جدید ترین ڈرون طیارے کا ایران کے ہاتھ لگنے پر امریکی بوکھلاہٹ

Posted: 10/12/2011 in Afghanistan & India, African Region, All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

ایران الیکٹرانک وار فیئر کے حوالے سے اپنی اس جدید ٹیکنولوجی کے ذریعے امریکی فوج کی جانب سے بغیر پائلٹ ڈرون طیارون پر استوار اسٹریٹجی کو تہس نہس کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔  امریکہ کے جدید ترین جاسوسی طیارے RQ 170 کا ایران کی مشرقی سرحد پر ایران آرمی کے ہاتھوں کنٹرول سنبھالے جانا اور اسے کمترین نقصان پہنچاتے ہوئے کامیابی سے لینڈ کر لینا اس ہفتے کی ایک بڑی خبر ثابت ہوئی ہے۔ امریکی وزارت دفاع پنٹاگون اور نیٹو نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے اور اس پر اپنی شدید پریشانی کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ ڈرون طیارہ امریکہ کے جدید ترین ڈرون طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے جسکے ذریعے انتہائی اہم جاسوسی مشن انجام پاتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے اسکے بقول ایبٹ آباد میں واقع اسامہ بن لادن کے کمپاونڈ کی جاسوسی بھی اسی طیارے سے انجام دی تھی۔ اس جاسوسی طیارے کی ایک انتہائی اہم خصوصیت اسکی اسٹیلتھ ٹیکنولوجی یا دوسرے الفاظ میں ریڈار سے بچنے کی صلاحیت تھی۔ اسی صلاحیت کی بدولت نیٹو فورسز انتہائی اطمینان سے اسے اہم ترین جاسوسی مشنز کیلئے روانہ کرتے تھے اور خود امریکی حکام کے بقول یہ جاسوسی طیارہ اب تک افغانستان کے اڈوں سے کئی بار ایران کی سرحدوں میں داخل ہو کر اپنا مشن انجام دے کر کامیابی سے واپس افغانستان جا چکا تھا۔  سیاسی ماہرین کے خیال میں جو چیز امریکہ کیلئے شدید پریشانی اور بوکھلاہٹ کا باعث بنی ہے وہ محض اس جاسوسی طیارے کا ایران کے ہاتھ لگ جانا نہیں بلکہ ایران کے ریڈار سسٹم کا اس طیارے کو ڈیٹیکٹ کر لینا ہی امریکی وزارت دفاع اور نیٹو کے تحقیقاتی اداروں کیلئے انتہائی شدید صدمے اور دھچکے کا باعث بنا ہے۔ ایران آرمی کی الیکٹرانک وار یونٹ نے نہ فقط اس ڈرون طیارے کی موجودگی کو محسوس کر لیا بلکہ ایک بے مثال اور حیرت انگیز اقدام کے ذریعے اسکا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے لینڈ کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ یہ جاسوسی طیارہ جسکی موجودگی سے بھی دنیا بے خبر تھیاور امریکہ کے اہم ترین رازوں میں اسکا شمار ہوتا تھا اب اپنی تمام تر ٹیکنولوجی کے علاوہ ان حساس معلومات  کے ساتھ جو اس نے مختلف آپریشنز میں اپنے اندر ذخیرہ کر رکھے تھے اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلابی اور باایمان جوانوں کے ہاتھ لگ چکا ہے۔ ایسی صورتحال میں امریکی حکام اور فوجی کمانڈروں کی پریشانی اور بوکھلاہٹ ایک واضح امر ہے۔  فوجی ماہرین نے بھی ایران کی جانب سے امریکی ڈرون طیارے پر قبضے کی اصل وجہ ایران کے ڈیفنس سسٹم کو قرار دیا ہے اور اعتراف کیا ہے کہ ایران آرمی ایسی ٹیکنولوجی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے جسکے ذریعے وہ بغیر پائلٹ جاسوسی طیاروں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کے قابل ہو چکا ہے۔  مغربی ذرائع ابلاغ نے اس ہفتے اتوار 4 دسمبر کے دن اپنے نشریات میں اعلان کیا کہ ایک امریکی ڈرون طیارہ جو ایران کی مشرقی سرحد پر پرواز کرنے میں مصروف تھا اچانک گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ڈرون طیارہ آر کیو 170 تھا جسے ایران ایئر ڈینفس سسٹم نے ایران اور افغانستان کے بارڈر ایریا میں مار گرایا ہے۔ بعض ذرائع جیسے سی این این نے اپنی رپورٹ میں اعلان کیا کہ یہ جاسوسی طیارہ کاشمر کے علاقے میں سرنگون ہوا ہے۔ اسی طرح سی این این نے امریکی وزارت دفاع کے بعض اہم عہدیداروں کے بقول بتایا کہ اس ڈرون میں انتہائی اہم اور خفیہ معلومات اور دستاویزات بھی موجود تھیں۔ بی بی سی نے اس واقعے کو “ایران اور امریکہ کے درمیان خاموش جنگ کا نیا مرحلہ” قرار دیا۔  روسی خبررساں ادارے ریانووسٹی نے اس بارے میں رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا  امریکی بغیر پائلٹ طیارہ اس وقت ایران کے قبضے میں ہے، یہ طیارہ ریڈار کے ذریعے بہت مشکل سے دکھائی دیتا ہے اور امریکہ عام طور پر اسے اپنے ایسے فوجی کمانڈروں کی مدد کیلئے استعمال کرتا ہے جو میدان جنگ میں اہم معلومات کے محتاج ہوتے ہیں”۔  ریانووسٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایران اس جاسوسی طیارے کو کمترین نقصان پنچاتے ہوئے زمین پر اتارنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔  سب سے اہم ردعمل امریکی خبررساں ادارے وائس آف امریکہ کا تھا۔ وی او اے نے ایک امریکی فوج کے ایک اعلی سطحی عہدیدار کے بقول اس ڈرون کی سرنگونی کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اسکی سرنگونی کی اصلی وجہ اسکا ہمارے کنٹرول سے خارج ہو جانا تھا۔  اسی دوران تہران میں فوجی ذرائع نے اس امریکی جاسوسی طیارے کا اپنے قبضے میں لینے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ پہلا امریکی جاسوسی طیارہ نہیں جسے ایران نے کامیابی سے سرنگون کیا ہے۔  یہ ذرائع ابلاغ گرائے جانے  کی اصطلاح کو استعمال کرنا صحیح نہیں سمجھتے کیونکہ درحقیقت ایران آرمی نے الیکٹرانک وار جیسی انتہائی پیچیدہ ٹیکنولوجی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے سرحد کے قریب پرواز کرنے والے اس ڈرون کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا اور اسکے بعد اسے اپنے علاقے میں اتارنے میں کامیاب ہوئے۔  ایک ذریعہ کا کہنا تھا: امریکی اس جاسوسی طیارے کی سرنگونی سے زیادہ اس ٹیکنولوجی کی بابت پریشان ہیں جس کے ذریعے ایران نے اس ڈرون کا کنٹرول سنبھال کر اسے اپنے علاقے میں اتارا ہے۔  یہ ذریعہ مزید کہتا ہے: امریکی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس جاسوسی طیارے کی جانب کسی قسم کی فائرنگ نہیں ہوئی اور ایران نے اسے ایسی حالت میں اپنے قبضے میں لیا ہے کہ اس میں موجود تمام معلومات اپنی اصلی حالت میں ہیں۔  ایک اہم فوجی ذریعے نے زیادہ وضاحت سے معذرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا  آج کے بعد ایران کی سرحدیں امریکی جاسوسی طیاروں کیلئے بالکل مناسب نہیں کیونکہ اب ایران کے پاس ایسی ٹیکنولوجی موجود ہے جسکے ذریعے ایک گولی بھی فائر کئے بغیر اور الیکٹرانک وار کے ذریعے ڈرون طیاروں کو اپنے کنٹرول میں لے کر اپنے علاقے میں لینڈ کروا سکتا ہے۔  اس موضوع کی اہمیت اس وقت زیادہ واضح ہوتی ہے جب ہم یہ جان لیں کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران امریکہ کی فوجی اسٹریٹجی میں ڈرون طیاروں کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے اور امریکی دنیا کے مختلف حصوں بالخصوص پاکستان، افغانستان، یمن اور صومالیہ میں ان ڈرون طیاروں کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ ان طیاروں کو جاسوسی مقاصد کیلئے بھی استعمال کرتا ہے اور انکے ذریعے دشمنوں کے ٹھکانوں کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بناتا ہے۔ امریکہ ایران کی سرحد کے قریب بھی ان طیاروں کا وسیع استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔  ایران الیکٹرانک وار فیئر کے حوالے سے اپنی اس جدید ٹیکنولوجی کے ذریعے امریکی فوج کی جانب سے بغیر پائلٹ ڈرون طیارون پر استوار اسٹریٹجی کو تہس نہس کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے اور امریکی اب یہ اطمینان نہیں رکھ سکتے کہ ہوا میں اڑانے والے جاسوسی طیاروں کا کنٹرول ہمیشہ انکے ہاتھ میں ہی رہے گا اور وہ اپنا مشن مکمل کر کے کامیابی سے واپس انکے اڈے تک لوٹ سکیں گے۔  فوجی ماہرین کے نزدیک خطے میں امریکی فوج کی جانب سے جاسوسی طیاروں کے استعمال میں پیدا ہونے والی یہ محدودیت اور رکاوٹ ان کیلئے انتہائی سنجیدہ قسم کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے

Comments are closed.