Archive for 09/12/2011

امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جس گروپ نے یہ حملہ کیا اس کے پاکستانی ادارے سے رابطے موجود ہیں، یاد رہے کہ کابل اور مزار شریف میں عزاداروں پر ہونے والے بم دھماکوں میں 60 افراد شہید جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔  افغان دارالحکومت کابل اور مزار شریف میں عزاداروں پر خودکش اور بم حملے کا الزام بھی پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر عائد کرنے کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ یہ الزام امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جس گروپ نے یہ حملہ کیا اس کے پاکستانی ادارے سے رابطے موجود ہیں۔ یاد رہے کہ کابل اور مزار شریف میں عزاداروں پر ہونے والے بم دھماکوں میں 60 افراد شہید جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے، یہ ایک دہائی سے جاری جنگ کے دوران شہریوں پر ہونے والے تباہ کن حملوں میں سے ایک قرار دیئے گئے ہیں۔   اخبار کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری پاکستانی عسکریت پسند گروپ لشکر جھنگوی العالمی نے قبول کی اور اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ افغانستان میں اس گروپ کی پہلی بڑی کارروائی ہوگی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ یہ حملہ پاکستان اور افغانستان کے موجودہ کشیدہ تعلقات کو بدترین سطح پر پہنچا دے گا، کیونکہ افغان حکومت اور امریکی حکام الزامات لگاتے رہتے ہیں کہ آئی ایس آئی افغان سرزمین پر حملوں کے لئے معاونت فراہم کرتی ہے۔  اخبار کا دعویٰ ہے کہ آئی ایس آئی ماضی میں لشکر جھنگوی کے ساتھ تعاون کرتی رہی ہے۔ اخبار نے جرمنی میں موجود افغان صدر حامد کرزئی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس کے مطابق یہ حملہ کرنے والے اسلام اور افغانستان کے دشمن ہیں۔ صدر کرزئی نے حملے کے بعد اپنا دورہ برطانیہ بھی ملتوی کردیا تھا۔ اخبار کے بقول یہ حملہ ایسے وقت پر ہوا ہے جب افغان حکومت پر طالبان سے مذاکرات، معاشی مشکلات اور سیاسی زوال کے باعث دباؤ بڑھ رہا ہے۔  ان حملوں کے بعد پہلی بار نیٹو و امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے طالبان سے اس کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا اور حیرت انگیز طور پر اس کے بعد طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے مذمتی بیان بھی سامنے آگیا۔

Advertisements

ایک طرف تو لندن میں براجمان الطاف حسین محرم الحرام اور شہدائے کربلا کے احترام میں اتحاد بین المسلمین پر لمبی لمبی تقریریں کرتے نہیں تھکتے اور دوسری طرف کالعدم سپاہ صحابہ سے پکی دوستی یہ کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ گزشتہ سال عاشورا اور چہلم کے جلوسوں پر حملے بھی اسی خفیہ دوستی کا شاخسانہ تھا۔  اپنے آپ کو لبرل کہلوانی والی ایم کیو ایم کی کالعدم سپاہ صحابہ سے پکی دوستی نکلی، کالعدم سپاہ صحابہ اور ایم کیو ایم کے دوران خفیہ مراسم پر تصدیق کی مہر اس وقت لگ گئی جب کراچی میں یکم محرم کو کالعدم سپاہ صحابہ کی طرف سے سکاؤٹس کی شہادت پر کراچی کی تمام سیاسی و مذہبی تنظیمیں بشمول سنی تحریک کی قیادت نے سپاہ صحابہ کے دفاتر بند کرکے سخت ترین ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔ ایسے میں کالعدم سپاہ صحابہ کا دہشتگرد لیڈر اورنگزیب فاروقی اپنے پرانے دوستوں ایم کیو ایم کے گورنر سندھ کی دعوت پر ان سے ملنے چلے گئے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق گورنر سندھ عشرت العباد نے سپاہ صحابہ کے یکم محرم کو گرفتار تمام دہشتگرد رہا کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ایک طرف تو لندن میں براجمان الطاف حسین محرم الحرام اور شہدائے کربلا کے احترام میں اتحاد بین المسلمین پر لمبی لمبی تقریریں کرتے نہیں تھکتے اور دوسری طرف کالعدم سپاہ صحابہ سے پکی دوستی یہ کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ گزشتہ سال عاشورا اور چہلم کے جلوسوں پر حملے بھی اسی خفیہ دوستی کا شاخسانہ تھا، جس میں سپاہ صحابہ کے ذمے خودکش دھماکے اور بم حملے جب کہ ایم کیو ایم کے ذمے دھماکے کے فورا بعد جلاؤ گھیراؤ کرنا طے پایا تھا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایم کیو ایم اور سپاہ صحابہ چونکہ دونوں ایک ہی ڈکٹیٹر ضیاء کی پیداوار ہیں، اسلئے ایک دوسرے ڈکٹیٹر مشرف کے دور حکومت میں کراچی میں اورنگزیب فاروقی اور ایم کیو ایم کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوا تھا۔  فوجی ڈکٹیٹروں کی اس طرح کی منافقت پر مبنی پالیسیاں کوئی نئی بات نہیں، جس کا ثبوت ضلع جھنگ پنجاب میں فروری 2008ء کے انتخابات میں مشرف لیگ یا مسلم لیگ ق کے صوبائی اسمبلی حلقہ 70 کے امیدوار الحاج شیخ محمد یعقوب اور کالعدم سپاہ صحابہ کے امیدوار مولانا لدھیانوی کا مشرف کی اشیرباد سے مشترکہ انتخابی اتحاد اور پوسٹرز کی بھرمار تھی۔ کراچی میں کالعدم سپاہ صحابہ کے اورنگزیب فاروقی اور ایم کیو ایم کے درمیان خفیہ معاہدہ بھی فوجی ڈکٹیٹر مشرف کی اشیرباد کا نتیجہ تھا، جس کی اہم وجہ مشرف کا اپنی کمیونٹی ایم کیو ایم کا کراچی میں راج قائم کرنا تھا، چاہے کالعدم سپاہ صحابہ کے اورنگزیب فاروقی سے اتحاد سے ہی کیوں نہ ہو، مختلف حکومتوں اور لبرل ازم کا راگ الاپنے والوں کی اس طرح کی منافقت پر مبنی پالیسوں سے کراچی  کے ساتھ ساتھ  پورے ملک میں امن و امان کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو گا؟ یہ سوال یقینا غور طلب ہے۔

 

احمد رضا طاہر کا کہنا تھا کہ محرم الحرام میں مجالس کے دوران تمام مساجد اور امام بارگاہوں پر واک تھرو گیٹ اور میٹل ڈٹیکٹرز کا استعمال یقینی بنائیں، پارکنگ کے لیے محفوظ فاصلے پر جگہ متعین کی جائے۔  کیپٹل سٹی پولیس چیف احمد رضا طاہر نے جاری مجالس عزا اور جلوسوں کے موقع پر سکیورٹی کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر حکم دیا ہے کہ مجالس کے لیے تمام ڈویژنل ایس پیز اپنے اپنے علاقوں میں موجودہ سکیورٹی کے حالات کے پیش نظر تمام مساجد، امام بارگاہوں اور خصوصی طور پر کربلا گامے شاہ، دربار بی بی پاکدامن پر موثر سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنائیں اور عوام کے دلوں میں اپنے موثر اقدامات سے تحفظ کا احساس پیدا کریں، تاکہ شہری بلاخوف و خطر اپنے مذہبی فرائض ادا کر سکیں۔ سی سی پی او نے لاہور پولیس کو مزید حکم دیا کہ مساجد اور امام بارگاہوں میں منتظمین کی مدد سے سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کیے جائیں، میٹل ڈٹیکٹرز کا استعمال بڑھایا جائے اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھی جائے۔  احمد رضا طاہر نے سکیورٹی برانچ کو بھی ہدایت کی کہ وہ محرم الحرام میں مجالس کے دوران تمام مساجد اور امام بارگاہوں پر واک تھرو گیٹ اور میٹل ڈٹیکٹرز کا استعمال یقینی بنائیں، پارکنگ کے لیے محفوظ فاصلے پر جگہ متعین کی جائے اور عوامی تعاون کو اس سلسلہ میں یقینی بنایا جائے۔ سی سی پی او احمد رضا طاہر نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ محرم الحرام کے دوران جمعہ کے اجتماعات کے موقع پر مختلف مکاتب فکر کی مشاورت سے طے پانے والے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروایا جائے، جس کے تحت تمام اشتعال انگیز تقاریر اور نفرت انگیز مواد پر مکمل پابندی عائد ہے

دبئی سے فون پر میڈیا سے گفتگو میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ وہ حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور عزم رکھتے ہیں۔ بہت سے دشمنوں کا خیال ہے کہ میں ملک سے بھاگ گیا ہوں لیکن ان دشمنوں اور قیاس آرائیاں کرنے والوں کو مایوسی ہو گی۔  صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں اور جلد پاکستان واپس آئیں گے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ میں دبئی جانے کو تیار نہیں تھا، بچوں اور وزیراعظم گیلانی نے زبردستی علاج کے لئے بھیجا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے دشمنوں کا خیال ہے کہ میں ملک سے بھاگ گیا ہوں۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق نجی ٹی وی اینکر سے ٹیلی فون پر گفتگو میں صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ مجھے ڈاکٹروں نے چند دن آرام کا مشورہ دیا ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور جلد وطن واپس آئیں گے، ان کا کہنا ہے کہ وہ حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور عزم رکھتے ہیں، قیاس آرائیاں کرنے والوں کو مایوسی ہوگی۔ دبئی سے فون پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ وہ دبئی آنے کیلئے تیار نہیں تھے لیکن ان کے بچوں اور وزیراعظم نے ٹیسٹوں اور علاج کے لئے باہر بھیجا۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں نے چند دن آرام کا مشورہ دیا ہے جس کے بعد وہ جلد طن واپس آجائیں گے۔ صدر زرداری نے کہا کہ وہ حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور عزم رکھتے ہیں۔ بہت سے دشمنوں کا خیال ہے کہ میں ملک سے بھاگ گیا ہوں لیکن ان دشمنوں اور قیاس آرائیاں کرنے والوں کو مایوسی ہو گی۔  صدر مملکت کا کہنا تھا کہ بلاول سمیت سب کچھ پاکستان میں ہے، وطن واپسی جلد ہو گی۔ اس سے پہلے صدر زرداری نے وزیراعظم گیلانی کو ٹیلی فون کیا اور اپنی خیریت سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی بھی وزیراعظم ہاؤس میں یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے لئے موجود تھے۔

کرپشن کے خاتمے کے عالمی دن کے حوالے سے خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس قومی خزانے سے 35 ارب روپے خرد برد کئے گئے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سال 2010-2011 کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارتوں اور مختلف وفاقی شعبوں کے اخراجات کی مد میں قومی خزانے سے 35 ارب روپے خرد برد کئے گئے یا بےقائدگی سے خرچ یا پھر بہت سارے اخراجات کا سرکاری ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔  دنیا بھر میں آج اقوام متحدہ کے ماتحت کرپشن کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر میں کرپشن جاری ہے، براعظم ایشیا کے اہم ترین ملک پاکستان میں ایک سال کے اندر قومی خزانے سے 35 ارب روپے خرد برد کئے گئے جب کہ اس وقت کرپشن کے باعث ملک کے تمام بڑے ادارے تباہی کے کنارے پر پہنچ چکے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں سپریم کورٹ میں اس وقت حج کرپشن، نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ ( این آئی سی ایل ) نیٹو کنٹینرز، رینٹل پاور کرپشن کیس اور ریلوے کیس سمیت متعدد کرپشن کیسز زیر سماعت ہیں جب کہ سپریم کورٹ نے این آر اور کرپشن کیسز سے متعلق کمیشن بنایا ہوا ہے، دوسری جانب کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے باعث ملک کے بڑے ادارے پی آئی اے، ریلوے، واپڈا، یوٹیلٹی اسٹورز اور اسٹیل ملز سمیت کئی اہم ادارے تباہی کے کنارے پر پہنچ چکے ہیں۔  کرپشن کے خاتمے کے عالمی دن کے حوالے سے اسلام ٹائمز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس قومی خزانے سے 35 ارب روپے خرد برد کئے گئے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سال 2010-2011 کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارتوں اور مختلف وفاقی شعبوں کے اخراجات کی مد میں قومی خزانے سے 35ارب روپے خرد برد کئے گئے یا بےقائدگی سے خرچ یا پھر بہت سارے اخراجات کا سرکاری ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔  رپورٹ کے مطابق 11 کیسز میں 2 ارب 40 کروڑ 77 لاکھ سے زائد کی رقم غبن کی گئی جبکہ 27 کیسز میں سرکاری قومی خزانےکی رقم کو بےقائدگی سے خرچ کیا گیا اور ان تمام کیسز میں 6 ارب 9 کروڑ 86 لاکھ روپے خرد برد کئے گئے۔ قومی خزانے سے خرچ کی گئی رقم کی تین مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جن میں ایک ارب 35 کروڑ 90 لاکھ روپے غبن کئے گئے اور ان کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے جبکہ 17 کیسز میں مالی کنٹرول کمزور ہونے کی وجہ سے ان میں 9 ارب 35 کروڑ 82 لاکھ روپے کی ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ مالی سال 2010-2011 میں قومی خزانے سے 11 ارب 94 کروڑ 96 لاکھ روپے 38 مختلف کیسز میں غبن کئے گئے جبکہ 6 اثاثوں میں غیر محفوظ انتظامات کی وجہ سے ایک ارب 34 کروڑ 25 لاکھ روپے کی رقم ہڑپ کی گئی۔  کرپشن کے حوالے سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2010-2011 کی ایک اور رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن میں 55 ایسے واقعات ہیں جو 15 ارب روپے کے نقصان کا سبب بنے جبکہ مختلف ایئر لائنز سے بھی 3 ارب روپے سے زائد کی رقم نہیں لی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن کے شعبہ خزانے نے نومبر 2010 میں مختلف ایئر لائنز سے ایرو ناٹیکل رقم کے 3.318 ارب روپے وصول نہیں کئے جبکہ صرف پی آئی اے سے 42 کروڑ 30 لاکھ روپے کی رقم وصول کی گئی۔ سول ایوی ایشن نے آگ پہ قابو پانے کیلئے 1.367 ارب روپے کی 124 گاڑیاں جبکہ 1.24 ارب روپے کی دیگر 19 گاڑیاں سرکاری منظوری کے بغیر ہی خریدی جبکہ ان گاڑیوں کی کل رقم 2.608 ارب روپے بنتی ہے۔  سول ایوی ایشن نے ستمبر 2010 میں ایک ارب 24 کروڑ روپے کا کنٹریکٹ ٹینڈر کے بغیر ہی دے دیا، دسمبر 2009 میں آگ بجھانے والی 24 گاڑیوں کا 1.367 ارب روپے کا کنٹریکٹ بھی اسی طریقے سے دیا گیا جبکہ جون 2010 میں اسی سپلائر کو ریسکیو ایئر کرافٹ آگ بجھانے والی گاڑیوں کا 1.24 ارب روپے کا ایک اور کنٹریکٹ دیا گیا۔ کرپشن کے حوالے سے ہی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی خصوصی کمیٹی کے ڈائریکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران غربت کے خاتمے کیلئے قائم فنڈ کے ذریعے عالمی بنک کی مدد سے ایک کھرب روپے قرضوں کی صورت میں غیر سرکاری این جی اوز میں تقسیم کئے گئے جبکہ اس سلسلے میں فنانس ڈویژن کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں یہ شق رکھی گئی ہے کہ اس کو آڈٹ نہیں کیا جائیگا۔  پبلک اکائونٹس کمیٹی نے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلی چھان بین کیلئے بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے تمام منصوبوں کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے، پبلک اکائونٹس کمیٹی میں ایک این جی او کو رولر سپورٹ پروگرام کے ساتھ 1 ارب 69 کروڑ روپے کا دیا ہوا غیر قانونی معاہدہ بھی زیر غور آیا، کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ این جی او لوگوں کو 20 سے 25 فیصد شرح پر قرضے دیتی رہی لیکن اپنا آڈٹ کرانے کو تیار نہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بدعنوانی کی روک تھام اور قومی خزانے سے رقم لوٹنے والے افراد کو گرفتار کرنے والے ادارے نیشنل اکائونٹبلٹی بیورو نیب نے گزشتہ 9 برسوں میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل نہیں کی اور اب تک صرف 13 افراد سے لوٹی ہوئی رقم قومی خزانے میں واپس کرائی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 1999-2000 سے 2007-2008 تک نیب کو 47038 شکایات ملیں جن میں سے 28717 سرکاری افسران، 3685 کاروباری افراد، 1169 سیاستدانوں، 375 ریٹائرڈ فوجیوں اور 13105 درخواستیں دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف ملیں۔ نیب نے ملنے والی درخواستوں میں سے صرف 1495 مقدمات داخل کئے جن میں سے 818 مقدمات کا فیصلہ ہوا جبکہ باقی 677 مقدمات لٹکے رہے اور 818 مقدمات میں سے 137 مقدمات عدالتوں میں واپس لئے گئے جبکہ مزید مقدمات میں سے 181 لوگ بری ہونے میں کامیاب رہے اور گذشتہ 9 برس میں صرف 500 بدعنوانوں کو سزا ملی ہے

کوئٹہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بلیک واٹر و دیگر امریکی آلہ کاروں کو فوری طور پر پاکستان سے نکال دیا جائے۔  جماعت اسلامی بلوچستان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی مفادات کی جنگ سے علیحدگی اور ہر قسم کے تعلقات ختم کر کے ہی بدامنی، دہشتگردی اور لا قانونیت سے نجات ممکن ہے، شمسی ائیربیس کے ساتھ شہباز ائیربیس سمیت بلیک واٹر و دیگر امریکی آلہ کاروں کو فوری طور پر پاکستان سے نکال دیا جائے امریکہ سے غلامی والا تعلقات ختم کر کے ہی افغانستان میں امن اور ملک کی سرحدیں محفوظ ہو سکتی ہے۔ امریکہ کبھی مسلمانوں خصوصاً پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا، پاکستان نیٹو کی سپلائی کسی صورت بحال نہ کریں، تاکہ افغانستان میں قابض افواج بھوکی مر جائے۔

قارئین پچھلے 1060 دنوں میں 1766 اتحادی فوجی افغانستان میں ہلاک ہو چکے ہیں، زخمیوں کی تعدار تو کئی ہزاروں میں ہے، یہ بہت بڑا جانی تقصان ہے، اس کے ساتھ امریکہ کے افغان جنگ میں ہر ہفتے 2 ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں، ایسے مالی نقصان کی بھی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قیادت اب نیم پاگل اور حواس باختہ ہو چکی ہے اور اس غصے میں وہ پاکستان کو بھی لپیٹنا چاہتے ہیں۔ تاکہ ایک جھٹکے میں پاکستان کے اندر پہلے سے چنے ہوئے نقریباً 300 ٹارگٹس کو نشانہ بنا کر پاکستانی ایٹمی صلاحیت اور ہوائی قوت کو مفلوج کر دیا جائے۔ ایم کے بھدرا کمار (Mk Bhudhra Kumar) ایک ہندوستانی سفیر ہے، جو سویٹ یونین، جنوبی کوریا، سری لنکا، افغانستان، پاکستان، ازبکستان، کویت اور ترکی میں ہندوستان کی سفارتی نمائندگی کر چکا ہے، اس نے 30 نومبر کو ایشیاء ٹائمز میں ایک مضمون لکھا ہے جس کا عنوان ہے US and Pakistan Enter the Danger Zone” ۔
اس مضمون میں ہندوستانی سفارت کار نے پاکستان کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع کے فیصلوں کوstunning یعنی زبردست کہا جن میں دہشتگردی کے خلاف امریکہ کی جنگ سے پاکستان کی علیحدگی کے علاوہ باقی تقریباً ساری چیزیں شامل ہیں اور ایک چینی اخبار کے مطابق تو شائد پاکستان جلد ہی اس جنگ سے علیحدہ بھی ہو جائے۔ ہمارے بہت سارے جذباتی پاکستانی بھائی یہ پوچھتے ہیں کہ اگر رات کے سوا بارہ بجے سے لیکر صبح کے سوا دو بجے تک یعنی دو گھنٹے، امریکی حملہ یا جارحیت جاری رہی، تو ہماری ہوائی فوج نے جوابی حملہ کیوں نہیں کیا۔ ایک ٹاک شو میں میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ہمارے ایک قابل احترام سابقہ پاکستانی سفیر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم نے ان فوجیوں کو کس لئے پالا ہوا ہے، جب میں نے عرض کیا کہ فوجی تو ملک کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے تو سفیر موصوف جن کی میں بہت عزت کرتا ہوں، فوراً بولے کہ اس کے لئے ان کو تنخواہ ملتی ہے۔ یہ نہ سوچتے ہوئے کہ ایک فوجی سپاہی 15 یا 20 ہزارماہانہ کی تنخواہ کی خاطر نہیں بلکہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر اپنے ملک کیلئے رضاکارانہ طور پر اپنی جان قربان کر دیتا ہے، ویسے تو کسی کو دس لاکھ روپے بھی دے کر دیکھ لیں وہ گولی کھانے کیلئے تیار نہیں ہو گا۔ 

قارئین پاکستان کی ایئر فورس دنیا کی ایک مانی ہوئی ہوائی قوت ہے اور ایم ایم عالم جیسے ہمارے سینکڑوں ہوا بازوں کی جرات اور بہادری کی داستانیں ہمارے دشمن بھی سناتے ہیں، لیکن یہاں میں یہ ضرور کہونگا کہ پاکستانی سفیر جو میری طرح محب وطن ہیں، نہایت دیانتداری سے بہت سارے لوگوں کے ان خیالات کی ترجمانی کر رہے تھے جو یہ کہتے ہیں کہ آخر دو گھنٹے تک افواج پاکستان نے جوابی ہوائی حملہ کیوں نہ کیا؟ اس کا جواب ہندوستانی انتہائی تجربہ کار سفارت کار M K Bhudhrah Kumar نے اپنے مذکورہ بالا کالم میں ان الفاظ میں دیا۔   “Washington may have seriously erred if the intention was to draw out the Pakistan Military into a retaliatory mode and then to hit it with a sledge hammer and make it crawl on its knees pleading mercy. Things aren’t going to work that way.”
یعنی 750 ارب ڈالرز دفاع پر سالانہ خرچ کرنے والا امریکہ اگر یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ پاکستان پوسٹ پر حملہ کر کے صرف پانچ ارب ڈالر سالانہ دفاعی بجٹ والی افواج پاکستان کو ایک کھلی جنگ میں کھینچ لائیگا اور پھر اس کی لوہے کے گولے سے پٹائی کر کے اس کو رینگتے ہوئے رحم کی اپیل کرنے پر مجبور کر دیگا تو یہ اس کی بھول تھی۔ ہندوستانی سفارت کار کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت راوئتی طور پر بہت محتاط ہے، سفیر نہ کہا۔   “Pakistan is not going to give a military response to the US’s provocations. Taliban are always there to keep bleeding the US and NATO Troop’s.”
یعنی پاکستانی فوج امریکی جارحیت کو جواب عسکری انداز میں نہیں دے گی۔ خصوصاً ایسے حالات میں جب خود افغانی طالبان امریکی اور نیٹو فوجیوں کا خون بہانے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔   قارئین پچھلے 1060 دنوں میں 1766 اتحادی فوجی افغانستان میں ہلاک ہو چکے ہیں، زخمیوں کی تعدار تو کئی ہزاروں میں ہے، یہ بہت بڑا جانی تقصان ہے، اس کے ساتھ امریکہ کے افغان جنگ میں ہر ہفتے 2 ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں، ایسے مالی نقصان کی بھی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قیادت اب نیم پاگل اور حواس باختہ ہو چکی ہے اور اس غصے میں وہ پاکستان کو بھی لپیٹنا چاہتے ہیں۔ تاکہ ایک جھٹکے میں پاکستان کے اندر پہلے سے چنے ہوئے نقریباً 300 ٹارگٹس کو نشانہ بنا کر پاکستانی ایٹمی صلاحیت اور ہوائی قوت کو مفلوج کر دیا جائے۔  لیکن پاکستان کی عسکری قیادت اتنی معصوم نہیں کہ ٹریپ ہو جائے، انہوں نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کا ایسا دفاعی نظام ترتیب دیا ہوا ہے جو ناقابل تسخیر ہے۔ اور نہ ہی وہ امریکہ کے ساتھ لڑائی کرنے کی bate لینا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنی فوج کو صرف اپنے دفاع میں فائز کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے اندر داخل ہونے والے ہر جہاز کو گرایا جائیگا اور بیرونی فوجی کو پاکستان میں داخل ہوتے ہی گولی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن پاکستان کی بری اور ہوائی افواج افغانستان کی زمینی اور ہوائی حدود میں قطعاً داخل نہیں ہونگی۔   اس لئے کابینہ کی ہماری کمیٹی برائے دفاع نے بالکل ٹھیک فیصلے کئے ہیں، ہم اگر امریکہ سے جنگ کرتے ہیں تو ہمارے دشمن ممالک خصوصاً ہندوستان اور اسرائیل کیلئے یہ ایک بہت خوش کن خبر ہو گی، اس لئے اس جال میں بالکل نہ پھنسا جائے۔ لیکن یہ نہ بھولا جائے کہ امریکہ ہمارا اب دوست نہیں بلکہ دشمن ہے۔ پیچھے میں نے ایک کالم بعنوان “پاک امریکہ اسٹریٹیجک مذاکرات، وقت کا ضیائع” لکھا تھا جس میں عرض کیا تھا کہ امریکن ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں۔ اس لئے ہمیں بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر، حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کی قیادت کا ایک گرڈ پر ہونا بہت ضروری ہے۔  بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا، امریکہ میں سفیر کی سیاسی بنیادوں پر تعیناتی، پاکستان کے مفاد میں بالکل نہیں، وہاں ایک ایسا پیشہ ور سفیر ہونا چاہیے جس کا مرنا اور جینا صرف اور صرف پاکستان سے منسلک ہو۔ اگر ہم ذاتی سیاسی مفادات کی خاطر ملکی مفادات سے غداری نہ کریں تو پاکستان کی خوشحالی ایک راکٹ کی طرح فضا میں بلند ہو سکتی ہے۔ ہندوستانی سفیر کہتا ہے کہ خطے کی صورتحال پہلے ہی پاکستان کے حق میں تبدیل ہونا شروع ہو چکی ہے، چونکہ استنبول کانفرنس میں روس، چین، ایران اور ازبکستان وغیرہ 2014ء کے بعد کے افغانستان میں امریکی اڈوں کو بند کروانے کے حوالے سے اکٹھے کھڑے نظر آئے۔   چونکہ روس، چین اور ایرانی یہ نہیں برداشت کر سکتے کہ ہندوکش پہاڑی سلسلے میں امریکی میزائل نصب ہو جائیں۔ اس کے علاہ ہندوستانی سفارت کار کے مطابق اگر اکیسوی صدی میں امریکہ اپنی توجہ بحر اوقیانوس پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے تو اس کو چین کا مقابلہ کرنا ہو گا، جس کا اس خطے میں واحد ساتھی پاکستان ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو شنگہائی کواپریشن آرگنائزیشن کا ممبر بنایا گیا ہے۔   قارئین، پاکستان کو اب بہت جلد بڑے بڑے فیصلے کرنے ہونگے۔ مثلاً یہ کہ گہرے پانی والی گوادر بندر گاہ کو فوراً چین کے حوالے کیا جائے اور چین بدلے میں خنجراب پاس سے لیکر گوادر تک چھ رویا سڑک بنانے اور ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ شروع کرئے۔ روس کے ساتھ ایسے معاہدے ہوں کہ وہ پاکستانی سمندر میں اور زمین پر تیل اور گیس کے کنویں کھودے۔ اسی طرح کے معاہدے وسطی ایشیائی ریاستوں سے ہوں۔ اس کے علاوہ ایران سے گیس اور بجلی فوراً پاکستان تک لائی جائے اور گلگت اور کرغستان کو بھی انرجی کوریڈور بنایا جائے۔   اگلی حکومت اور اسمبلی فوراً کالا باغ ڈیم بنائے اور سندھ میں کوئلے کے ذخائر کو کام میں لایا جائے۔ پاکستان فوج کو مکمل قومی فوج بنانے کیلئے بلوچستان سے مزید بھرتیاں کی جائیں۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی کوششوں سے آج ہماری تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ فوج میں 82000 فوجی صوبہ خیبر پختون خواہ سے ہیں اور 81000 فوجیوں کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 18000 ہمارے بلوچی نوجوان بھی فوج میں شریک ہو چکے ہیں اور مزید بھرتی کیے جا رہے ہیں۔  یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ 46000 فوجیوں کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور کوشش یہ ہو رہی ہے کہ آبادی کے لحاظ سے فوج میں پانچوں صوبوں اور آزاد کشمیر کی نمائندگی ہو۔ یہ ہدف جلد حاصل کر لیا جائے گا۔ اس وقت کل پانچ لاکھ پچاس ہزار فوجیوں میں سے آبادی کے لحاط سے پنجاب کا 56% حصہ 265000 بنتا ہے۔ لیکن اس وقت پنجابی فوجیوں کی تعدار 290000 ہے یہ معمولی فرق بھی جلد دور کر لیا جائے گا۔   قارئین مجھے شک نہیں، پاکستان اللہ کے کرم سے معاشی لحاظ سے ایشین ٹائیگر بن سکتا ہے۔ بشرطیکہ قوم سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیانت دار اور اہل قیادت سامنے لے کر آئے، جو قانون کی بالا دستی اور بہترین حکمرانی کو یقینی بنائیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ مجموعی قومی بصیرت کے استعمال اور ینک نیتی سے اپنے وطن کی مٹی سے ہی ملکی خوشحالی کے چشمے پھوٹ سکتے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا۔