میمو حقیقت ہے، فوج اور قومی سلامتی کیخلاف سازش کی گئی، جنرل کیانی

Posted: 16/12/2011 in All News, Breaking News, Local News, Pakistan & Kashmir

آرمی چیف نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانیوالے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میمو حقیقت ہے، جس کا جائزہ لیا جانا چاہیئے، معلومات انتہائی حساس ہیں، وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ میمو کے درست یا غلط ہونے پر پوزیشن لینا ہو گی۔میمو اسکینڈل پر آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر فریقین کے جوابات سپریم کورٹ میں داخل کرا دیئے گئے ہیں۔ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ میمو ایک حقیقت ہے اور اس کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ میمو سے متعلق معلومات انتہائی حساس ہیں۔ اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ صدر زرداری میمو کیس میں جواب داخل نہیں کرائیں گے، انہیں صدارتی استثنٰی حاصل ہے۔ میمو گیٹ کیس میں جی ایچ کیو کی جیگ برانچ نے مشاورتی اجلاس کے بعد آرمی چیف کا بیان اٹارنی جنرل کے حوالے کیا۔ وفاقی حکومت وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، دفاع، کیبنٹ ڈویژن، ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کے جوابات اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے۔  سپریم کورٹ نے تمام جوابات کو اعتراضات کے بغیر قبول کر لیا۔ جوابات کی وصولی کے لیے سپریم کورٹ کا رجسڑار آفس وقت ختم ہونے کے بعد بھی کھلا رہا۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانے والے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میمو ایک حقیقت ہے اور اس کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ میمو سے متعلق معلومات انتہائی حساس ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے 24 اکتوبر کو منصور اعجاز سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں انہیں بتایا، آرمی چیف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ میمو کے درست یا غلط ہونے پر پوزیشن لینا ہو گی۔ اٹارنی جنرل کے مطابق عسکری قیادت کے جواب کی ڈرافٹنگ میں ان کا عمل دخل نہیں ہے۔ 
دیگر ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل کیانی نے میمو کیس میں جواب داخل کرا دیا ہے، داخل کئے گئے جواب میں آرمی چیف کا کہنا ہے کہ میمو ایک حقیقت ہے، فوج اور قومی سلامتی کیخلاف سازش کی گئی، جنرل پاشا کے مطابق میمو معاملے سے حقانی کا تعلق ثابت ہوتا ہے۔ اکتوبر 2011ء کو ڈی جی آئی ایس آئی نے میمو کے معاملے پر بریف کیا، جنرل پاشا کے مطابق بھیجے گئے میمو کے ثبوت موجود ہیں، جس کے مطابق منصور اعجاز اور حسین حقانی نے ٹیلی فون پر بھی بات چیت کی اور ثابت ہوا کہ حسین حقانی کا منصور اعجاز سے رابطہ تھا۔ میمو معاملے پر جنرل پاشا اور منصور اعجاز کی ملاقات لندن میں ہوئی۔ میمو امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مولن کو بھیجا گیا تھا، نومبر کو ایڈمرل مولن نے میمو ملنے سے انکار کیا۔ منصور اعجاز اور حسین حقانی میں ٹیکسٹ میسجز کا تبادلہ کیا۔ آرمی چیف کے داخل کئے گئے جواب کے مطابق لکھے گئے آرٹیکل کے مطابق ایک پاکستانی اہلکار نے امریکی حکومت کو میمو بھیجا۔

Comments are closed.