Archive for 15/12/2011

تل ابیب : فلسطین میں قابض اسرائیل کے خلاف مزاحمت برقرار رکھنے کے لیے سیاسی اور قومی جدوجہد کے ساتھ مسلح مزاحمت جاری رکھنا ہی سب سے بہترین آپشن ہے۔ ان خیالات کا اظہار مرکز اطلاعات فلسطین کے ہفتہ وار سروے میں شریک 91فیصد رائے دہندگان نے کیا۔فلسطینی امور پر مستند خبریں فراہم کرنے والی ویب سائٹ پر چار تا گیارہ دسمبر تک جاری رہنے والے سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 1948 میں فلسطین پر قبضہ کر کے بنائی گئی صہیونی ریاست اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے مستقبل میں بھی فلسطینی قوم کو قومی اور مسلح جدوجہد کو ساتھ ساتھ رکھنا ہوگا۔سروے میں کل 5741افراد نے حصہ لیا جن میں سے 5245افراد نے مسلح اور قومی مزاحمت کے اشتراک کو ترجیح دی جبکہ صرف 151افراد، تقریبا تین فیصد، کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف صرف قومی اور سیاسی مزاحمت ہی درست آپشن ہوگا۔ 345 افراد، چھ فیصد، کی رائے یہ تھی کہ اسرائیل کے ساتھ معاملات کے حل کے لیے صرف اور صرف اسلحہ اٹھانے کی آپشن ہی کارگر ثابت ہو گی ۔خیال رہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل اور تحریک فتح کے سربراہ محمود عباس کے مابین ملاقات میں حماس نے اسرائیل کے خلاف دیگر ذرائع کے ساتھ مسلح مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا تھا۔

Advertisements

ناصرہ: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے صہیونی پارلیمان میں پیش کیے گئے اذان پر پابندی کے بل کی حمایت کردی ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم نے اپنی پارٹی لیکود کے اراکین کو مساجد سے بلند ہونے والے صدائے اللہ کو دبانے کے اس بل کی بھرپور حمایت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے کثیر الاشاعت عبرانی روزنامے یدیعوت احرونوت کے گزشتہ روز شائع ہونے والے ادارئیے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی پارٹی اسرائیل بیتنا کے رکن اناسٹاشیا میکائیلی کی جانب سے داخل کیے گئے اس بل میں درخواست کی گئی ہے مسلمانوں کی مساجد میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی عائد کر دی جائے۔صہیونی وزیر اعظم کا کہنا تھا اسرائیل کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ یورپ کے ان ممالک سے بھی زیادہ لبرل ہو جائے جو اپنے ہاں مساجد سے لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی اجازت نہیں دیتے قبل ازیں گزشتہ روز یہ امید کی جارہی تھی کہ اسرائیلی وزارتی کونسل بحث کے بعد اس بل کو منظور کر لے گی تاہم اس بل پر بحث کو غیر معینہ مدت کے لیے موقوف کر دیا گیا۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس ہفتے کے دوران ہی کسی دن اس بل پر بحث مکمل کر کے اسے منظور کر لیا جائے گا۔خیال رہے کہ سنہ 1948 میں فلسطین کے اٹہتر فیصد حصے پر قبضہ کر کے بنائی گئی صہیونی ریاست کی بیس فیصد سے زائد آبادی عربوں کی ہے۔ اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 48 کے مقبوضہ فلسطین میں ساڑھے تیرہ لاکھ مسلمان بس رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف تعصب برتا جاتا ہے جس کا حالیہ مظہر موجودہ بل ہے

مقبوضہ بیت المقدس:  بیت المقدس میں اسرائیلی ضلعی انتظامیہ نے مسجد اقصی میں مراکشی دروازے کو ملانے والے راستے کو بند کرنے کے بعد قبلہ اول کو مستقل بنیادوں پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی بلدیہ کے ایک سینیئر رکن “ساسون جابائے” نے اخبار” یدیعوت احرونوت”سے با ت کرتے ہوئے کہا ہے کہ “میں مسجد اقصی کے صرف مراکشی دروازے کو بند کرنے کا قائل نہیں اور نہ ہی یہ مسئلے کا حل ہے۔ اسرائیل اگربیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کی آمد و رفت کو آسان بنانا چاہتا ہے تو مسجد اقصی کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بند کر کے مسجد اقصی کو بھی تمام فلسطینیوں کے لیے مستقل طورپر بند کرنا ہو گا۔ مسٹر جابائے کا کہنا تھا کہ وہ مسجد اقصی کو ہمہ وقت بند کرنے کے لیے بلدیہ کے دیگر اراکین سے ایک یادداشت پر دستخط کرا رہے ہیں۔ بلدیہ کے تمام اراکین سے منظوری لینے کے بعد یہ درخواست وزیر برائے داخلی سلامتی کے پاس منظوری کے لیے بھیجی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں صہیونی عہدیدار نے کہا کہ “مسجد اقصی کے معاملے میں یہودیوں کیخلاف نسلی امتیاز برتا جا رہا ہے اور ہم اس امتیازی سلوک ختم کرنے کے لیے مسجد اقصی کو مستقل بنیادوں پر بند کرنا چاہتے ہیں۔دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس اور دیار فلسطین کے مفتی اعظم شیخ محمد حسین نے صہیونی رکن بلدیہ کے ریمارکس کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں شیخ حسین کا کہنا تھا کہ اسرائیل مختلف حیلوں بہانوں سے قبلہ اول کو مستقل بنیادوں پر بند کرنا چاہتا ہے۔ مراکشی دروازے کی بندش بھی صہیونی حکام کی اسی جارحیت کا حصہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے خلاف قانون اقدامات کے نہایت سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔شیخ محمد حسین نے مراکشی دروازے اور مسجد اقصی کے بارے میں اختیار کردہ عالم اسلام کی خاموش پالیسی پر بھی کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا اور عرب ممالک آج تک خاموش ہیں حالانکہ وہ کئی مرتبہ مراکشی دورازے کے یہودیوں کے ہاتھوں بند کیے جانے پر خبردار کرتے رہے ہیں۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ عالم اسلام کی یہ خاموشی خدانخواستہ ہمیں قبلہ اول سے بھی محروم کر سکتی ہے۔ انہوں نے عرب لیگ، اسلام تعاون تنظیم اور عالم اسلام کی تمام نمائندہ جماعتوں اور ممالک پر زور دیا کہ وہ قبلہ اول کو بچانے کے لیے فوری کوئی لائحہ عمل مرتب کریں

دمشق : فلسطین کی سب سے بڑی اور منظم مذہبی سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” نے امریکی صدارتی امیدوار”نیوٹ گینگریچ” کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں انہوں نے فلسطینیوں کو”دہشت گردی کے لیے ایجاد کی گئی قوم” قرار دیا تھا۔ حماس کا کہنا ہے کہ دنیا میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے فلسطینی نہیں بلکہ اسرائیل قائم کیا گیا۔ فلسطینیوں ہزاروں سال سے اسی سرزمین پر آباد رہے ہیں۔ انہوں نے کسی دوسرے کے ملک پر قبضہ نہیں کیا۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے سیاسی شعبے کے رکن عزت رشق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ “نیوٹ گینگریچ” کے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ فلسطینیوں کو دہشت گردی کے کے لیے ایجاد کردہ قوم قرار دے کرنہ صرف انہوں نے اپنی صہیونیت نوازی اور فلسطین دشمنی کا اعتراف کیا ہے بلکہ گینگریچ کا بیان واشنگٹن کے پالیسی سازوں کی بدنیتی کا پول کھولنے کے لیے کافی ہے۔عزت رشق کا کہنا تھا کہ “یہ درست ہے کہ امریکا میں کسی بھی صدارتی امیدوار کو اپنے انتخابی عمل میں کامیابی کے لیے وہاں کی صہیونی لابی کی حمایت چاہیے ہوتی ہے۔ گینگریچ بھی امریکی یہودی لابی کی حمایت کے حصول کے لیے اس طرح کے نازیبا ریمارکس دے رہے ہیں لیکن عملا امریکا کی پالیسی اسی اصول پرکار فرما ہے۔ ماضی میں جب بھی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مفادات کی بات ہوئی تو امریکا نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کرتے ہوئے اسرائیلیوں کا ساتھ دیا۔ فلسطینیوں کو امریکا کی کسی سیاسی جماعت یا اس کے کسی صدارتی امیدوار سے کوئی خیرکی توقع نہیں ہے۔ امریکا میں چاہے ڈیموکریٹس کی حکومت ہویا ری پبلیکن کی ہو امریکا نے ہمیشہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔حماس رہ نما کا کہنا تھا کہ کسی امریکی صدارتی امیدوار کی جانب سے فلسطینیوں کو ایجاد کردہ قوم قرار دینے سے حقائق مسخ نہیں کیے جا سکتے البتہ روز روشن کی طرح حقائق کو مسخ کرنے والوں کے دماغی معالجے کی ضرورت ہو گی، کیونکہ کوئی فاترالعقل انسان ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ فلسطینی دہشت گردی کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور ان کا اپنا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہم صرف اتنا پوچھتے ہیں کہ آیا اسرائیل ایک قدیم ریاست ہے یا فلسطین۔ نیز کیا فلسطینی یہودیوں کے ملک میں باہر سے لا کر آباد کیے گئے ہیں یا یہویوں کو فلسطینیوں کی سرزمین پرمسلط کیا گیا ہے۔حماس نے امریکی صدربراک اوباما اور یورپی یونین کی جانب سے گینگریچ کے بیان پر اختیار کی گئی خاموشی پر سخت تنقید کی۔ عزت رشق نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اور یورپی یونین کی جانب سے گینگریچ جیسی شخصیات کے متنازعہ ریمارکس پر خاموشی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان کے نزدیک گینگریچ کا موقف درست ہے

اسلامی جہموریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا ہےکہ بڑی طاقتوں کو ایران کی عظیم قوم کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔  صدر جناب احمدی نژاد نے آج ایران کے جنوب مغربی شہر یاسوج میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاسد ترین حکومتیں اور انسانوں کے قاتل دنیا کے اہم ترین مراکز پر مسلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تسلط پسند طاقتوں نے جو قوموں اور حریت پسند انسانوں کی مخالف ہیں، انسانی حقوق اور جمہوریت کا پرچم اٹھا لیا ہے اور جہاں کہیں بھی حریت پسند، خود مختار اور انصاف پسند قوم ہے، وہ اس کے خلاف سازشیں کرنے لگتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملت ایران دنیا کی آزاد ترین اور صلح اور انصاف پسند قوم رہی ہے لیکن امریکہ اور اسکے اتحادی توہین آمیز الفاظ استعمال کرکے اسے مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔
ادھر نمیبیا کے وزیر خارجہ ڈینیل نجوما نے تہران میں صدر جناب احمدی نژاد سے ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر صدر جناب احمدی نژاد نے سامراج کا مقابلہ کرنے کےلئے خود مختار ملکوں کے تعاون کی ضرورت پر تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی خود مختار ملکوں سے تعلقات بڑھانے کی ہے اور ایران نے دیگر ملکوں کی اقتصادی توانائيوں سے استفادہ کرنے کی غرض سے افریقی ملکوں کے ساتھ تعلقات میں توسیع لانے کی روش اپنائي ہے۔  نیمیبیا کے وزیر خارجہ نے افریقہ کے کمزور اور غریب ملکوں کی حمایت کرنے کی اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ تعلقات میں فروغ کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایرانی کمپنیاں ہمارے ملک میں ترقیاتی پروگراموں میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے مختلف میدانوں میں ایران کی ترقی کو سراہا۔  قابل ذکر ہے کہ نمیبیا کے وزیر خارجہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کے ساتھ بھی ملاقات و مذاکرات کئے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ محمد جواد لاریجانی نے علاقے میں اسلامی اصطلاحآت کے اثرو نفوذ کو امریکہ کے خوف و ہراس کا سبب قرار دیا ہے۔  پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمد جواد لاریجانی نے پیرکے روزعلاقائی معاملات میں اسلامی ایران کے اہم اور مؤثر کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وسیع اثر و نفوذ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ علاقائی تغیرات میں ایران کے اثرو نفوذ کے سبب امریکہ اور اس کے اتحادی یک طرفہ پابندیاں عائد کرکے اور ایران میں انسانی حقوق کے سلسلے میں بے بنیاد الزامات لگاکر نیز ایٹمی سائنس دانوں پر حملے کرکے ایران سے مقابلہ کرر ہے ہیں۔محمد جواد لاریجانی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے تنہا ہونے پر مبنی مغرب کے دعووں کو مسترد کردیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو آج علاقے میں ایک اچھا مقام حاصل ہے اور علاقے میں رونما ہونے والے انقلابات سے ثابت ہوا ہے کہ ان انقلابات میں شامل لوگوں نے ایران کے اسلامی انقلاب کو اپنے لئے نمونۂ عمل قراردیا ہے۔

روس کے وزير خارجہ سرگئی لاوروف نے شام کے بارے میں مغرب اور عرب ممالک کے مؤقف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے معاملے میں مغربی اور عربی ممالک کا مؤقف غیر اخلاقی ہے۔ایٹارٹاس روس کے وزير خارجہ سرگئی لاوروف نے شام کے بارے میں مغرب اور عرب ممالک کے مؤقف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے معاملے میں مغربی  اور عربی ممالک کا مؤقف غیر اخلاقی ہے۔ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے گروپس لوگوں کو اشتعال دلا کر بین الاقوامی مدد حاصل کرنے کے لیے ’انسانی بحران‘ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ روس اور چین کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک بعض عرب ممالک کے تعاون سے شام میں بحران پیدا کررہے ہیں اور معمولی واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔ سرگئی لاوروف نے کہا کہ مغربی ممالک کو شام میں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت سے باز رہنا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی ادارے یونیسکو میں فلسطین کی رکنیت تسلیم کیے جانے کے بعد پہلی بار اقوام متحدہ کے ادارے کے دفتر کے باہر دنیا کے مختلف ملکوں کے پرچموں میں فلسطینی پرچم بھی نصب کردیا گیا ہے۔الجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی ادارے یونیسکو میں فلسطین کی رکنیت تسلیم کیے جانے کے بعد پہلی بار اقوام متحدہ کے ادارے کے دفتر کے باہر دنیا کے مختلف ملکوں کے پرچموں میں فلسطینی پرچم بھی نصب کردیا گیا ہے۔فلسطینی پرچم لہرانے کی یہ تقریب فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہوئی۔امریکہ نے فلسطین کو رکنیت دینے پر یونیسکو کو دی جانے والی مالی امداد میں زبردست کٹوتی کر دی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی قیادت کو کسی بھی عالمی ادارے کی رکنیت کا اہل بننے سے پہلے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہیے۔ اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ ’آج ہم یونیسکو کے رکن ہیں اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ہماری خودمختار ریاست ہوگی۔

سابق وزیر اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سینئر رہنما بیرسٹر سلطان محمود نے کہا ہے کہ لارڈ نذیر احمد کا میرپور میں آمد پر بھر پور استقبال کیا جائے گا۔برطانیہ میں مقیم پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی نے برطانوی پارلیمنٹ کے پاکستانی نژاد رکن لارڈ نذیر احمد کی شہریت ختم کرنے کے بارے میں آزاد کشمیر کابینہ کے فیصلے اور مانچسٹر میں اُن پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ لارڈ نذیر احمد کو برطانوی پارلیمنٹ کا پہلا پاکستانی نژاد رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آزاد کشمیر کابینہ میں ان کی شہریت منسوخ کرنے کی قرارداد منظور ہونے پر پاکستانی اور کشمیری برادری نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ لندن میں مقیم پاکستانیوں نے کہا ہے کہ لارڈ نذیر کی شہریت کوئی منسوخ نہیں کرسکتا۔ سابق وزیر اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سینئر رہنما بیرسٹر سلطان محمود نے کہا ہے کہ لارڈ نذیر احمد کا میرپور میں آمد پر بھر پور استقبال کیا جائے گا۔ وہ پاکستانی اور کشمیری شہری ہیں ان کی شہریت منسوخ کی گئی تو عوام یہ فیصلہ مسترد کرکے اُن کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں گے۔ لارڈ نذیر احمد کو بیرون ملک پاکستان کا وکیل بھی قرار دیا جاتا ہے۔ لندن میں پاکستانی اور کشمیری شہریوں نے ان کی شہریت منسوخ کرنے کے خلاف جمعے کو یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے

پینل کے ارکان کا ماننا ہے کہ دیسی ساختہ بموں میں استعمال ہونے والی امونیم نائٹریٹ دیسی ساختہ بموں میں استعمال ہوتی ہے، جو پاکستان میں موجود کھاد کی فیکٹریوں میں تیار ہوتی ہے۔ امداد روکنے کے بل کی منظوری رواں ہفتے دی جا ئے گی۔امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے پینل نے پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر امداد منجمد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ پینل کا کہنا ہے کہ امونیم نائٹریٹ کی ترسیل پر موثر کنٹرول تک امداد بحال نہیں کی جائے گی۔ امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے پینل نے کہا ہے کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے بارڈر سے دیسی ساختہ بموں میں استعمال ہونے والا مواد افغانستان سمگل نہ ہو سکے۔ پینل کے ارکان کا ماننا ہے کہ دیسی ساختہ بموں میں استعمال ہونے والی امونیم نائٹریٹ دیسی ساختہ بموں میں استعمال ہوتی ہے، جو پاکستان میں موجود کھاد کی فیکٹریوں میں تیار ہوتی ہے۔ امداد روکنے کے بل کی منظوری رواں ہفتے دی جا ئے گی۔  دیگر ذرائع کے مطابق امریکی کانگریس کے پینل میں پاکستان کی ستر کروڑ ڈالر امداد روکنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ امریکی سینیٹ ہائوس کے مذاکراتی پینل نے پاکستان کی ستر کروڑ ڈالر امداد روکنے پر اتفاق کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کو یہ امداد رواں ہفتے جاری ہونا تھی۔ پینل کا مؤقف ہے کہ امداد اس وقت تک جاری نہ کی جائے جب تک پاکستان امونیم نائٹریٹ کی ترسیل کی مانیٹرنگ مؤثر نہیں کر لیتا۔ پینل کا کہنا تھا کہ پاکستان کا غیر سنجیدہ رویہ افغانستان میں اتحادی افواج کے لیے خطرناک ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکی کانگریس رواں ہفتے اس بل کو منظور کر لے گی۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات پیچیدہ ہیں، لیکن ان کا بہتر اور ٹھوس ہونا امریکا اور پاکستان کے مفاد میں ہے، انکا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات ضروری ہیں۔امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے بغیر افغان جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان میں بھی استحکام ضروری ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ افغان جنگ میں پیش رفت کے ساتھ پاک امریکا تعلقات کی اہمیت بھی بڑھی ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ تعلقات مشکل اور پیچیدہ ہیں مگر دونوں ملک اپنے اختلافات دور کر سکتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات ضروری ہیں، جس کے بغیر افغان جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ خطے میں امن صرف افغانستان سے مشروط نہیں بلکہ پاکستان میں بھی ایک حد تک استحکام ضروری ہے۔  لیون پنیٹا نے کہا کہ پاکستان نے امریکا کے ساتھ اہم تعاون کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ فاٹا اور سرحدی علاقے میں بعض آپریشنز پر اختلافات بھی ہیں۔ انہوں نے مہمند حملے کا حوالہ دیئے بغیر کہا کہ ابھی انہیں تحقیقات میں پیش رفت کا علم نہیں ہے، لیکن رپورٹ سامنے آنے کے بعد واضح ہو جائے گا کہ وہاں درحقیقت کیا ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ نیٹو کی سپلائی لائن بحال کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ افغانستان میں آپریشنز کے لئے اِس وقت نیٹو فورسز کو جتنا ضروری سامان درکار ہے اس کی سپلائی مسلسل جاری ہے۔  دیگر ذرائع کے مطابق امریکہ کے سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا نے افغانستان میں کامیابی کو پاکستان سے تعلقات کی بحالی سے مشروط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکتا جب تک کہ وہ پاکستان سے بہتر تعلقات کو نہیں جیتے گا۔ لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ تعلقات کی بحالی افغانستان میں لانگ ٹرم ترقی کے لئے ضروری ہے اور اگر انہیں اپنی کوششوں کو عملی جامہ پہنانا ہے تو یہ پاکستان کے ساتھ کے سوا ممکن نہیں، اگر اس خطے میں امن مقصود ہے تو وہ نہ صرف افغانستان میں بلکہ پاکستان میں استحکام پر بھی منحصر ہے۔ سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ماضی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے، اس وقت ہمیں فاٹا اور قبائلی علاقوں میں چند آپریشن مکمل کرنے چند مشکلات کا سامنا ہے، جو دونوں ممالک کے مابین 2 مئی اسامہ کی ہلاکت کے بعد سے پیدا ہونے والے خلا کا نتیجہ ہے۔ جس نے نومبر 26 کو 24 پاکستانی سپاہیوں کی شہادت تک کے عرصے میں دونوں ممالک کے تعلقات کو کافی گزند پہنچائی ہے۔ پنیٹا کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ محض 1 نکتے یعنی دہشتگردی کے خلاف جنگ کی بنیاد پر دونوں ممالک اپنے تعلقات کو بحال کریں گے اور سپلائی روٹس بحال ہونگے۔

اس کمپنی کا مقصد امریکی سفارت کاروں اور دیگر افراد کا تحفظ ہے مگر یہ تنظیم ایسے کاموں میں استعمال ہوتی رہی ہے جو امریکا قانونی وجوہات سے خود نہیں کرنا چاہتا۔امریکا کی بدنام زمانہ سابق نجی سکیورٹی ایجنسی بلیک واٹر نے اپنا نام زی سے تبدیل کر کے اکیڈمی رکھ لیا۔ بلیک واٹر عراق میں شہریوں کے قتل میں ملوث رہی ہے۔ ایکس ای یا زی سروسز ایل ایل سی (Xe Services LLC ) جس کا پرانا نام بلیک واٹر ورلڈ وائیڈ یا بلیک واٹر یو ایس اے تھا، اب نئے نام سے اپنی کارروائیاں کرے گی۔ کمپنی کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو ٹیڈ رائٹ نے ایک انٹرویو میں اعلان کیا ہے کہ زی اب اکیڈمی کے نام سے اپنا کام جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اکیڈمی مستقبل میں امریکا کے قومی مزاج کا تعین کرنے کیلئے دانشوروں اور جنگجووٴں کو تربیت دے گی۔  ایک سوال پر ٹیڈ نے بتایا کہ کمپنی کا نیا نام بالکل سادہ سا ہے اور اس فرم کو نئی اونرشپ، نئی لیڈرشپ دی ہے، اس کے علاوہ سکیورٹی سروسز اور تربیت پر ازسرنو اسٹریٹجی بنائی جائے گی۔ کمپنی نے اپنی نئی ویب سائٹ بھی بنالی ہے جبکہ آرلنگٹن میں نیا کارپوریٹ ہیڈ کوارٹر قائم کیا گیا ہے۔ بلیک واٹر کے ارکان عراق جنگ میں فلوجہ، نجف اور بغداد میں غیر قانونی طور پر عام شہریوں کے قتل میں ملوث رہے ہیں اور اس کے کچھ اہلکاروں پر سترہ عراقی شہریوں کے قتل کا مقدمہ بھی امریکا میں چلایا گیا۔ اس کمپنی کا مقصد امریکی سفارت کاروں اور دیگر افراد کا تحفظ ہے مگر یہ تنظیم ایسے کاموں میں استعمال ہوتی رہی ہے جو امریکا قانونی وجوہات سے خود نہیں کرنا چاہتا

پی این ایس مہران پر حملہ پنجابی مجاہد گروپ نے کیا، پانچ دہشتگرد وزیرستان سے آئے، حملے سے پہلے پی اے ایف میوزیم کی ریکی ہوئی، ہلاک دہشتگرد شاہد کی بیوہ کے سنسنی خیز انکشافات۔کراچی میں نو محرم الحرام کی شب شہر کے معروف تاجر ریاض چنائے کی بازیابی کے لیے سی پی ایل سی اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کی جانب سے کورنگی میں کارروائی کی گئی، اس دوران مقابلے میں تین اغواء کار ہلاک ہوئے، جن میں سے ایک کی شناخت شاہد خان عرف قاری شاہد کے نام سے کی گئی۔ جس کے کچھ ہی دیر بعد پتہ چلا کہ ہلاک ہونے والا ملزم کالعدم تحریک طالبان پنجابی مجاہد گروہ کراچی کا امیر تھا اور ملک بھر میں ہونے والی دہشتگردی کی کارروائیوں میں مطلوب تھا۔   کارروائی کے دوران شاہد خان کی بیوی صبیحہ کو بھی گرفتار کیا گیا، جس نے دوران تفتیش انتہائی سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں، ملزمہ کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر شاہد خان پی این ایس مہران پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث رہا، اس حملے کے لیے سہیل نامی مفرور دہشتگرد پانچ انتہائی تربیت یافتہ دہشتگردوں کو وزیرستان سے کراچی لایا تھا۔ ملزمہ نے اعتراف کیا کہ اس حملے سے قبل وہ اپنے شوہر اور سہیل نامی دہشتگرد کے ساتھ پی اے ایف میوزیم ریکی کرنے بھی گئی تھی۔  ملزمہ نے ابتدائی تفتیش میں مزید انکشاف کیا کہ جامعہ کراچی بم دھماکے کے لیے وہ اپنے شوہر کے ہمراہ بم لے کر ملزم عمر کو فراہم کرنے گئی تھی، ملزمہ کا کہنا ہے کہ سی آئی ڈی سول لائنز پر دھماکے کے لیے دو خودکش حملہ آوروں کو وزیرستان سے لایا گیا تھا، جن کے کھانے پینے کا انتظام ملزمہ نے خود کیا، ملزمہ نے بتایا کہ ملیر میں پولیس موبائل پر کئے گئے دھماکے کے لیے موٹر سائیکل پر بم نصب کر کے اس کا شوہر اور کالعدم جنداللہ کا ایک دہشتگرد گئے، ملزمہ صبیحہ کے انکشافات کے بعد مزید تفتیش کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے

واشنگٹن میں امریکہ کے صدر بارک اوباما اور عراق کے صدر نور المالکی نے شام کے بحران پر مذاکرات کرنے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے شام کے بارے میں ایک دوسرے کے موقف کو سنا، اس موقع پر امریکہ کے صدر اوباما کا زور تھا کہ شام کے صدر بشار الاسد عوام کے قتل میں ملوث ہیں، لہذا انہیں حکومت چھوڑ دینی چاہیئے، جبکہ عراق کے صدر نوری المالکی کا کہنا تھا کہ خطے کے عوام کو ان کی آزادی ملنی چاہیئے، ان کا کہنا تھا کہ شام کے عوام کو اپنی خودمختاری کی خود حفاظت کا موقع دیا جانا چاہیئے۔ نوری المالکی کا کہنا تھا کہ اس بات کو تسلیم کیا جانا چاہیئے کہ عراق اور شام کی جنگ خطے میِں امن کو تباہ کر سکتی ہے۔گزشتہ روز عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی ہمسایہ ملک عراق پر اثر انداز ہونے یا اس ملک میں مداخلت کرنے کی کوشش نہ کرے، عراق نے شدید برے حالات کا مقابلہ کیا، تاہم اس کی معیشت میں تیزی سے بہتری آئی، عراق کی سکیورٹی فورسز نے عراق کا انتظام سنبھال لیا ہے، 9 سال قبل شروع ہونے والی جنگ اس ماہ ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں انٹیلی جنس معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا کیونکہ یہ خفیہ ہوتے ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا مستقبل میں بھی عراق کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا، جبکہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ عراق کسی ملک میں مداخلت نہیں کرے گا، امریکا کے ساتھ اسٹرٹیجک فریم ورک معاہدہ تعاون کو بڑھائے گا، عراق سے امریکی فوج کا انخلا بڑی کامیابی ہے۔

امریکی صدر باراک اوبامہ نے عراق کے وزیر اعظم نوری مالک کے ساتھ ملاقات کے دوران سوال کیا کہ عراق کے ایران و شام کے ساتھ کتنے مضبوط روابط ہیں دونوں رہنماؤں کی بعض دیگر مسائل پر بھی بحث اور شدید ترین اختلاف۔ایک امریکی باخبر ذرائع نے اخبار الشرق الاوسط کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ  امریکی صدر باراک اوبامہ اور عراقی وزير اعظم نوری المالکی کی باہمی ملاقات دوستانہ ماحول میں نہیں ہوئی اس نے کہا کہ اوبامہ اور مالکی کے درمیان بعض اہم مسائل پر شدید ترین کشیدگی رہی ۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے عراقی وزير اعظم سے ایران و شام کے ساتھ روابط اور مقتدی صدر کی طاقت کے بارے میں بھی سوال کیا۔ امریکی صدر نے بشار اسد کی حمایت پر نوری مالکی پر شدید تنقید کی اورشام کے صدر بشار اسد کو عراق کے سابق صدر صدام کے مانند قراردیا ہے۔

لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کیخلاف احتجاج کرنے پر سردار کاظم علی حیدری گرفتار،شیعہ علماء کونسل پنجاب کی طرف سے شدید مذمت.شیعہ علماء کونسل پنجاب کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ کاظم علی حیدری اور انکے دیگر ساتھیوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کر کے اصل دہشتگردوں یعنی لشکر جھنگوی کے لوگوں کو گرفتار کر کے عبرت ناک انجام سے دوچار کیا جائے۔ شیعہ علماء کونسل صوبہ پنجاب کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری سردار کاظم علی خان حیدری کو مظفر گڑھ پولیس نے آج ڈیرہ غازی خان میں دہشتگردی کی خصوصی عدالت سے اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ ایک ناجائز اور بے بنیاد مقدمہ میں ملوث کئے جانے پر پیشی کے لیے حاضر ہوئے۔ انہیں گذشتہ ماہ علی پور میں لشکر جھنگوی کے سربراہ اور سینکڑوں پاکستانی شہریوں کے قاتل ملک اسحاق کے استقبالی جلوس میں پیش آنے والے ایک واقعے میں ناجائز طور پر ملوث کیا گیا، جس کے بعد مقامی انتظامیہ اور پولیس سے براہ راست بات چیت ہوتی رہی اور مذاکرات بھی ہوتے رہے۔  شیعہ علما ء کونسل پنجاب کے وفود نے متعدد بار آر پی او ڈیرہ غازی خان اور ڈی پی او مظفر گڑھ سے ملاقاتیں کیں، جس میں انتظامیہ نے یقین دلایا کہ سردار کاظم علی حیدری اور دیگر بے گناہ افراد کے ساتھ انصاف کیا جائے گا اور دہشتگرد گروہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی کی جائے گی۔ گذشتہ روز بھی مقامی ڈی ایس پی اور ایس ایچ او نے اسی قسم کی یقین دہانی کرائی، لیکن یہ سب دراصل دھوکہ تھا، جس پر مقامی انتظامیہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، کیونکہ انہوں نے امن و امان کے لیے ہمیشہ تعاون کرنے والے شخص کو دیدہ دانستہ ایک بے بنیاد مقدمہ میں ملوث قرار دے کر گرفتار کرایا۔ کاظم علی حیدری اور ان کے دیگر ساتھیوں کو ڈیرہ غازی خان جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید عبدالجلیل نقوی، مولانا آغا عظمت علی، چوہدری فدا حسین گھلوی، سید ثناء الحق ترمذی، ایم ایچ بخاری، سید اظہار نقوی، مہر قیصر عباس دادوآنہ، فضل عباس جنجوعہ، علامہ عارف حسین واحدی، اے ایچ بخاری، غضنفر نقوی، مولانا منور حسین نقوی، مولانا سید نصیر حسین ہمدانی، سید گلزار عباس نقوی، تنویر الکاظم حسنی، بشارت عباس قریشی، مولانا سبطین حیدر سبزواری، مولانا حافظ کاظم رضا نقوی، حاجی سید محمد رضا شاہ، سید مہدی حسین نقوی، سید ندیم حیدر نقوی اور دیگر عہدیداروں نے سردار کاظم علی خان حیدری کو قتل کے ایک بے بنیاد اور ناجائز مقدمہ میں ملوث کرنے اور قانونی چارہ جوئی کے باوجود بلاجواز اور بے گناہ گرفتار کرنے کے حکومتی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے حکمرانوں کے ظالمانہ اور جانبدارانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاظم علی حیدری ڈویژنل امن کمیٹی کا رکن ہے۔ گذشتہ بیس سال سے زائد عرصہ اس بات کا شاہد ہے کہ اس نے امن کے قیام اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور شاندار خدمات انجام دی ہیں، لیکن انتظامیہ اور حکومت نے اسے امن پسندی اور اتحاد دوستی کا یہ صلہ دیا ہے کہ واضح طور پر بے بنیاد اور ناجائز مقدمے میں گرفتار کر کے خود امن و امان کو تباہ کرنے کی بنیاد ڈال دی ہے۔ حکمرانوں، خفیہ اداروں اور انتظامیہ کے ایسے ہی اقدامات ملک میں دہشتگردی کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ لشکر جھنگوی جیسے واشگاف دہشتگرد گروہ کو جب یقین ہو جائے گا کہ ہمارے دہشتگرد سینکڑوں پاکستانیوں کو تہہ تیغ کرنے کے باوجود بھی نہیں پکڑے جائیں گے اور ہمارا راستہ روکنے والے ہر قانون پسند اور محب وطن شہری کو یا قتل کر دیا جائے گا یا پھر جیل کی کال کوٹھڑی میں بند کر دیا جائے گا۔ تو اس یقین کے بعد دہشتگردوں کے حوصلے بلند ہونے اور دہشتگردی میں اضافہ ہونے کے واضح راستے ملیں گے۔ شیعہ علماء کونسل پنجاب کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ کاظم علی حیدری اور دیگر ساتھیوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کر کے اصل دہشتگردوں یعنی لشکر جھنگوی کے لوگوں کو گرفتار کر کے عبرت ناک انجام سے دوچار کیا جائے۔ اگر صورتحال ایسے ہی رہی اور رہائی میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے تو شیعہ علماء کونسل اپنے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ جس کے تحت پورے پنجاب میں بالخصوص اور ملک بھر میں بالعموم عوامی احتجاج کیے جائیں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کو ڈرون طیارے کی واپسی کا مطالبہ کرنے کی بجائے ایران کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر تہران سے معافی مانگنی چاہئے۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما ڈرون کی واپسی کا مطالبہ کرنے کی بجائے معافی مانگیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ امریکی صدر کو ڈرون طیارے کی واپسی کا مطالبہ کرنے کی بجائے ایران کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر تہران سے معافی مانگنی چاہئے، اوبامہ کی پریس بریفنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے رامین مہمان پرست کا کہنا تھا کہ شاید اوبامہ بھول گئے ہیں کہ ڈرون طیارے نے ہماری سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔  ادھر ایران نے جاسوس طیارے کی واپسی کا امریکی مطالبہ مسترد کرتے ہوئے اسے ایران کی ملکیت قرار دے دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر دفاع احمد وحیدی نے کہا ہے کہ ایران سے معذرت کرنے کے بجائے امریکا جاسوس طیارے کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے، یہ طیارہ اب ایران کی ملکیت ہے۔ ایران کا کہنا تھا کہ وہ ڈرون سے خفیہ معلومات حاصل کر رہا ہے اور اس کو واپس نہیں کرے گا۔

شام ميں حکومت مخالف افراد نے عراق کي ثالثي کا خير مقدم کيا ہے-عراق کے وزير اعظم کے مشير علی موسوی نے بتايا ہے کہ شام کے حکام نے حکومت مخالف (امریکی،اسرائیلی اور سعودی نواز) شرپسندوں سے اپيل کي ہے کہ وہ عراق کے دورہ کريں تاکہ بغداد حکومت ان کے اور شامي حکومت کے درميان ثالثي کر سکے- انہوں نے بتايا کہ شام کے حکومت مخالف (امریکی،اسرائیلی اور سعودی نواز) شرپسندوں نے اس بات کا خير مقدم کيا ہے- علي موسوي نے بتايا کہ شام کے مخالف رہنماؤں اور حکام کے درميان ثالثي کا عراق کا اقدام، عرب ليگ کے منصوبے کے تحت اور حکومت مخالف (امریکی،اسرائیلی اور سعودی نواز) شرپسندوں کے مطالبے کے تناظر ميں انجام پا رہا ہے- واضح رہے کہ شام ميں گزشتہ مارچ کے مہينے سے ہي کچھ عرب اور مغربي (امریکی،اسرائیلی اور سعودی نواز) ملکوں کي حمايت سے دہشتگرد گروہ، پر تشدد کارروائياں کر رہے ہيں اور شام کے نائب وزير خارجہ فيصل مقداد کے مطابق ان کي ان کارروائيوں ميں اب تک بارہ سو سے زيادہ سيکورٹي اہلکار شہید ہو چکے ہيں –

مصر کے وزیر زراعت نے کہا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کے زرعی ماہرین کو ملک سے نکال باہر کریں گے۔محمد رضا اسماعیل نے کہا کہ اگر انہیں معلوم ہوجائے کہ صہیونی ریاست کے زرعی ماہرین مصر میں کام کر رہے ہیں تو وہ انہیں نکال کر مصری شہریوں کو رکھیں گے کیونکہ مصر کے ماہرین کسی سے کم نہيں ہیں۔قابل ذکر ہے کہ مصر کے عوام کی تحریک کے نتیجے میں صہیونیت نواز سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت سرنگوں ہوگئی اور اب مصری عوام صہیونی ریاست سے تعلقات ختم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 60 قانوندانوں کے حالیہ بیان نے آل سعود کی طرف سے کھڑی کی گئی خوف کی دیوار توڑ دی اور واضح ہوگیا کہ الشرقیہ کے علاقے میں اٹھنے والے مطالبات نہ صرف پوری قوم کو مطالبات ہیں بلکہ ان مطالبات میں روز بروز اضافہ بھی ہورہا ہے۔ سعودی عرب میں اصلاح پسندوں نے ایک بیان جاری کرکے آل سعود کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بعض اصلاح پسندوں کو سنائی گئی سزائیں فورا منسوخ کرے اور القطیف میں تشدد جاری رکھنے سے باز رہے۔ انھوں نے سعودی عرب خاص طور پر منطقۃالشرقیہ میں ہونے والی تشدد آمیز کاروائیوں کے بارے میں غیرجانبدارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ قانوندانوں کے اس بیان نے آل سعود کو حیرت زدہ کردیا کیونکہ اس بیان پر شیعہ اور سنی مفکرین کے دستخط موجود ہیں بلکہ اس میں بیان ہونے والے مطالبات بھی بالکل واضح تھے اور اب سنی مفکرین اور راہنماؤں نے آئندہ جمعہ کو ملک گیر احتجاجی مظاہروں اور پرامن دھرنوں کی دعوت دی ہے جس سے سعودی عرب میں عوامی تحریک ملک گیر ہونے کی نوید مل رہی ہے۔

سعودی کے نئے ولیعہد نائف بن عبدالعزیز نے فوجی کمانڈروں کے نام اپنے ایک خط میں میں ان کو فرمانِ بے رحمی جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر ذرہ برابر بھی رحم نہ کریں۔رپورٹ کے مطابق آل سعود کے اٹھتر سالہ ولیعہد نے یہ خط مارچ 2011 میں لکھا تھا جس وقت وہ سعودی عرب کے وزیرداخلہ تھے اور ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز ابھی زندہ تھے۔ انھوں نے یہ خط خاص طور پر ان کمانڈروں کے نام تحریر کیا تھا جو مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کی سیکورٹی کی نگرانی کرتے ہیں۔نائف نے اس خط میں فوجی کمانڈروں کو احتجاجیوں کی سرکوبی کا فری ہینڈ دیا گیا ہے اور ان لوگوں کو نشانہ بنانے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے جو حکومت کی جانب سے شہریوں کے حقوق پر پابندیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں یا احتجاج کرسکتے ہیں۔ اس خط میں نائف نے ایسے لوگوں پر گولی چلانے کی بھی اجازت عطا فرمائی ہے۔ آل سعود کی قدامت پسند استبدادی بادشاہت دنیا میں بھی مخالفین کو کسی صورت میں برداشت نہ کرنے کے حوالے سے بدنام ہے اور اس بادشاہت نے 2011 کے ابتدائی مہینوں میں عرب دنیا میں شروع ہونے والی انقلابات کے ساتھ ہی شروع ہونے والی آل سعود مخالف احتجاجی تحریک کو کـچلنے کی مسلسل کوشش کی ہے جو نہ صرف ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی ہے بلکہ توقع کی جاتی ہے کہ اس حکومت کو آنے والے دنوں میں زیادہ شدید اور وسیع احتجاجی تحریک کا سامنا کرنا پڑے گا۔

نامور خطیب اور العوامیہ کے امام جمعہ شیخ نَمِر باقر النَمِر نے آل سعود کی حکمرانی کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے۔ انھوں نے العوامیہ کی مسجد امام حسین علیہ السلام میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے منطقۃ الشرقیہ میں تناؤ کی ذمہ داری آل سعود کی حکومت پر عائد کی اور کہا: سعودی سرکاری اہلکار اور ان کے سیکورٹی افسران الشرقیہ میں بدامنی پھیلارہے ہیں لیکن انہیں جان لینا چاہئے کہ عوام ان کے مقابلے میں مزاحمت کریں گے اور آل سعود کی دھمکیاں عوامی کو ان کے مطالبات سے باز نہیں رکھ سکیں گی۔ انھوں نے آل سعود کی بادشاہت کو قرآن مجید کے منافی قرار دیا اور کہا: آل سعود کی حکومت جو جمہوریت اور اسلامی اقدار سے مغایرت رکھتی ہے، خلیج فارس کے علاقے سے اکھڑ جانی چاہئےکیونکہ سعودی عوام بادشاہت کے خلاف ہیں کیونکہ اس حکومت کے پاس عوام کے قتل عام کے سوا اور کئی بھی منصوبہ نہیں ہے لیکن اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ شہادت مستقبل کی عزت و کرامت کو جنم دیتی ہے۔ انھوں نے کہا: آل سعود کو سعودی عوام کا قتل عام بند کردینا چاہئے۔ انھوں نے کہا: سعودی عوام سیاسی اور فکری آزادی اور سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کے مطالبے سے پسپا نہیں ہونگے اور حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوامی مطالبات پر فوری  عملدرآمد کرے اور عوام کے قتل عام سے اجتناب کرے۔ شیخ باقر النمر نے بحرینی عوام پر آل خلیفہ کے مظالم کی بھی مذمت کی اور کہا: آل خلیفہ حکمران اجنبی قوتوں کے فرامین پر عمل کررہے ہیں اور اسی حال میں عوام پر بیرونی قوتوں سے وابستگی کا الزام لگا رہے ہیں اور یہی صورت حال سعودی عرب میں دکھائی دے رہی ہے کیونکہ سعودی عرب میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے ہر لحاظ سے قومی اور اندرونی ہیں لیکن حکومت ان مظاہروں کو بیرونی قوتوں سے وابستہ قرار دے رہی ہے۔ انھوں نے کہا: خلیفی حکمران بحرینی عوام کو کچلنے کے لئے امریکی اور برطانوی فوجیوں سے مدد لے رہے ہیں اور سعودی عرب میں ہم سے کہا جاتا ہے کہ خاموش رہیں تا ہم، ہم مزاحمت جاری رکھیں گے اور پر امن مظاہروں کے ذریعے اپنے مطالبات پر اصرار کریں گے۔ انھوں نے آل سعود کی نام نہاد “انسداد بغاوت” فورسز کو سعودی عرب میں بغاوت کی فضا قائم کرنے کا الزام لگایا اور کہا: آل سعود کی فورسز عوام کے قتل عام اور تناؤ پیدا کرنے والے اقدامات کا سہارا لے کر ملک میں انارکی پھیلارہی ہیں۔ انھوں نے بحرین سے سعودی گماشتوں کے انخلاء کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اور ہمارے نوجوان بحرینی عوام ، سعودی عرب میں شیعہ اسیروں کی حمایت اور آزادی اور کرامت و وقار کے حصول کی کی راہ کی راہ میں شہادت کے لئے تیار ہیں۔

سعودي عرب کے فرمانروا نے مشرق وسطي اور شمالي افريقا ميں ظالم اور آمر حکمرانوں کے خلاف جاري اسلامي تحريکوں کے سعودي عرب تک پہنچ جانے کے خوف سے ايک نمائشي اقدام کے تحت کابينہ کے بعض ناکام وزرا کو برطرف کر ديا ہے-شاہ عبداللہ بن عبدالعزيز نے منگل کے روز ايک حکم نامے کے تحت کابينہ ميں مختصر سي تبديلي کرتے ہوئے اقتصاد، تجارت، حج اور سماجي خدمات کے وزيروں کو برطرف کر ديا ہے- سعودي عرب کے فرمانروا ان وزيروں کو برطرف کرکے يہ ظاہر کرنے کي کوشش کر رہے ہيں کہ اس ملک ميں خاص طور پر سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں ہونے والے عوامي احتجاج کا سبب معاشي مسائل ہيں اور عوام کو آل سعود کي حکمراني جاري رہنے پر کوئي اعتراض نہيں ہے- سعودي عرب ميں عوامي مظاہروں ميں معاشي مسائل کے کردار کو نظر انداز نہيں کيا جا سکتا تاہم عوام کے مظاہروں کا بڑا سبب آل سعود کي امتيازي پاليسياں، گھٹن کا ماحول اور عوام کي سرکوبي ہے- سعودي عرب کے شہريوں نے حاليہ مہينوں ميں شہر قطيف سميت مختلف علاقوں ميں آل سعود حکومت کے خلاف وسيع مظاہرے کرکے ظلم، امتيازي رويے اور عوام کے قتل عام کو روکے جانے کا مطالبہ کيا ہے-  ادھر سعودي عرب کے سياسي کارکنوں نے جيلوں ميں بند افراد کے اہل خانہ اور عام لوگوں سے کہا ہے کہ وہ جمعے کے روز قيد ميں بند لوگوں کي حمايت ميں نکالے جانے والے پرامن جلوس اور دھرنے ميں شرکت کريں- اس جلوس اور دھرنے کا مقصد، جيلوں ميں بند لوگوں کي قيد جاري رہنے اور ان کے بارے ميں ظالمانہ احکامات جاري کيے جانے پر احتجاج بتايا گيا ہے- جلوس اور دھرنے کي کال دينے والے سياسي کارکنوں نے انٹرنيٹ پر پيغام جاري کرکے کہا ہے کہ جيلوں ميں بند افراد ميں سے بعض نے برسوں سے اپنے رشتہ داروں کو نہيں ديکھا ہے اور برسوں سے انہيں اپنے اہل خانہ سے ملنے کي اجازت نہيں دي جا رہي ہے- سياسي کارکنوں نے آل سعود حکومت سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ جلد از جلد سياسي قيديوں کو رہا کرے ــ