مولانا فضل الرحمٰن نے اقتدار کی سیاست کی، جماعت اسلامی بلوچستان

Posted: 16/12/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir

مولانا محمد عارف دومڑ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے مجاہد ملا عمر، قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق اور دیگر دینی قائدین کو چھوڈ دیا اور امریکی مفادات کیلئے لڑنے والے آمر مشرف اور چودھری برادران کا ساتھ دیا۔مولانا فضل الرحٰمن اور انکی جماعت نے تمامتر توجہ اقتدار، اہم عہدوں، وزارتوں اور مراعات کے حصول پر دی، جماعت اسلامی بلوچستان کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری مولانا محمد عارف دومڑ نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے اس بیان میں جس میں کہا گیا تھا کہ “قوم جلد ایم ایم اے کی بحالی کی خوشخبری سنے گی” کے ردعمل میں کہا کہ 2002ء میں مجلس عمل، تمام دینی جماعتوں اور قائدین نے قوم کو امریکی غلاموں سے بچانے کیلئے بنائی۔ مجلس عمل نے بہترین منشور، شاندار وعدے اور جاندار نعرے لگا کر ملک اور خصوصاً خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے غیور مسلمانوں‌ سے بھرپور مینڈیٹ حاصل کیا۔ مجلس عمل کی کامیابی سے پاکستان اور افغانستان کی ملت اسلامیہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی وہ سمجھتے گئے کہ اب اُن کے زخموں کا علاج ہو گا اور سامراجی قوتوں اور شیطانی نظام کا خاتمہ اتحاد کی طاقت اور جہادی جذبے سے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اور انکی جماعت نے مراعات کو ترجیح دی جبکہ وہ مسلمانوں‌ کے مفادات اور اجتماعی معاملات سے لاتعلق ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے مجاہد ملا عمر، قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق اور دیگر دینی قائدین کو چھوڈ دیا اور امریکی مفادات کیلئے لڑنے والے آمر مشرف اور چودھری برادران کا ساتھ دیا۔ اُن کی پالیسیوں کے خلاف برائے نام آواز بلند کرکے (ق) لیگ کے وزراء سے فرینڈلی اپوزیشن اور سیاستدانوں کے تمغے اپنے کندھوں پر سجائے جس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کی امنگوں کا خون بہا اور مجلس عمل بکھر گئی۔ مجلس عمل کا خاتمہ مولانا موصوف کی اقتدار کی آزرو، طالبان اور جہاد سے بے وفائی کی وجہ سے ہوا نہ صرف مجلس عمل ٹوٹی بلکہ اسکی اپنی جماعت بھی دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ مولانا محمد عارف دومڑ نے کہا کہ اب چارسال سے مولانا صاحب زرداری کے ساتھی بنے ہیں ملک میں جتنے بھی بحران پیدا ہوئے اور جتنے عذاب قوم جھیل رہی ہے ان میں وہ بھی برابر کے شریک ہیں۔

Comments are closed.