امریکا کی مکارانہ چال اور بیان بازی, پاکستان سے تعلقات بہتر بنائے بغیر افغان جنگ نہیں جیتی جا سکتی

Posted: 15/12/2011 in Afghanistan & India, All News, Important News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات پیچیدہ ہیں، لیکن ان کا بہتر اور ٹھوس ہونا امریکا اور پاکستان کے مفاد میں ہے، انکا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات ضروری ہیں۔امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے بغیر افغان جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان میں بھی استحکام ضروری ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ افغان جنگ میں پیش رفت کے ساتھ پاک امریکا تعلقات کی اہمیت بھی بڑھی ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ تعلقات مشکل اور پیچیدہ ہیں مگر دونوں ملک اپنے اختلافات دور کر سکتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات ضروری ہیں، جس کے بغیر افغان جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ خطے میں امن صرف افغانستان سے مشروط نہیں بلکہ پاکستان میں بھی ایک حد تک استحکام ضروری ہے۔  لیون پنیٹا نے کہا کہ پاکستان نے امریکا کے ساتھ اہم تعاون کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ فاٹا اور سرحدی علاقے میں بعض آپریشنز پر اختلافات بھی ہیں۔ انہوں نے مہمند حملے کا حوالہ دیئے بغیر کہا کہ ابھی انہیں تحقیقات میں پیش رفت کا علم نہیں ہے، لیکن رپورٹ سامنے آنے کے بعد واضح ہو جائے گا کہ وہاں درحقیقت کیا ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ نیٹو کی سپلائی لائن بحال کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ افغانستان میں آپریشنز کے لئے اِس وقت نیٹو فورسز کو جتنا ضروری سامان درکار ہے اس کی سپلائی مسلسل جاری ہے۔  دیگر ذرائع کے مطابق امریکہ کے سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا نے افغانستان میں کامیابی کو پاکستان سے تعلقات کی بحالی سے مشروط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکتا جب تک کہ وہ پاکستان سے بہتر تعلقات کو نہیں جیتے گا۔ لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ تعلقات کی بحالی افغانستان میں لانگ ٹرم ترقی کے لئے ضروری ہے اور اگر انہیں اپنی کوششوں کو عملی جامہ پہنانا ہے تو یہ پاکستان کے ساتھ کے سوا ممکن نہیں، اگر اس خطے میں امن مقصود ہے تو وہ نہ صرف افغانستان میں بلکہ پاکستان میں استحکام پر بھی منحصر ہے۔ سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ماضی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے، اس وقت ہمیں فاٹا اور قبائلی علاقوں میں چند آپریشن مکمل کرنے چند مشکلات کا سامنا ہے، جو دونوں ممالک کے مابین 2 مئی اسامہ کی ہلاکت کے بعد سے پیدا ہونے والے خلا کا نتیجہ ہے۔ جس نے نومبر 26 کو 24 پاکستانی سپاہیوں کی شہادت تک کے عرصے میں دونوں ممالک کے تعلقات کو کافی گزند پہنچائی ہے۔ پنیٹا کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ محض 1 نکتے یعنی دہشتگردی کے خلاف جنگ کی بنیاد پر دونوں ممالک اپنے تعلقات کو بحال کریں گے اور سپلائی روٹس بحال ہونگے۔

Comments are closed.