امریکہ نے عراق کو شام کے ساتھ جنگ شروع کرنے کے لیے ورغلایا

Posted: 15/12/2011 in All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, USA & Europe

واشنگٹن میں امریکہ کے صدر بارک اوباما اور عراق کے صدر نور المالکی نے شام کے بحران پر مذاکرات کرنے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے شام کے بارے میں ایک دوسرے کے موقف کو سنا، اس موقع پر امریکہ کے صدر اوباما کا زور تھا کہ شام کے صدر بشار الاسد عوام کے قتل میں ملوث ہیں، لہذا انہیں حکومت چھوڑ دینی چاہیئے، جبکہ عراق کے صدر نوری المالکی کا کہنا تھا کہ خطے کے عوام کو ان کی آزادی ملنی چاہیئے، ان کا کہنا تھا کہ شام کے عوام کو اپنی خودمختاری کی خود حفاظت کا موقع دیا جانا چاہیئے۔ نوری المالکی کا کہنا تھا کہ اس بات کو تسلیم کیا جانا چاہیئے کہ عراق اور شام کی جنگ خطے میِں امن کو تباہ کر سکتی ہے۔گزشتہ روز عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی ہمسایہ ملک عراق پر اثر انداز ہونے یا اس ملک میں مداخلت کرنے کی کوشش نہ کرے، عراق نے شدید برے حالات کا مقابلہ کیا، تاہم اس کی معیشت میں تیزی سے بہتری آئی، عراق کی سکیورٹی فورسز نے عراق کا انتظام سنبھال لیا ہے، 9 سال قبل شروع ہونے والی جنگ اس ماہ ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں انٹیلی جنس معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا کیونکہ یہ خفیہ ہوتے ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا مستقبل میں بھی عراق کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا، جبکہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ عراق کسی ملک میں مداخلت نہیں کرے گا، امریکا کے ساتھ اسٹرٹیجک فریم ورک معاہدہ تعاون کو بڑھائے گا، عراق سے امریکی فوج کا انخلا بڑی کامیابی ہے۔

Comments are closed.