اسرائیلی بلدیہ کا مسجد اقصی کو مستقل بند کرانے کا مطالبہ

Posted: 15/12/2011 in All News, Important News, Palestine & Israel, Survey / Research / Science News

مقبوضہ بیت المقدس:  بیت المقدس میں اسرائیلی ضلعی انتظامیہ نے مسجد اقصی میں مراکشی دروازے کو ملانے والے راستے کو بند کرنے کے بعد قبلہ اول کو مستقل بنیادوں پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی بلدیہ کے ایک سینیئر رکن “ساسون جابائے” نے اخبار” یدیعوت احرونوت”سے با ت کرتے ہوئے کہا ہے کہ “میں مسجد اقصی کے صرف مراکشی دروازے کو بند کرنے کا قائل نہیں اور نہ ہی یہ مسئلے کا حل ہے۔ اسرائیل اگربیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کی آمد و رفت کو آسان بنانا چاہتا ہے تو مسجد اقصی کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بند کر کے مسجد اقصی کو بھی تمام فلسطینیوں کے لیے مستقل طورپر بند کرنا ہو گا۔ مسٹر جابائے کا کہنا تھا کہ وہ مسجد اقصی کو ہمہ وقت بند کرنے کے لیے بلدیہ کے دیگر اراکین سے ایک یادداشت پر دستخط کرا رہے ہیں۔ بلدیہ کے تمام اراکین سے منظوری لینے کے بعد یہ درخواست وزیر برائے داخلی سلامتی کے پاس منظوری کے لیے بھیجی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں صہیونی عہدیدار نے کہا کہ “مسجد اقصی کے معاملے میں یہودیوں کیخلاف نسلی امتیاز برتا جا رہا ہے اور ہم اس امتیازی سلوک ختم کرنے کے لیے مسجد اقصی کو مستقل بنیادوں پر بند کرنا چاہتے ہیں۔دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس اور دیار فلسطین کے مفتی اعظم شیخ محمد حسین نے صہیونی رکن بلدیہ کے ریمارکس کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں شیخ حسین کا کہنا تھا کہ اسرائیل مختلف حیلوں بہانوں سے قبلہ اول کو مستقل بنیادوں پر بند کرنا چاہتا ہے۔ مراکشی دروازے کی بندش بھی صہیونی حکام کی اسی جارحیت کا حصہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے خلاف قانون اقدامات کے نہایت سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔شیخ محمد حسین نے مراکشی دروازے اور مسجد اقصی کے بارے میں اختیار کردہ عالم اسلام کی خاموش پالیسی پر بھی کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا اور عرب ممالک آج تک خاموش ہیں حالانکہ وہ کئی مرتبہ مراکشی دورازے کے یہودیوں کے ہاتھوں بند کیے جانے پر خبردار کرتے رہے ہیں۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ عالم اسلام کی یہ خاموشی خدانخواستہ ہمیں قبلہ اول سے بھی محروم کر سکتی ہے۔ انہوں نے عرب لیگ، اسلام تعاون تنظیم اور عالم اسلام کی تمام نمائندہ جماعتوں اور ممالک پر زور دیا کہ وہ قبلہ اول کو بچانے کے لیے فوری کوئی لائحہ عمل مرتب کریں

Comments are closed.