Archive for 11/12/2011

ان دنوں امریکہ کے ایران مخالف اقدامات میں وسعت آگئی ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے  بی بی سی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوۓ اس سلسلے میں ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے اور ایران کے داخلی مسائل کا ذکر کرتے ہوۓ دعوی کیا ہےکہ امریکی حکومت ایرانی عوام کی حمایت کرتی ہے۔ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ واشنگٹن بقول ان کے ایرانیوں کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے کے لۓ  ایک آن لائن سفارت خانہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ایرانیوں کے لۓ امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے اور امریکہ آنے کے لۓ ویزہ حاصل کرنے سے متعلق معلومات فراہم کرنےکا آسان راستہ ہموار کرسکے۔ امریکی وزارت خارجہ نے دوسرے ممالک کے امور میں مداخلت کا یہ نیا دروازہ کھول کر منگل کے دن اعلان کیا کہ ویب سائٹ پر ایران میں امریکہ کا آن لائن سفارت خانہ قائم کردیا گيا ہے جو ایران اور امریکہ کے درمیان اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد  براہ راست تعلقات کے منقطع ہونے کے بعد اب ایرانی عوام اور امریکہ کے درمیان ایک پل کا کام دے سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے امریکہ کے اس اقدام کے خلاف اپنا ردعمل ظاہرکیا ہے اور وائٹ ہاؤس کے اس طرح کے اقدامات کو پرفریب قرار دیتے ہوۓ کہا ہے کہ ان اقدامات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ امریکی حکومت اس بات کی معترف ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرکے اور ملت ایران سے روگردانی کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ اس کے ساتھ رامین مہمان پرست نے یہ بھی کہا ہےکہ امریکی حکومت کے اس طرح کے اقدامات سے نہ تو اس غلطی کا ازالہ ہوگا اور نہ ہی جیسا کہ کہا گیا ہے امریکہ کا پیغام ملت ایران تک منتقل ہوگا۔ رامین مہمان پرست نے امریکی حکومت کو نصیحت کی کہ وہ ماضی سے سبق سیکھ کر ایران کی عظیم ملت کے سلسلے میں نیک نیتی کے ساتھ اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لاۓ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے گزشتہ بتیس برسوں کے دوران اسلامی بیداری کے مرکز اسلامی جمہوری نظام کو نقصان پہنچانےکی بہت زیادہ کوشش کی ہے۔ امریکی حکام ایسی حالت میں اپنے آپ کو ایرانی عوام کا ہمدرد ظاہر کرنے اور اپنے خیال باطل کےمطابق اسلامی نظام اور عوام کے درمیان فاصلہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں کہ جب وہ ملت ایران کے خلاف کی جانے والی بہت سی سازشوں اور دہشتگردانہ واقعات میں ملوث ہیں۔ اب بھی امریکی وزارت خارجہ نے آئن لائن سفارت خانے کے قیام اور اس کے جواز کے سلسلے میں کہا ہے کہ تمام اعتراضات اور مخالفتوں کے باوجود امریکہ بقول ان کے ایرانی عوام اور ایرانی معاشرے کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے کی اپنی کوشش جاری رکھے گا۔ حقیقت یہ ہےکہ ملت ایران کے ساتھ براہ راست مقابلے میں ناکامی کے بعد امریکی حکام اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ ان کو ایران کے عوام اور نظام کے درمیان اختلافات ڈال کر ایران کو اندر سے کھوکھلا اور کمزور کرنے کے نظریۓ پر عمل کرنا چاہۓ۔ واضح رہے کہ امریکہ پہلے بھی اپنی اس طرح کی کوششوں میں ناکام ہوچکا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام کہ جسے امریکی وزارت خارجہ کے حکام آن لائن سفارت خانے سے تعبیر کررہے ہیں بین الاقوامی تعلقات اور حقوق میں غیر قانونی اقدام شمار ہوتا ہے اور واضح سی بات ہےکہ  ایران اس کے خلاف قانونی کارروائی پر مبنی اپنا حق محفوظ سمجھتا ہے۔

Advertisements

اب اس بات کا سب کو یقین آگیا ہے کہ امریکی سامراجی پالیسیوں کا ستارہ ان دنوں شدید گردش میں ہے اور اسے فوجی سیاسی اور اقتصادی ہر محاذ پر بری طرح یکے بعد دیگر ے شکست ہوتی جارہی ہے عراق سے اسے رسوائی کے ساتھ نکلنا پڑ رہا ہے تو اقتصادی اعتبار سےوہ اپنی سامراجی حیات کی تاریخ ميں اب تک کے بدترین دور سے گذر رہا ہے اور سیاسی میدان میں بھی اگر دیکھا جائے تو اس کی شکست کوئي نئی بات نہيں ہے چنانچہ واشنگٹن نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں ایران کے خلاف رپورٹ تیار کرانے میں جتنی مالی اورسیاسی سرمایہ کاری کی تھی وہ نہ صرف رائگاں گئی بلکہ اس نے اپنی عزت کا جنازہ نکالنے کے ساتھ ساتھ ایجنسی کی ساکھ کو بھی بری طرح نقصان پہنچایا اور ایجنسی کے ڈائریکٹر یوکیا آمانو کو بھی کہيں کا نہ چھوڑا ۔ جمعہ کو آئی اے ای کے بورڈ آف گورنرکے اجلاس کے دوران امریکا نے اپنی اس ایران مخالف رپورٹ کے سہارے اسلامی جمہوریہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے معاملے کو ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کی کونسل میں لے جانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا جو اس نے یوکیا آمانو کی عزت کا سودا کرکے تیار کرائی تھی مگر اس بار بورڈ آف گورنرز میں جتنی زیادہ رسوائي امریکا اور خود ایجنسی کے ڈائریکٹر کو ہوئی تھی اس کی مثال اسے سے پہلے کبھی نہيں ملتی.  جس وقت امریکا نے اپنی مرضی کی تیار شدہ ایجنسی کے ڈائریکٹر کی رپورٹ کی بنیاد پر ایران کے ایٹمی پروگرام کے معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کے لئے قرارداد منظور کرانے کی کوشش کی اس پر روس چین اور ایک سو بیس ملکوں کی نمائندہ ناوابستہ تحریک کے ممبران نے شدید مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے مذکورہ رپورٹ کی دھجیاں اڑاڈالیں اور سب سے ایک زبان ہوکر کہا کہ اس رپورٹ کی نہ تو کئی قانونی حیثيت ہے اور نہ ہی اس میں کوئی نئي بات ہے روس چین اور ناوابستہ تحریک کے رکن ملکوں کے نمائندوں نے کہاکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف یہ رپورٹ محض سیاسی بنیادوں پر تیار کي گئی ہے اوریوں امریکا اور اس کے بعض اتحادی ممالک ایران کے ایٹمی معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کے سلسلے میں اپنی کوششوں میں بری طرح ناکام ہوئے ۔ امریکا اور مغربی ملکوں کو بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اس قدر ذلت و شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا کہ ان میں سے کسی نے بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا سامنا تک نہيں کیا جمعہ کو بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں جو بیان جاری کیا اس میں امریکا کی ہر بات کو مسترد کردیا گیا اور حتی خود آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا آمانوکی رپورٹ کی بھی تائید نہیں کی گئ اور جو بیان ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں جاری کیا گیا ہے وہ بہت ہی مضحکہ خیز ہے سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ بورڈ آف گورنرز نے اپنے اجلاس میں جس طرح سے امریکا اور ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے بیان تیار کیا ہے اس سے ایجنسی کے سربراہ کی بری طرح رسوائی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کو جسے توقع تھی کہ اس کے آقا امریکا کی کوششوں کے تحت ایک بار پھر ایران کےایٹمی معاملے کو سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے گا جمعہ کو بورڈ آف گورنرز کے فیصلے پر سخت مایوسی ہوئی ہے ۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے امریکا کے جیسے سامراجی ملکوں لئے ذلت و رسوائی کوئی معنی نہيں رکھتی ہے اور وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اپنی عزت و آبرو کو بھی داؤں پر لگانے کے لئے تیار رہتے ہیں لیکن ساتھ ہی ان مبصرین کا کہنا ہے کہ اب امریکا اور دیگر سامراجی ممالک کے لئے جو ہر محاذ پر شکست سے دوچار ہوتے جارہے ہیں اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا روز بروز مشکل ہوتا جائےگا کیونکہ ان کے سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادیں بری طرح لرزاٹھی ہیں اور سرمایہ دارانہ اور نام نہادلبرل ڈیموکریسی کا نظام اب اپنی آخری سانسیں لینے لگا ہے ۔

اسلام آباد: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے آئندہ فضائی حدود میں داخل ہونیوالے ڈرون طیاروں کو مار گرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی ٹی وی ایم ایس این بی سی نے پاکستانی فوجی حکام کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ نیٹو سپلائی کی بندش کے بعد پاکستان اپنی فوجی حکمت عملی میں بھی تبدیلی لاچکا ہے اور اسی تبدیلی کے حوالے سے آئندہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونیوالے ڈرون طیاروں کو بھی مار گرایا جائیگا۔ رپورٹ کیمطابق پاکستانی حدود میں داخل ہونیوالے ڈرون سمیت کسی بھی طیارے کو نہ صرف مار گرایا جائے گا بلکہ پاکستان فضائی حدود کی خلاف ورزی کو دشمنی خیال کریگا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے نیٹو حملے کے بعد  دفاعی پالیسی کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی ہیں جن میں ڈرون طیاروں کو مارگرانے کی ہدایات بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد: پاکستان نے امریکہ کی جانب سے نیٹو کی سپلائی بحال نہ کرنے کی صورت میں ممکنہ سنگین نتائج کی دھمکیاں مسترد کرتے ہوئے امریکی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ وہ نیٹو کے لئے سامان کی سپلائی معطل رکھنے کے فیصلے پر برقرار ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جائیگا اور نہ ہی دبائو قبول کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں تعینات امریکی سفیر کیمرون منٹر نے محکمہ دفاع پنٹا گون کی جانب سے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کو ایک دھمکی آمیز پیغام پہنچایا ہے جس میں پینٹا گون کی جانب سے انتباہ دیا گیا ہے کہ اگر نیٹو کی سپلائی معطل رہی تو اس صورت میں پاکستان کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے بعد وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے عسکری اور سیاسی قیادت سے مشورے کے بعد امریکی الٹی میٹم اور دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو سپلائی بند کرنے کا فیصلہ حتمی ہے جس میں فی الحال کسی قسم کی تبدیلی متوقع نہیں، وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نیٹو سپلائی بحال کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ  پارلیمنٹ کے اجلاس میں کیا جائیگا جبکہ دوسری جانب مغربی سرحدوں پر سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لینے، نیٹو سپلائی اور اہم امور پر غور کے لئے کور کمانڈروں کا اجلاس بھی رواں ہفتے جی ایچ کیو میں طلب کر لیا گیا ہے۔

واشنگٹن: ایک امریکی تھنک ٹینک نے آئندہ سال دو ہزار بارہ میں امریکہ کیلئے مزید خطرات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ تنازع سعودی عرب میں عدم استحکام اور یورو بحران کی صورت میں بڑے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ جبکہ پاک امریکہ تنازعہ پاک بھارت کشیدگی سے بھی بڑا خطرہ ہیں۔ کونسل آن فارن ریلیشن سنٹر کی جانب سے ماہرین اور امریکی حکام کی مدد سے کئے گئے ایک سروے کے بعد نئے تنازعات کی ایک فہرست جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یورو بحران امریکہ کیلئے ایک بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہے اور یہ بحران امریکہ کو کساد بازاری کی جانب دھکیل سکتا ہے۔ تنازعات کی نئی فہرست میں تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ پیدا ہونے والا حالیہ تنازعہ سعودی عرب میں عدم استحکام کی فضاء، پاکستان کی اندرونی صورت حال، چین کے ساتھ کشیدگی وہ تنازعات ہیں جو آئندہ سال امریکہ کیلئے ایک بڑے خطرے کی صورت میں موجود ہیں جبکہ سال 2011 میں میکسیکو میں تشدد، ایران، شمالی کوریا ایٹمی تنازعات، چین کے ساتھ کشیدگی اور پاکستان میں عدم استحکام کی صورت میں امریکہ کیلئے بڑے تنازعات اور خطرے کی صورت میں موجود تھے۔ کونسل آف فارن ریلیشن کے ایک ساتھی میکا زینکو نے بتایا کہ یہ سروے امریکی حکومت کے آئندہ کے حالات پر عدم توجہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں کمزوری کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ انہوں نے امریکی پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ مستقبل کے چیلنجز اور خطرات پر توجہ دیں۔

امریکی سپیشل فورسز کے سربراہ ایڈمرل ویلم ایچ میک راون نے کہا ہے کہ نیٹو کی جانب سے پاکستان کے خلاف افغانوں کو مسلح کرنے کے پلان کو وسعت دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ افغان اپنے دیہاتوں کا دفاع کر سکیں، حقانی نیٹ ورک سخت فائٹرز پر مشتمل ہے۔  امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صحافیوں کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف اس پلان کو اگلے سال تک وسعت دی جائے گی۔  انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کم ہوگئی ہے۔  انہوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کے اہلکار سخت جنگجو ہیں اور بہتر طور پرمسلح ہیں اور افغانستان اور پاکستان میں ان کا نیٹ ورک ہے تاہم اس نیٹ ورک کو پاکستان کی مکمل حمایت حاصل نہیں ہے۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بھی مسئلے کے حل کا حصہ ہے اور پاکستانیوں سے مختلف سطح پر ڈائیلاگ ہوسکتا ہے۔

نئی دہلی: بھارت میں کرپشن اورنا انصافی کے خلاف کھڑے رہنے والے رہنما انا ہزارے ایک بار پھر بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں، جس نے ایک بار پھر بھارت کے حکمرانوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ نئی دہلی آمد کے بعد انا ہزارے نے اپنی جدو جہد کو دوسری جنگ آزادی قرار دیا ہے۔ انا ہزارے کی یہ دوسری بھوک ہڑتال بھارتی پارلیمنٹ میں لوک پال بل مسترد کئے جانے کے خلاف ہے۔ انا ہزارے کا کہنا ہے کہ بھارت کو اب تک آزادی نہیں ملی ہے۔ صرف گورا آقا اپنے پیچھے لاکھوں لاشیں اور کالے انگریز چھوڑ گیا۔ کون سی آزادی اور کیسی آزادی۔ بھارت کے عوام کو تو اب تک آزادی کا ذائقہ بھی چکھنے کو نہیں ملا ، انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے لوک پال بل میں جو کمزوری دکھائی ہے۔ اس سے ان کے دیش میں کرپشن کے خاتمے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔

واشنگٹن: امریکہ میں کتے کی طرح بھونکنے اور کاٹنے والی مچھلی دریافت کرلی گئی ۔ امریکی ماہرین کے مطابق امریکہ میں ایک منفرد مچھلی پائی جاتی ہے جو کتے جیسی صفات رکھتی ہے۔ ماہرین پرینہا نامی مچھلی پر مختلف تجربات کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ یہ مچھلی دیگر مچھلیوں کی نسبت تین طرح کی مختلف آوازیں نکالتی ہے پہلی آواز اس وقت نکالتی ہے جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہے دوسری آواز یہ اس وقت نکالتی ہے جب یہ گول دائرے میں تیرنا شروع کر تی ہے اور یہ آواز پہلی کی نسبت باریک مگر تیز ہوتی ہے اور آخری آواز سب سے زیادہ تیز ہوتی ہے جب وہ شکار پر وار کرنے لگتی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوران وہ کتے کی طرح بھونکتی اور کاٹتی ہے

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ انسان اور انسانیت کے احترام کا درس اگرچہ تمام مذاہب میں ملتا ہے لیکن اس موضوع پر قرآنی احکامات اور سیرت انبیا و آئمہ کی موجودگی میں اسلام کو یہ امتیازحاصل ہے کہ انسانی حقوق اور انسانیت کے احترام کے حوالے سے اسلام ہر مذہب، ہر مسلک ، اور ہر موقف سے زیادہ مضبوطی اور وسیع النظری کا حامل ہے۔عالم انسانیت کا شرف ، تحفظ انسان اور انسانیت دونوں کے حقوق کا لحاظ رکھناضروری ہے۔چنانچہ  پیغمبر گرامی  ۖ  نے بلا تفریق مذہب پوری کائنات کے انسانوں کو ہدایت فرمائی اور ان کی عزت و تکریم اور حقوق کا خیال رکھا۔ہمیں خلوص نیت سے انسانیت کی فلاح و بہبود اور انسان کی ترقی و تحفظ کے لئے خدمات انجام دینا چاہیے اور عملی طور پر جدوجہد کرکے انسانی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے ۔  انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ انسانوں کو ان کے بنیادی اور انسانی حقوق کی فراہمی مہذب معاشروں میں انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔اس سے نہ صرف انسانی عزت و وقار اور تشخص میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ظلم’ ناانصافی’ بے عدلی اور استحصال کی بھی نفی ہوتی ہے۔ دنیائے عالم کا ایک سنگین المیہ ہی یہی رہا ہے کہ انسانوں نے خود انسانیت کا خیال نہیں رکھا اور انسانی حقوق کی پامالی کی۔انسانوں کو ذلت اور حقارت کا نشانہ بنایا گیا حتی کہ قتل و غارت گری بھی انسانوں کا مقدر بنتی رہی۔ انسان اور انسانیت کی توہین اور قتل کا سلسلہ آج بھی دنیا میں جاری ہے جس کی مثالیں خود پاکستان اور دیگر ممالک اور ریاستوں میں دیکھی جا رہی ہیں۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ  اگرچہ انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے سیمینار اور مباحثے بھی کارگر ہیں میڈیا پر تشہیر بھی درست ہے لیکن عملی میدان میں اُترکر اقدامات کئے جائیں تو انسانی حقوق کا تحفظ بہتر طور پر کیا جاسکتا ہے اور لوگوں کے انسانی حقوق آسانی کے ساتھ بحال کرائے جاسکتے ہیں۔ دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ انسانی حقوق کے نام پر بننے والی تنظیمیں خود انسانی حقوق کا لحاظ نہیں رکھتیں اس کا ازالہ ضروری ہے۔ پاکستان میں بھی انسانی حقوق کی پامالی پر صدائے احتجاج بلند کرنا تمام انسانیت دوست طبقات کی ذمہ داری ہے  انہوں نے مزید کہا کہ  انسانی حقوق کے حوالے سے وطن عزیز پاکستان کی صورت حال کسی طور بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔ یہاں لوگوں کا عوامی سطح پر استحصال جاری ہے’ عوام کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں، عزت نفس مجروح کی جا رہی ہے ، عوام کے بنیادی، انسانی، جمہوری، مذہبی، شہری اور آئینی حقوق سلب کئے جارہے ہیں، عدل کی جگہ ظلم نے لے رکھی ہے، انسانی حقوق کی پامالی کی انتہا یہ ہے کہ اپنے مخالف موقف رکھنے والے افراد اور طبقہ فکر کو گولیوں اور بموں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جو لوگ گولیوں اور بموں کی زد سے بچ جاتے ہیں انہیں مختلف ہتھکنڈوں سے مرعوب کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، امن پسندوں، وطن پرستوں، محب وطن اور جمہوریت کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کو احترام آدمیت پامال کرتے ہوئے توہین آمیز انداز میں تھانوں میں طلب کیا جاتا ہے ، ان کی عزت نفس پامال کی جاتی ہے اور انہیں جیلوں میں ڈالا جاتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں دہشت گردوں اور شرپسندوں کو کھلی چھٹی دی جاتی ہے۔گویا ظالم و مظلوم’ قاتل و مقتول اور جابر و مجبور کی تمیز سے عاری معاشرے کی عکاسی ہورہی ہے۔ ان کٹھن حالات میں دنیا بھر کے انسان دوست طبقات کو بلاتفریق مذہب ومسلک اور خطہ و ملک انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرنا چاہیے۔

کراچی ; جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے متحدہ مجلس عمل کی بحالی کیلئے جماعت اسلامی سے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے اُمید ظاہرکی ہے آئندہ چنددنوں میں ایم ایم اے بیحال کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ فرقہ واریت کو کچلنے اور دینی ہم آہنگی کے لئے متحدہ مجلس عمل کی بحالی ناگزیر ہے۔ انہوں نے تصدیق کی جماعت اسلامی کے جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ کے ساتھ ایم ایم اے کی بحالی کے سلسلے میں مثبت بات چیت ہوئی ہے،ان کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے غیر فعال ہے ختم نہیں ہوئی،جے یو آئی ف کے اراکین قومی اسمبلی اور جماعت اسلامی کے سینیٹرز ایم ایم اے کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ میں آج بھی موجود ہیں،مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ وہ اتحاد کرنا چاہتے ہیں لیکن کوئی قوت ہے جو سارا کام خراب کردیتی ہے

باطل کے خلاف ڈٹ جانا حسینیت ہے۔ ان خیالات کا اظہار شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ کے جنرل سیکریٹری علامہ ناظر عباس تقوی نے شرکائے  سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین نے حق کی خاطر اپنی جان قربان کی اس لئے نواسہ رسول ۖ  فرزندعلی وبتول نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالم انسانیت کے محسن’ پیشوا اور امام ہیں لہذا ان کے غم میں نوحہ و ماتم انسانیت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے اور عزاداری کسی مکتب و مسلک کے خلاف نہیں بلکہ مسلکی اختلافات سے بالاتر ہے اس لئے کسی مکتب و مسلک کے عقائد و نظریات اور روایات کی توہین عزاداری سے کھلا انحراف ہے۔۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت’ اقوال’ فرامین اور خصائل سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہم اپنی زندگیاں امام عالی مقام  کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریںکیونکہ کربلا ایک مکمل ضابطہ حیات کی صورت ہر دور میں انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کا سامان فراہم کرتا ہے۔ بعد ازاں سوئم امام حسین کا مرکزی جلوس ڈاکٹر سید محمد بخاری ایڈووکیٹ کی قیادت میں سروس روڈ امام بارگاہ صاحب الزماں سے برآمد ہوا۔ جس میں علامہ عباس کمیلی، مولانا علی محمد نقوی، مولانا مرزا یوسف حسین، چچا وحید، علامہ مجاور تبسم ایڈووکیٹ، علامہ ظہیر عابدی، موسیٰ عابدی، شبر رضا، ایم پی اے ڈاکٹر ندیم مقبول، سیکٹر انچارج محبوب بھائی، حسین مہدی، خالد ملک کے علاوہ دیگر شریک تھے۔

شامی ذرائع کے مطابق شام کے صدربشار اسد نے کویتی اخبار کے ساتھ گفتگو میں نئے سال کی آمد سے قبل اپنی ایک اہم خطاب کے بارے میں خـبر دی ہے جس میں شام کے خلاف سعودی عرب ، قطر اور عرب لیگ کے منفی کردار کو فاش کریں گے میدیا نے شامی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام کے صدر بشار اسد نئے سال سے قبل ایک اہم خطاب کریں گے جس میں شام کے بارے میں عرب لیگ کے منفی کردار کا پردہ فاش کریں گے اور سعودی عرب و قطر کی جانب سے امریکہ کی حامیت اور تعاون کے بارے میں عرب عوام کو آگاہ کریں گے۔ اس خطاب میں شامی صدر شام کے شہر حمص میں  دہشت گردی کو مدد فراہم کرنے اور عوام کا قتل عام کرنے کے سلسلے میں امریکہ ، اسرائيل اور سعودی عرب و قطر کی مشترکہ کوششوں سے بھی پردہ اٹھایا جائےگا۔  ذرائع کے مطابق شام کے صدر نے شیعہ اور سنی علماء سے  مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں جاری فتنہ کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت کی مدد کریں۔ شامی صدر کا کہنا ہے کہ فتنہ کے شعلے صرف شام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ فتنے کے شعلے سعودی عرب اور کویت  کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ ذرائع کے مطابق شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے امریکہ ، اسرائیل ، سعودی عرب اور قطر کی وسیع کوششوں کے باوجود شام میں حکومت کا کنٹرول مضبوط ہے اور شامی عوام کی اکثریت شامی صدر کے ہمراہ ہیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی ملکی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ زہرا یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ سیاسی مقدموں کو انسانی حقوق سے  متعلق مقدمات پر فوقیت دے رہی ہے جو ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال خراب کرنے میں ایک اہم عنصر ہے۔  ذرائع نے بی بی سی کے حوالے سے  نقل کیا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی ملکی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ زہرا یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ سیاسی مقدموں کو انسانی حقوق سے متعلق مقدمات پر فوقیت دے رہی ہے جو ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال خراب کرنے میں ایک اہم عنصر ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نے کہاکہ عدالت کے سامنے انسانی حقوق کے بارے میں کئی مقدمات زیر التوا ہیں لیکن عدالت کا زیادہ وقت روزانہ کی بنیاد پر دائر ہونے والے سیاسی مقدمات پر صرف ہو جاتا ہے۔  زہرا یوسف نے کہا: جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق ہے تو لگتا ہے کہ حکومت اور عدلیہ کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ان کی ترجیح روزانہ تبدیل ہوتی سیاسی صورتحال ہے۔ اس صورت میں انسانی حقوق کے معاملات مکمل طور پر نظرانداز ہو رہے ہیں اور ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔‘زہرا یوسف نے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن نے چار برس قبل بلوچستان میں گمشدگیوں اور ہلاکتوں کے بارے میں ایک مقدمہ سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا جو مختلف کمیشنوں کے سپرد ہوتا رہا اور ابھی تک زیر التوا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نے کہا کہ ان کا ادارہ انسانی حقوق کے عالمی دن کو بلوچستان کے عوام کے نام سے منا رہا ہے۔