امام حسین ع کسی ایک مکتب یا مسلک کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے پیشوا اور امام ہیں، علامہ ساجد نقوی

Posted: 10/12/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

ٹیلی فونک گفتگو میں شیعہ علماء کونسل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چاردیواری کے اندر مجلس عزاء برپا کرنے سے دنیا کا کوئی قانون نہیں روکتا، لیکن ملک کے بعض حصوں میں انتظامیہ و پولیس کی طرف سے بے جا مداخلت، روایتی جلوسوں میں رکاوٹیں، خطباء کی زبان بندیاں اور لاؤڈ سپیکر کی ناروا پابندیاں بھی قبول نہیں ہیں۔علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے فرزند رسول امام حسین علیہ السلام کسی ایک مکتب یا مسلک کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے پیشوا اور امام ہیں اور واقعہ کربلا کے پس منظر میں آفاقی اصول اور پختہ نظریات کارفرما تھے اور امت مسلمہ کی اصلاح پیش نظر تھی۔ وحی الہی کے مطابق امت مسلمہ، امت واحدہ ہے۔ لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ امت واحدہ کے تصور کو رواداری، تحمل، برداشت اور اتحاد کو مضبوط کرکے حقیقت کا روپ دیں کیونکہ عزاداری کسی مکتب و مسلک کے خلاف نہیں بلکہ مسلکی اختلافات سے بالاتر ہے، اس لئے کسی مکتب و مسلک کے عقائد و نظریات اور روایات کی توہین عزاداری سے کھلا انحراف ہے، اس لئے اجتناب لازم ہے۔   شہدائے کربلا کے سوئم کی مناسبت سے ملک کے مختلف حصوں کے بانیان مجالس، علمائے کرام، ذاکرین عظام، اکابرین ملت اور عزاداروں سے ٹیلی فونک گفتگو میں علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ چاردیواری کے اندر مجلس عزاء برپا کرنے سے دنیا کا کوئی قانون نہیں روکتا، لیکن ملک کے بعض حصوں میں انتظامیہ/ پولیس کی طرف سے بے جا مداخلت، روایتی جلوسوں میں رکاوٹیں، خطباء کی زبان بندیاں اور لاؤڈ سپیکر کی ناروا پابندیاں بھی قبول نہیں ہیں اور اسی طرح نئی آبادیوں میں بھی جلوس عزا کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔   علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ نام نہاد دہشتگردی کے بہانے سنسنی خیز اقدامات کے ذریعہ خوف و ہراس کی فضا قائم کر کے پاکستان بھر کو ڈسٹرب کرنے سے ریاست پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے اور تشیع پاکستان کی کھلی تذلیل ہو رہی ہے جو برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہے حالانکہ عزاداری سید الشہداء ع نہ صرف آئینی، قانونی اور مذہبی حق ہے بلکہ عوامی اور شہری آزادیوں کا مسئلہ ہے جس پر کوئی پابندی یا قدغن قابل قبول نہیں، نہ ہی اس کے لئے کسی لائسنس یا پرمٹ کی ضرورت ہے۔   سربراہ شیعہ علماء کونسل نے اسلامیان پاکستان سمیت ماتم داروں، نوحہ خوانوں اور عزاداران مظلوم کربلا سے اپیل کی کہ وہ عزاداری کو انتہائی عقیدت و احترام اور محبت و وحدت کی فضا میں منعقد کریں، امن و امان کے قیام اور قانون کی عملداری میں انتظامیہ و پولیس کی معاونت کریں، عزاداری آزادی سے منانے کے لئے متحد ہو کر بھرپور اور طاقتور آواز بلند کریں۔ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت، اقوال، فرامین اور خصائل سے سبق حاصل کریں اور اپنی زندگیاں امام حسین علیہ السلام کے فرامین اور سیرت کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔

Comments are closed.