میلے میں داخلے کے لئے طویل قطار میں کھڑا ہونا پڑا ۔ بچوں کی بڑی تعداد نے بھی اسٹالوں کا دورہ کیا ،خصوصیت کے ساتھ بچوں کی کتابوں کو زیادہ پسند کیا جارہا ہے۔صوبائی وزیر تعلیم جناب پیر مظہر الحق، میٹرک بورڈ کے چیئر مین انظار حسین زیدی قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی گورنمنٹ آف پاکستان سندھ کے چیئرمین سید انوار حسین عابدی اورپرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے صدر حیدر علی اور دیگر مقتدر شخصیات نے کتب میلے کا دورہ کیا۔ سب سے زیادہ ہجوم لبرٹی ، پیراماؤنٹ،الائٹ پبلشرز، ریڈرز ،ویلکم بک اور گابا پبلشرز میں رہا۔مجموعی طور پر اسلام کتب کے اسٹال میں 50 فیصد نمایاں تھے(اہلسنت کے اسٹال 47فیصد اور شیعہ مسلمانوں کے 3 فیصد تھے)(شیعہ مسلمانوں کے اسٹالز میں صرف خانہ فرہنگ اسلامی ایران، مجمع جہانی اہلبیت کے اسٹال نمایاں تھے)   اہلسنت کے تقریبا اکثر اسٹالز پر شہر کراچی میں موجوداہلسنت کی مقتدر شخصیات نے دورہ کیا اور ان کی کاوشوں کس سرہا جبکہ اس کے برعکس شیعہ مسلمانوں کے کسی بھی اسٹال پر شہر کراچی میں موجود شیعہ علماء اور شہر بھر میں محرم کی مجالس میں علم کی اہمیت پر زور دینے والے مقتدر علماء حضرات اور دیگر شخصیات میں سے کسی نے بھی اب تک دورہ نہیں کیا ہے جس کی کسک شدت کے ساتھ محسوس ہو رہی ہے جبکہ باقی 50فیصد میں بچوں کی کتب اور دیگر کے اسٹال نمایاں تھے  نمائش صبح 10 سے رات 9 بجے تک جاری رہی یہ کتب میلہ مزید دو روز جاری رہے گا۔نمائش میں امریکا‘ بھارت‘ ایران‘ سنگاپور‘ ملیشیاء‘ تھائی لینڈ‘ترکی اور برطانوی پبلشرزسمیت دیگر ممالک کے بین الاقوامی شہرت یافتہ بک پبلشرز نے نمائش میں اسٹال لگائے ہیں۔ پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد اور کتب میلے کے کنوینر اویس مرزا جمیل نے اہلیان کراچی کی ہفتہ کتب میں دلچسپی کو سراہا ہے اور ان کا شکریہ ادا کیا ہے ۔

یروشلم : اسرائیلی وزیر دفاع ایہودباراک نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لئے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لئے کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر دفاع ایہود باراک نے امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے دو دن بعد سرکاری ریڈیو کو بتایا کہ ہم واضح طور پر یقین رکھتے ہیں کہ ایٹمی ایران نہ تو قابل تصو ر ہے اور نہ ہی قابل قبول ہے اور ہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لئے پرعزم ہیں۔

 

کوئٹہ : کوئٹہ میں پاک ایران سرحد زیرو پوائنٹ تین ماہ بند رہنے کے بعد دوبارہ کھول دی گئی جس پر تاجروں نے اظہارمسرت کیاہے۔ اتوار کو ایف سی ذرائع کے مطابق ایرانی حکام کی جانب سے پاک ایران سرحد 24 ستمبر کو سانحہ مستونگ کے بعد بند کردی گئی تھی جسے تین ماہ بعد کھول دیا گیا، زیرو پوائنٹ کھولنے کے بعد سرحد پر تجارتی سرگرمیاں بحال ہوگئیں اور دونوں ممالک کے تاجروں نے اس اقدام پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔

تہران:  ایران نے امریکی اور اسرائیل کے مارگرائے جانیوالے 7 ڈرون طیارے نمائش کیلئے رکھ دیئے، ادھر امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹانے دورہ لیبیاکے موقع پر کہاہے کہ ایران افغان سرحد پر ڈرون طیاروں کی پروازیں بدستور جاری رہیں گی۔ دریں اثناء ایرانی انٹیلی جنس اہلکاروں نے جاسوسی کے شبہ میں امریکی شہری کو گرفتار کر لیا۔ ایرانی وزارت انٹیلی جنس کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق سیکورٹی اہلکاروں نے بگرام ایئر فیلڈ افغانستان میں امریکہ کیلئے کام کرنے والے ایرانی نژاد امریکی شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔ امریکی شہری پر پینٹاگون کیلئے جاسوسی کا شبہ ہے تاہم گرفتار جاسوس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ گرفتار امریکی شہری کو بگرام میں خصوصی تربیت دے کر بعد ازاں ایران داخل کرا دیا گیا۔ جبکہ ایران کے وزیردفاع احمد وحیدی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے جدیدترین جاسوس طیارے پر کنٹرول حاصل کر کے ایک بار پھردنیا پر ثابت کر دیا کہ وہ حقیقی جنگ میں بہت سنجیدہ ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق احمد وحیدی نے بتایا کہ امریکہ کے جاسوس طیارے کے ایران کی فضائی حدود میں داخل ہو جانا میدان جنگ میں اترنے کے مترادف ہے۔

کوئٹہ: پاکستان سے نیٹو کی سپلائی بند ہوجانے کے اثرات افغانستان میں ظاہر ہونے لگے ہیں افغان حکومت نے سرکاری افسروں اور پولیس کیلئے پٹرول کا ماہانہ کوٹہ مخصوص کردیا ہے افغان فوجیوں کی نقل وحرکت بذریعہ ٹرانسپورٹ محدود کردی گئی ہے ہنگامی حالات میں پٹرول کا اسپیشل کوٹہ جاری کیاجاتا ہے نیٹو نے اعلیٰ حکومتی شخصیات کو بھی پٹرول دینا بند کردیا ہے ہرات میں ایرانی ڈیزل کی قیمت میں سو فیصداضافہ ہوگیا ہے ڈیزل سرحد پار ایران سے اسمگل کیاجاتا ہے ایرانی حکومت سرحد پرآباد معتبرین کو ہر ماہ ڈیزل کا کوٹہ جاری کرتی ہے جو سرحد پار کرکے افغانستان سے آتے ہیں نیٹو حکام نے افغان فوجیوں اور اعلیٰ افسران کوراشن دینا بند کردیا ہے کیونکہ اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہورہی ہے۔

لاہور :  دفاع پاکستان کونسل کے زیر اہتمام امریکہ اور نیٹو کی جارحیت اور بھارت کو پاکستان کا پسندیدہ ملک قرار دینے کیخلاف گزشتہ روز مینار پاکستان پر ہونے والی دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی امریکہ اور بھارت سے ہونے والے معاہدوں کو ختم کرنے کی تاریخ دیں ورنہ پھر پاکستان کا بچہ بچہ سڑکوں پر آ جائیگا جبکہ کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اب امریکا کو ملک سے نکالنے کا وقت آچکا ہے اسکے تمام اڈوں کو ختم کر دیا جائیگا۔ حکومت دہشتگردی کیخلاف جنگ سے باہر آئے، امریکی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے، نیٹو سپلائی بحال کی گئی تو پوری قوم سڑکوں پر ہوگی، کانفرنس نے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کو مسترد کر دیا۔کانفرنس سے مولانا سمیع الحق، حافظ پروفیسر محمد سعید، شیخ رشید، اعجاز الحق، لیاقت بلوچ، حمید گل اور دیگر قائد نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی صدارت دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ محب وطن قوتوں کو اس کانفرنس سے نیا ولولہ ملا ہے۔ 18 کروڑ عوام کو متحد ہونے کا ایک پلیٹ فارم میسر آ گیا ہے اب یہ قافلہ آگے بڑھتا ہی جائے گا۔ ملک کیخلاف سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔ جماعت الدعوة پاکستان کے امیر حافظ پروفیسر محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ قوم امریکہ کے خلاف متحد ہو چکی ہے اب ہم پاکستان کے چپے چپے کا دفاع کریں گے ، امریکہ یہاں مہمان بن کر آئے تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے لیکن اگر اس کا آدمی ریمنڈ لاہور کی سڑکوں پر خون بہائے اور امریکہ ہمارے ہی خلاف پاکستان میں اپنے اڈے بنائے تو پھر اس کا جواب دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکہ کے نشانہ پر ہے اس کا دفاع کریں گے اور اس کی خاطر لڑیں گے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ اور بھارت سے نہیں اندر سے خطرہ ہے تمام بڑے قومی ادارے تباہ و برباد کردیئے گئے ۔ پی آئی اے، اسٹیل ملز، او جی ڈی سی ، ریلوے ، این ایل سی سمیت تمام بڑے اداروں میں کرپشن نے ملک کو کھوکھلا کردیا ملک میں نہ بجلی ہے نہ گیس اور کارخانے بند ہونے سے لاکھوں لوگ بے روزگار اور قومی معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ امریکی صدر اب پاکستانیوں کی جان نہیں لیں گے بلکہ یہ غیور قوم ان سے حساب لے گی۔ شیخ رشید نے کہا کہ یہ ملک کے ساتھ کتنی ستم ظریفی ہے کہ عوام کو رحمن ملک کے پیچھے لگنا چاہیے تھا ان کو ویناملک کے پیچھے لگا دیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ اعجاز الحق نے کہا کہ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی سازش کی جا رہی ہے عوام کسی قیمت پر قبول نہیں کریں گے یہ قابل افسوس بات ہے کہ بھارت ہمارا پانی بند کررہا ہے اور اس سے تجارت کرنے کا معاہدہ کرنے کے لئے حکمران اسے پسندیدہ ملک قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیمز جون کی طرف مت دیکھیں جو ریمنڈ ڈیوس سے زیادہ حسین حقانی کو بچانا چاہتا ہے۔ پاک فوج کا مورال ڈاؤن کرنے کی سازش ناکام بنا دی جائے گی۔ اعجاز الحق نے کہا کہ دفاع پاکستان کا اگلا جلسہ راولپنڈی میں ہوگا۔ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے شکست کھا چکا ہے اب امریکہ کو ڈومور کرنے سے جواب دینا ہوگا اگر حکومت نے نیٹو سپلائی بند کرنے کا فیصلہ واپس لیا تو عوام اس کو قبول نہیں کرینگے۔ حافظ عبدالغفار روپڑی، قاری ضیاء الرحمن فاروقی، مولانا امیر حمزہ، مولانا محمد احمد لدھیانوی، صاحبزادہ ڈاکٹر اظہر زبیر،مولانا بشیر احمد، حافظ عبدالرحمن ملکی، مولانا طاہر محمود اشرفی، عبداللہ گل، مولانا زاہد الراشدی، حافظ ابتسام الٰہی، اعجاز چوہدری، پیر سیف اللہ خالد، مولانا زاہد محمود قاسمی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی پر سی آئی اے کے جاسوس نے اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا۔برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف‘ کے مطابق ایرانی حکام کی طرف سے سی آئی اے کے ایک مبینہ جاسوس کوگرفتار کرنے کے بعد ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر اسے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے دکھایا گیا۔پہلے سے ریکارڈ ایک انٹرویو میں ایران کے امیر مرزا حکمتی نے اعتراف کیا کہ اس نے امریکی انٹیلی جنس کی طرف سے تربیت حاصل کی اور عراق اور افغانستان میں فوجی اڈوں پر وقت گزارا ۔ایران کے IRIB چینل میں اس نے کہا کہ اسے ایرانی انٹیلی جنس کو غلط معلومات فراہم کرنے کے لئے ایران بھیجاگیا۔حکمتی جو فوٹیج میں کسی دباوٴ کے بغیرپرسکون نظرآیا اسے حکام نے ہفتہ کے روز گرفتار کیا تھا۔اس کے مطابق اسے (امریکی ایجنٹوں) نے کہا کہ اگر تم اس مشن میں کامیاب ہوگئے تو ہم تجھے مزیدتربیت دے سکتے ہیں اور دیگر مشن پر بھیج سکتے ہیں۔ چینل کے اہم خبرو ں کے بلیٹن میں یہ ویڈیودکھائی گئی۔ حکمتی کا کہنا ہے کہ وہ بگرام میں ایک جاسوسی کے مرکز پر رہا وہاں سے دبئی گیا اور دبئی سے ایران پہنچا۔تاہم اس نے اس سفر کی کسی تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔حکمتی کے مطابق وہ ایریزونا میں پیدا ہوا اور اس نے2001 میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی۔اس نے 2005سے2007تک امریکی سائبر انٹیلی جنس میں بھی کام کرنے کا دعویٰ کیا۔ایرانی حکام کے مطابق اس نے مشرق وسطی کی زبانوں کو سیکھنے کیلئے خصوصی کلاسیں لیں۔ایرانی حکام کے مطابق 15سے زائد افراد کوواشنگٹن اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے انہیں جاسوسی کے جرم میں سزائے موت ہو سکتی ہے۔

 

قاہرہ…مصر سے اسرائیل کو گیس فراہم کرنے والی مصری پائپ لائن کو نامعلوم افراد نے دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ اس سال کے آغاز سے اب تک اس پائپ لائن کو دسویں مرتبہ تباہ کیا گیا ہے۔مصری سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کے ایک گروہ نے السیل کے علاقے سے گزرنے والی اس پائپ لائن کے نیچے دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اسے تباہ کر دیا ہے۔ یہ مقام مصری صحرائے سینا کے شمالی شہر العریش سے اٹھارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس دھماکے سے پائپ لائن تباہ ہو گئی تاہم بڑا مالی نقصان نہیں ہوا، تین ہفتے قبل ایسے ہی ایک دھماکے کے بعد اس پائپ لائن کو دوبارہ یہاں نصب کیا گیا تھا