شاہ عبداللہ بن عبدالعزيز نے انقلابی عوامی تحريک کو دبانے کے سلسلے میں ناکام وزيروں کو برطرف کر ديا

Posted: 15/12/2011 in All News, Breaking News, Important News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East

سعودي عرب کے فرمانروا نے مشرق وسطي اور شمالي افريقا ميں ظالم اور آمر حکمرانوں کے خلاف جاري اسلامي تحريکوں کے سعودي عرب تک پہنچ جانے کے خوف سے ايک نمائشي اقدام کے تحت کابينہ کے بعض ناکام وزرا کو برطرف کر ديا ہے-شاہ عبداللہ بن عبدالعزيز نے منگل کے روز ايک حکم نامے کے تحت کابينہ ميں مختصر سي تبديلي کرتے ہوئے اقتصاد، تجارت، حج اور سماجي خدمات کے وزيروں کو برطرف کر ديا ہے- سعودي عرب کے فرمانروا ان وزيروں کو برطرف کرکے يہ ظاہر کرنے کي کوشش کر رہے ہيں کہ اس ملک ميں خاص طور پر سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں ہونے والے عوامي احتجاج کا سبب معاشي مسائل ہيں اور عوام کو آل سعود کي حکمراني جاري رہنے پر کوئي اعتراض نہيں ہے- سعودي عرب ميں عوامي مظاہروں ميں معاشي مسائل کے کردار کو نظر انداز نہيں کيا جا سکتا تاہم عوام کے مظاہروں کا بڑا سبب آل سعود کي امتيازي پاليسياں، گھٹن کا ماحول اور عوام کي سرکوبي ہے- سعودي عرب کے شہريوں نے حاليہ مہينوں ميں شہر قطيف سميت مختلف علاقوں ميں آل سعود حکومت کے خلاف وسيع مظاہرے کرکے ظلم، امتيازي رويے اور عوام کے قتل عام کو روکے جانے کا مطالبہ کيا ہے-  ادھر سعودي عرب کے سياسي کارکنوں نے جيلوں ميں بند افراد کے اہل خانہ اور عام لوگوں سے کہا ہے کہ وہ جمعے کے روز قيد ميں بند لوگوں کي حمايت ميں نکالے جانے والے پرامن جلوس اور دھرنے ميں شرکت کريں- اس جلوس اور دھرنے کا مقصد، جيلوں ميں بند لوگوں کي قيد جاري رہنے اور ان کے بارے ميں ظالمانہ احکامات جاري کيے جانے پر احتجاج بتايا گيا ہے- جلوس اور دھرنے کي کال دينے والے سياسي کارکنوں نے انٹرنيٹ پر پيغام جاري کرکے کہا ہے کہ جيلوں ميں بند افراد ميں سے بعض نے برسوں سے اپنے رشتہ داروں کو نہيں ديکھا ہے اور برسوں سے انہيں اپنے اہل خانہ سے ملنے کي اجازت نہيں دي جا رہي ہے- سياسي کارکنوں نے آل سعود حکومت سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ جلد از جلد سياسي قيديوں کو رہا کرے ــ

Comments are closed.