گورنر سندھ نے یکم محرم کے قتل عام میں ملوث دہشتگرد رہا کرنے کا عندیہ دے دیا

Posted: 09/12/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Religious / Celebrating News

ایک طرف تو لندن میں براجمان الطاف حسین محرم الحرام اور شہدائے کربلا کے احترام میں اتحاد بین المسلمین پر لمبی لمبی تقریریں کرتے نہیں تھکتے اور دوسری طرف کالعدم سپاہ صحابہ سے پکی دوستی یہ کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ گزشتہ سال عاشورا اور چہلم کے جلوسوں پر حملے بھی اسی خفیہ دوستی کا شاخسانہ تھا۔  اپنے آپ کو لبرل کہلوانی والی ایم کیو ایم کی کالعدم سپاہ صحابہ سے پکی دوستی نکلی، کالعدم سپاہ صحابہ اور ایم کیو ایم کے دوران خفیہ مراسم پر تصدیق کی مہر اس وقت لگ گئی جب کراچی میں یکم محرم کو کالعدم سپاہ صحابہ کی طرف سے سکاؤٹس کی شہادت پر کراچی کی تمام سیاسی و مذہبی تنظیمیں بشمول سنی تحریک کی قیادت نے سپاہ صحابہ کے دفاتر بند کرکے سخت ترین ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔ ایسے میں کالعدم سپاہ صحابہ کا دہشتگرد لیڈر اورنگزیب فاروقی اپنے پرانے دوستوں ایم کیو ایم کے گورنر سندھ کی دعوت پر ان سے ملنے چلے گئے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق گورنر سندھ عشرت العباد نے سپاہ صحابہ کے یکم محرم کو گرفتار تمام دہشتگرد رہا کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ایک طرف تو لندن میں براجمان الطاف حسین محرم الحرام اور شہدائے کربلا کے احترام میں اتحاد بین المسلمین پر لمبی لمبی تقریریں کرتے نہیں تھکتے اور دوسری طرف کالعدم سپاہ صحابہ سے پکی دوستی یہ کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ گزشتہ سال عاشورا اور چہلم کے جلوسوں پر حملے بھی اسی خفیہ دوستی کا شاخسانہ تھا، جس میں سپاہ صحابہ کے ذمے خودکش دھماکے اور بم حملے جب کہ ایم کیو ایم کے ذمے دھماکے کے فورا بعد جلاؤ گھیراؤ کرنا طے پایا تھا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایم کیو ایم اور سپاہ صحابہ چونکہ دونوں ایک ہی ڈکٹیٹر ضیاء کی پیداوار ہیں، اسلئے ایک دوسرے ڈکٹیٹر مشرف کے دور حکومت میں کراچی میں اورنگزیب فاروقی اور ایم کیو ایم کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوا تھا۔  فوجی ڈکٹیٹروں کی اس طرح کی منافقت پر مبنی پالیسیاں کوئی نئی بات نہیں، جس کا ثبوت ضلع جھنگ پنجاب میں فروری 2008ء کے انتخابات میں مشرف لیگ یا مسلم لیگ ق کے صوبائی اسمبلی حلقہ 70 کے امیدوار الحاج شیخ محمد یعقوب اور کالعدم سپاہ صحابہ کے امیدوار مولانا لدھیانوی کا مشرف کی اشیرباد سے مشترکہ انتخابی اتحاد اور پوسٹرز کی بھرمار تھی۔ کراچی میں کالعدم سپاہ صحابہ کے اورنگزیب فاروقی اور ایم کیو ایم کے درمیان خفیہ معاہدہ بھی فوجی ڈکٹیٹر مشرف کی اشیرباد کا نتیجہ تھا، جس کی اہم وجہ مشرف کا اپنی کمیونٹی ایم کیو ایم کا کراچی میں راج قائم کرنا تھا، چاہے کالعدم سپاہ صحابہ کے اورنگزیب فاروقی سے اتحاد سے ہی کیوں نہ ہو، مختلف حکومتوں اور لبرل ازم کا راگ الاپنے والوں کی اس طرح کی منافقت پر مبنی پالیسوں سے کراچی  کے ساتھ ساتھ  پورے ملک میں امن و امان کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو گا؟ یہ سوال یقینا غور طلب ہے۔

 

Comments are closed.