ہم بیت المقدس لے کر رہیں گے، حزب اللہ کا شامی حکومت کی حمایت کا اعلان

Posted: 10/12/2011 in All News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Religious / Celebrating News, USA & Europe

سید حسن نصراللہ 3 سال کے بعد پہلی بار عاشورا کے اجتماع میں آنیوالے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ لبنان کی حزب اللہ اتنی طاقتور ہے کہ اس کے دشمن کو معلوم ہی نہیں اور یہ طاقت مستقبل میں کسی جھڑپ کے دوران ان کو حیرت زدہ کر دے گی۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ 3 سال کے بعد پہلی بار منظر عام پر آ گئے اور انھوں نے منگل کی صبح بیروت میں بڑے عوامی اجتماع سے خطاب میں بیت المقدس کو واپس حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ 2008ء کے بعد پہلی بار عاشورا کے اجتماع میں آنے والے حسن نصراللہ نے کہا کہ یہودیوں کو خبردار کرتے ہیں کہ مشرقی بیت المقدس ہم لے کر رہیں گے، کیونکہ ہمارا دشمن اسرائیل مسجد الاقصٰی کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔  انھوں نے کہا کہ لبنان کی حزب اللہ اتنی طاقتور ہے کہ اس کے دشمن کو معلوم ہی نہیں اور یہ طاقت مستقبل میں کسی جھڑپ کے دوران ان کو حیرت زدہ کر دے گی۔ انھوں نے امریکی انتظامیہ پر ہزاروں فلسطینیوں کی قید اور فلسطین پر قبضے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہمیں دوست اور دشمن کو پہچاننے میں غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ امریکہ ہمارا دشمن ہے اور اسرائیل اس کے احکامات پر چلنا والا اوزار ہے۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حزب اللہ اپنی طاقت اور فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی رہے گی۔ اس موقع پر حسن نصراللہ کو دیکھنے اور ان کا خطاب سننے کے لئے ہزاروں افراد جنوبی بیروت پہنچے تھے۔   دیگر ذرائع کے مطابق لبنان کی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے شام میں صدر بشارالسد کی حکومت کے خلاف ہونے والے عوامی مظاہروں کو امریکی چال قرار دیتے ہوئے شامی حکومت کے لیے حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کئی برس زیرزمین رہنے کے بعد یوم عاشور کے موقع پر بیروت میں لاکھوں افراد کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے رہنماء نے کہا کہ امریکہ شام کو تباہ کرنے کی سازش کر رہا ہے۔  سید حسن نصر اللہ سنہ دو ہزار چھ میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد بہت کم منظر عام پر آئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک ملیشیا نے اسرائیل کی مضبوط فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس کے ڈیڑھ سو سے زیادہ فوجیوں کو ہلاک کیا تھا۔ سید حسن نصراللہ اکثر ویڈیو لنک کے ذریعے لوگوں سے خطاب کرتے ہیں۔ منگل کے روز وہ بیروت میں ہونے والی ایک ریلی میں اچانک اپنے باڈی گارڈز کے ہمراہ نمودار ہوئے اور چند منٹ تک سٹیج پر رہنے کے بعد وہاں سے چلے گئے اور کسی محفوظ جگہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے سے خطاب کیا۔  انہوں نے اپنے خطاب میں کہا “ہم شام میں اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں اور مزاحمتی تحریک کے مقابلے میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ شام میں بعض لوگ اصلاحات نہیں چاہتے جو حکومت وہاں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے لانا چاہتی ہے۔ یہ لوگ امن، استحکام اور مذاکرات کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو عراق میں اپنی شکست کا بدلہ شام سے لینا چاہتے ہیں کیونکہ شام  عراق میں امریکیوں کو شکست دینے میں حصہ دار ہے۔  سید حسن نصراللہ نے شام کی اپوزیشن جماعت کے رہنماء برہان غالیون کو تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ اپوزیشن جماعت شام میں برسر اقتدار آ کر شام کے ایران اور حزب اللہ کے ساتھی خصوصی مراسم کو ختم کر دے گی۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا برہان غالیون امریکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایسے بیانات دے رہے ہیں۔

Comments are closed.