میمو کی سازش کے پیچھے کون ہے مکمل تحقیقات ہونی چاہئے، جنرل کیانی کا بیان

Posted: 16/12/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں صدر آصف علی زرداری کی جانب سے میمو کیس میں جواب داخل نہیں کرایا جا سکا جبکہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اور احمد شجاع پاشا سمیت دیگر تمام جواب گزاروں نے اپنے اپنے جواب داخل کرا دیئے ہیں۔ حسین حقانی پہلے ہی عدالت میں اپنا جواب داخل کرا چکے ہیں۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احمد شجاع پاشا نے اٹارنی جنرل کے ذریعے جوابات داخل کرائے۔ جنرل کیانی نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ میمو کا معاملہ ایک حقیقت ہے اور اس معاملے میں مکمل تحقیقات ہونی چاہئے کہ اس کے پیچھے کون ہے۔ انہوں نے اپنے جواب میں کہا کہ 24 اکتوبر کو ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا نے انکو میمو کے معاملے میں بریفنگ دی۔ جنرل پاشا کے مطابق بھیجے گئے میمو کے ثبوت موجود ہیں اور جنرل پاشا کی رائے میں یہ ثابت ہوا ہے کہ حسین حقانی کا منصور اعجاز سے رابطہ ہے اور ان دونوں نے فون پر بات بھی کی۔ میمو کے معاملے میں حسین حقانی کا تعلق ثابت ہوتا ہے۔ حسین حقانی اور منصور اعجاز دونوں کے درمیان ٹیکسٹ پیغامات کا بھی تبادلہ ہوا ہے۔ جنرل کیانی نے کہا کہ یہ میمو امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف مائیک مولن کو بھجوایا گیا۔ 8 نومبر کو مائیک مولن نے میمو ملنے سے انکار کیا لیکن بعد میں تصدیق کر دی گئی اور لکھے گئے آرٹیکل کے مطابق ایک پاکستانی اہلکار نے امریکی حکومت کو میمو بھجوایا میمو ایک حقیقت ہے۔ میمو بھیج کر فوج اور قومی سلامتی کے خلاف سازش کی گئی۔ اس معاملے پر وزیراعظم سے اصرار کیا تھا کہ حسین حقانی کو بلایا جائے تاکہ وہ ملکی قیادت کو اس معاملے میں بریف کر سکے کیونکہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور جتنا سچ جان لیں اہم ہو گا۔ میمو کے خیال اور اجراء سمیت تمام حالات کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ میمو سے پاکستانی فوجیوں کا مورال گرانے کی کوشش کی گئی۔ جنرل کیانی نے کہا کہ وزیراعظم نے حسین حقانی سے استعفیٰ لیا۔

Comments are closed.