شمسی ائیربیس کی تاریخ، خلیجی حکمرانوں نے 30 سال قبل بنوایا

Posted: 12/12/2011 in All News, Educational News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Survey / Research / Science News, USA & Europe

 نومبر26, 2011ء کو مہمند ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے بعد پاکستان نے امریکہ کو پندرہ دن کے اندر شمسی ائربیس خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا، جس کے بعد امریکہ نے اسے خالی کر دیا ہے۔  شمسی ائربیس صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 320 کلومیٹر دور جنوب مغربی ضلع واشک میں واقع ہے۔ یہ ائیرپورٹ تقریباً تیس سال قبل سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے حکمرانوں نے تعمیر کروایا تھا اور ہر سال گرمیوں کے موسم میں عرب شیوخ تلور کا شکار کرنے یہاں آیا کرتے تھے۔ سال 2001ء میں افغانستان میں طالبان حکومت کو گرانے اور القاعدہ کیخلاف آپریشن شروع کرنے کے لیے پہلی بار امریکی فوج نے شمسی ائربیس کا استعمال شروع کیا۔ سال 2002ء میں شمسی ائربیس کے قریب ایک امریکی فوجی طیارہ فنی خرابی کے باعث گر کرتباہ ہوا۔  سال 2001ء سے سال 2006ء تک امریکی اور نیٹو افواج نے شمسی ائیربیس کو باقاعدگی سے افغان طالبان اور القاعدہ کے خلاف استعمال کیا۔ امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستانی طالبان کے خلاف ڈرون حملوں کے لیے بھی شمسی ائیربیس کا استعمال کیا۔ 2009ء میں انکشاف ہوا کہ ڈرون طیارے شمسی ائیربیس سے پرواز کرتے ہیں۔   رواں سال اپریل میں پاکستان اور امریکہ نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ شمسی ائیربیس سے ڈرون پروازوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ تیرہ مئی 2011 ء کو پارلیمنٹ کے ان کیمرہ مشترکہ اجلاس میں عسکری قیادت نے انکشاف کیا کہ شمسی ائیربیس اس وقت پاکستان کے نہیں بلکہ عرب امارات کے کنٹرول میں ہے۔ چھبیس نومبر 2011ء کو مہمند ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے بعد پاکستان نے امریکہ کو پندرہ دن کے اندر شمسی ائربیس خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا، جس کے بعد امریکہ نے اسے خالی کر دیا ہے۔

Comments are closed.