Archive for 16/12/2011

غزہ :فلسطینی مزاحمتی اور سیاسی جماعت “اسلامی تحریک مزاحمت ” حماس کے چوبیسویں یوم تاسیس کی تقریبات پورے زورو شورکے ساتھ جاری ہیں۔ گزشتہ روز غزہ کے مغرب میں بریگیڈ گرانڈ میں حماس کے یوم تاسیس کی مناسبت سے ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں ساڑھے تین لاکھ افراد نے حماس کے ہاتھ پر کٹ مرنے کے لیے اپنے اٹوٹ حلف کا اعادہ کیا۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق گزشتہ روزچودہ دسمبر کو ہونے والے اس جلسے کے لیے حماس کی جانب سے عوام سے شرکت کی اپیل کی گئی تھی۔ حماس نے جلسے کا عنوان”وفا احرار۔۔۔۔ اے قدس ہم آ رہے ہیں” رکھا تھا۔گراؤنڈ میں دن کے آغاز ہی سے غزہ اور اس کے مضافاتی علاقوں سے حماس کے پرچم لیے قافلوں کی آمد شروع ہو گئی تھی۔ شام تک پورا گراؤنڈ لاکھوں لوگوں کے مجمع سے بھر چکا تھا۔ میدان کے بھرجانے کے بعد شہری گراؤنڈ کی آس پاس کی پارکوں اور سڑکوں پرکھڑے ہو کر حماس کی قیادت کی تقریریں سنتے رہے۔ تقاریر کے دوران فلسطین کی آزادی، قبلہ اول کی آزادی اور اسرائیل مردہ باد کے ایمان افروز نعروں سے فضا گونجتی رہی۔جلسے سے حماس کی مقامی قیادت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم جس نصب العین کے لیے قائم کی گئی تھی آج بھی اسی کے لیے کوشاں ہے۔ دشمن سے فلسطین کی مکمل آزادی اور اس ملک میں اسلامی نظام کا قیام حماس کا نصب العین تھا اور آج یہ جماعت اپنے نصب العین کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔ اس موقع پر حماس کے ایک رہ نما نے لاکھوں کے اس اجتماع سے پوچھا کہ کیا آپ حماس کے تصور جہاد کو تسلیم کرتے ہیں اور اس طریقے پر چلتے ہوئے فلسطین کی آزادی کے لیے حماس کی حمایت کریں گے۔ اس پر تمام مجمع نے کھڑے ہو کراور دونوں ہاتھ فضا میں بلند کر کے حماس کے ساتھ ہرقسم کی قربانی دینے کا عہد و پیمان کیا

Advertisements

ملکہ برطانیہ ایلزبتھ ٹو نے ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات قائم رکھے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی ہیومن رائٹس سب کمیٹی کی سربراہ ذویرا الہیان نے انکشاف کیا ہے کہ جب ایران کی پارلیمنٹ نے برطانیہ سے تعلقات ختم کرنے کی منظوری دی تھی تو ملکہ برطانیہ نے دفتر سے ایران کی حکومت کے بعض اعلیٰ عہدیداروں سے کئی بار رابطے کئے اور ان سے کہا گیا کہ ایران کی حکومت برطانیہ سے تعلقات ختم نہ کرے۔

پاکستان کے معروف ڈاکٹر ادیب رضوی کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا ہے یہ ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب اور فیملی کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ بقول عظیم مرثیہ نگار میر انیس :

جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا
جب احمد مرسل نہ رہے کوں رہے گا

   تمام ملت اسلامیہ خصوصا ملت تشیع اس سانحہ عظیم پر اپنے اس عظیم فرزند اور ان کے تمام اہل و عیال کی خدمت میں اس انتقال پررنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت پیش کرتی ہے اور دعا گوء ہے کہ اللہ تعالی مرحومہ کی مغفرت کرتے ہوئے  جوار معصومین علیہ السلام سے ملحق فرمائے اور ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب اور ان کے تمام اہل خانہ کو صبر جمیل عنایت کرے

کراچی (پ ر) معروف عالم دین اور خطیب علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا ہے کہ دہشت گرد ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہے ہیں، حکومت نے اس طرف توجہ نہ دی تو عوام مزید پریشانیوں میں الجھ جائیں گے۔ امام بارگاہ رضویہ سوسائٹی میں مجالس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ پرامن قوم ہے اور ہم نے ہمیشہ اتحاد اور وحدت کیلئے عملی جدوجہد کی ہے، یہ ملک سب کا ہے اور اس کی تعمیر و ترقی اور استحکام کیلئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔ عوام اور حکمرانوں کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نفرتوں کے خاتمے اور رواداری کیلئے کام کریں اور شہر کو امن کا گہوارا بنایا جائے۔

لندن :  ہر چار میں سے ایک سے زائد برطانوی خواتین کا پہلا جنسی تجربہ 16 سال سے کم عمر میں ہوا جس کی شرح سابقہ نسل سے بہت زیادہ ہے۔ اس امر کا اظہار اعدادوشمار میں کیا گیا۔ہیلتھ سروے فار انگلینڈ کے اعدادوشمار کے مطابق 16سے24سال عمر کی29فیصد خواتین کا پہلی بار جنسی تجربہ ان کی رضامندی کی عمر سے قبل ہوا ۔ اس کے برعکس اس عمر کے مردوں میں یہ شرح22فیصد ہے۔2010ء کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنسی رویئے نسل در نسل تبدیل ہو گئے ہیں جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ 16سال سے کم عمر میں پہلے جنسی تجربے سے گزرنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔55سے69سال عمر کے صرف15فیصد مردوں اور 4 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ ان کا پہلا جنسی تجربہ 16سال سے کم عمر میں ہوا۔اس کے برخلاف 45 سے 54سال عمر کے18 فیصد مردوں اور10فیصد خواتین نے 16سال سے کم عمری میں پہلا جنسی تجربہ کیا۔ایسے مرد وخواتین جن کی عمریں اس وقت 35سے44سال عمر کے درمیان ہیں ان میں سے 22 فیصد مردوں اور17فیصد خواتین نے اپنا پہلا جنسی تجربہ16 سال سے کم عمری میں کیا۔ رپورٹ کے مطابق 16 سے 24 سال عمر کے مردوزن نے 13 یا زائد سیکس پارٹنر بدلے۔ تاہم اسی ایج گروپ کے 32 فیصد مرد اور 26 فیصد خواتین نے اس پیریڈ میں جنسی زندگی شروع نہ کرنے کا بھی اظہار کیا۔ اس کے علاوہ تمام ایج گروپس میں ایک مرد نے تمام زندگی میں اوسطاً 11.3 فیصد خواتین سے سیکس کیا جبکہ خواتین میں یہ شرح 6.7 فیصد رہی۔دریں اثنا سیکس ٹوڈے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بالغان میں موٹاپے کی شرح 1993ء کے بعد سے بلند ترین سطح پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2010ء میں 26فیصد مر دوخواتین موٹے ہیں جوکہ1993 ء میں 13فیصد تھی ۔ دوسری جانب مجموعی طور پر 16فیصد مردوں اور 17فیصد خواتین میں دمہ کی تشخیص ہوئی ہے۔

اسلام آباد: وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ صدر کی وطن واپسی کا فیصلہ آئندہ 72گھنٹوں میں ہوگا، حکومت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں، میمو اسکینڈل سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ کیا جائیگا اور نہ ہی کوئی یکطرفہ کارروائی کو قبول کیا جائیگا،خطے میں امن واستحکام کیلئے کام کرتے رہینگے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم گیلانی نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں پاک افغان سرحد پر نیٹو افواج کے حملے پر ایوان میں پالیسی بیان اور پارلیمنٹ ہاؤس میں پیپلزپارٹی اور حلیف جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایوان میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 26 نومبر کی صبح مہمند ایجنسی میں نیٹو افواج نے پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملہ کیا جو پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری پر حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کا انتظار کر رہے ہیں اور مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ پارلیمنٹ کریگی۔ دریں اثناء پارلیمنٹ ہاؤس میں پیپلز پارٹی اور حلیف جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ارکان کو صدر زرداری کی علالت ‘ میموسکینڈل کی آڑ میں حکومت کیخلاف سازشوں سمیت دیگر معاملات پر اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کی صحت کے متعلق بتایا کہ وہ پہلے سے صحت یاب ہوچکے ہیں اور اسپتال سے گھر منتقل ہوگئے ہیں جب ڈاکٹرز انہیں سفر کی اجازت دیں گے وہ وطن واپس آجائینگے تاہم اس بات کا فیصلہ 72 گھنٹوں میں ہوگا کہ وہ کب واپس آئینگے۔ انہوں نے کہا کہ میمو معاملہ ملک اور پارلیمنٹ کیخلاف سازش ہے ‘آئندہ حکومت بھی اتحادیوں کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ منصور اعجاز پاکستانی نہیں اور نہ ہی اس کی ساکھ ہے اس کے بیان کو اہمیت نہیں دینا چاہیے‘میمو کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود کچھ لوگوں کے منصور اعجاز کے ساتھ رابطے ہیں۔

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں صدر آصف علی زرداری کی جانب سے میمو کیس میں جواب داخل نہیں کرایا جا سکا جبکہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اور احمد شجاع پاشا سمیت دیگر تمام جواب گزاروں نے اپنے اپنے جواب داخل کرا دیئے ہیں۔ حسین حقانی پہلے ہی عدالت میں اپنا جواب داخل کرا چکے ہیں۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احمد شجاع پاشا نے اٹارنی جنرل کے ذریعے جوابات داخل کرائے۔ جنرل کیانی نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ میمو کا معاملہ ایک حقیقت ہے اور اس معاملے میں مکمل تحقیقات ہونی چاہئے کہ اس کے پیچھے کون ہے۔ انہوں نے اپنے جواب میں کہا کہ 24 اکتوبر کو ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا نے انکو میمو کے معاملے میں بریفنگ دی۔ جنرل پاشا کے مطابق بھیجے گئے میمو کے ثبوت موجود ہیں اور جنرل پاشا کی رائے میں یہ ثابت ہوا ہے کہ حسین حقانی کا منصور اعجاز سے رابطہ ہے اور ان دونوں نے فون پر بات بھی کی۔ میمو کے معاملے میں حسین حقانی کا تعلق ثابت ہوتا ہے۔ حسین حقانی اور منصور اعجاز دونوں کے درمیان ٹیکسٹ پیغامات کا بھی تبادلہ ہوا ہے۔ جنرل کیانی نے کہا کہ یہ میمو امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف مائیک مولن کو بھجوایا گیا۔ 8 نومبر کو مائیک مولن نے میمو ملنے سے انکار کیا لیکن بعد میں تصدیق کر دی گئی اور لکھے گئے آرٹیکل کے مطابق ایک پاکستانی اہلکار نے امریکی حکومت کو میمو بھجوایا میمو ایک حقیقت ہے۔ میمو بھیج کر فوج اور قومی سلامتی کے خلاف سازش کی گئی۔ اس معاملے پر وزیراعظم سے اصرار کیا تھا کہ حسین حقانی کو بلایا جائے تاکہ وہ ملکی قیادت کو اس معاملے میں بریف کر سکے کیونکہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور جتنا سچ جان لیں اہم ہو گا۔ میمو کے خیال اور اجراء سمیت تمام حالات کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ میمو سے پاکستانی فوجیوں کا مورال گرانے کی کوشش کی گئی۔ جنرل کیانی نے کہا کہ وزیراعظم نے حسین حقانی سے استعفیٰ لیا۔

نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ گیند اب حکومت کے کورٹ میں ہے، فوج ملک دشمنی کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا ہے کہ افواہ ہے کہ صدر ہفتے یا اتوار کو لندن جا رہے ہیں اور آئندہ 72 گھنٹوں میں ملک میں کچھ ہوسکتا ہے۔ نجی ٹی وی سے جمعہ کی صبح بات چیت کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ میمو معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے اس کو عدالت جو بھی فیصلہ دے گی اس پر عملدر آمد ہوگا۔ شیخ رشید نے کہا کہ برطانیہ میں پاکستانی سفیر واجد شمس الحسن نے بیماری کا بہانہ کرکے سفرا کانفرس میں شرکت نہیں کی جب کہ حسین حقانی نے اپنی چوری چھپانے کے لیے یہ کہتے ہیں کہ عدالت کو اختیار نہیں ہے۔  انہوں نے کہا کہ وزیراعظم گیلانی کا کہنا ہے کہ اگر وہ نہیں ہوں گے تو ملک میں الیکشن نہیں ہوں گے، شیخ رشید نے مزید کہا کہ جمہوریت کو خطرہ وزیراعظم گیلانی کے غلط اقدام سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گیند اب حکومت کے کورٹ میں ہے، فوج ملک دشمنی کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

خلیجی ملک بحرین میں شیعہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ جمعرات کے روز یہ جھڑپیں ایک ایسے موقع پر ہوئی ہیں، جب امریکی نائب وزیرخارجہ برائے انسانی حقوق اور جمہوریت مائیکل پوزنر اس خلیجی ریاست کے دورے پر دارالحکومت مناما پہنچے ہیں۔ یہ تازہ جھڑپیں شیعہ اکثریت کے علاقے دیریز میں ہوئی ہیں، جو دارالحکومت کے نواح میں واقع ہے۔ واضح رہے کہ عرب دنیا میں تیونس سے شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد فروری میں بحرین میں بھی جمہوریت کی حق میں مظاہرے شروع ہوئے تھے، تاہم یہاں انہیں طاقت کے استعمال سے قدرے دبا دیا گیا تھا۔

یورپین اورامریکی معاشرے میں جنسی تشدد نہایت عام سی بات ہےامریکہ میں ہر پانچ میں ایک خاتون اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت جنسی زیادتی یا ایسی کوشش کا نشانہ بن چکی ہے۔ یہ بات ایک تازہ سروے کے نتائج سے سامنے آئی ہے۔ امریکہ میں جنسی تشدد کے موضوع پر سروے کے حوالے سے یہ رپورٹ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے بدھ کو جاری کی۔ اس کے مطابق دوہزار دس میں دس ہزار خواتین سے ٹیلی فون پر بات کی گئی، جن میں سے اٹھارہ اعشاریہ تین فیصد اپنی زندگی میں کسی وقت جنسی زیادتی کا نشانہ بن چکی ہیں۔ سی ڈی سی کی یہ رپورٹ ایک سو تیرہ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے مطابق جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی نصف سے کچھ زائد (اکاون اعشاریہ ایک فیصد) خواتین کا کہنا ہے کہ ان پر ایسا حملہ ان کے ’قریبی ساتھی‘ نے ہی کیا، جس میں موجودہ یا سابق پارٹنر یا شوہر بھی شامل ہے۔ چالیس اعشاریہ آٹھ فیصد خواتین کے مطابق انہیں واقف کاروں نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس رپورٹ کے مطابق سروے کے پہلے ایک سال کے دوران  تیرہ لاکھ خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ تعداد محکمہ انصاف کے کرائم سروے برائے دوہزار دس میں جنسی حملوں اور زیادتیوں کے بیان کردہ اعدادوشمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جو ایک لاکھ اٹھاسی ہزار تین سو اسّی بتائی گئی تھی۔ ریپ، ابیوز اینڈ انسیسٹ نیشنل نیٹ ورک (آر اے آئی این این) کے صدر اسکاٹ بیرکوویٹز کا کہنا ہے کہ سی ڈی سی کی رپورٹ اور محکمہ انصاف کے سروے کے ذریعے آنے والے اعدادوشمار میں اس قدر واضح فرق کی وجہ کا پتہ لگانا مشکل ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چوبیس اعشاریہ تین فیصد خواتین اور تقریباﹰ ہر سات میں سے ایک مرد کو اپنے ’قریبی ساتھی‘ کی جانب سے جسمانی تشدد کا سامنا رہا ہے۔ سیکرٹری صحت کیتھلین سیبیلیئس کہتی ہیں: ’’ایسے تشدد آمیز واقعات لاکھوں امریکیوں کی زندگی پر کس قدر خوفناک اثرات مرتب کرتے ہیں، یہ رپورٹ اس کی واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ سی ڈی سی کی رپورٹ میں مردوں کے ساتھ جسنی زیادتیوں کا احاطہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق امریکہ میں اکہتر میں سے ہر ایک مرد اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت جنسی زیادتی کا شکار ہوا۔ امریکہ میں بیماریوں سے بچاوٴ اور روک تھام سے متعلق ایک حکومتی ایجنسی کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کی مطابق زیادتی کا شکار نصف خواتین کا کہنا تھا کہ انہیں ان کے موجودہ یا سابق ساتھی یا شوہر نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔امریکہ میں جنسی زیادتی سے مراد نشے کی حالت میں یا جبراً جنسی تعلق قائم کرنے کو قرار دیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہر سات میں سے ایک مرد بھی اپنے ساتھی کے ہاتھوں شدید نوعیت کے جسمانی تشدد کا شکار ہوا۔یہ رپورٹ سال دو ہزار دس کے دوران امریکہ کے اٹھارہ ہزار سے زائد مرد اور خواتین سے حاصل کردہ اعداد وشمار سے تیار کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ایک منٹ کے دوران پچیس لوگ جنسی زیادتی، تشدد یا تعاقب کا نشانہ بنتے ہیں۔اس سروے کے نتائج کے مطابق بارہ ماہ کے عرصے کے دوران دس لاکھ عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آئے، ساٹھ لاکھ سے زائد مرد اور خواتین کا تعاقب کیا گیا جبکہ ایک لاکھ بیس ہزار مرد و خواتین نے اپنے ہی ساتھی کی جانب سے جنسی زیادتی، جسمانی تشدد یا تعاقب کیے جانے کی شکایت کی۔

چند دنوں میں علامہ سید جواد نقوی مختلف یونیورسٹیز، بار کونسلز میں سیمینارز اور مختلف جگہوں پر مجالس عزا سے خطاب کریں گے۔جہان اسلام کے معروف مفسر قرآن و نہج البلاغہ علامہ سید جواد نقوی آنیوالے چند دنوں میں یونیورسٹیز، بار کونسلز اور دیگر مختلف جگہوں پر سیمینارز اور مجالس عزا کے پروگرامز سے خطاب کریں گے۔ اسلام ٹائمز کے قارئین کے استفادے کے لئے انکا پروگرام شیڈول دیا جا رہا ہے۔
دسمبر17, 2011ء مطابق 21 محرام الحرام 1433ھ بروز ہفتہ
بوقت 2:30  بمقام ضلع اٹک  جامعہ امام الصادق ع 7:30
شام امام بارگاہ بلتستانیہ   9:00

دسمبر 2011،18ء مطابق 22 محرام الحرام 1433ھ بروز اتوار
سیمینار اسلامی بیداری “پیغام عاشورہ” رائل پیلس ہوٹل مورگاہ پنڈی
بوقت 10:00 بجے  قائداعظم یونیورسٹی بوقت 3:00
جامعہ امام الصادق ع بوقت 7:30

دسمبر ،19 2011ء مطابق 23 محرام الحرام 1433ھ بروز سوموار
بوقت 10:00 بجے بمقام اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد
جامعہ امام الصادق ع 7:30

20 دسمبر 2011ء مطابق 24 محرام الحرام 1433ھ بروز منگل
بوقت صبح 10:00  بمقام اسلام آباد بار کونسل
بوقت 2:00 بجے بمقام ہمدرد یونیورسٹی، ایف ایٹ، اسلام آباد
جامعہ امام الصادق ع 7:30

21 دسمبر 2011ء مطابق 25 محرام الحرام 1433ھ بروز بدھ
بوقت صبح 10:00 بجے UET ٹیکسلا بوقت 3:00 بجے بمقام ہری پور ہزارہ
جامعہ امام الصادق ع 7:30

22 دسمبر 2011ء مطابق 26 محرام الحرام 1433ھ بروز جمعرات
بوقت صبح 10:00 بجے علامہ اقبال یونیورسٹی ایچ ایٹ، اسلام آباد

مولانا محمد عارف دومڑ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے مجاہد ملا عمر، قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق اور دیگر دینی قائدین کو چھوڈ دیا اور امریکی مفادات کیلئے لڑنے والے آمر مشرف اور چودھری برادران کا ساتھ دیا۔مولانا فضل الرحٰمن اور انکی جماعت نے تمامتر توجہ اقتدار، اہم عہدوں، وزارتوں اور مراعات کے حصول پر دی، جماعت اسلامی بلوچستان کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری مولانا محمد عارف دومڑ نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے اس بیان میں جس میں کہا گیا تھا کہ “قوم جلد ایم ایم اے کی بحالی کی خوشخبری سنے گی” کے ردعمل میں کہا کہ 2002ء میں مجلس عمل، تمام دینی جماعتوں اور قائدین نے قوم کو امریکی غلاموں سے بچانے کیلئے بنائی۔ مجلس عمل نے بہترین منشور، شاندار وعدے اور جاندار نعرے لگا کر ملک اور خصوصاً خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے غیور مسلمانوں‌ سے بھرپور مینڈیٹ حاصل کیا۔ مجلس عمل کی کامیابی سے پاکستان اور افغانستان کی ملت اسلامیہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی وہ سمجھتے گئے کہ اب اُن کے زخموں کا علاج ہو گا اور سامراجی قوتوں اور شیطانی نظام کا خاتمہ اتحاد کی طاقت اور جہادی جذبے سے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اور انکی جماعت نے مراعات کو ترجیح دی جبکہ وہ مسلمانوں‌ کے مفادات اور اجتماعی معاملات سے لاتعلق ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے مجاہد ملا عمر، قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق اور دیگر دینی قائدین کو چھوڈ دیا اور امریکی مفادات کیلئے لڑنے والے آمر مشرف اور چودھری برادران کا ساتھ دیا۔ اُن کی پالیسیوں کے خلاف برائے نام آواز بلند کرکے (ق) لیگ کے وزراء سے فرینڈلی اپوزیشن اور سیاستدانوں کے تمغے اپنے کندھوں پر سجائے جس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کی امنگوں کا خون بہا اور مجلس عمل بکھر گئی۔ مجلس عمل کا خاتمہ مولانا موصوف کی اقتدار کی آزرو، طالبان اور جہاد سے بے وفائی کی وجہ سے ہوا نہ صرف مجلس عمل ٹوٹی بلکہ اسکی اپنی جماعت بھی دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ مولانا محمد عارف دومڑ نے کہا کہ اب چارسال سے مولانا صاحب زرداری کے ساتھی بنے ہیں ملک میں جتنے بھی بحران پیدا ہوئے اور جتنے عذاب قوم جھیل رہی ہے ان میں وہ بھی برابر کے شریک ہیں۔

آرمی چیف نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانیوالے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میمو حقیقت ہے، جس کا جائزہ لیا جانا چاہیئے، معلومات انتہائی حساس ہیں، وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ میمو کے درست یا غلط ہونے پر پوزیشن لینا ہو گی۔میمو اسکینڈل پر آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر فریقین کے جوابات سپریم کورٹ میں داخل کرا دیئے گئے ہیں۔ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ میمو ایک حقیقت ہے اور اس کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ میمو سے متعلق معلومات انتہائی حساس ہیں۔ اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ صدر زرداری میمو کیس میں جواب داخل نہیں کرائیں گے، انہیں صدارتی استثنٰی حاصل ہے۔ میمو گیٹ کیس میں جی ایچ کیو کی جیگ برانچ نے مشاورتی اجلاس کے بعد آرمی چیف کا بیان اٹارنی جنرل کے حوالے کیا۔ وفاقی حکومت وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، دفاع، کیبنٹ ڈویژن، ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کے جوابات اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے۔  سپریم کورٹ نے تمام جوابات کو اعتراضات کے بغیر قبول کر لیا۔ جوابات کی وصولی کے لیے سپریم کورٹ کا رجسڑار آفس وقت ختم ہونے کے بعد بھی کھلا رہا۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانے والے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میمو ایک حقیقت ہے اور اس کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ میمو سے متعلق معلومات انتہائی حساس ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے 24 اکتوبر کو منصور اعجاز سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں انہیں بتایا، آرمی چیف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ میمو کے درست یا غلط ہونے پر پوزیشن لینا ہو گی۔ اٹارنی جنرل کے مطابق عسکری قیادت کے جواب کی ڈرافٹنگ میں ان کا عمل دخل نہیں ہے۔ 
دیگر ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل کیانی نے میمو کیس میں جواب داخل کرا دیا ہے، داخل کئے گئے جواب میں آرمی چیف کا کہنا ہے کہ میمو ایک حقیقت ہے، فوج اور قومی سلامتی کیخلاف سازش کی گئی، جنرل پاشا کے مطابق میمو معاملے سے حقانی کا تعلق ثابت ہوتا ہے۔ اکتوبر 2011ء کو ڈی جی آئی ایس آئی نے میمو کے معاملے پر بریف کیا، جنرل پاشا کے مطابق بھیجے گئے میمو کے ثبوت موجود ہیں، جس کے مطابق منصور اعجاز اور حسین حقانی نے ٹیلی فون پر بھی بات چیت کی اور ثابت ہوا کہ حسین حقانی کا منصور اعجاز سے رابطہ تھا۔ میمو معاملے پر جنرل پاشا اور منصور اعجاز کی ملاقات لندن میں ہوئی۔ میمو امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مولن کو بھیجا گیا تھا، نومبر کو ایڈمرل مولن نے میمو ملنے سے انکار کیا۔ منصور اعجاز اور حسین حقانی میں ٹیکسٹ میسجز کا تبادلہ کیا۔ آرمی چیف کے داخل کئے گئے جواب کے مطابق لکھے گئے آرٹیکل کے مطابق ایک پاکستانی اہلکار نے امریکی حکومت کو میمو بھیجا۔

قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دینے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امداد روکنے کے معاملے پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، پاکستان نے کسی ملک پر انحصار نہیں کیا ہوا، پاکستان کی مدد کرنیوالے دیگر ممالک کے شکر گزار ہیں۔وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹ نے پاکستان کی ستر کروڑ ڈالر کی امداد روک دی ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دینے ہوئے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ناکامی ہوئی تو اس کا ذمہ دار امریکا ہو گا۔ حنا ربانی کھر کا مزید کہنا ہے کہ امریکی امداد کی بحالی کے لئے دیگر ممالک سے بات کی جائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امداد روکنے کے معاملے پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، پاکستان نے کسی ملک پر انحصار نہیں کیا ہوا، پاکستان کی مدد کرنیوالے دیگر ممالک کے شکر گزار ہیں۔  وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ امریکا سے ان دنوں تعلقات آن ہولڈ ہیں، پارلیمنٹ نے اجازت دی تو تعلقات آگے بڑھائیں گے، انہوں نے بتایا کہ سفراء کانفرنس کی سفارشات کو قومی سلامتی کمیٹی کو پیش کر دیا ہے۔ وزیر خارجہ نے قومی سلامتی کمیٹی کو یہ بھی بتایا افغانستان میں اتحادی افواج سے متعلق 2 معاہدے موجود ہیں، ایک معاہدہ نیٹو سپلائی روٹ کا اور دوسرا وزارت دفاع کا ہے، وزیر دفاع اپنے معاہدے پر قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دے رہے ہیں، دفاعی کمیٹی نے واضح کہا امریکا، نیٹو، ایساف سے معاملات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، اِن فریقین کے ساتھ معاملات کا دوبارہ جائزہ لینا ہمارا فیصلہ ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعاون کم کرنے پر امریکی امداد رکنے کا خدشہ ہے، مگر معاشی مجبوریاں ملکی خودمختاری سے اہم نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ، نیٹو اور ایساف کے ساتھ تعاون کی تشکیل نو عوامی امنگوں کے مطابق کی جا رہی ہے۔ کانگریس میں پاکستان کی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کےساتھ تعاون کم کرنے پر امریکی امداد رکنے کا خدشہ ہے، مگر معاشی مجبوریاں ملکی خودمختاری سے اہم نہیں۔ امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد روک کر تنگ نظری کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر پاکستان کی 900 چیک پوسٹیں ہیں جن پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار اہلکار تعینات ہیں، لہذا پاکستان کو پاک افغان سرحد کی کمزوریوں کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور افغانستان کو پاک افغان سرحد کی دوسری جانب دہشتگردوں کی نقل و حرکت روکنے کیلئےاقدامات کرنے چاہیں۔

مرکزی عہدیداران کے اجلاس سے خطاب میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ نیٹو حملہ اقوام متحدہ کے نیٹو کو دیئے گئے مینڈیٹ کی کھلی خلاف ورزی ہے، عالمی معاہدوں کو پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط کیا جائے۔سنی اتحاد کونسل کے مرکزی دفتر گلبرگ میں مرکزی عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم نے کہا ہے کہ نیٹو حملوں پر امریکی صدر کی معافی کافی نہیں کیونکہ معافی غلطی کی ہوتی ہے بدمعاشی کی نہیں، قوم نیٹو سپلائی کی بحالی برداشت نہیں کرے گی، نیٹو حملہ اقوام متحدہ کے نیٹو کو دیئے گئے مینڈیٹ کی کھلی خلاف ورزی ہے، عالمی معاہدوں کو پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط کیا جائے، سفیروں کی کانفرنس میں ملکی خودمختاری پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان خوش آئند ہے۔ اجلاس میں حاجی محمد حنیف طیب، پیر محمد افضل قادری، الحاج امجد علی چشتی، پیر سید محفوظ مشہدی، پیر محمد اطہر القادری، محمد نواز کھرل، پیر سید محمد اقبال شاہ اور دیگر نے شرکت کی۔  صاحبزادہ فضل کریم نے مزید کہا کہ میمو سکینڈل کے خالق قادیانی ہیں جو پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نسل در نسل حکمرانی کرنے والوں نے اپنی اولادیں بھی سیاسی میدان میں اتار دی ہیں, جس سے موروثی سیاست مزید مضبوط ہو گی، اس لیے قوم بار بار آزمائے ہوئے سیاستدانوں کو قصۂ پارینہ بنا دے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مادرِ وطن سے وفا کے لیے اپنی جانیں بھی قربان کر دیں گے۔   سنی اتحاد کے چیئرمین نے مزید کہا کہ دھرتی کا قرض چکانے کا وقت آ گیا ہے، اس لیے پوری قوم دفاع وطن کے لیے متحد ہو جائے۔ اجلاس میں 23 دسمبر کے ’’یوم مذمت امریکہ‘‘ اور 8 جنوری کے گوجرانوالہ کے جلسۂ عام کی تیاریوں کے لیے مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے صاحبزادہ حامد سعید کاظمی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ پنجاب کا وزیر قانون ایک سیٹ کی خاطر جھنگ کے امن کو تباہ کرنے اور ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہا ہے۔لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس اور اسامہ بن لادن کا واقعہ اور مہمند ایجنسی میں پاک فوج کے جوانوں پر نیٹو کی بمباری کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کس نہج پر پہنچ چکے ہیں، ریمنڈ ڈیوس اور بلیک واٹر کبھی زی کے نام سے اور کبھی کسی اور نام سے پاکستان میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کی مسلم امہ کے درمیان نفرتوں کا بیج بونے اور فرقہ وارانہ فضا پیدا کر کے ملک کو مذہبی نفرت اور دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی پوری کوشش کر رہی ہے، اس صورت حال کا نوٹس لینا ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔   انہوں نے کہا کہ جن دہشتگرد قوتوں کے ذریعے جی ایچ کیو مہران بیس اور پولیس کی تربیت گاہوں پر خودکش حملے کرائے گئے آج انہی شدت پسندوں اور دہشتگردوں کے ذریعے محرم کے جلوسوں اور عزاداری کی مجالس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطرناک اور ملک دشمن سازش کی لپیٹ میں پنجاب حکومت آ چکی ہے، پنجاب کا وزیر قانون جھنگ کی ایک سیٹ کی خاطر امن کے ان دشمنوں کے ساتھ مل کر ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہا ہے۔  انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس جھنگ میں محرم اور میلاد مصطفٰی (ص) کے جلوس پرامن رہے، لیکن جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں اس سرزمین پر بسنے والے شیعہ و سنی مسلمانوں کے درمیان مذہبی منافرت پیدا کر کے امن کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت فرقہ پرست جماعت کے لیڈر کو اسمبلی میں پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے نتائج ملکی امن کے لئے انتہائی خطرناک ہوں گے، محرم کے جلوسوں پر جھنگ میں پتھرائو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ میلاد البنی ص کے جلوسوں پر بھی حملے کئے جائیں گے، موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے ایسے لگ رہا ہے کہ ضیا دور میں شروع ہونے والا دہشتگردی کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہونے جا رہا ہے۔  علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح ضلع جھنگ میں متعدد فرقہ پرستوں پر پابندی لگائی گئی تھی، لیکن ایک کالعدم جماعت کے دہشتگرد سربراہ کو مستثنٰی رکھا گیا، جس کی وجہ سے اس دہشتگرد گروہ نے ایک دفعہ پھر مذہبی منافرت کو ہوا دی، لوگوں کو مخالف فرقہ کے خلاف تقاریر اور مذموم نعروں سے اکسایا، جس کی وجہ سے آٹھ محرم الحرام کو جھنگ سٹی میں تعزیے کے ایک جلوس پر پتھرائو کیا گیا، جھنگ شہر کے معروف ایوب چوک کو دہشتگردوں نے یرغمال بنا کر غلیظ نعرے لگائے۔  تھانہ سٹی پولیس نے کوٹ خیرا سے تین بے گناہ عزاداروں کو اٹھا لیا، تاکہ ان کے خلاف جعلی مقدمات بنا کر شہر کا امن تباہ کیا جا سکے، دس محرم کو عاشورہ کے مرکزی جلوس پر بھی پتھرائو کیا گیا، تاکہ شہر کا امن خراب ہو، ادھر شہر سرگودھا میں فاروق کالونی میں چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے مومنین کو اٹھایا گیا اور امام بارگاہ کو سیل کر دیا گیا جب کہ متعدد شیعان علی پر بے بنیاد مقدمات بنائے گئے۔   تحصیل ساہیوال ضلع سرگودھا کے مرکزی چوک میں سارا دن دہشتگرد ٹولہ غلیظ نعرہ بازی کرتا رہا اور ضلع سرگودھا کی امن کمیٹی کے معزز ممبران کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی، ان تمام زیادتیوں کے باوجود عزاداران امام حسین (ع) نے جلوس اور عزاداری کی حفاطت کے لئے خاموشی اختیار کئے رکھی، جبکہ ان واقعات کے دوران دہشتگرد گروہ کے سربراہ کے ساتھ پنجاب کا وزیر قانون بھی اسی علاقے میں موجود رہ کر صورتحال کو مانیٹر کرتا رہا اور سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے اس صورتحال پر خاموش تماشائی بنے رہے، یہ صورتحال محب وطن حلقوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔  علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ہم وزیراعلٰی پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان واقعات کے ذمہ داران من جملہ رانا ثناءاللہ، ڈی پی او جھنگ اور ڈی پی او سرگودھا کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور دہشتگردی کو فروغ دے کر وطن عزیز کو ایک بار پھر فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے والوں کا سدباب کیا جائے، فرقہ پرست گروہ کے سرپرست سمیت تمام فسادی رہنمائوں کے ضلع جھنگ میں داخلہ پر پابندی عائد کی جائے اور ایک نشست کی خاطر صوبہ کا امن دائو پر نہ لگایا جائے۔   علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ وزارت داخلہ نے برطانیہ کے ساتھ طے شدہ منصوبے کے تحت ٹی وی چینلز اور ریڈیو پر عزادارای کے پروگرامز رکوانے کی کوشش کی، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور واضح کرنا چاہتے ہیں کہ رحمان ملک اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں پاکستان پر شیعان علی کا بھی حق ہے۔ ہم نے ہی پاکستان بنایا تھا اور اس کے لئے قربانیاں بھی ہم ہی دے رہے ہیں۔   انہوں نے کہا کہ محرم الحرام پرامن گزرنے پر رحمان ملک نے دہشتگردوں کا شکریہ ادا کیا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے دہشتگردوں سے روابط ہیں۔ اس موقع پر علامہ عبدالخالق اسدی، علامہ ابوذر مہدوی، امجد کاظمی ایڈووکیٹ، افسر رضا خان، ناصر عباس شیرازی، رائے ناصر عباس، مظاہر شگری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ کہنا کہ وہ جلد نیٹو سپلائی بحال کروا لیں گے، اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ وہ کوئی منصوبہ بندی کر رہے ہیں حکومت امریکی کی دھمکیوں میں نہ آئے۔امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر سید علی رحمن شاہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کے حکومت امریکی غلامی کا طوق اپنے گلے سے اتار دے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نیٹو سپلائی کو پھر سے بحال کرنے کا تصور بھی نہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو سپلائی کو پھر سے بحال کیا گیا تو یہ افواج پاکستان کے شھداء کے ساتھ غداری ہو گی۔ امریکی حکام کی طرف سے یہ کہنا کہ ہم نیٹو سپلائی جلد بحال کروا لیں گے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کوئی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ اپنے ناپاک عزائم کو پورا کر سکیں، ہم اس کی سخت الفاظ میں مذمت کر تے ہیں۔ سید رحمن شاہ نے کہا کہ آئی ایس او پاکستان کے نوجوان وطن عزیز کی جغرافیائی اور نظریاتی دونوں سرحدوں کے محافظ ہیں اور کسی طور بھی ہم حکومت کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اس سنہری موقع کو ضائع کرئے، جس میں ہم امریکی غلامی سے نکل رہے ہیں، امریکہ کے نزدیک مسلمانوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں، پاک فوج کی چوکی پر حملہ اور جوانوں کی شہادت ملکی سالمیت اور قومی غیرت پر حملہ ہے، جس کو کسی طور بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ایران، چین اور ترکی کے ساتھ مل کر ایک الگ بلاک بنائے اور علاقے کی ترقی میں قائدانہ کردار ادا کرے، اب امریکہ کو ہمیشہ کے لئے خدا حافظ کہہ دینے کا وقت آ گیا ہے اور حکومت یہ موقع ضائع نہ کرئے، اگر حکمرانوں نے اس موقع کو گنوا دیا تو آنے والی نسلیں انہیں معاف نہیں کریں گی۔