بنجمن نیتن یاھو نے اسرائیل میں اذان پر پابندی کی حمایت کر دی

Posted: 15/12/2011 in All News, Breaking News, Important News, Palestine & Israel, Religious / Celebrating News

ناصرہ: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے صہیونی پارلیمان میں پیش کیے گئے اذان پر پابندی کے بل کی حمایت کردی ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم نے اپنی پارٹی لیکود کے اراکین کو مساجد سے بلند ہونے والے صدائے اللہ کو دبانے کے اس بل کی بھرپور حمایت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے کثیر الاشاعت عبرانی روزنامے یدیعوت احرونوت کے گزشتہ روز شائع ہونے والے ادارئیے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی پارٹی اسرائیل بیتنا کے رکن اناسٹاشیا میکائیلی کی جانب سے داخل کیے گئے اس بل میں درخواست کی گئی ہے مسلمانوں کی مساجد میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی عائد کر دی جائے۔صہیونی وزیر اعظم کا کہنا تھا اسرائیل کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ یورپ کے ان ممالک سے بھی زیادہ لبرل ہو جائے جو اپنے ہاں مساجد سے لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی اجازت نہیں دیتے قبل ازیں گزشتہ روز یہ امید کی جارہی تھی کہ اسرائیلی وزارتی کونسل بحث کے بعد اس بل کو منظور کر لے گی تاہم اس بل پر بحث کو غیر معینہ مدت کے لیے موقوف کر دیا گیا۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس ہفتے کے دوران ہی کسی دن اس بل پر بحث مکمل کر کے اسے منظور کر لیا جائے گا۔خیال رہے کہ سنہ 1948 میں فلسطین کے اٹہتر فیصد حصے پر قبضہ کر کے بنائی گئی صہیونی ریاست کی بیس فیصد سے زائد آبادی عربوں کی ہے۔ اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 48 کے مقبوضہ فلسطین میں ساڑھے تیرہ لاکھ مسلمان بس رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف تعصب برتا جاتا ہے جس کا حالیہ مظہر موجودہ بل ہے

Comments are closed.