Archive for 10/12/2011

اسلام آباد :رواں سال کا آخری اور دوسرا چاند گرہن آج شام 7 بج کر 32 منٹ کو عروج پر ہوگا۔ علم بروج کے مطابق یہ چاند گرہن 8 درجہ اور 8 دقیقہ برج جواز میں لگے گا جو مکمل چاند گرہن ہوگا۔ یہ گرہن شام 5 بج کر 45 منٹ پر لگنا شروع ہوگا اور 7 بج کر 31 منٹ 49 سیکنڈ پر مکمل ہوگا۔ یہ وقت گرہن کا وسطی حصہ ہوگا۔ چاند گرہن رات 9 بج کر 17 منٹ پر مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ ماہرین نجوم کے مطابق یہ گرہن بحرالکاہل کے علاقے ”گوعام”اور شمالی میرنیا آلینڈ سے شروع ہوگا۔ امریکہ ، افریقہ اور یورپ میں چاند طلوع نہ ہونے کی وجہ سے یہ گرہن نظر نہیں آئے گا۔ البتہ ایشیاکے ممالک اور آسٹریلیا میں بہت واضح نظر آئے گا۔ یاد رہے اس سے قبل رواں سال 16 جون کو پہلا چاند گرہن لگا جبکہ دوسرا آج لگے گا۔

Advertisements

واشنگٹن: امریکہ نے لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج پر ہونے والے بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اقوام متحدہ کی امن فوج پر ہونے والے بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے لبنان حکومت سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ لبنان میں اقوام متحدہ کی افواج پر ہونے والا یہ تیسرا حملہ ہے۔ لبنان کے ساحلی شہر طائر میں ہونے والے بم حملے میں پانچ فرانسیسی فوجی اور ایک لبنانی شہری زخمی ہوئے تھے۔ دو ہزار چھ میں لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین ہونے والی جنگ کے بعد سلامتی کونسل کی قرارادوں کے نفاذ کیلئے بارہ ہزار نفوس پر مشتمل اقوام متحدہ کا امن مشن لبنان میں موجود ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ حزب اللہ کو دہشتگرد گروپ قرار دے چکا ہے۔

کراچی: پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل اسلم بیگ نے کہا ہے کہ میمو گیٹ کے معاملے پر صدر آصف علی زرداری نے استعفیٰ نہ دیا تو پیپلزپارٹی کی حکومت مدت پوری کرنے سے قبل چلی جائے گی۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل اسلم بیگ نے کہا کہ ایبٹ آباد کے واقعے میں اسامہ بن لادن موجود نہیں تھا سب کچھ ڈرامہ تھا۔انہوں نے کہاکہ اسامہ کی فیملی وہاں موجود تھی مگر اسامہ بن لادن موجود نہیں تھا انہیں تورا بورا میں یا پھر ایبٹ آباد واقعے سے 2 سال پہلے مارا جاچکا تھا۔ جنرل اسلم بیگ نے مزید کہاکہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ میری بات کی تصدیق کردیگی جب کہ صدر پاکستان سمیت دنیا بھر کی طرف دی جانے والی مبارکبادیں ڈرامہ تھی۔ انہوں نے میمو گیٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ جنرل کیانی نے سارے معاملے کی اب تک تحقیقات کروالی ہوگی میں ہوتا تو میں بھی ایسا ہی کرتا۔ سابق فوجی سربراہ نے کہا کہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا فوج کے تربیت یافتہ پیشہ ور افراد ہیں وہ معاملے کی گہرائی کو جان چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صدر زرداری سمیت کئی اہم افراد میمو معاملے میں ملوث ہیں جن کو اب استعفیٰ ٰدے دینا چاہیے جیسا کہ حقانی نے دے دیا ہے۔ جنرل اسلم بیگ نے کہاکہ منصور اعجاز سمیت پوری دنیا پاکستان کی فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

لاس اینجلس: بالی ووڈبگ بی امیتابھ بچن دل کے سکون اوراچھائی کی تلاش میں قرآن پاک پڑھنے لگے۔ پوری دنیا کے دلوں میں گھر کرنے والے بالی ووڈبگ بی امیتابھ بچن کا دل خود بے چین ہے۔ انہیں سکون دل اور حالات پْرامن رکھنے کے لئے کسی نے مشورہ دیا کہ قرآن پاک پڑھیں۔ اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے جب امیتابھ بچن نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا تو حیرت انگیز طور پر انہیں قرار آیا۔ بگ بی نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹوئیٹر پر قرآن پاک کی اسپیلنگ ٹھیک کی اورآیتوں کا ترجمہ بھی لکھا کہ جو قسمت میں ہوتا ہے مل کر رہتا ہے۔ ملکی بقاء اور سلامتی کے لئے قرآن پاک پڑھناایک اچھا نسخہ ہے۔اس لئے اس پر عمل پیرا ہیں۔

تہران کے عارضی امام جمعہ نے امریکہ کے ڈرون طیارے پرکنٹرول کرنے اور اسے بحفاظت زمین پر اتارنےپر ایرانی مسلح افواج کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکہ کے شکاری باز کا  ایران کے ہاتھوں شکار ہونا امریکہ و اسرائیل کے نابود ہونے کی دلیل ہے انشااللہ ہماری افواج اسلام اور مملکت کا سر فخر سے بلند کر نے میں نمایاں ہوں گی اقوام عالم میں اور یہ ایک قابل قدر اور ناقابل تسخیر ہونے کا ثبوت ہے    رپورٹ کے مطابق تہران یونیورسٹی میں آج نماز جمعہ حجت الاسلام والمسلمین کاظم صدیقی کی امامت میں منعقد ہوئی جس لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی۔ تہران کے عارضی امام جمعہ نے امریکہ کے ڈرون طیارے پرکنٹرول کرنے اور اسے بحفاظت زمین پر اتارنےپر ایرانی مسلح افواج کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج نے امریکہ کے شکاری باز  کا  ایران کے ہاتھوں شکار ہونا امریکہ و اسرائیل کے نابود ہونے کی دلیل ہے انشااللہ ہماری افواج اسلام اور مملکت کا سر فخر سے بلند کر نے میں نمایاں ہوں گی اقوام عالم میں اور یہ ایک قابل قدر اور ناقابل تسخیر ہونے کا ثبوت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کا یہ اقدام در حقیقت اللہ تعالی کی عظيم نصرت ہے اور یہ نصرت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور سوگواری کی بدولت عطا ہوئی ۔ صدیقی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نےامریکہ کے جدید ترین جاسوس طیارے کو بحفاظت اترا کر اپنی فوجی ٹیکنولوجی کا عملی ثبوت پیش کیا ہے۔ صدیقی نے عاشور کے دن افغانستان ، پاکستان اور عراق میں دہشت گردوں کے حملے میں حسینی عزاداروں کی شہادت پر بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

ترکی کے ایک اخبار نے فاش کیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کے فوجی ترکی کے صوبہ حکاری میں شامی حکومت کے مخالفین کو فوجی ٹریننگ دے رہے ہیں جس کا نام انھوں نے شام کی آزاد فوج رکھا ہوا ہے۔ ترکی کے اخبار ملیت کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کے فوجی ترکی کے صوبہ حکاری میں شامی حکومت کے مخالفین کو فوجی ٹریننگ دے رہے ہیں جس کا نام انھوں نے شام کی آزاد فوج رکھا ہوا ہے۔ اخبار نے امریکی فیڈرل ریسرچ سینٹر کے سابق اہلکار سییل ایڈ منڈر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو شامی حکومت کے مخالفین کو ترکی کے جنوب مشرقی صوبہ حکاری میں فوجی تربیت دے رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ ترکی کے فوج اڈے اینجر لیک سے ہتھیار شام بھجوائے جاتے ہیں اور امریکہ ترکی کے ساتھ ملکر شامی حکومت کے مخالفین کی مالی مدد بھی کررہا ہےواضح رہے کہ شام کی حکومت نے امریکہ ، اسرائيل ، ترکی نیز قطر اور سعودی عرب  پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے دہشت گردوں کو فوجی تربیت دے رہے ہیں اور شامی عوام کے قتل میں شریک ہیں

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں رینجرز کے تین اہلکار شہیدجبکہ چار زخمی ہوگئے۔دھماکے سے رینجرز کی گاڑی اورقریب کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق ضلع ملیر کے سچل تھانے کی حدود میں صفورا چورنگی کے قریب دہشت گردوں نے سڑک کے کنارے بم نصب کرکے ڈیوٹی پر موجود بھٹائی رینجرز کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ دھماکا صبح سات بجکر 25 منٹ پر کیا گیا جس کے نتیجے میں 30 فٹ کے فاصلے پر موجود رینجرز کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جس میں ڈیوٹی دینے والے نائیک عبدالرشید، ڈرائیور محمد ابراہیم اور سپاہی اعجاز احمد شہید جبکہ نائیک اعظم، لانس نائیک محمد اسلم، سپاہی الطاف اورفاضل جاوید زخمی ہوگئے جن میں ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔ انہیں سی ایم ایچ ملیر منتقل کیا گیا۔ پولیس اور رینجرز حکام کے مطابق دھماکے میں رینجرز اہلکار ٹارگٹ تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں قریب سے گزرنے والی متعدد گاڑیوں اور قریبی اسکول اور رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پولیس حکام کے مطابق دھماکے کیلئے تقریباً تین کلو گرام دھماکہ خیزا مواد استعمال کیا گیا، جسے بال بیرنگ اور دیگر اشیاء سے تیار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق بم دھماکا کراچی میں 5 اور 6دسمبر نو محرم الحرام اور یوم عاشور کے موقع پر لائنز ایرایا اور کالا پل پر ہونے والے دھماکوں سے مماثلت رکھتا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

شیعہ علماء کونسل کے رہنما کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت پر واضح کیا گیا ہے کہ شیعہ قوم نہیں چاہتی کہ پاکستان میں زور زبردستی اور ڈنڈے کی سیاست قائم ہو۔  پاکستان میں کام کرنے والے ادارے نہیں چاہتے کہ دہشتگردی ختم ہو، یہ نادیدہ حکمران پاکستان میں دہشتگردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اگر نمائش چورنگی واقعہ کے مجرم رہا ہوئے تو اس میں عدلیہ کی نااہلی ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے ٹیکسلا میں کربلا شاہ فتح حیدر صفدر میں تدفین کی مجلس عزاء سے خطاب کے بعد  بات چیت کرتے ہوئے کیا۔   ان کا کہنا تھا کہ سانحہ نمائش چورنگی کے بعد شیعہ علماء نے حالات کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت پر یہ بات واضح کی گئی ہے کہ شیعہ قوم نہیں چاہتی کہ پاکستان میں زور زبردستی اور ڈنڈے کی سیاست قائم ہو۔ لیکن اگر یہی طے ہے کہ جسکی لاٹھی اسکی بھینس، تو ہم بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ نمائش چورنگی کے مزید مجرم اگر رہا کئے گئے تو ہم انتہائی اقدام سے گریز نہیں کریں گے۔ رہنما شیعہ علماء کونسل کا کہنا تھا کہ منظور وسان نے ان سے ملاقات کے دوران وعدہ کیا ہے کہ ہم 12 نامزد مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ وزیر داخلہ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ باوردی اسکائوٹس شہداء کے ورثا کو دس دس لاکھ معاوضہ ادا کیا جائے گا۔   شہنشاہ نقوی کا کہنا تھا کہ اگر نمائش چورنگی واقعہ کے مجرم رہا ہو جاتے ہیں تو اس میں عدلیہ کی نااہلی ہو گی، چونکہ مجرموں کے خلاف گواہیاں تک ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کے سلسلے میں تین ایف آئی آر درج کروائی گئیں تھیں، جن میں ایک اہل تشیع، دوسری سنی حضرات کی طرف سے اور تیسری حکومت کی طرف سے درج کروائی گئی تھی۔

ٹیلی فونک گفتگو میں شیعہ علماء کونسل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چاردیواری کے اندر مجلس عزاء برپا کرنے سے دنیا کا کوئی قانون نہیں روکتا، لیکن ملک کے بعض حصوں میں انتظامیہ و پولیس کی طرف سے بے جا مداخلت، روایتی جلوسوں میں رکاوٹیں، خطباء کی زبان بندیاں اور لاؤڈ سپیکر کی ناروا پابندیاں بھی قبول نہیں ہیں۔علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے فرزند رسول امام حسین علیہ السلام کسی ایک مکتب یا مسلک کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے پیشوا اور امام ہیں اور واقعہ کربلا کے پس منظر میں آفاقی اصول اور پختہ نظریات کارفرما تھے اور امت مسلمہ کی اصلاح پیش نظر تھی۔ وحی الہی کے مطابق امت مسلمہ، امت واحدہ ہے۔ لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ امت واحدہ کے تصور کو رواداری، تحمل، برداشت اور اتحاد کو مضبوط کرکے حقیقت کا روپ دیں کیونکہ عزاداری کسی مکتب و مسلک کے خلاف نہیں بلکہ مسلکی اختلافات سے بالاتر ہے، اس لئے کسی مکتب و مسلک کے عقائد و نظریات اور روایات کی توہین عزاداری سے کھلا انحراف ہے، اس لئے اجتناب لازم ہے۔   شہدائے کربلا کے سوئم کی مناسبت سے ملک کے مختلف حصوں کے بانیان مجالس، علمائے کرام، ذاکرین عظام، اکابرین ملت اور عزاداروں سے ٹیلی فونک گفتگو میں علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ چاردیواری کے اندر مجلس عزاء برپا کرنے سے دنیا کا کوئی قانون نہیں روکتا، لیکن ملک کے بعض حصوں میں انتظامیہ/ پولیس کی طرف سے بے جا مداخلت، روایتی جلوسوں میں رکاوٹیں، خطباء کی زبان بندیاں اور لاؤڈ سپیکر کی ناروا پابندیاں بھی قبول نہیں ہیں اور اسی طرح نئی آبادیوں میں بھی جلوس عزا کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔   علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ نام نہاد دہشتگردی کے بہانے سنسنی خیز اقدامات کے ذریعہ خوف و ہراس کی فضا قائم کر کے پاکستان بھر کو ڈسٹرب کرنے سے ریاست پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے اور تشیع پاکستان کی کھلی تذلیل ہو رہی ہے جو برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہے حالانکہ عزاداری سید الشہداء ع نہ صرف آئینی، قانونی اور مذہبی حق ہے بلکہ عوامی اور شہری آزادیوں کا مسئلہ ہے جس پر کوئی پابندی یا قدغن قابل قبول نہیں، نہ ہی اس کے لئے کسی لائسنس یا پرمٹ کی ضرورت ہے۔   سربراہ شیعہ علماء کونسل نے اسلامیان پاکستان سمیت ماتم داروں، نوحہ خوانوں اور عزاداران مظلوم کربلا سے اپیل کی کہ وہ عزاداری کو انتہائی عقیدت و احترام اور محبت و وحدت کی فضا میں منعقد کریں، امن و امان کے قیام اور قانون کی عملداری میں انتظامیہ و پولیس کی معاونت کریں، عزاداری آزادی سے منانے کے لئے متحد ہو کر بھرپور اور طاقتور آواز بلند کریں۔ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت، اقوال، فرامین اور خصائل سے سبق حاصل کریں اور اپنی زندگیاں امام حسین علیہ السلام کے فرامین اور سیرت کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔

افغان صدر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اپنی حدود میں ہونے والے نیٹو کے حملے کے بعد دنیا اور میڈیا کی توجہ افغانستان کی طرف فرقہ واریت کا بازار گرم کر کے کرنا چاہتا ہے۔لشکر جھنگوی اور فرقہ واریت کا افغانستان میں کوئی وجود  نہیں، یہی وجہ ہے کہ روز عاشورا معصوم بچوں اور خواتین سمیت عزاداروں کو  شہید کرنے والے سفاک دہشتگردوں نے پاکستان سے ذرائع ابلاغ کو ٹیلفون  کرکے اس خونی واقعے کی ذمہ داری لی۔ حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ کابل اور مزار میں عاشورا دھماکے پاکستان کی لشکر جھنگوی نے کئے، افغان صدر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اپنی حدود میں ہونے والے نیٹو کے حملے کے بعد دنیا اور میڈیا کی توجہ افغانستان کی طرف فرقہ واریت کا بازار گرم کر کے کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پہلے بھی سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے طالبان کا فتنہ خلق کر کے مزار شریف و بیامیان میں اہل تشیع مسلمانوں کا قتل عام کرکے مظلوموں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ کر یزیدیت کی حمایت کی تھی۔ اس سال عاشورا دھماکوں کا ثبوت یہ ہے کہ روز عاشورا معصوم بچوں و خواتین سمیت عزاداروں کو شہید کرنے والے سفاک دہشتگردوں نے پاکستان سے ذرائع ابلاغ کو ٹیلیفون کر کے اس خونی واقعے کی ذمہ داری لی ہے۔

سٹی کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے چیف محمد ظاہر کے مطابق دھماکے میں جاں بحق افراد میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، تاہم اب تک کسی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔  افغانستان کے دارالحکومت کابل اور شمالی شہر مزار شریف میں دھماکوں میں 52 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ پہلا دھماکہ کابل شہر کے وسط میں ہوا، جہاں عاشورہ کے جلوس کے سلسلے میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی، خود کش دھماکے میں 48 افراد ہلاک اور100 سے زائد زخمی ہوئے۔ سٹی کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے چیف محمد ظاہر کے مطابق دھماکے میں جاں بحق افراد میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، تاہم اب تک کسی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس کے کچھ دیر بعد شمالی شہر مزار شریف میں بھی ایک امام بارگاہ کے قریب دھماکہ ہوا۔ سائیکل میں نصب بم پھٹنے سے 4 افراد شہید اور 17 زخمی ہوئے۔ قندھار شہر میں بھی موٹر بائیک پر دھماکے سے 3 افراد زخمی ہوئے۔  دیگر ذرائع کے مطابق افغانستان کے دو شہروں میں محرم الحرام کے موقع پر بم دھماکوں میں 52 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق دارالحکومت کابل میں ایک امام بارگاہ کے باہر ایک خودکش حملے میں 48 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا کیونکہ کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے۔ دوسرا واقعہ ملک کے شمالی شہر مزار شریف میں پیش آیا، جہاں ایک مسجد کے قریب بم پھٹنے سے 4 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک افغان فوجی بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق ایک سائیکل سوار بم لے جا رہا تھا جو پھٹ گیا۔

ذرائع کے مطابق بیس خالی کرائے جانے کی ڈیڈ لائن سے دو روز پہلے ہی وہاں موجود زیادہ تر امریکی اہلکار روانہ ہوچکے ہیں جب کہ اہم آلات کو افغانستان اور دیگر مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔  شمسی ائیر بیس سے امریکی اہلکاروں کا تمام سامان منتقل کر کے وہاں موجود 5 ڈرون طیارے افغانستان اور دیگر مقامات پر پہنچا دیئے گئے، بیس کا انتظام کل متحدہ عرب امارات کے حکام سنبھال لیں گے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے شمسی ائیر بیس پر فائبر سے بنی اپنی رہائشی بیرکس توڑ کر ختم کردی ہیں، شمسی ائیربیس پر ایف آئی اے کے اہلکار بھی موجود ہیں جو وہاں سے روانہ ہونے والے امریکی حکام کی امیگریشن کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بیس خالی کرائے جانے کی ڈیڈ لائن سے دو روز پہلے ہی وہاں موجود زیادہ تر امریکی اہلکار روانہ ہوچکے ہیں جب کہ اہم آلات کو افغانستان اور دیگر مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ شمسی ائیر بیس کے حوالے سے پاکستانی اہلکاروں نے انکشاف کیا ہے کہ امریکیوں نے رن وے کی لمبائی میں اضافہ کردیا ہے تاکہ بڑے طیارے بھی یہاں اتارے جا سکیں۔ متحدہ عرب امارات نے شکار کے لیے آنے والے شاہی خاندان کے لیے جب یہ بیس تعمیر کیا تھا تو یہاں صرف چھوٹے طیارے یہاں اتر سکتے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اور شمسی ائیربیس کا کنٹرول یو اے ای کے حکام کل سنبھال لیں گے۔ قومی دفاعی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق امریکی حکام کو 11 دسمبر تک شمسی ائیربیس خالی کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔

جنرل ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی بند ہونے کی فکر نہیں۔ پاکستانی جو آئل ٹینکرز جلا رہے ہیں وہ تیل ہمارا نہیں کیونکہ جو پٹرول نیٹو تک نہ پہنچے اس کی قیمت ادا نہیں کرتے۔ امریکی فوج کے سربراہ جنرل ڈیمپسی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں جنہیں ختم کرنا ہو گا، افغانستان میں اہداف حاصل کر لئے، پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی بند ہونے کی فکر نہیں۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈیمپسی نے واشنگٹن میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کہ افغانستان میں امریکی فوج نے اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل میں ہونے والے لویہ جرگہ کی حمایت کرتے ہیں۔ جنرل ڈیمپسی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ افغانستان میں امن کے لئے ان ٹھکانوں کو ختم کرنا ہو گا۔ جنرل ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ مہمند ایجنسی میں پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر نیٹو کے ہیلی کاپٹروں کی طرف سے حملہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔ اس حملے سے امریکہ کو کیا حاصل ہونا تھا، پاکستانی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس معاملے پر پاکستانی آرمی چیف سے بات کی ہے اور پاکستان کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مہمند ایجنسی میں ہونے والے حملے میں امریکہ کا کوئی مفاد نہیں تھا۔ جنرل ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی بند ہونے کی فکر نہیں۔ پاکستانی جو آئل ٹینکرز جلا رہے ہیں وہ تیل ہمارا نہیں کیونکہ جو پٹرول نیٹو تک نہ پہنچے اس کی قیمت ادا نہیں کرتے۔

سید حسن نصراللہ 3 سال کے بعد پہلی بار عاشورا کے اجتماع میں آنیوالے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ لبنان کی حزب اللہ اتنی طاقتور ہے کہ اس کے دشمن کو معلوم ہی نہیں اور یہ طاقت مستقبل میں کسی جھڑپ کے دوران ان کو حیرت زدہ کر دے گی۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ 3 سال کے بعد پہلی بار منظر عام پر آ گئے اور انھوں نے منگل کی صبح بیروت میں بڑے عوامی اجتماع سے خطاب میں بیت المقدس کو واپس حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ 2008ء کے بعد پہلی بار عاشورا کے اجتماع میں آنے والے حسن نصراللہ نے کہا کہ یہودیوں کو خبردار کرتے ہیں کہ مشرقی بیت المقدس ہم لے کر رہیں گے، کیونکہ ہمارا دشمن اسرائیل مسجد الاقصٰی کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔  انھوں نے کہا کہ لبنان کی حزب اللہ اتنی طاقتور ہے کہ اس کے دشمن کو معلوم ہی نہیں اور یہ طاقت مستقبل میں کسی جھڑپ کے دوران ان کو حیرت زدہ کر دے گی۔ انھوں نے امریکی انتظامیہ پر ہزاروں فلسطینیوں کی قید اور فلسطین پر قبضے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہمیں دوست اور دشمن کو پہچاننے میں غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ امریکہ ہمارا دشمن ہے اور اسرائیل اس کے احکامات پر چلنا والا اوزار ہے۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حزب اللہ اپنی طاقت اور فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی رہے گی۔ اس موقع پر حسن نصراللہ کو دیکھنے اور ان کا خطاب سننے کے لئے ہزاروں افراد جنوبی بیروت پہنچے تھے۔   دیگر ذرائع کے مطابق لبنان کی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے شام میں صدر بشارالسد کی حکومت کے خلاف ہونے والے عوامی مظاہروں کو امریکی چال قرار دیتے ہوئے شامی حکومت کے لیے حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کئی برس زیرزمین رہنے کے بعد یوم عاشور کے موقع پر بیروت میں لاکھوں افراد کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے رہنماء نے کہا کہ امریکہ شام کو تباہ کرنے کی سازش کر رہا ہے۔  سید حسن نصر اللہ سنہ دو ہزار چھ میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد بہت کم منظر عام پر آئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک ملیشیا نے اسرائیل کی مضبوط فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس کے ڈیڑھ سو سے زیادہ فوجیوں کو ہلاک کیا تھا۔ سید حسن نصراللہ اکثر ویڈیو لنک کے ذریعے لوگوں سے خطاب کرتے ہیں۔ منگل کے روز وہ بیروت میں ہونے والی ایک ریلی میں اچانک اپنے باڈی گارڈز کے ہمراہ نمودار ہوئے اور چند منٹ تک سٹیج پر رہنے کے بعد وہاں سے چلے گئے اور کسی محفوظ جگہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے سے خطاب کیا۔  انہوں نے اپنے خطاب میں کہا “ہم شام میں اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں اور مزاحمتی تحریک کے مقابلے میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ شام میں بعض لوگ اصلاحات نہیں چاہتے جو حکومت وہاں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے لانا چاہتی ہے۔ یہ لوگ امن، استحکام اور مذاکرات کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو عراق میں اپنی شکست کا بدلہ شام سے لینا چاہتے ہیں کیونکہ شام  عراق میں امریکیوں کو شکست دینے میں حصہ دار ہے۔  سید حسن نصراللہ نے شام کی اپوزیشن جماعت کے رہنماء برہان غالیون کو تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ اپوزیشن جماعت شام میں برسر اقتدار آ کر شام کے ایران اور حزب اللہ کے ساتھی خصوصی مراسم کو ختم کر دے گی۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا برہان غالیون امریکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایسے بیانات دے رہے ہیں۔

ایران الیکٹرانک وار فیئر کے حوالے سے اپنی اس جدید ٹیکنولوجی کے ذریعے امریکی فوج کی جانب سے بغیر پائلٹ ڈرون طیارون پر استوار اسٹریٹجی کو تہس نہس کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔  امریکہ کے جدید ترین جاسوسی طیارے RQ 170 کا ایران کی مشرقی سرحد پر ایران آرمی کے ہاتھوں کنٹرول سنبھالے جانا اور اسے کمترین نقصان پہنچاتے ہوئے کامیابی سے لینڈ کر لینا اس ہفتے کی ایک بڑی خبر ثابت ہوئی ہے۔ امریکی وزارت دفاع پنٹاگون اور نیٹو نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے اور اس پر اپنی شدید پریشانی کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ ڈرون طیارہ امریکہ کے جدید ترین ڈرون طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے جسکے ذریعے انتہائی اہم جاسوسی مشن انجام پاتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے اسکے بقول ایبٹ آباد میں واقع اسامہ بن لادن کے کمپاونڈ کی جاسوسی بھی اسی طیارے سے انجام دی تھی۔ اس جاسوسی طیارے کی ایک انتہائی اہم خصوصیت اسکی اسٹیلتھ ٹیکنولوجی یا دوسرے الفاظ میں ریڈار سے بچنے کی صلاحیت تھی۔ اسی صلاحیت کی بدولت نیٹو فورسز انتہائی اطمینان سے اسے اہم ترین جاسوسی مشنز کیلئے روانہ کرتے تھے اور خود امریکی حکام کے بقول یہ جاسوسی طیارہ اب تک افغانستان کے اڈوں سے کئی بار ایران کی سرحدوں میں داخل ہو کر اپنا مشن انجام دے کر کامیابی سے واپس افغانستان جا چکا تھا۔  سیاسی ماہرین کے خیال میں جو چیز امریکہ کیلئے شدید پریشانی اور بوکھلاہٹ کا باعث بنی ہے وہ محض اس جاسوسی طیارے کا ایران کے ہاتھ لگ جانا نہیں بلکہ ایران کے ریڈار سسٹم کا اس طیارے کو ڈیٹیکٹ کر لینا ہی امریکی وزارت دفاع اور نیٹو کے تحقیقاتی اداروں کیلئے انتہائی شدید صدمے اور دھچکے کا باعث بنا ہے۔ ایران آرمی کی الیکٹرانک وار یونٹ نے نہ فقط اس ڈرون طیارے کی موجودگی کو محسوس کر لیا بلکہ ایک بے مثال اور حیرت انگیز اقدام کے ذریعے اسکا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے لینڈ کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ یہ جاسوسی طیارہ جسکی موجودگی سے بھی دنیا بے خبر تھیاور امریکہ کے اہم ترین رازوں میں اسکا شمار ہوتا تھا اب اپنی تمام تر ٹیکنولوجی کے علاوہ ان حساس معلومات  کے ساتھ جو اس نے مختلف آپریشنز میں اپنے اندر ذخیرہ کر رکھے تھے اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلابی اور باایمان جوانوں کے ہاتھ لگ چکا ہے۔ ایسی صورتحال میں امریکی حکام اور فوجی کمانڈروں کی پریشانی اور بوکھلاہٹ ایک واضح امر ہے۔  فوجی ماہرین نے بھی ایران کی جانب سے امریکی ڈرون طیارے پر قبضے کی اصل وجہ ایران کے ڈیفنس سسٹم کو قرار دیا ہے اور اعتراف کیا ہے کہ ایران آرمی ایسی ٹیکنولوجی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے جسکے ذریعے وہ بغیر پائلٹ جاسوسی طیاروں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کے قابل ہو چکا ہے۔  مغربی ذرائع ابلاغ نے اس ہفتے اتوار 4 دسمبر کے دن اپنے نشریات میں اعلان کیا کہ ایک امریکی ڈرون طیارہ جو ایران کی مشرقی سرحد پر پرواز کرنے میں مصروف تھا اچانک گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ڈرون طیارہ آر کیو 170 تھا جسے ایران ایئر ڈینفس سسٹم نے ایران اور افغانستان کے بارڈر ایریا میں مار گرایا ہے۔ بعض ذرائع جیسے سی این این نے اپنی رپورٹ میں اعلان کیا کہ یہ جاسوسی طیارہ کاشمر کے علاقے میں سرنگون ہوا ہے۔ اسی طرح سی این این نے امریکی وزارت دفاع کے بعض اہم عہدیداروں کے بقول بتایا کہ اس ڈرون میں انتہائی اہم اور خفیہ معلومات اور دستاویزات بھی موجود تھیں۔ بی بی سی نے اس واقعے کو “ایران اور امریکہ کے درمیان خاموش جنگ کا نیا مرحلہ” قرار دیا۔  روسی خبررساں ادارے ریانووسٹی نے اس بارے میں رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا  امریکی بغیر پائلٹ طیارہ اس وقت ایران کے قبضے میں ہے، یہ طیارہ ریڈار کے ذریعے بہت مشکل سے دکھائی دیتا ہے اور امریکہ عام طور پر اسے اپنے ایسے فوجی کمانڈروں کی مدد کیلئے استعمال کرتا ہے جو میدان جنگ میں اہم معلومات کے محتاج ہوتے ہیں”۔  ریانووسٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایران اس جاسوسی طیارے کو کمترین نقصان پنچاتے ہوئے زمین پر اتارنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔  سب سے اہم ردعمل امریکی خبررساں ادارے وائس آف امریکہ کا تھا۔ وی او اے نے ایک امریکی فوج کے ایک اعلی سطحی عہدیدار کے بقول اس ڈرون کی سرنگونی کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اسکی سرنگونی کی اصلی وجہ اسکا ہمارے کنٹرول سے خارج ہو جانا تھا۔  اسی دوران تہران میں فوجی ذرائع نے اس امریکی جاسوسی طیارے کا اپنے قبضے میں لینے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ پہلا امریکی جاسوسی طیارہ نہیں جسے ایران نے کامیابی سے سرنگون کیا ہے۔  یہ ذرائع ابلاغ گرائے جانے  کی اصطلاح کو استعمال کرنا صحیح نہیں سمجھتے کیونکہ درحقیقت ایران آرمی نے الیکٹرانک وار جیسی انتہائی پیچیدہ ٹیکنولوجی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے سرحد کے قریب پرواز کرنے والے اس ڈرون کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا اور اسکے بعد اسے اپنے علاقے میں اتارنے میں کامیاب ہوئے۔  ایک ذریعہ کا کہنا تھا: امریکی اس جاسوسی طیارے کی سرنگونی سے زیادہ اس ٹیکنولوجی کی بابت پریشان ہیں جس کے ذریعے ایران نے اس ڈرون کا کنٹرول سنبھال کر اسے اپنے علاقے میں اتارا ہے۔  یہ ذریعہ مزید کہتا ہے: امریکی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس جاسوسی طیارے کی جانب کسی قسم کی فائرنگ نہیں ہوئی اور ایران نے اسے ایسی حالت میں اپنے قبضے میں لیا ہے کہ اس میں موجود تمام معلومات اپنی اصلی حالت میں ہیں۔  ایک اہم فوجی ذریعے نے زیادہ وضاحت سے معذرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا  آج کے بعد ایران کی سرحدیں امریکی جاسوسی طیاروں کیلئے بالکل مناسب نہیں کیونکہ اب ایران کے پاس ایسی ٹیکنولوجی موجود ہے جسکے ذریعے ایک گولی بھی فائر کئے بغیر اور الیکٹرانک وار کے ذریعے ڈرون طیاروں کو اپنے کنٹرول میں لے کر اپنے علاقے میں لینڈ کروا سکتا ہے۔  اس موضوع کی اہمیت اس وقت زیادہ واضح ہوتی ہے جب ہم یہ جان لیں کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران امریکہ کی فوجی اسٹریٹجی میں ڈرون طیاروں کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے اور امریکی دنیا کے مختلف حصوں بالخصوص پاکستان، افغانستان، یمن اور صومالیہ میں ان ڈرون طیاروں کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ ان طیاروں کو جاسوسی مقاصد کیلئے بھی استعمال کرتا ہے اور انکے ذریعے دشمنوں کے ٹھکانوں کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بناتا ہے۔ امریکہ ایران کی سرحد کے قریب بھی ان طیاروں کا وسیع استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔  ایران الیکٹرانک وار فیئر کے حوالے سے اپنی اس جدید ٹیکنولوجی کے ذریعے امریکی فوج کی جانب سے بغیر پائلٹ ڈرون طیارون پر استوار اسٹریٹجی کو تہس نہس کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے اور امریکی اب یہ اطمینان نہیں رکھ سکتے کہ ہوا میں اڑانے والے جاسوسی طیاروں کا کنٹرول ہمیشہ انکے ہاتھ میں ہی رہے گا اور وہ اپنا مشن مکمل کر کے کامیابی سے واپس انکے اڈے تک لوٹ سکیں گے۔  فوجی ماہرین کے نزدیک خطے میں امریکی فوج کی جانب سے جاسوسی طیاروں کے استعمال میں پیدا ہونے والی یہ محدودیت اور رکاوٹ ان کیلئے انتہائی سنجیدہ قسم کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے