Archive for 14/12/2011

روزنامہ المدینہ بھی گمراہ کن سعودی تشہیری مہم کی دوڑ میں شامل، منطقۃالشرقیہ میں وسیع احتجاجی مظاہروں اور سعودی مفکرین کے مذمتی بیان کے روزنامہ المدینہ بھی آل سعود سے وابستہ دوسرے ذرائع کی صف میں شامل ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق  مذکورہ بالا واقعات نے آل سعود اور اس کے وابستگان کو حیرت اور خوف کی ملی جلی کیفیت سے دوچار کردیا ہے اور آل سعود اور اس کے خفیہ اداروں کے پے رول پر چلنے والے اخبارات بھی اسی کیفیت میں مبتلا ہوکر گمراہ کن سعودی تشہیری مہم کا حصہ بن گئے تاہم المدینہ کو شاید بات دیر سے سمجھ میں آئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی روزنامے حتی کہ اشتہارات بھی ایجنسیوں کو دکھا کر شائع کرتے ہيں اور ملکی صورت حال پر ان کی نگاہ بہت سطحی ہے۔ بعض لوگوں نے سعودی صحافت کو مبارک دور میں مصری صحافت سے تشبیہ دی ہے مزید برآن سعودی صحافت پر ایک نظر ڈال کر غیرپیشہ ورانہ صحافت کے بے شمار نمونے دیکھے اور دکھائے جاسکتے ہیں۔ اور ان میں عوام کی رائے کی عکاسی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔  المدینہ نے اپنے آخری شمارے میں منطقۃالشرقیہ میں 2011 کے شروع سے آغاز ہونے والی عوامی تحریک کو یکسر انداز کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اس علاقے کے حالات معمول کے مطابق ہیں اور حال ہی میں ایک بلوائی گروپ کی فتنہ انگیزیوں کی ناکامی کے بعد اب وہاں امن و امان برقرارہے۔ المدینہ کی عبارات دیکھ کر لگتا ہے کہ چیف ایڈیٹر نے یہ بھی لکھنا چاہا ہوگا کہ “وہاں کے عوام شاہ عبداللہ اور سعودی مفتیوں اور نئے ولیعہد کے لئے شب و روز دعائیں دے رہے ہیں!۔ ان روزناموں کی یہ سطحی نگاہ اس بات کا پتہ بھی دے رہی ہے کہ شاید ان کو چلانے والی ایجنسیوں کی نگاہ اتنی ہی سطحی ہے اور خفیہ ایجنسیاں بھی ملک کے حقائق سے بالکل ناواقف ہیں۔ المدینہ نے دعوی کیا ہے کہ اس کے نامہ نگار نے شیعہ علاقوں میں جاکر عوام سے رابطہ کیا ہے لیکن انھوں نے کسی قسم کی شکایت ظاہر نہیں کی ہے!!۔

Advertisements

سعودی عرب کی انسانی حقوق سوسائٹی نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 5 سال کے عرصے میں آل سعود نے 30 ہزار مرتبہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔رپورٹ کے مطابق انسان حقوق سوسائٹی نے کہا ہے کہ ناقابل انکار شواہد موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ آل سعود کے حکمران ان انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ان واقعات میں براہ راست ملوث ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کے عوام کس قسم کے عذاب سے گذررہے ہیں۔  انسان حقوق سوسائٹی کے سربراہ “مفلح القحطانی” نے کہا کہ انہیں سعودی عرب میں انسانی حقوق کے خلاف ورزی کے حوالے سے ہزاروں دستاویزات اور شکایات موصول ہوئی ہین جن میں قیدیوں کے حوالے سے جرائم، روزمرہ زندگی میں شہریوں کے خلاف روا رکھے جانے والے جرائم، سیاسی، سرکاری اداروں میں روا رکھے جانے والے مظالم، سماجی اور مذہبی حوالوں سے خاندانوں کے اندر ہونے والے تشدد آمیز اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے دیگر واقعات سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے حوالے سے سرکاری اور عوامی سطح پر آگہی کا شدید فقدان ہے اور اگر حکومت شہریوں کے حقوق پامال کرتی ہے تو عوام کو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان کا کوئی بنیادی حق بھی ہے جو پامال ہورہا ہے چنانچہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے حوالے سے باریک بینانہ مطالعات کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا: ہماری سوسائٹی کے پاس ہزاروں شکایات آتی ہیں جن کا تعلق سیاسی شعبے سے نہیں ہے کیونکہ اپنے سیاسی حقوق کی پامالی پر حکومت کے خوف سے خاموش ہوجاتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ اگر انھوں نے اس حوالے سے منہ کھولنے اور شکایت کرنے کی کوشش کی تو ان کا اور ان کے خاندان کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا: اس وقت سعودی عرب کی جیلوں میں 30 ہزار سے زائد سیاسی قیدی آل سعود کی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں جن کا جرم یہ ہے کہ وہ ملک میں سیاسی اصلاحات، بیان کی آزادی اور اس طرح کے دوسرے حقوق کا مطالبہ کررہے تھے۔ انھوں نے کہا ان قیدیوں کا تعلق تمام اسلامی فرقوں سے ہے اور ان میں سنی باشندوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو آل سعود کے اذیتکدوں میں اپنے عمر کے لمحے کاٹ رہے ہیں

کابل : امریکا کے وزیر دفاع لیون پینیٹا افغان صدر حامد کرزئی اور وزیردفاع عبدالرحیم وردک سے آج کابل میں ملاقات کریں گے۔لیون پینیٹا منگل کو کابل پہنچے تھے جہاں انہوں نے امریکی فوج کے کمانڈڑ جنرل ایلن سے ملاقات کی تھی۔ اب صدر کرزئی اور وزیردفاع وردک سے بات چیت میں سیکیورٹی افغان حکام کے حوالے کرنے سے متعلق امور پر بات چیت کی جائیگی۔ جنرل ایلن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں امریکی فوج محض مشاورتی کردار ادا کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔پینیٹا کا دورہ ایسے وقت ہے جب پڑوسی ملک پاکستان سے امریکا کے تعلقات کشیدہ ہیں۔