امداد روکنے کے بعد دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ناکامی کا ذمہ دار امریکا ہو گا، وزیر خارجہ

Posted: 16/12/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دینے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امداد روکنے کے معاملے پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، پاکستان نے کسی ملک پر انحصار نہیں کیا ہوا، پاکستان کی مدد کرنیوالے دیگر ممالک کے شکر گزار ہیں۔وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹ نے پاکستان کی ستر کروڑ ڈالر کی امداد روک دی ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دینے ہوئے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ناکامی ہوئی تو اس کا ذمہ دار امریکا ہو گا۔ حنا ربانی کھر کا مزید کہنا ہے کہ امریکی امداد کی بحالی کے لئے دیگر ممالک سے بات کی جائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امداد روکنے کے معاملے پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، پاکستان نے کسی ملک پر انحصار نہیں کیا ہوا، پاکستان کی مدد کرنیوالے دیگر ممالک کے شکر گزار ہیں۔  وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ امریکا سے ان دنوں تعلقات آن ہولڈ ہیں، پارلیمنٹ نے اجازت دی تو تعلقات آگے بڑھائیں گے، انہوں نے بتایا کہ سفراء کانفرنس کی سفارشات کو قومی سلامتی کمیٹی کو پیش کر دیا ہے۔ وزیر خارجہ نے قومی سلامتی کمیٹی کو یہ بھی بتایا افغانستان میں اتحادی افواج سے متعلق 2 معاہدے موجود ہیں، ایک معاہدہ نیٹو سپلائی روٹ کا اور دوسرا وزارت دفاع کا ہے، وزیر دفاع اپنے معاہدے پر قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دے رہے ہیں، دفاعی کمیٹی نے واضح کہا امریکا، نیٹو، ایساف سے معاملات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، اِن فریقین کے ساتھ معاملات کا دوبارہ جائزہ لینا ہمارا فیصلہ ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعاون کم کرنے پر امریکی امداد رکنے کا خدشہ ہے، مگر معاشی مجبوریاں ملکی خودمختاری سے اہم نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ، نیٹو اور ایساف کے ساتھ تعاون کی تشکیل نو عوامی امنگوں کے مطابق کی جا رہی ہے۔ کانگریس میں پاکستان کی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کےساتھ تعاون کم کرنے پر امریکی امداد رکنے کا خدشہ ہے، مگر معاشی مجبوریاں ملکی خودمختاری سے اہم نہیں۔ امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد روک کر تنگ نظری کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر پاکستان کی 900 چیک پوسٹیں ہیں جن پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار اہلکار تعینات ہیں، لہذا پاکستان کو پاک افغان سرحد کی کمزوریوں کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور افغانستان کو پاک افغان سرحد کی دوسری جانب دہشتگردوں کی نقل و حرکت روکنے کیلئےاقدامات کرنے چاہیں۔

Comments are closed.