Archive for 12/12/2011

بحرین میں جاری انقلابی تحریک میں آل خلیفہ نے اپنے ملعون آباؤ اجداد کے کردار پر عمل کرتے ہوئے بحرین میں جاری پر امن مظاہروں میں زہریلی گیس کا استعمال کیا ہے جس کے سبب ٦ روزہ بچہ شہید ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرین کے دارلحکومت مناما میں جاری اسلامی بیداری کی تحریک کے سلسلہ میں جاری پر امن احتجاجی مظاہرے پر آل خلیفہ بن یزید ملعون انتظامیہ نے زبر دست زہریلی گیس کا اسپرے کر دیا جس کے سبب رہائشی علاقے میں ایک مکان میں موجود 6 روزہ بچہ سجاد فیصل جواد دم گھٹنے سے شہید ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی ناصبی افواج نے بحرین میں مسلسل کریک ڈاؤن کر رکھاہے اور ہر گلی محلہ میں پر امن مظاہرین کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہاہے۔ دوسری جانب 18 نومبر کو سعودی ناصبی اور آل خلیفہ انتظامیہ کے مظالم کا نشانہ بننے والی 28 سالہ زہرا صالح بھی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئی ہے،شہیدہ کے سر میں گہری چوٹ آئی تھی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ فروری سے شروع ہونے والی اسلامی بیداری کی تحریک کے نتیجہ میں آل خلیفہ نے شیعیان حیدر کرار کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتے ہوئے اب تک 53 افراد کو شہید کر دیا ہے جبکہ ہزاروںکی تعداد میں زخمی ہیں ،صرف یہی نہیں بلکہ ملک میں اداروں میں موجود شیعہ افراد کو نوکریوں سے نکالنے سمیت زخمیوں کا علاج کرنےوالے سیکڑوں ڈاکٹروں کو بھی نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے۔ ایک آزاد بحرینی کمیشن نے 23 نومبر کو اپنی ایک جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بحرین کی آل خلیفہ انتظامیہ پر امن مظاہرین کی جد وجہد کو کچلنے کے لئے ضرورت سے زیادہ طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں اب تک درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور سیکڑوں قیدی بنا لئے گئے ہیں تاہم اس آزاد کمیشن نے آل خلیفہ مظالم کی شدید الفاظ میںمذمت کی ہے۔

Advertisements

حسنی مبارک کی بیوی کی جانب سے عرب حکمرانوں کو جنسی فلم شائع کرنے کی دھمکی کے بعد اب شام کے صدر بشار اسد کی مشیر نے عرب رہنماؤں کو انکی جنسی فلم شائع کرنے کی دھمکی دی ہے۔النخیل سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حسنی مبارک کی بیوی کی جانب سے عرب حکمرانوں کو جنسی فلم شائع کرنے کی دھمکی دینے کے بعد اب شام کے صدر بشار اسد کی مشیر بثنیہ شعبان نے عرب رہنماؤں کو انکی جنسی فلم شائع کرنے کی دھمکی دی ہے۔  بثنیہ نے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے عرب رہنماؤں کو دھمکی دی ہے کہ ضرورت پڑنے پر ان کی سیکسی فلموں کو شائع کردیا جائے گا۔ انھوں نے کویت میں ایک شامی وفد کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ خلیج فارس کے تمام عرب حکمرانوں پر ثابت کریں گے ہمارے پاس  آپ کی رسوائی کے لئے کافی مواد موجود ہے اور ان کے جنسی اور سیکسی اسکینڈل کو انٹرنیٹ پر شائع کریں گے۔  اس سے قبل مصر کے معزول صدر حسنی مبارک کی بیوی سوزان مبارک نے قطر، سعودی عرب  اور بحرین کے حکمرانوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے حسنی مبارک کو بچآنے کے لئے کوئی اقدام نہ کیا تو وہ ان کی غیر اخلاقی جنسی فلمیں شائع کرےگی ذرائ‏ کے مطابق بحرین کے بادشاہ شیخ حمد بن آل خلیفہ نے  سوزان کی دھمکی کے بعد فوری طورپر مصر میں حسنی مبارک کے ساتھ خفیہ ملاقات کی تھی۔

 نومبر26, 2011ء کو مہمند ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے بعد پاکستان نے امریکہ کو پندرہ دن کے اندر شمسی ائربیس خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا، جس کے بعد امریکہ نے اسے خالی کر دیا ہے۔  شمسی ائربیس صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 320 کلومیٹر دور جنوب مغربی ضلع واشک میں واقع ہے۔ یہ ائیرپورٹ تقریباً تیس سال قبل سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے حکمرانوں نے تعمیر کروایا تھا اور ہر سال گرمیوں کے موسم میں عرب شیوخ تلور کا شکار کرنے یہاں آیا کرتے تھے۔ سال 2001ء میں افغانستان میں طالبان حکومت کو گرانے اور القاعدہ کیخلاف آپریشن شروع کرنے کے لیے پہلی بار امریکی فوج نے شمسی ائربیس کا استعمال شروع کیا۔ سال 2002ء میں شمسی ائربیس کے قریب ایک امریکی فوجی طیارہ فنی خرابی کے باعث گر کرتباہ ہوا۔  سال 2001ء سے سال 2006ء تک امریکی اور نیٹو افواج نے شمسی ائیربیس کو باقاعدگی سے افغان طالبان اور القاعدہ کے خلاف استعمال کیا۔ امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستانی طالبان کے خلاف ڈرون حملوں کے لیے بھی شمسی ائیربیس کا استعمال کیا۔ 2009ء میں انکشاف ہوا کہ ڈرون طیارے شمسی ائیربیس سے پرواز کرتے ہیں۔   رواں سال اپریل میں پاکستان اور امریکہ نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ شمسی ائیربیس سے ڈرون پروازوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ تیرہ مئی 2011 ء کو پارلیمنٹ کے ان کیمرہ مشترکہ اجلاس میں عسکری قیادت نے انکشاف کیا کہ شمسی ائیربیس اس وقت پاکستان کے نہیں بلکہ عرب امارات کے کنٹرول میں ہے۔ چھبیس نومبر 2011ء کو مہمند ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے بعد پاکستان نے امریکہ کو پندرہ دن کے اندر شمسی ائربیس خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا، جس کے بعد امریکہ نے اسے خالی کر دیا ہے۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور اس کے پاکستان میں موجود نمک خوار اس منصوبے کی راہ میں رکاؤٹ ڈال رہے ہیں جس طرح کالا باغ ڈیم کا منصوبہ لپیٹ دیا گیا خدشہ ہے اسی طرح پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی امریکہ کنارے نہ لگوا دے۔پیپلز پارٹی کے سابق وزیر خارجہ و ممبر قومی اسمبلی سردار آصف احمد علی نے کہا ہے کہ ملک میں تمام خرابیوں کے ذمہ دار صدر زرداری نہیں، وزیراعظم گیلانی ہیں، آٹھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں ٹائم دیا نہ باہر، اب بھی وقت ہے کہ میرے تحفظات کا جواب دیا جائے، ملکی اداروں کو پیپلز پارٹی کے لوگوں نے نہیں بلکہ اتحادی ٹولے نے تباہ کیا ہے، ملکی معاملات چلانے کا فیصلہ میڈیا نے نہیں بلکہ صدر نے اپنی صحت دیکھ کر خود کرنا ہے۔  سردار آصف احمد علی نے کہا کہ حکومت اور پارٹی سے تحفظات ہر ممبر کا استحقاق ہوتا ہے، میرے پارٹی سے ذاتی نہیں بلکہ ملکی مفادات کے لئے تحفظات ہیں، ایک عرصہ تک پارلیمنٹ کے اندر اس حوالے سے شور مچاتا رہا ہوں، مگر آج تک میری کسی نے سنی اور نہ ہی میری کسی بات کا جواب دیا گیا، میری ذات کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئیں لیکن میں خاموش رہا، مگر اب ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔   انہوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رینٹل پاور سے بجلی کا نظام بہتر ہونے کی بجائے تباہ و برباد ہو گیا، میں نے پارلیمنٹ میں رینٹل پاور کی مخالفت کی، حکومت کو تحریری طور پر لکھا، لیکن کسی نے میری نہیں سنی، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اور قیمتیں بڑھنے سے عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے، ایران سے گیس اور بجلی لے لی جائیں تو ہماری آدھی سے زیادہ مشکلات ختم ہو جائیں گی، مگر امریکہ اور اس کے پاکستان میں موجود نمک خوار اس منصوبے کی راہ میں رکاؤٹ ڈال رہے ہیں۔ جس طرح کالا باغ ڈیم کا منصوبہ لپیٹ دیا گیا خدشہ ہے اسی طرح پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی امریکہ کنارے نہ لگوا دے، مگر اب عوام بیدار ہو چکے ہیں اور انہیں چاہیں کہ حکومت پر دباؤ ڈال کر اس منصوبے کو ختم نہ کرنے دیں۔   انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے، پی آئی اے، سٹیل مل سمیت دیگر اداروں کو تباہ و برباد کر دیا گیا، پاکستان کے اقتصادی حالات خراب کرنے میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور انکے اتحادی وزیروں کا ہاتھ ہے اور اسکی تمام تر ذمہ داری بطور چیف ایگزیکٹو وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے تحفظات کے حوالے سے صدر سے بھی بات کر چکا ہوں، گزشتہ آٹھ ماہ سے وزیراعظم سے ملاقات کی کوشش کر رہا ہوں، کئی کئی گھنٹوں انتظار کروانے کے بعد وزیراعظم ملاقات کرنے سے گریزاں ہیں۔  انہوں نے نواز شریف کے دورہ سندھ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو شہید کی قبر پر حاضری اور سندھ کا دورہ آئندہ انتخابات میں فائدہ لینے کے لئے کیا، میں اس بات کا گواہ ہوں کہ ماضی میں نواز شریف نے لاہور کے ایک جلسے میں کہا تھا کہ جب پیپلز پارٹی کا نام آتا ہے تو میرا خون کھول اٹھتا ہے اور دل کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو اٹھا کر بحیرہ عرب میں پھینک دوں، انکا حالیہ دورہ صرف انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کے لئے ہے، محترمہ شہید عالمی لیڈر تھیں نواز شریف تو اپنے فائدے کے لئے کالے چور کی قبر پر بھی جا سکتے ہیں۔ انہوں نے صدر زرداری کی علالت کے بعد افواہوں کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ افواہیں گرم رہتی ہیں، صدر علیل ہیں، اللہ تعالی انہیں شفاء دے۔

کربلائے معلی میں عاشورا کے دن 65 لاکھ سے زائد عزاداران امام مظلوم نے مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ عاشور منایا۔  نومحرم کی شام تک 35 لاکھ سے زائد عزادار اور زائرین عراق کے دوسرے شہروں سے پیدل جل کے ماتمی دستوں کی شکل میں کربلائے معلی پہنچ چکے تھے۔ اگر چہ اس درمیاں راستے میں دہشت گردوں نے حملے کئے ان کے راستے میں بم دھماکے کئے لیکن کوئي بھی چیز عزاداران حضرت سید الشہدا علیہ السلام کے عزم میں رکاوٹ نہ بن سکی اور کئي دن کی پیدل مسافت طے کرنے کے بعد وہ کربلائے معلی پہنچ گئے جہاں انہوں نے شب عاشور حضرت امام حسین اور علمدار کربلا حضرت ابو الفضل العباس علیھماالسلام کے روضوں اور بین الحرمین میں عزاداری اور سینہ زنی کرتے ہوئے گزاری، کربلاے معلی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عاشورا کی ظہر تک مزید 12 لاکھ زائرین کربلائے معلی پہنچ چکے تھے۔ شہر کربلائے معلی کی انتظامیہ کے مطابق اس وقت پچاس لاکھ سے زائد زائرین اور عزادار موجود ہے۔ روضہ ہائے مبارک اور بین الحرمین میں نماز صبح کے بعد ہی سے عزاداری کےجلوس اور ماتمی دستے آنا شروع ہوگئے اور یہ سلسلہ پورے دن جاری رہا۔ کربلائے معلی میں عراق کے دوسرے علاقوں سے آنے والے 50 لاکھ عزاداروں کےعلاوہ ایران، ہندوستان، اور پاکستان سمیت دنیا کے پچيس سے زائد ملکوں کے 15 لاکھ زائر بھی عاشور میں شرکت کرنے کے لئے کربلا معلی پہنچے ہیں۔ نجف اشرف، کاظمین، سامرا اور بغداد سمیت عراق کے دیگر شہروں اور قریوں میں بھی عاشورا عقیدت و احترام کےساتھ منایا جارہا ہے۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں بھی لاکھوں سوگواروں نے عاشورا کی مناسبت سے ثانی زہرا حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے روضہ مبارک میں عاشور کا دن عزاداری اور نوحہ و ماتم میں بسرکیا۔ عاشور کی مناسبت سے لبنان اور دیگر عرب ملکوں میں بھی عزاداری کے جلوس نکالے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بحرین اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں سختیوں اور سرکاری افواج کے تشدد کے باوجود عاشقان محمد و آل محمد علیھم السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کا سوگ منایا اور مجالس عزا منعقد کیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے نائب سربراہ حسین ابراہیمی نے کہا ہے ایران تیل کے عظیم ذخائر کا حامل ہے اور اسے تیل فروخت کرنے کے لئے منڈیوں کی کمی نہیں ہے۔  حسین ابراہیمی نے پارلیمنٹ نیوز سے گفتگو میں مغربی ملکوں کی جانب سے ایران کے تیل کے بائيکاٹ کے منصوبے کو غیر دانشمندانہ قرار دیا اور کہا اگر ایران کے تیل کا بائیکاٹ کیا گيا تو مغرب کی صنعتیں مشکلات کی زد میں آجائيں گي۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ملکوں کے ساتھ ایرانی تیل کے معاملات بہت تھوڑے ہیں اور ایران نے ایک مدت سے یہ اسٹریٹجی بنا رکھی ہے کہ اپنا تیل ان ملکوں کو فروخت کرے گا جو امریکہ کے زیر اثر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ سے واضح ہے کہ جہاں تیل ہے وہاں اس کے خریدار بھی ہیں۔  یاد رہے یورپی یونین نے ایران کی ایک سو اسی 180 شخصیات اور کمپنیوں کی فہرست جاری کی ہے جن پر اس نے حال ہی میں نئي پابندیاں لگائي ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایران پر نئے سرے سے پابندیاں لگائي ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے امریکہ کی جانب سے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو ایک جارحانہ اقدام قرار دیا ہے۔  فارس خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق علی اکبر صالحی نے آج تہران میں نیمیبیا کے وزیر خارجہ یوتونی نجوما کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکہ کے بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے کے ایران کی فضائی حدود میں داخلے کے بارے میں کہا کہ ایران امریکہ کے اس جارحانہ اقدام کا مسئلہ اقوام متحدہ کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم ، ناوابستہ تنظیم اور دوسری عالمی تنظیموں میں بھی اٹھاۓ گا۔ علی اکبر صالحی نے اس بات کو بیان کرتے ہوۓ کہ امریکہ کے بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے کو اپنے کنٹرول میں لینے پر مبنی اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی کامیابی امریکہ اور دوسرے جارح ممالک کے لۓ عبرت کا باعث ہونی چاہۓ کہا کہ ایران ہمیشہ چوکس رہتا ہے اور وہ اپنے قومی اقتدار اعلی کا دفاع کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ میں شدت پیدا کرنے کی تاکید کرتے ہوۓ دعوی کیا ہے کہ تہران اس وقت شدید پابندیوں کی زد میں ہے۔ باراک اوباما نے مزید دعوی کیا کہ ایران آج عالمی سطح پر الگ تھلگ ہوچکا ہے جبکہ عالمی برادری متحد ہے اور تہران پر شدید ترین پابندیاں لگائي جا چکی ہیں۔ امریکی حکام جن پابندیوں کی بات کررہے ہیں ان میں ایران کے تیل اور سنٹرل بینک پر لگائي جانے والی پابندیاں سرفہرست ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب یورپی یونین میں واشنگٹن کے قریبی اتحادی بھی ایران پر لگائي جانے والی پابندیوں کے سلسلے میں امریکہ کا ساتھ دینے کے بارے میں تشویش میں مبتلاء ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کے تیل پر پابندی سے امریکہ اور اس سے بڑھ کر یورپ کے اقتصاد پر بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب مشرق وسطی کی تیزی سے بدلتی ہوئي صورتحال اور اس خطے میں امریکہ کی مداخلت کی وجہ سے توانائی کے بارے میں مختلف خدشات پاۓ جاتے ہیں۔ بہت سے ماہرین کا کہنا ہےکہ باراک اوباما اس طرح کے بیانات کے برعکس ایران کے خلاف لگائی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی وجہ سے تشویش میں مبتلاء ہیں لیکن چونکہ وائٹ ہاؤس پر صیہونی لابی کا دباؤ ہے اس لۓ وہ آئندہ کے صدارتی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لۓ ایران سے متعلق امریکہ کی خارجہ پالیسی کو ایک حربے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ اس لۓ امریکی حکام کے رویۓ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ البتہ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ روس اور چین جیسے ممالک کہ جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں یا یورپی یونین کے اراکین ، کہ جن کو وائٹ ہاؤس اپنے اتحادی قرار دیتا ہے اس سلسلے میں واشنگٹن کی پیروی گے۔ اقتصادی اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ خطے میں قیام امن کے سلسلے میں ایران کے کلیدی کردار کے پیش نظر اور توانائی کا اہم حصہ برآمد کرنے والا ملک ہونے کے ناتے نیز دوسری متعدد وجوہات کی بنا پر ایران پر دباؤ کے لۓ امریکہ کے منظور نظر اتحاد کی تشکیل کا دعوی بالکل بے بنیاد ہے۔ اور یہ جو جمعے کے دن برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں تہران کے خلاف زیادہ پابندیوں کا مطالبہ کیا گيا لیکن ان پابندیوں پر عملدرآمد کو آئندہ مہینوں تک کے لۓ ملتوی کردیا گيا ہے تو اس سے بھی ہماری اسی بات کی ہی تصدیق ہوتی ہے۔ یورپی یونین کے وزراۓ خارجہ نے گزشتہ ہفتے ایران کی توانائی ، بینکنگ اور نقل و حمل کے شعبوں میں نئی پابندیوں سے اتفاق کیا تھا لیکن اٹلی ، یونان اور اسپین سمیت بعض ممالک نے اس بارے میں اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب امریکہ برسوں سے ایران کو نقضان پہنچانے کے لۓ اپنے تمام تر وسائل بروۓ کار لا رہا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لۓ امریکی کانگریس سالانہ دوسو ملین ڈالر کا بجٹ مختص کرتی ہے۔ امریکہ نے یورپی یونین کے بعض ممالک اور جاپان کی مدد سے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے لۓ اقدامات انجام دیۓ ہیں اور ایران کی بعض کمپنیوں ، بینکوں ، افراد حتی ایٹمی ماہرین پر پابندیاں لگا رکھی ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد میں ذکر شدہ ایران کے بعض ایٹمی سائنسدانوں پر دہشتگردانہ حملے کر کے ان کو شہید بھی کردیا گیا ہے ۔ بہرحال ایران کے خلاف امریکہ کے مخفی اور علانیہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے اقدامات کا نتیجہ امریکہ کی مزید ذلت و رسوائی کے سوا کچھ اور برآمد ہونے والا نہیں ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے نائب سربراہ ایڈمرل غلام رضا خادم بی غم نے کہا ہے کہ ایران کی بحریہ  بین الاقوامی سمندروں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائے گی۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق غلام رضا خادم بی غم نے آج مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ ایک اسٹریٹیجک فوجی طاقت کے ناطے اب بھی ایران کے مفادات کے تحفظ کے لۓ بین الاقوامی پانیوں میں بھر پور انداز میں موجود ہے۔ غلام رضا خادم بی غم نے اس بات کو بیان کرتے ہوۓ کہ ایران ان تمام اقدامات پر نظر رکھے ہوۓ ہے جو خطے سے باہر کے فوجی اس خطے میں انجام دیتے ہیں، کہا کہ ایران ان اقدامات پر اس لۓ نظر رکھے ہوۓ ہے تاکہ کسی بھی طرح کے ممکنہ واقعے کے رونما ہونے کی صورت میں دشمن کے خلاف ضروری کارروائی کی جاۓ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے نائب سربراہ نے مزید کہا کہ ایران کی بحریہ دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لۓ جدید ترین ساز وسامان سے لیس ہے۔

شام میں امریکی اور اسرائیلی مسلح دہشت گردوں نے ایک بار پھر شام کی عوام کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شام میں کل ایک بار پھر امریکی اور اسرائیلی مسلح دہشت گردوں نے اس ملک کے متعدد شہروں پر حملے کۓ جن کے نتیجے میں اس ملک کے بارہ شہری ہلاک ہوگۓ ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی مسلح دہشت گردوں نے بعض یورپی ممالک اور ترکی کی مدد سے شام کے ایدلب ، حمص اور درعا شہروں پر حملے کۓ ۔ ان حملوں کے دوران شام کے بارہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ واضح رہے کہ شام کے حکام کی جانب سے اس ملک میں تدریجا سیاسی اور اقتصادی اصلاحات پر عملدرآمد کی تاکید کے باوجود حکومت کے مخالفین بعض گروہوں نے غیر ملکی عناصر کے ایماء پر مظاہرین کی صفوں میں شامل ہو کر شام کے بعض شہروں میں بدامنی کا شکار کردیا ہے۔

عراق کے سابق وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے شام کے حالات سے متعلق عرب لیگ کے موقف پر تنقید کی ہے۔  ابراہیم جعفری نے مہر خبررساں ایجنسی سے گفتگو کے دوران شام کے حالات سے متعلق عرب لیگ کے موقف کے بارے میں کہا کہ شام کے خلاف عرب لیگ کا موقف منطقی اور معقول نہیں ہے کیونکہ عرب لیگ کے قیام کا مقصد عرب ممالک کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کو تقویت دینا ہے لیکن اب اس نے تمام عرب ممالک کو شام کے خلاف متحد کردیا ہے۔  ابراہیم جعفری نے مزید کہا کہ عرب لیگ نے مسئلہ فلسطین اور شام کے مقبوضہ علاقے جولان سمیت عرب دنیا کے بہت سے مسائل کے بارے میں خاموشی سادھ رکھی ہے جبکہ بہت ہی کم عرصے میں اس نے شام کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔  ادھر شام میں متعین اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر محمد رضا رئوف شیبانی نے کہا ہے کہ تہران دباؤ کے مقابلے میں شام کی حمایت کرے گا۔ محمد رضا شیبانی نے خطے کی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان امریکہ اور صیہونی حکومت کو ہوا ہے اور شام کے دشمنوں نے اس خطے کے لۓ بہت بڑی سازش تیار کر رکھی ہے۔