ایران سے گیس، بجلی لے لی جائے تو ہماری آدھی سے زیادہ مشکلات ختم ہو جائیں، سردار آصف احمد علی

Posted: 12/12/2011 in All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Local News, Pakistan & Kashmir

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور اس کے پاکستان میں موجود نمک خوار اس منصوبے کی راہ میں رکاؤٹ ڈال رہے ہیں جس طرح کالا باغ ڈیم کا منصوبہ لپیٹ دیا گیا خدشہ ہے اسی طرح پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی امریکہ کنارے نہ لگوا دے۔پیپلز پارٹی کے سابق وزیر خارجہ و ممبر قومی اسمبلی سردار آصف احمد علی نے کہا ہے کہ ملک میں تمام خرابیوں کے ذمہ دار صدر زرداری نہیں، وزیراعظم گیلانی ہیں، آٹھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں ٹائم دیا نہ باہر، اب بھی وقت ہے کہ میرے تحفظات کا جواب دیا جائے، ملکی اداروں کو پیپلز پارٹی کے لوگوں نے نہیں بلکہ اتحادی ٹولے نے تباہ کیا ہے، ملکی معاملات چلانے کا فیصلہ میڈیا نے نہیں بلکہ صدر نے اپنی صحت دیکھ کر خود کرنا ہے۔  سردار آصف احمد علی نے کہا کہ حکومت اور پارٹی سے تحفظات ہر ممبر کا استحقاق ہوتا ہے، میرے پارٹی سے ذاتی نہیں بلکہ ملکی مفادات کے لئے تحفظات ہیں، ایک عرصہ تک پارلیمنٹ کے اندر اس حوالے سے شور مچاتا رہا ہوں، مگر آج تک میری کسی نے سنی اور نہ ہی میری کسی بات کا جواب دیا گیا، میری ذات کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئیں لیکن میں خاموش رہا، مگر اب ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔   انہوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رینٹل پاور سے بجلی کا نظام بہتر ہونے کی بجائے تباہ و برباد ہو گیا، میں نے پارلیمنٹ میں رینٹل پاور کی مخالفت کی، حکومت کو تحریری طور پر لکھا، لیکن کسی نے میری نہیں سنی، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اور قیمتیں بڑھنے سے عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے، ایران سے گیس اور بجلی لے لی جائیں تو ہماری آدھی سے زیادہ مشکلات ختم ہو جائیں گی، مگر امریکہ اور اس کے پاکستان میں موجود نمک خوار اس منصوبے کی راہ میں رکاؤٹ ڈال رہے ہیں۔ جس طرح کالا باغ ڈیم کا منصوبہ لپیٹ دیا گیا خدشہ ہے اسی طرح پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی امریکہ کنارے نہ لگوا دے، مگر اب عوام بیدار ہو چکے ہیں اور انہیں چاہیں کہ حکومت پر دباؤ ڈال کر اس منصوبے کو ختم نہ کرنے دیں۔   انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے، پی آئی اے، سٹیل مل سمیت دیگر اداروں کو تباہ و برباد کر دیا گیا، پاکستان کے اقتصادی حالات خراب کرنے میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور انکے اتحادی وزیروں کا ہاتھ ہے اور اسکی تمام تر ذمہ داری بطور چیف ایگزیکٹو وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے تحفظات کے حوالے سے صدر سے بھی بات کر چکا ہوں، گزشتہ آٹھ ماہ سے وزیراعظم سے ملاقات کی کوشش کر رہا ہوں، کئی کئی گھنٹوں انتظار کروانے کے بعد وزیراعظم ملاقات کرنے سے گریزاں ہیں۔  انہوں نے نواز شریف کے دورہ سندھ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو شہید کی قبر پر حاضری اور سندھ کا دورہ آئندہ انتخابات میں فائدہ لینے کے لئے کیا، میں اس بات کا گواہ ہوں کہ ماضی میں نواز شریف نے لاہور کے ایک جلسے میں کہا تھا کہ جب پیپلز پارٹی کا نام آتا ہے تو میرا خون کھول اٹھتا ہے اور دل کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو اٹھا کر بحیرہ عرب میں پھینک دوں، انکا حالیہ دورہ صرف انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کے لئے ہے، محترمہ شہید عالمی لیڈر تھیں نواز شریف تو اپنے فائدے کے لئے کالے چور کی قبر پر بھی جا سکتے ہیں۔ انہوں نے صدر زرداری کی علالت کے بعد افواہوں کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ افواہیں گرم رہتی ہیں، صدر علیل ہیں، اللہ تعالی انہیں شفاء دے۔

Comments are closed.