صدر کی وطن واپسی کا فیصلہ آئندہ 72 گھنٹوں میں ہوگا، حکومت کو فوج سے خطرہ نہیں، وزیراعظم گیلانی

Posted: 16/12/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News

اسلام آباد: وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ صدر کی وطن واپسی کا فیصلہ آئندہ 72گھنٹوں میں ہوگا، حکومت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں، میمو اسکینڈل سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ کیا جائیگا اور نہ ہی کوئی یکطرفہ کارروائی کو قبول کیا جائیگا،خطے میں امن واستحکام کیلئے کام کرتے رہینگے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم گیلانی نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں پاک افغان سرحد پر نیٹو افواج کے حملے پر ایوان میں پالیسی بیان اور پارلیمنٹ ہاؤس میں پیپلزپارٹی اور حلیف جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایوان میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 26 نومبر کی صبح مہمند ایجنسی میں نیٹو افواج نے پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملہ کیا جو پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری پر حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کا انتظار کر رہے ہیں اور مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ پارلیمنٹ کریگی۔ دریں اثناء پارلیمنٹ ہاؤس میں پیپلز پارٹی اور حلیف جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ارکان کو صدر زرداری کی علالت ‘ میموسکینڈل کی آڑ میں حکومت کیخلاف سازشوں سمیت دیگر معاملات پر اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کی صحت کے متعلق بتایا کہ وہ پہلے سے صحت یاب ہوچکے ہیں اور اسپتال سے گھر منتقل ہوگئے ہیں جب ڈاکٹرز انہیں سفر کی اجازت دیں گے وہ وطن واپس آجائینگے تاہم اس بات کا فیصلہ 72 گھنٹوں میں ہوگا کہ وہ کب واپس آئینگے۔ انہوں نے کہا کہ میمو معاملہ ملک اور پارلیمنٹ کیخلاف سازش ہے ‘آئندہ حکومت بھی اتحادیوں کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ منصور اعجاز پاکستانی نہیں اور نہ ہی اس کی ساکھ ہے اس کے بیان کو اہمیت نہیں دینا چاہیے‘میمو کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود کچھ لوگوں کے منصور اعجاز کے ساتھ رابطے ہیں۔

Comments are closed.