افغان دھماکے، آئی ایس آئی کے خلاف میڈیا مہم شروع

Posted: 09/12/2011 in Afghanistan & India, All News, Breaking News, Important News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News, USA & Europe

امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جس گروپ نے یہ حملہ کیا اس کے پاکستانی ادارے سے رابطے موجود ہیں، یاد رہے کہ کابل اور مزار شریف میں عزاداروں پر ہونے والے بم دھماکوں میں 60 افراد شہید جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔  افغان دارالحکومت کابل اور مزار شریف میں عزاداروں پر خودکش اور بم حملے کا الزام بھی پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر عائد کرنے کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ یہ الزام امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جس گروپ نے یہ حملہ کیا اس کے پاکستانی ادارے سے رابطے موجود ہیں۔ یاد رہے کہ کابل اور مزار شریف میں عزاداروں پر ہونے والے بم دھماکوں میں 60 افراد شہید جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے، یہ ایک دہائی سے جاری جنگ کے دوران شہریوں پر ہونے والے تباہ کن حملوں میں سے ایک قرار دیئے گئے ہیں۔   اخبار کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری پاکستانی عسکریت پسند گروپ لشکر جھنگوی العالمی نے قبول کی اور اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ افغانستان میں اس گروپ کی پہلی بڑی کارروائی ہوگی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ یہ حملہ پاکستان اور افغانستان کے موجودہ کشیدہ تعلقات کو بدترین سطح پر پہنچا دے گا، کیونکہ افغان حکومت اور امریکی حکام الزامات لگاتے رہتے ہیں کہ آئی ایس آئی افغان سرزمین پر حملوں کے لئے معاونت فراہم کرتی ہے۔  اخبار کا دعویٰ ہے کہ آئی ایس آئی ماضی میں لشکر جھنگوی کے ساتھ تعاون کرتی رہی ہے۔ اخبار نے جرمنی میں موجود افغان صدر حامد کرزئی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس کے مطابق یہ حملہ کرنے والے اسلام اور افغانستان کے دشمن ہیں۔ صدر کرزئی نے حملے کے بعد اپنا دورہ برطانیہ بھی ملتوی کردیا تھا۔ اخبار کے بقول یہ حملہ ایسے وقت پر ہوا ہے جب افغان حکومت پر طالبان سے مذاکرات، معاشی مشکلات اور سیاسی زوال کے باعث دباؤ بڑھ رہا ہے۔  ان حملوں کے بعد پہلی بار نیٹو و امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے طالبان سے اس کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا اور حیرت انگیز طور پر اس کے بعد طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے مذمتی بیان بھی سامنے آگیا۔

Comments are closed.