گذشتہ 5 سال میں آل سعود نے 30 ہزار مرتبہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی

Posted: 14/12/2011 in All News, Breaking News, Important News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Survey / Research / Science News

سعودی عرب کی انسانی حقوق سوسائٹی نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 5 سال کے عرصے میں آل سعود نے 30 ہزار مرتبہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔رپورٹ کے مطابق انسان حقوق سوسائٹی نے کہا ہے کہ ناقابل انکار شواہد موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ آل سعود کے حکمران ان انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ان واقعات میں براہ راست ملوث ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کے عوام کس قسم کے عذاب سے گذررہے ہیں۔  انسان حقوق سوسائٹی کے سربراہ “مفلح القحطانی” نے کہا کہ انہیں سعودی عرب میں انسانی حقوق کے خلاف ورزی کے حوالے سے ہزاروں دستاویزات اور شکایات موصول ہوئی ہین جن میں قیدیوں کے حوالے سے جرائم، روزمرہ زندگی میں شہریوں کے خلاف روا رکھے جانے والے جرائم، سیاسی، سرکاری اداروں میں روا رکھے جانے والے مظالم، سماجی اور مذہبی حوالوں سے خاندانوں کے اندر ہونے والے تشدد آمیز اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے دیگر واقعات سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے حوالے سے سرکاری اور عوامی سطح پر آگہی کا شدید فقدان ہے اور اگر حکومت شہریوں کے حقوق پامال کرتی ہے تو عوام کو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان کا کوئی بنیادی حق بھی ہے جو پامال ہورہا ہے چنانچہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے حوالے سے باریک بینانہ مطالعات کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا: ہماری سوسائٹی کے پاس ہزاروں شکایات آتی ہیں جن کا تعلق سیاسی شعبے سے نہیں ہے کیونکہ اپنے سیاسی حقوق کی پامالی پر حکومت کے خوف سے خاموش ہوجاتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ اگر انھوں نے اس حوالے سے منہ کھولنے اور شکایت کرنے کی کوشش کی تو ان کا اور ان کے خاندان کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا: اس وقت سعودی عرب کی جیلوں میں 30 ہزار سے زائد سیاسی قیدی آل سعود کی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں جن کا جرم یہ ہے کہ وہ ملک میں سیاسی اصلاحات، بیان کی آزادی اور اس طرح کے دوسرے حقوق کا مطالبہ کررہے تھے۔ انھوں نے کہا ان قیدیوں کا تعلق تمام اسلامی فرقوں سے ہے اور ان میں سنی باشندوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو آل سعود کے اذیتکدوں میں اپنے عمر کے لمحے کاٹ رہے ہیں

Comments are closed.