Archive for December, 2011

اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے جوبلی کلاتھ مارکیٹ کے قریب کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شیعہ مومن نویر عباس شہید ہوگئے۔ مزید اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات تقریباَ 12 بجے کے قریب ایک 30 سالہ شیعہ نوجوان نوید عباس ولد ناظر حسین کو کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے فرقہ پرست دہشتگردوں نے نشانہ بنایا۔ شیعہ نوجوان نوید عباس ولد ناظر حسین سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی گولی لگنے سے موقعے پر ہی شہید ہوگئے۔ 30سالہ شہید نوید عباس ولد ناظر حسین کراچی کے علاقے لانڈھی کے رہائشی تھے۔ شہید نوید عباس کو فائرنگ کے بعد سول اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ 3 گنٹے انتظار کرنے کے باوجود لواحقین کی عدم موجودگی کی بناء پر ایدھی سرد خانے منتقل کردیا گیا تھا۔ آج صبح شہید نوید عباس کے لواحقین نے شہید کا جسد خاکی ایدھی سینٹر سے وصول کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کی کہ نوید عباس کا تعلق ملت تشیع سے تھا شہید کی نماز جنازہ بعد نماز ظہرین لانڈھی لال گراونڈ میں ادا کردی گئی ہے شہید کی میت اپنے آبائی شہیر ملتان روانہ کر دی گئی ہے

Advertisements

لیبیا کے سابق مقتول رہ نما معمر قذافی کی بیٹی عائشہ قذافی نے اسرائیلی حکومت سے سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔ایک عربی ویب سائٹ نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے حوالے سیانکشاف کیا ہے کہ عائشہ قذافی نے تل ابیب کے اعلی سیاسی عہدیداران سے انہیں اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے۔ عائشہ قذافی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ الجزائر کی حکومت انہیں کسی بھی وقت نئی لیبیائی حکومت کے سپرد کر سکتی ہے جہاں ان کا عدالتی ٹرائل کیا جائے گا۔ اسرائیلی سیٹلائٹ چینل کے مطابق عائشہ قذافی نیاسرائیل سے سیاسی پناہ طلب کرنے کے لیے سابق امریکی اٹارنی نک کا فمین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ عائشہ قذافی کا کہنا ہے کہن وہ اس وقت اسرائیل کو اپنے لیے سب سے محفوظ ملک سمجھتی ہیں

مقبوضہ بیت المقدس…اسرائیل نے مصرمیں آئندہ آنے والی اسلام پسند حکومت کا مقابلہ کرنے کی تیاری شروع کر دی، اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اس کا مصر سے تعلقات ویسے نہیں رہینگے جیسے سادات اور مبارک کے دور حکومت میں تہے۔ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق مصر میں دینی جماعتوں کی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد اسرائیل کو سخت تشویش لاحق ہے اور ان کی حکومت کے قیام کے امکانات کے بعد قاہرہ کے ساتھ نئے انداز میں تعلقات کے لیے پیش بندی شروع کر دی ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیلی فوج کا ایک بڑا حصہ جسے انتہا پسند یہودی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے ،مصر کے ساتھ “ٹرننگ پوائنٹ” کی تیاری کا حامی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں فوج کا دوسرا گروپ فوری طور پر مصر کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی کا حامی نہیں بلکہ اسکا موقف ہے کہ فی الحال مصر اور اسرائیل کے درمیان طے پائے سابقہ معاہدوں پر عملدرآمد تک انتظار کیا جائے۔ نئے منصوبے کے تحت صہیونی فوج کی بڑی تعداد کو جزیرہ نماء سینا میں حالت جنگ میں تعینات کیا جائیگا۔ حالانکہ مصر اسرائیل امن معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی تھی اسرائیل اور مصر دونوں اپنے اپنے زیرانتظام جزیرہ سینا میں فوج کو مسلح حالت میں نہیں رکھیں گے۔ تاہم اس شرط کے باوجود اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد کو اسلحہ سمیت جزیرہ نما سیناء میں تعینات کیا گیا ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف کسی بیرونی حملے کی صورت میں لبنانی حزب اللہ کے ارکان جزیرہ نما سینا کے راستے اسرائیل میں داخل ہو کرصہیونی مفادات کو نقصان پہنچا سکتے۔

کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی تھانے کےمتعصب ایس ایچ او ندیم بیگ کو بر طرف کر دیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق آئی جی سندھ پولیس نے ایک حکم نامے میں ایس ایچ او شاہ فیصل کالونی پولیس اسٹیشن ندیم بیگ کو برطرف کر دیا ہے اور ان کی جگہ دوسرے پولیس آفیسر کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ شاہ فیصل کالونی کے متعصب سابقہ پولیس آفیسر ندیم بیگ نے 2 محرم الحرام کو شاہ فیصل کالونی تھانے کی حدود میں قائم مسجدوامام بارگاہ حسینی مشن پر لگائی گئی پانی کی سبیل پر دہشت گردوں کی کاروائی میں بنفس نفیس  موجود تھے جسے عینی شاهدین نے پانی کی سبیل پر لاتوں سے ٹهوکریں مارتا ہوا دیکهاتھا دوسری مرتبہ25 محرم الحرام کے روز شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کے موقع پر نکالے گئے جلوس عزاء میں پولیس کی ناقص سیکورٹی انتظامات اور نا اہلی کے سبب جامعہ فاروقیہ سے ندہشت گردوں نے جلوس عزاء ، مسجد و امام بارگاہ حسینی مشن پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں خواتین وبچوں سمیت دو شیعہ نوجوان گولیاں لگنے سے زخمی ہو گئے تھے تاہم متعصب سابق پولیس آفیسر ندیم بیگ نے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنے سے گریز کرتے ہوئے شیعہ بے گناہ نوجوانوں پر ہی مقدمہ قائم دائر کردیا ۔ جس پرشیعہ علمائے کرام نے  آئی جی سندھ کے سامنے شاہ فیصل کالونی کے متعصب سابقہ پولیس آفیسر ندیم بیگ کے خلاف شواہد فراہم کئے تھے اورچند روز قبل شیعہ علما کونسل ،جعفریہ الائنس ،ائمہ مساجد امامیہ ،شیعہ ایکشن کمیٹی ،امامیہ اسٹوڈنٹس سمیت دیگر شیعہ عمائدین نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ شاہ فیصل کالونی کے متعصب ایس ایچ او  کو فوری طور پر برطرف کیا جائے-

عراق:عراق کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرنے والے سابق معزول صدر صدام حسین کو واصل جہنم ہوئے پانچ سال بیعد گئے پانچویں برسی جمعہ کے روز واقع ہوئی۔ موصوف امریکہ اور اسرائیل کے خاص الخاص نمائندے تھے جو خطے میں ان دونوں مما لک کے مفادات کے سب سے بڑے حامی تھے اور قومی دولت اور وسائل کو عوام الناس کی ترقی پر خرچ کرنے کے بجائے اپنی مادر پدر عیاشیوں، امریکی اور اسرائیلی احکامات کی بجا آوری اور خاص کر شیعیان حضرت علی علیہ السلام کو تباہ و برباد کرنے پر خرچ کرتے تھے۔ جس طرح آجکل سعودی عرب حکمران (آل سعود) اپنے ملکی تمام تر وسائل کو امت اور قوم کی تعلیم و تربیت پر خرچ کرنے کے بجائے، اپنی مادر پدرعیاشیوں نیز اپنے مولا، سید و سردار اور آقائے نامدار حضرت امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی حفاظت کرنے، اپنے ڈوبتے ہوئے اقتدار کو اسلام دشمن منافقیں و کفارکے ساتھ مل کر طول دینے اور امن پسند اسلام ممالک میں فتنہ و فساد پھیلانےکے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ آل سعود اور آل خلیفہ اپنے سابق پالتو کتے  صدام کے انجام سے سبق حاصل کریں ورنہ ان کا مستقبل بھی سابقہ عراقی صدر صدام جیسا نہ ہو ۔۔۔۔۔۔صدام عراق کے شہر ہرت کے ایک غریب گھرانے میں 1937 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایک سوتیلے باپ کے سائے میں پرورش پائی جس سے انہوں نے سفاکی اور جبر کا سبق بچپن میں ہی سیکھ لیا تھا۔ جوانی میں وہ باز پارٹی سے وابستہ ہوگئے اور 1956 میں جنرل عبدالکریم قاسم کے خلاف ایک ناکام بغاوت میں حصہ لیا۔ 1959 میں صدام حسین کو عراق سے فرار ہو کر قاہرہ میں پناہ لینا پڑی وہ چار سال بعد عراق پہنچے اور باز پارٹی کے اندر تیزی سے ترقی پائی یہاں تک کہ بعث پارٹی نے 1968 میں عبدالرحمن محمد عارف سے اقتدار چھین لیا اور صدام حسین جنرل احمد الحسن البکر کے بعد دوسرے لیڈر بن کر ابھرے۔ ایران میں 1996 میں امریکہ مخالف اسلامی انقلاب آنے کے بعد صدام حسین نے 1980 میں ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ دی۔ جنگ خلیج آٹھ سال تک جاری رہی جس میں دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اگست 1990 میں صدام نے قرط پر چڑھائی کر کے اسے عراق میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا جس کے باعث لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ خلیج جنگ کے بعد عراق حکومت کے اندر اختلافات شروع ہوگئے۔ صدام حسین نے اپنے دامادوں کو بھی نہیں چھوڑا انہیں بھی قتل کر دیا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد عراق کو سرکش ریاست قرار دیا گیا۔ امریکہ صدر بش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے دعویٰ کیا کہ صدام حسین وسیع تباہی کے ہتھیار حاصل کر رہے ہیں جو خطے میں مغربی مفادات کیلئے نقصان دہ ہے لہٰذا اتحادی افواج نے مارچ 2003 میں عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت ختم کر دی جبکہ صدام حسین کی گرفتاری کا اعلان دسمبر 2003 میں کیا گیا۔ صدام کے دو بیٹے ہا اور قصیرط جو روپوش تھے بائیس جولائی کو موصل میں امریکی فوج کے چھاپے کے دوران مارے گئے۔ دسمبر 2003 میں امریکی حکام نے صدام حسین کی گرفتاری کا اعلان کیا اور تیس جون 2004 کو انہیں عراق حکام کے حوالے کر دیا گیا جس کے بعد ان پر دجیل میں قتل عام کا مقدمہ چلایا گیا جبکہ پانچ نومبر 2006 کو صدام حسین کو پھانسی کی سزا سنائی اور تیس دسمبر کی صبح عراق کے معزول صدر صدام حسین کو پھانسی دیدی گئی۔

کراکس: دنیا میں امریکہ کی کھل کر مخالفت کرنے والے عالمی رہنمائوں میں سے ایک وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا امریکہ نے ایسی خفیہ ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جس کے ذریعے وہ لاطینی امریکہ کے بائیں بازو کے حکمرانوں کو سرطان کے مرض میں مبتلا کر سکتا ہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت عجیب ہے کہ لاطینی امریکہ کے کئی رہنمائوں کو سرطان کا مرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر بہت حیران کن ہے لیکن وہ کسی قسم کا الزام عائد نہیں کر رہے۔ ہوگو شاویز کو اس سال کے آغاز میں کینسر کی تشخیص کے بعد علاج کرانا پڑا تھا۔ گزشتہ روز ارجنٹائن نے اعلان کیا کہ خاتون صدر کرِسٹینا فرنانڈز، کینسر میں مبتلا ہوگئی ہیں۔ ان کے علاوہ پیرا گوئے کے صدر فرناندو لوگو، برازیل کی صدر دِلما روزیف اور ان کے پیشرو، لولا ڈی سِلوا کو بھی کینسر کا علاج کرانا پڑا۔ تمام حکمرانوں کی بیماریوں کی کڑیاں جوڑتے ہوئے وینیزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا ممکنات کے قوانین کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اس کی وضاحت کرنا بہت مشکل ہے کہ لاطینی امریکہ میں سے، ہم چند ایک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں الزام نہیں لگا رہا لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ انہوں، یعنی امریکہ نے کوئی ٹیکنالوجی بنا کر، ہم سب کو کینسر میں مبتلا کر دیا ہو اور اب ہمیں پتہ چل رہا ہو؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں اس کا پتہ ہی پچاس سال یا کئی سال بعد چلے؟ میں صرف ایک خیال کا اظہار کر رہا ہوں لیکن یقینا، یہ بہت زیادہ تعجب کی بات ہے کہ ہم سب کو کینسر ہوا ہے۔

بشکک: کرغزستان کے نئے صدر المازبک اتمبیوف نے اپنے ملک کے دارالحکومت بشکک کے ایئرپورٹ پر امریکی فوج کی موجودگی کو خطے کے ممالک کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2014 تک اس ایئرپورٹ کو مکمل طور پر سویلین ایئرپورٹ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے امریکی نائب وزیر خارجہ رابرٹ بلیک سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایئرپورٹ استعمال کرنے کی فیس جو کہ ایک سو پچاس ملین ڈالر سالانہ ہے دیتا ہے وہ خطرے کا نعمل البدل نہیں ہم اپنا یہ ایئرپورٹ امریکی فوج کے حوالے رکھ کر وسطی ایشیا کے ممالک کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

امریکی اور اسرائیلی جارہانہ دھمکیوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی تجارتی مال برداری کو روکنے کی دھمکی دی ہے اب ایک اہم سمندری علاقے میں فوجی مشقوں کے دوران طویل فاصلے تک مار کر سکنے والے ایک راکٹ کا تجربہ کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ایرانی فوج کے ایک اعلیٰ نمائندے کے مطابق یہ مجوزہ راکٹ ٹیسٹ کل ہفتے کی صبح کیا جائے گا۔ ایرانی بحریہ ان دنوں خلیج فارس کے بین الاقوامی پانیوں میں اپنی کئی روزہ جنگی مشقیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ قبل ازیں ایرانی حکام نے نئی امریکی تنبیہات کے باوجود ایک بار پھر دھمکی دی کہ اگر مغربی ملکوں نے ایرانی تیل کی برآمدات پر کوئی پابندیاں لگائیں تو آبنائے ہرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں گزر سکے گا۔

یمن کے صدرعلی عبداللہ صالح صدارتی اختیارات نائب صدر کو منتقل کر چکے ہیں، اب وہ امریکہ جانے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن امریکی حکام نے ان کے لیے ویزہ جاری کرنے پر سوچ بچار کر رہے ہیں۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح برسوں تک اپنے ملک کے اقتدار پر براجمان رہے ہیں۔ ان کی منصب صدارت سے رخصتی پرزور عوامی تحریک کے باعث ممکن ہوئی۔ خلیجی تعاون کونسل کے پیش کردہ پلان کے تحت انہوں نے صدر کے اختیارات اپنے نائب صدر کو منتقل کر دیے ہیں۔ وہ نئے صدر کے انتخاب تک یمن کے صدر ضرور رہیں گے۔ اپنے اقتدار کے دور میں وہ دہشت گردی کی جنگ میں امریکی حلیف بھی تھے۔ اپنے ملک میں سرگرم انتہاپسندوں کی سرکوبی کے لیے وہ امریکی معاونت بھی حاصل کیے رہے۔ اس وقت یمن کے عوام شدت کے ساتھ ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ان کو خلیجی تعاون کونسل کے منتقلی ِاقتدار کے فارمولے کے تحت مقدموں سے استثنیٰ حاصل ہے۔علی عبداللہ صالح امریکہ بظاہر علاج کی غرض سے جانا چاہتے ہیں۔ امریکہ ان کی درخواست پر غور تو ضرور کر رہا ہے لیکن اس کا امکان کم ہے کہ یمنی عوام کے دباؤ کے تحت صنعاء حکومت ان کو جب مستقبل میں طلب کرتی ہے تو امریکہ ان کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن سکے گا۔ خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم امریکی تھنک ٹینک بروکنگز کی برانچ کے تنازعات کے ایکسپرٹ ابراہیم شرقیہ کا خیال ہے کہ صالح صورت حال کا احساس کرتے ہوئے اب ملک سے جلد روانہ ہونے کی فکر میں ہیں۔ امریکہ جانے کی خواہش کا اظہار علی عبداللہ صالح کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے دوران سامنے آیا تھا، جب ان کے مخالف مظاہرین کو ان کے حامیوں کی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا اور اس میں کم از کم نو مظاہرین کی ہلاکت ہوئی تھی۔ یہ مظاہرین صالح کو حاصل عدالتی استثنیٰ  کے خلاف متحرک تھے۔صالح کے خلاف مقدمہ چلانے کی تحریک کا آغاز تعِز شہر سے ہوا ہے اور یمن میں اس تحریک کو ایک اور انقلاب کا نام دیا گیا ہے۔ تعِز سے ہزاروں افراد نے دارالحکومت صنعا کی جانب مارچ کیا اور اس دوران ان کے ساتھ بے شمار دوسرے لوگ بھی شامل ہوتے گئے۔ یہ لوگ حکومت میں ہر سطح پر صالح کے حامی ملازمین کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں فارغ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان مظاہرین کا خیال ہے کہ مختلف مقامات پر براجمان صالح کے حامی افراد اپنے دوست احباب کو بچانے کی فکر میں صالح مخالفین کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کر رہے۔ مبصرین کے خیال میں موجودہ صورتحال میں صالح کو اب امریکہ روانہ ہونے کی جلدی ہے۔ صالح کی امریکی ویزے کی درخواست پر امریکی حلقوں میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی دارالحکومت کے اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ادارتی بورڈ نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس صورت حال میں امریکی حکام نے ویزہ دینے میں غور و فکر کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ دوسری جانب صالح کے رشتہ داروں نے ابو ظہبی میں سکونت کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ یمن میں صدارتی انتخابات اگلے سال اکیس فروری کے روز ہوں گے۔

بھارت میں شدید احتجاج کے بعد ایک روسی عدالت نے ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگود گیتا کے ایک ترجمے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں استغاثہ نے دعویٰ کیا تھا کہ گیتا کا روسی زبان میں ایک مشہور ترجمہ دراصل انتہا پسندانہ لٹریچر ہے، جو اس کے ماننے والوں کو ’دہشت گردانہ‘ کارروائیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ استغاثہ کا مطالبہ تھا کہ ہندوؤں کی مقدس ترین کتاب کے اس ترجمے کو بھی ممنوعہ کتابوں کی اُسی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے، جس میں اڈولف ہٹلر کی تحریر کردہ کتاب ’میری جدوجہد‘ شامل ہے۔  روس میں بھگود گیتا کا ترجمہ سن 1968 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں گیتا کے اصلی متن کے علاوہ اس پر سوامی پربھو پادا کی طرف سے کیے گئے تبصرے بھی شامل ہیں۔ سوامی پربھو پادا ’انٹر نیشنل ہرے کرشنا تحریک‘ ISKCON کے بانی تھے۔ استغاثہ کی طرف سے اس کتاب کو ممنوعہ قرار دینے کا مطالبہ جون میں سائبیریا کے علاقے میں ہرے کرشنا تحریک کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔روسی جنرل پراسیکیوٹر کے دفتر نے سن 2004 اور 2005 میں اس تحریک پر ’نیشنل چیک‘ رکھنے کا کہا تھا۔ روس کے اخبار The Izvestia daily کے مطابق جس وقت عدالت نے فیصلہ سنایا،کمرہ عدالت ہرے کرشنا تحریک کے کارکنوں کی تالیوں سے گونج اٹھا۔ اس تحریک کے ایک مقامی رہنما کا کہنا تھا، ’’ہم بغیر کسی بُغض کے اور انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ فیصلہ قبول کرتے ہیں‘‘۔ اس مقدمے کے آغاز سے یہ خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا کہ دونوں اتحادی اور اسٹریٹیجک پارٹنر ملکوں کے مابین تعلقات ایک بند گلی میں داخل ہو سکتے ہیں۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ ’’ایسے جاہل اور غلط سمت میں جانے والے افراد کی کارروائی ہے، جو خاص طرح کے مقاصد کا حصول چاہتے ہیں۔ یہ مقدمہ ایک ایسی مذہبی کتاب پر حملہ ہے، جو بھارت کی ’عظیم تہذیب کی اصل روح کی وضاحت‘ کرتی ہے۔‘‘ گزشتہ ہفتے بھارتی پارلیمان کا ایک اجلاس اس لیے معطل کرنا پڑ گیا تھا کہ اس بارے میں ایوان میں زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ کئی مظاہرین نے کولکتہ کے قریب روسی قونصل خانے کے باہر احتجاج بھی کیا تھا۔ سن 1997 میں بنایا جانے والا روس کا ایک متنازعہ قانون نہ صرف فعال مذہبی گروپوں کی رجسٹریشن بلکہ غیر ملکی مشنری کام کو محدود کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

یونان میں آرتھوڈوکس مسیحیوں کی ایک انتہائی مالدار اور مضبوط اثر و رسوخ کی حامل خانقاہ کے ایبٹ کو زمین کی فروخت کے اسکینڈل میں جیل بھیج دیا گیا۔ ماسکو اور ایتھنز کے قدامت پسند حلقوں نے اس پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ایک ہزار برس پرانی مقدس واتو پیدی خانقاہ ماؤنٹ ایتھوس کے علاقے میں واقع ہے جو کہ آرتھوڈوکس مسیحیت کا ایک مضبوط گڑھ ہے۔ بدھ کے روز جیل بھیجے جانے والے ایبٹ افرائیم کی گرفتاری سے روس کے ساتھ بھی تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے، جس نے اس اقدام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ قبرصی نژاد  56 سالہ افرائیم پر الزام ہے کہ انہوں نے چھ برس قبل ایک اسکیم کا منصوبہ تیار کیا تھا جس کے تحت مسیحی راہبوں نے سرکاری عہدیداروں کو سستی زرعی اراضی کو ایتھنز کی پرکشش رہائشی املاک کے عوض تبادلے پر آمادہ کر لیا تھا۔ اس اراضی میں جھیلیں بھی شامل تھیں۔ وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے یونانی ریاست کو کروڑوں یورو کا نقصان پہنچا تھا۔افرائیم جن کا اصلی نام واسیلیوس کوتسو ہے، نے ان تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ انہیں یونان کی سب سے بڑی جیل کوری ڈالوس میں حراست میں رکھا جا رہا ہے اور اگر ان پر جرم ثابت ہو گیا تو انہیں طویل عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑ سکتا ہے۔ وکلائے استغاثہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ان پر عائد الزامات کی سنگینی کے باعث انہیں مقدمے کی سماعت سے قبل ہی جیل میں رکھا جائے۔ یونانی قانون سازوں نے اس اسکینڈل پر تین سابق حکومتی وزراء کے بارے میں بھی تحقیقات کی تھیں مگر انہیں حاصل استثناء کی بناء پر یہ سلسلہ روک دیا گیا تھا۔ ان وزراء کا کہنا ہے کہ انہوں نے ادنٰی درجے کے سرکاری اہلکاروں کے مشورے پر اس منصوبے کی توثیق کی تھی تاہم اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے اعلٰی افسران نے ایسا کرنے کو کہا تھا۔بہت سے یونانی شہریوں کے نزدیک ملک کے اقتصادی مسائل کے لیے پادریوں کی بجائے سیاست دانوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی ضرورت ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی جماعت لاؤس پارٹی کے رہنما جارج کارات زافیرس نے کہا، ’’انہوں نے افرائیم کو تو جیل بھیجنے میں انتہائی عجلت کا مظاہرہ کیا جبکہ یونانی عوام کے پیسے خورد برد کرنے والے لوگ اب بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔‘‘ کئی سرکاری عہدیداروں کے بارے میں پارلیمانی تحقیقات کے باوجود ابھی تک کسی بھی اعلٰی سیاست دان پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ ادھر سیاہ لباس میں ملبوس درجنوں راہبوں نے جیل کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے ایبٹ افرائیم کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے عقیدت مندوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی ان کے حق میں حمایت حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ اس معاملے پر روس اور یونان کی خارجہ امور کی وزارتوں میں بھی تلخ بیانات کا تبادلہ ہوا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ’’ہمیں یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کی سفارشات کے باوجود  یونانی عدالت کی جانب سے انہیں مقدمہ چلنے سے قبل ہی گرفتار کرنے کے  فیصلے پر سخت تشویش لاحق ہے۔‘‘ یونان کی وزارت خارجہ نے روسی تشویش کو مسترد کر دیا ہے۔ روس میں لاکھوں آرتھوڈوکس مسیحی ماؤنٹ ایتھوس کمیونٹی کے عقیدت مند ہیں۔

لندن(پی اے) عراق کے نیوکلےئر ری ایکٹر پر 1981ء میں فضائی حملے کے اسرائیلی فیصلے سے امریکی حیرت زدہ اور ششدر رہ گئے تھے، یہ انکشاف نیشنل آر کائیوز کی جاری کردہ دستاویزات سے ہوا جو گزشتہ روز منظر عام پر آئیں ،اسرائیل کا قریبی اتحادی ہونے کے باوجود امریکہ کو اسرائیل نے عراق کے ایٹمی ری ایکٹر پر حملے کے بارے میں پیشگی متنبہ نہیں کیا تھا، اسرائیل نے جون 1981 ء میں عراق کے اوسیرک ری ایکٹر پر فضائی حملہ کیا تھا اس حملے کا حکم اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم بیگن نے جاری کیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق جب عراقی ری ایکٹر پر حملے کی اطلاع آئی تو اس وقت واشنگٹن میں برطانوی سفیر سرنکولس ہینڈرسن امریکی ڈیفنس سیکرٹری کیسپر وائن برگر کے ساتھ تھے اور برگر نے کہا کہ ان کے خیال میں بیگن حواس کھو بیٹھے ہیں سرنکولس نے لندن کو کیبل کیا اس وقت عراق میں برطانیہ کے سفیر سرسٹیفن ایگرٹن نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کے ایف 15 فائٹرز طیاروں کو فضا میں دیکھ کر عراق میں حیرت زدہ ہوگئے تھے، اطالوی نیشنل ڈے پر استقبالیہ کے اجتماع میں ڈپلومیٹک کور نے اس حملے کے میزائل ری ایکشن پر غور کیا تھا۔

اسلام آباد : میمو کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ صدر ریاست کے سربراہ اور قابل احترام ہیں، میڈیا میں آنے والی بعض خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت نے پارلیمنٹ کی ناکامی کی بات کی ہے نہ ہی صدر کے مواخذے کی بات کی ہے،ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ 3 نومبر کے اقدامات کی توثیق کر دیتی تو آج جج یہاں نہ بیٹھے ہوتے۔ اسی طرح فوج کے سربراہ اور جوان بھی قابل احترام ہیں کیونکہ وہ ملک کے دفاع کے لئے خون دے رہے ہیں۔جنرل جیمز کے حوالے سے وکیل صفائی کی جانب سے اٹھائے گئے ایک نکتے کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا سپہ سالار جو کہہ رہا ہے وہ نہ مانیں اور باہر والے کی بات مانیں کیا یہ ممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میمو کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے،حسین حقانی کی وکیل نے جمعرات کو اپنے دلائل میں میمو کو جھوٹا اور کاغذ کا ٹکڑا قرار دیا اور کہا کہ درخواستیں بھاری جرمانے کے ساتھ مسترد کی جائیں۔عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میمو محض کاغذ کا ٹکڑا ہے جو ایک امریکی شہری نے ایک امریکی شہری کے ذریعے ایک امریکی شہری کو لکھا اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منصور اعجاز جھوٹا اور بدنیت ہے وہ تین سال سے ہماری فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف لکھ رہا ہے ۔ انہوں نے اس امر پر تعجب کا اظہار کیا کہ اس(منصور اعجاز) کی بات پر آئی ایس آئی چیف نے آخر کس طرح اعتماد کر لیا؟ ان کا کہنا تھا کہ میمو کی حیثیت ایک مضروضے سے زیادہ نہیں۔ دوران سماعت جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا عدالت محض مفروضوں اور تخیلات پر مبنی درخواستوں کو مفادعامہ کے نام پر سن سکتی ہے۔ انہوں نے آبزرویشن دی کہ درخواست گزاروں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ان کے حقوق پر واقعی زد پڑی ہے۔ حسین حقانی کی وکیل نے جمعرات کو درخواستوں کے ناقابل سماعت ہونے کے حق میں دلائل مکمل کر لئے جبکہ درخواست گزاروں میں سے بھی دو نے دلائل مکمل کر لئے اور باقی کو عدالت نے ہدایت کی ہے کہ وہ آج جمعہ کو دلائل مکمل کریں ۔ توقع ہے کہ اس کیس میں آج درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ حسین حقانی کی وکیل نے جمعرات کو اپنے دلائل میں موقف اپنایا کہ بنیادی حقوق کے مقدمات کا اختیار چار لوگوں کے لئے ہے جن کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہ ہو جبکہ میمو کیس کے درخواست گزار تو صاحب حیثیت ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی درخواست گزار نے حسین حقانی کے خلاف دادرسی نہیں مانگی بلکہ وفاق کے خلاف مانگی گئی ہے۔ کسی درخواست میں آپ کے موکل کے خلاف کوئی بات نہیں کی گئی۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میمو محض کاغذ کا ٹکڑا ہے جو ایک امریکی شہری نے ایک امریکی شہری کے ذریعے ایک امریکی شہری کو لکھا اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ منصور اعجاز جھوٹا اور بدنیت ہے وہ تین سال سے ہماری فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف لکھ رہا ہے اس کی بات پر آئی ایس آئی چیف نے آخر کس طرح اعتماد کر لیا۔ میمو کی حیثیت ایک مفروضے سے زیادہ نہیں۔ اس پر جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ کیا عدالت محض مفروضوں اور تخیلات پر مبنی درخواستوں کو مفادعامہ کے نام پر سن سکتی ہے۔ درخواست گزاروں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ان کے حقوق پر واقعی زد پڑی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میمو کاغذ کا ٹکڑا نہیں ، اگر ایسا ہوتا تو آرمی چیف وزیراعظم اور حسین حقانی اس کے وجود سے انکار کرتے۔ جسٹس شاکر اللہ جان اور جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ میمو سے کسی پاکستانی شخصیت کا کوئی تعلق نہیں تو بھی یہ تحقیق تو ہونی چاہئے کہ یہ کس نے اور کیوں لکھا۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میمو میں منصور اعجاز نیشنل سکیورٹی ٹیم کی بات کرتا ہے جبکہ پاکستان میں ایسی کوئی ٹیم نہیں ہے۔ صرف اہم ناموں کے لئے عدالت کے اختیار سماعت کا دائرہ وسیع نہ کیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کبھی اس تخصیص کے تحت سماعت نہیں کی۔ عدالت میں جو بھی آتا ہے اسے سنا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر بعض اخبارات میں عدالت کے حوالے سے شائع ہونے والے ریمارکس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی پارلیمنٹ کی ناکامی کی بات نہیں کی۔ ہم پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں اگر پارلیمنٹ 3 نومبر کے اقدامات کی توثیق کر دیتی تو آج جج یہاں نہ بیٹھے ہوتے۔ عاصمہ جہانگیر نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت متعدد مقدمات میں یہ طے کر چکی ہے کہ وہ براہ راست اسی وقت کوئی کیس سنے گی جب دادرسی کے لئے کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو۔درخواست گزار اس معاملہ پر ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں جیمز جونز کا بیان حلفی پڑھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا سپہ سالار کہہ رہا ہے کہ میمو حقیقت ہے ہم اس کی بات مانیں یا اس بیرونی فرد کی۔ ہمارے لئے اپنا چیف آف آرمی اسٹاف اہم اور قابل احترام ہے اور وہ جوان بھی جو ملکی دفاع کے لئے خون دے رہے ہیں۔ اس پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ہمیں بھی ان جوانوں پر فخر ہے ہمیں احساس ہے کہ ملکی دفاع کے لئے خون دیا جا رہا ہے تاہم فوج کے ماضی میں اٹھائے جانے والے بعض اقدامات کی وجہ سے ہمیں ان کی دانش پر شک ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے اس موقع پر فوج کے بارے میں جو بات کی اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی کی بے عزتی کریں۔ آپ اپنے کیس پر دلائل دیں۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اس وقت سول حکومت کمزور ہے ۔ عبوری دور ہے وہ فوج کے سامنے کھڑی نہیں ہو سکتی۔ ڈی جی آئی ایس آئی کو ملک کے چیف ایگزیکٹو کو بتا کر جانا چاہئے تھا۔ اس پر جسٹس شاکراللہ جان نے کہا کہ وہ تحقیقات کے لئے نہیں بلکہ معلومات کے حصول کے لئے گئے تھے اور وہ بھی اس لئے کہ میمو میں صدر کا نام لیا گیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ درخواستیں دائر کرنا سیاسی معاملہ ہے۔ درخواست گزاروں کے مقاصد ابھی سوالیہ نشان ہیں۔ بعض درخواست گزار میرے موکل کے خلاف مخاصمت رکھتے ہیں ان کے دور میں میرے موکل پر تشدد ہوا۔ یہ لوگ چونکہ خود ایسے کام کرتے ہیں اس لئے میرے موکل سے بھی ایسی ہی توقع کر رہے ہیں۔ 1999ء میں شہباز شریف امریکہ گئے اور امریکی قیادت سے کہا کہ ہمیں فوجی مداخلت کا خطرہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر مقاصد سیاسی ہیں تو بھی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ کیوں ہیں میمو پر چار چار اجلاس ہوئے استعفیٰ لیا گیا۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ چار چار اجلاس تو آپ کی برطرفی پر بھی ہوئے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر آپ لوگ درخواست لے کر یہاں ہی آئے تھے اور حقائق تک پہنچنے کی استدعا کی تھی۔ عاصمہ جہانگیر کے بعد بیرسٹر ظفر اللہ اور طارق اسد نے دلائل دیئے جس کے بعد سماعت آج جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔ آج عدالت کے روبرو میاں نواز شریف کے وکیل رشید اے رضوی اپنے جوابی دلائل کا آغاز کریں گے

کوئٹہ …کوئٹہ میں ارباب کرم خان روڈ پر المشرق لائن کے قریب سابق وفاقی وزیر میر نصیر خان مینگل کے صاحبزادے کے گھر پر زور دار دھماکا ہواجس کے نتیجے میں10افراد جاں بحق اور 21زخمی ہوگئے ہیں ہلاکتوں کی تصدیق پولیس اور ریسکیوذرائع نے تو کردی ہے تاہم سرکاری ذرائع نے اب تک تصدیق نہیں کی ہے ۔دھماکا میر نصیر مینگل کے بیٹے کے گھر کے باہرموجود ایک گاڑی میں ہوا بتایا جاتا ہے کہ دھماکا خیز مواد اسی گاڑی میں نصب کیا گیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر میڈیا اور پولیس کو دیکھ کر بعض مسلح افراد نے ہوائی فائرنگ بھی کی،جبکہ میڈیا کے لوگوں کے کیمرے توڑنے کی بھی اطلاع ملی ہے،جبکہ فائرنگ سے ایک رپورٹر کے زخمی ہوا ہے۔پولیس اور لیوی کے جوان علاقے میں موجود ہیں،ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو سول اسپتال اور بی ایم سی میں منتقل کیا گیا ہے۔دریں اثناء معلو م ہوا ہے کہ میرنصیر کے صاحبزادے سخت سکیورٹی میں سول اسپتال پہنچے جہاں انھوں نے زخمیوں کی عیادت کی۔دھماکے بعد قریبی بعد گھروں میں آگ لگ گئی اور شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ادھر جیو نیوز کے نمائندے ندیم کوثر کے مطابق دھماکے میں میں دس افراد جاں بحق اور21زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ریسیکیو ذرائع کے مطابق سول اسپتال اور بی ایم سی میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔جبکہ علاقے کو پولیس اور سیکیورٹی نے گھیرے میں لے لیا ہے،دھماکے کے بعد علاقے کی بجلی منقطع کردی گئی ۔دھماکے کی آواز میلوں دور تک سنی گئی اور اس سے دور تک کی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔پولیس اور انتظامیہ نے میڈیا سمیت کسی کو بھی دھماکے والی جگہ پر جانے سے روکا۔واضح والی جگہ رہائشی علاقہ ہے اور یہاں پر اکا دکا یہاں پر دکانیں بھی ہیں۔علاقے میں افراتفری کی کیفیت ہے۔ ریسکیوں ٹیمیں اور فائربریگیڈ امدادی کاموں میں مصروف ہے۔ زیادہ تر زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ لایا گیا ہے۔

قاہرہ… مصری پولیس نے دارالحکومت قاہرہ میں سترہ غیر سرکاری تنظیموں این جی او کے دفاتر پر چھاپے مارکر دستاویزات اور دوسرا سامان ضبط کر لیا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بتایا کہ پولیس نے دوامریکی تنظیموں نیشنل ڈیمو کریٹک انسٹی ٹیوٹ اورانٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ سمیت سترہ این جی اوز کے دفاتر پرچھاپے مارے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ امریکا مصر کو دی جانے والی ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی سالانہ فوجی امداد پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل کہہ چکی ہے کہ وہ جمہوریت نوازوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ملنے والے فنڈز کی تحقیقات کرے گی اور ملکی امور میں غیر ملکی مداخلت برداشت نہیں کرے گی۔مصر کی انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں حکمراں فوجی کونسل سے اقتدار جلد سے جلد سول حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں

 

ریاض…سعودی مجلس شوری کے رکن اور ممتاز سعودی عالم دین حاتم الشریف کے مطابق مسیحیوں کو کرسمس پر مبارک باد دینا گناہ نہیں بلکہ مستحب عمل ہے۔لندن سے شائع ہونے والا عربی اخبار الحیاة کو انٹرویو دیتے ہوئے شیخ شریف کا کہنا ہے کہ اسلام میں غیر مسلم کو اسکے مذہبی تہوار یا کسی اور موقع پر تہنیت دینے میں کوئی ممانعت نہیں، انکے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلموں کو تہنیت کرتے ہوے کہتے تھے السلام علی من اتبع الھدیٰ۔یاد رہے کہ جب سے سعودی عرب اپنے نوجوانوں کو غیر ممالک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیئے بھیج رہا ہے اس وقت سے یہ غیر مسلموں کی تہنیت متنازع مسئلہ چلا آرہا ہے

ریاض … سعودی عرب نے امریکا سے قریبا 30 ارب ڈالر مالیت کے لڑاکا طیارے خریدلیے ہیں جن میں 84 ایڈوانس ایف 15بھی شامل ہیں۔ڈیل سے امریکامیں 50ہزار نوکریاں پیدا ہوں گی۔انتیس اعشاریہ 4ارب ڈالر مالیت کی اس ڈیل کااعلان امریکا کے محکمہ خارجہ نے کیا ہے۔جن میں 70 پرانے ایف 15 طیاروں کو جدید بنانے کامعاہدہ بھی شامل ہے۔محکمہ خارجہ کے سیاسی وفوجی امور کے بیوروکے سربراہ اینڈریو شپیرو نے بتایاکہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے لیے خطے کی سیکیورٹی کے لحاظ سے کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ان کاکہناہے کہ خطے کو جن خطرات کاسامنا ہے ان میں سے ایک ایران ہے

 لندن……ٹوئٹر پر پیغام لکھتے ہو ئے احتیا ط برتیں،امریکی ادارہ برائے ہو م لینڈ سیکیو رٹی نے بلا گس اور ٹو ئٹر اکا وئنٹس پر نگا ہ رکھنی شر وع کر دی۔برطا نوی اخبا ر ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق آ پ اپنے فیس بک اور ٹو ئٹر اکا ؤنٹ پر کیا پیغا ما ت لکھتے ہیں اس پر امریکی ادارے بر ائے ہو م لینڈ سکیورٹی کی نظر ہے لہذا پیغا ما ت پو سٹ کرنے میں احتیا ط سے کا م لینا ضر وری ہے ۔ Drill, Strain,Collapse, Outbreak اور وائرس جیسے الفاظ آ پ کے پیغا ما ت کو مشکو ک بنا سکتے ہیں کیو نکہ یہ الفا ظ محکمہ ہو م لینڈ سیکیورٹی کی واچ لسٹ میں شامل ہیں ۔ رپورٹ کے مطا بق اگر آ پ اپنے بلا گ یا اکا ؤنٹ پر پوسٹ کیے جانے والے پیغا م میں ایسے الفا ظ استعمال کرتے ہیں جواس واچ لسٹ کا حصہ ہیں تو ممکن ہے کہ آ ٓ پ کے اکا ؤ نٹ پر خفیہ ادار وں کی نظر ہو اور آ پ کی جا سو سی بھی کی جا رہی ہو۔ واضح رہے کہ یہ انکشاف ایک آ ن لا ئن پرائیوئیسی گر وپ کی جا نب سے کیا گیا ہے لیکن اس کے بعد امریکی حکو مت کی جا نب سے اس دعوے کی تر دید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے ۔

اسلام آباد… پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے میمو کیس میں منصور اعجاز، سابق سفیر برائے امریکا حسین حقانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر رضا ربانی کی زیر صدارت جاری ہے جس میں میمو کیس اور نیٹو حملے سے متعلق امور زیر غور ہیں۔ سینیٹر رضا ربانی نے میڈیا کو بتایا کہ ان تینوں افراد کو 10جنوری کو طلب کیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منصور اعجاز کو رائج سفارتی ذرائع سے بلایا جائے گا۔

جیکب آباد… پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ کی نماز جنازہ جیکب آباد میں ادا کرنے کے بعد میت سبی کے قریب آبائی گوٹھ روانہ کردی گئی ہے جہاں انہیں سپردخاک کیا جائیگا۔ گزشتہ روز کوئٹہ میں قتل ہونے والے پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ کی نمازجنازہ جیکب آباد کی جامع مسجد میں ادا کردی گئی ہے۔جس کے بعد ان کی میت سبی کے قریب آبائی علاقے گوٹھ لاڑی تنیاں روانہ کردی گئی جہاں انہیں سپرد خاک کردیا جائیگا۔ ڈاکٹر باقر شاہ کی نمازجنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ڈاکٹرباقرکو کوئٹہ میں جمعرات کو اس وقت گولیوں کونشانہ بنایاگیا جب وہ اپنی ڈیوٹی کے بعد اسپتال سے سبزل روڈ پر اپنے گھرپہنچے تھے

اسلام آباد… وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کوئٹہ میں پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ کے قتل کو نیا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ پارلیمنٹ ہاوٴس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں رحمن ملک کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں ڈاکٹر باقر شاہ کے قتل کے حوا لے سے پولیس کے مطابق پولیس سرجن باقر شاہ کی ذاتی دشمنی بھی تھی اور تحقیقات میں ان کی ذاتی دشمنی کے پہلو پر بھی غور کیا جار ہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اہم شخصیات کو ٹارگٹ کرکے حکومت پر الزامات لگانے کی سازش جاری ہے، کچھ لوگ بلوچستان کو علیحدہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ پاکستان کے خلاف کام کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں دشمن موجود ہے اور چھوٹی سطح پر دراندازی ہور ہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیان کو غلط انداز سے پیش کیا گیا ہے ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ یوم عاشورہ کے روز عزاداروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوئی تھی، اگر فوج نہ آتی تو حالات خراب ہو جاتے۔وزیر مملکت ہیومن ریسورس اینڈ ڈویلپمنٹ اور (ق) لیگ کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوم عاشور پر ضلعی انتظامیہ عزاداروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے، کالعدم جماعت صحابہ کرام کا نام استعمال کر کے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے جھنگ کے حالات خراب کرنا چاہتی ہے۔ جھنگ سٹی میں روزانہ کوئی نہ کوئی واقعہ ہو جانا انہی عزائم کا حصہ ہے۔ شیخ وقاص اکرم نے ضلعی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کالعدم جماعت کی آلہ کار بنی ہوئی ہے اور حکومت پنجاب کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کے دباؤ میں آ کر جھنگ کے حالات کو خراب کرنے والے عناصر کو گرفتار کرنے کرنے کی بجائے بے گناہ عزداروں پر مقدمات بنا رہی ہے۔  وزیر مملکت نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ یوم عاشورہ کے روز عزاداروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوئی تھی، اگر فوج نہ آتی تو حالات خراب ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے جلوس پر حملہ کرنے والے شرپسندوں کو گرفتار نہیں کیا لیکن کالعدم جماعت اپنے سیاسی فائدے کے لیے بے گناہ لوگوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم جماعت جھنگ کا امن خراب کر کے اپنے عزائم پورا کرنا چاہتی ہے جس کو عوام ناکام بنا دینگے، یہ لوگ عوام میں اپنی قدر کھو چکے ہیں اس لیے محرم میں لوگوں کی ہمدردی کے لیے آئے روز کوئی نہ کوئی واقعہ کرتے رہتے ہیں۔ شیخ وقاص اکرم نے پنجاب حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جھنگ کے حالات خراب کرنیوالے عناصر کی پشت پناہی کرنا چھوڑ دے ورنہ جھنگ کی عوام سراپا احتجاج بن جائیگی۔

سیاسی اور منشور کمیٹی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا ہے کہ امریکہ کا ہدف پاکستان کی افواج ہیں، فوج اور حکومت میں ہم آہنگی قوم اور ملک کی ضرورت ہے۔سنی اتحاد کونسل کے مرکزی دفتر میں کونسل کی سیاسی کمیٹی اور منشور کمیٹی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے کہا ہے کہ بجلی اور گیس کے بحران نے ملکی معیشت تباہ اور عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، گیس کی بندش کی وجہ سے ہزاروں صنعتیں بند اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں، قومی صنعتوں کے ساتھ اب غریب لوگوں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، حکمران طبقے میں سے کسی کو نہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے اور نہ گیس کا، اس لیے وہ عوام کے دکھ درد کو نہیں سمجھ سکتے، ملک کی 5 بڑی جماعتیں شریک اقتدار ہیں جو عوامی مسائل حل نہ ہونے کی برابر کی ذمہ دار ہیں، سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 10 کروڑ لوگوں پر حکومت کرنے والی مسلم لیگ پچھلے تین چار سالوں میں کچھ نہیں کر سکی۔ صاحبزادہ فضل کریم نے مزید کہا کہ امریکہ کا ہدف پاکستان کی افواج ہیں، عالمی سامراج اس خطے میں اپنے مقاصد کے لیے پاک فوج کو کمزور کرنا چاہتا ہے، فوج اور حکومت میں ہم آہنگی قوم اور ملک کی ضرورت ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے مزید کہا کہ جمہوریت کے ثمرات کبھی بھی عام آدمی تک نہیں پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک بکھرتا ہوا معاشرہ بنا دیا گیا ہے، جسے جوڑنے کے لیے قومی قیادت کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے مزید کہا کہ حکمران بجلی اور گیس کے بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں، ایسا نہ ہوا تو ہم قوم کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دیں گے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے طویل المیعاد پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔

منصورہ میں ہونے والے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جماعت اسلامی اور ایم ڈبلیو ایم کے اکابرین کی موجودگی میں آئی ایس او اور جمعیت کی ایک مشترکہ میٹنگ رکھی جائے گی جس میں موجودہ حالات کے تناظر میں مکمل افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کے ساتھ یوم حسین ع کے عنوان سے ایک بڑے پروگرام کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور جماعت اسلامی کے اکابرین کے مابین پنجاب یونیورسٹی لاہور میں یوم حسین ع کے حوالے سے طلبہ تنظیموں امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور اسلامی جمعیت طلبہ میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے تدارک اور پنجاب کے اس اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے میں یوم حسین ع کی تقریب کے انعقاد کے لیے ہونے والے مذاکرات کے دوران اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکزی جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ، صوبائی راہنما امیر العظیم، حفیظ خان، جمعیت کے صوبائی صدر رسل خان، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری علامہ محمد امین شہیدی، مرکزی سیکرٹری تربیت علامہ ابوذر مہدوی، سیکرٹری اطلاعات ناصر شیرازی، افسر حسین خان، مولانا احمد اقبال رضوی اور اسد نقوی کے مابین دوستانہ ماحول میں ہونے والے ان مذاکرات میں سانحہ پنجاب یونیورسٹی کے مضمرات اور اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، دونوں جماعتوں کے اکابرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بعض شر پسند عناصر شیعہ سنی وحدت کو توڑنے کے لیے ایسے مواقع سے سوء استفادہ کرتے ہوئے فسادات برپا کرتے ہیں۔ امام حسین ع شیعہ اور سنی کا مشترکہ سرمایہ ہیں ان کی یاد میں پروگراموں کا انعقاد اور ان کی شہادت کا فلسفہ بیان کرنا شیعہ اور سنی کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ میٹنگ میں طے پایا کہ جس طرح ملک کے دیگر علاقوں کے تعلیمی اداروں میں امام حسین علیہ السلام کی سیرت و کردار پر روشنی ڈالنے اور ان کے عظیم فلسفہ کو بیان کرنے کے لیے مشترکہ پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، اسی طرح لاہور کے تعلیمی اداروں میں بھی اس سنت حسنہ کو زندہ رکھا جائے اور فریقین کے مابین اختلاف ختم کرنے کی شعوری جدوجہد کی جائے تاکہ ایسے مواقع پر اختلافات پیدا کر کے فسادات برپا کرنے والوں کو شرانگیزی کا موقع نہ ملے، چونکہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور جماعت اسلامی کے مابین خوشگوار، برادرانہ اور محبت آمیز تعلقات ہیں اور دونوں جماعتیں ملت اسلامیہ کی وحدت کے لیے جہدو جہد پر یقین رکھتی ہیں اور مولانا مودودی مرحوم کا بھی یہی مشن تھا، اس لیے ان تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ طلبہ تنظیموں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے والے عناصر کی کوششوں کو شعوری طور پر ناکام بنایا جائے، جماعت اسلامی اور ایم ڈبلیو ایم کے اکابرین کی موجودگی میں آئی ایس او اور جمعیت کی ایک مشترکہ میٹنگ رکھی جائے جس میں موجودہ حالات کے تناظر میں مکمل افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کے ساتھ یوم حسین ع کے عنوان سے ایک بڑے پروگرام کے انعقاد کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے، تاکہ ملت اسلامیہ کی وحدت کو زیادہ سے زیادہ پروموٹ کیا جا سکے۔ دونوں جماعتوں کے اکابرین نے پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والے اس جھگڑے کے دوران طلبہ کو زد و کوب کرنے، طلبہ کے کمروں میں گھس کر انہیں دھمکیاں دینے اور انہیں یونیورسٹی سے نکالنے کے عمل کی مذمت کی اور ان ناخوشگوار واقعات کے ازالہ کے لیے فورہی قدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ملک بھر میں شروع ہونے پروپیگنڈے اور اخلاق سے گرے ہوئے میگزین کی اشاعت نہ صرف بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس کے سدباب کے لیے شعوری طور پر مؤثر اقدامات اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ میٹنگ میں طے پایا کہ دونوں جماعتوں کے مابین کے اکابرین کی ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے، اس موقع پر پاکستان اور ملت اسلامیہ کے مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاؤن کے سلسلہ کو بہتر بنانے اور اسے آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ قبل ازیں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی اور جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ کے مابین ہونے والی ایک ملاقات کے دوران ملک کی سیاسی صورتحال، قوعمی و نجی اداروں میں پائی جانے والی کرپشن اور عام انتخابات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کے رہنما ایک جانب یونیورسٹی میں قیام امن کیلئے مجلس وحدت مسلمین کو تعاون کی یقین دہانی کروا رہے تھے دوسری جانب جمعیت کے غندے یونیورسٹی میں مقیم شیعہ طلباء کو ہراساں کر رہے تھے۔پنجاب یونیورسٹی میں یوم حسین ع کے انعقاد کی تقریب کو سبوتاژ کرنے والے اسلامی جمعیت طلبہ اور اس کی سرپرست جماعت ’’جماعت اسلامی ‘‘ کی دوغلی اور منافقانہ پالیسی اس وقت ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی جب جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں سے مذاکرت میں مصروف تھے اور ان مذاکرات میں انہوں نے آئی ایس او پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن دوسری جانب جماعت اسلامی کی ہی بغل بچہ طلبہ جماعت ’’اسلامی جمعیت طلبہ ‘‘ کے غنڈوں نے پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں مقیم شیعہ طلبہ کو زدوکوب کرنے اور ان کے کمروں سے ان کا سامان نکال کر باہر پھینکنے میں مصروف تھے۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ کو اپنے خصوصی ذرائع نے جمعیت گردی کا شکار طلبہ کے نام، کمرہ نمبرز اور ہاسٹل نمبرز کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق ہاسٹل نمبر تین کے کمرہ نمبر 139 بی سے آصف علی کے خلاف جارحیت کی گئی اس واردات میں جمعیت کے شہراد اختر ہاسٹل نمبر تین کمرہ نمبر 245، مناظر کھمبی(لاء ڈیپارٹمنٹ ہاسٹل نمبر 16)، محمد امین (ڈیپارٹمنٹ IQTM ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 98 مزید دس لڑکوں کے ہمراہ آصف علی کے کمرے میں آئے، قتل کی دھمکیاں دیں، کاغذات، کتب اور سامان جس میں آصف علی کے ایوارڈ اور سرٹیفیکیٹس شامل تھے اپنے ساتھ اٹھا کر لے گئے اور مقدس کاغذات کی بے حرمتی کی۔ یاد رہے کہ آصف علی پنجاب یونیورسٹی کے ٹاپ کرنیوالے طلبہ میں سے ایک ہیں اور انہیں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے امتحان میں ٹاپ کرنے پر خصوصی انعامات بھی موصول ہو چکے ہیں۔ آصف علی جس نے اپنی محنت سے ملک کا نام روشن کیا اس کے ساتھ اس کی مادرعلمی میں یہ سلوک ہو رہا ہے کہ اس کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کے کمرے کو تالہ لگا دیا گیا اور اسے ہاسٹل سے نکال دیا گیا ہے اس جارحیت پر جہاں ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ خاموش ہے وہاں یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی آنکھیں موند رکھی ہیں۔
دوسرے طلبہ میں محمد علی سلمان ان کا ہاسٹل نمبر 3 اور کمرہ نمبر 310 ہے، ان کے خلاف جمعیت کے جن غنڈوں نے کارروائی کی ان میں شہزاد اختر (ہاسٹل نمبر 3 کمرہ نمبر 245 مناظر کھمبی (لاء ڈیپارٹمنٹ ہاسٹل نمبر 16) محمد امین (ڈیپارٹمنٹ IQTM ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 98) 10 مزید لڑکوں کے ہمراہ کمرے میں آئے اور ان کا سامان اٹھا کر لے گئے جس میں کمپیوٹر LCD اور ATM کارڈ اور نقدی  4000 اور 6000 کے چیکس شامل ہیں۔ ہاسٹل نمبر 9 کے کمرہ نمبر 113 سے ہی عامر عباس اور نعیم عباس کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس بے شرمی کی کارروائی میں محمد امین (ڈیپارٹمنٹ IQTM ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 98) 8 دیگر افراد کے ہمراہ کمرہ میں آئے اور ان کا ذاتی سامان، اسناد اور کتابیں جلا دیں، ان کتابوں میں قرآنی دعاؤں کی کتب بھی شامل ہیں۔ ہاسٹل نمبر 9 کے ہی کمرہ نمبر 13 میں مقیم قیصر عباس کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں حافظ ماجد (کیمیکل ڈیپارٹمنٹ ہاسٹل نمبر 9)محمد امین (ڈیپارٹمنٹ IQTM ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 98) 8 دیگر افراد کے ہمراہ کمرہ میں آئے اور تالا توڑ کر سامان اور کاغذات اٹھا کر لے گئے۔ ہاسٹل نمبر 8 کے کمرہ نمبر 100 میں مقیم کاظم علی کو بھی ان غنڈوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اس کارروائی میں حافظ ندیم جو کہ ہاسٹل نمبر 8 کا ناظم بھی ہے اور رانا جاوید 10 افراد کے ہمراہ ان کے کمرے میں آئے اور ان کے سنی روم میٹ کو دھکے دے کر باہر نکالا اور کاظم علی کا سارا سامان اٹھا کر ساتھ لے گئے اور کمرے کو ڈبل لاک کر دیا۔ ہاسٹل نمبر 9 کے کمرہ نمبر 75 میں مقیم مزمل حسین کو بھی جمعیت کے کارکنوں نے اپنی یزیدیت کا نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں کچھ نامعلوم افراد ان کے کمرے میں آئے سامان اور کاغذات لے گئے اور کمرہ ڈبل لاک کر دیا۔ ہاسٹل نمبر گیارہ کے کمرہ نمبر 717 میں مقیم اطہر عباس کے کمرے میں بھی جمعیت کے بدنام زمانہ غنڈے آئے جن کی سربراہی طیب فریدی اور طلحہ علی (جیالو جی ڈیپارٹمنٹ ہاسٹل نمبر 11 کمرہ نمبر 26) کر رہے تھے، غندوں نے کمرے میں آ کر اطہر عباس کو قتل کی دھمکیاں دیں اور سامان لے گئے۔  ہاسٹل نمبر 8 کے کمرہ نمبر 26 میں رہنے والے محمد آصف کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا کارروائی میں حافظ ندیم جو کہ ہاسٹل نمبر 8 کا ناظم بھی ہے جس نے دیگر لڑکو ں سے آصف سے گھر فون کالز کروائیں اور قتل کی دھمکیاں دیں اور یونیورسٹی سے دور رہنے کا کہا۔ ہاسٹل نمبر 9 کے کمرہ نمبر 119 میں مقیم عرفان علی کے کمرے میں رات 10 بجے دس مسلح لڑکے آئے جن کی سربراہی سعید (ناظم IJT  ڈیپارٹمنٹ IER ہاسٹل نمبر 4 کمرہ نمبر 220) بابر رفیق غوری (ہاسٹل نمبر 9 کمرہ نمبر 50) اور واجد علی(ہاسٹل نمبر 9) کر رہے تھے نے عرفان علی کے کمرے کا تالا توڑا اور تمام سامان نکا ل کر اپنے ساتھ لے گئے اور تمام نصابی کتابیں اور دینی مقدس کتابیں نذرآتش کر دیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے غنڈوں کی جانب سے شیعہ طلبہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے جب کہ جماعت اسلامی امن وسلامتی کے کھوکھلے دعوئے کرتی ہے جس سے اس کی حقیقت عام آدمی پر آشکار ہو جانی چاہیں۔ آئی ایس او پاکستان لاہور ڈویژن کے صدر ناصر عباس نے جمعیت کے اس دوغلے رویے کی مذمت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ جمعیت کی غنڈوں گردی اور سیاست معاویہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور انسانی حقوق کے اداروں کو ان کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور جمعیت کی حالت بغل میں چھری اور منہ میں رام رام والی ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس سرجن ڈاکٹر سید باقر  شاہ کوگولیاں مار کر شہید کر دیا ہے۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس سرجن ڈاکٹر سید باقر شاہ کوگولیاں مار کر شہید کر دیا ہے۔ڈاکٹر باقر شاہ نے سانحہ خروٹ آباد میں ہلاک ہونے والے چیچن کےپانچ شہریوں کا پوسٹمارٹم کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ نے ہلاک ہونے والے پانچ چیچن باشندوں کی پوسٹارٹم رپورٹ تیار کی تھی جس میں انہوں نے واضع طور پر کہا تھا کہ پانچ چیچن باشندوں کی ہلاکتیں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہوئیں تھیں۔ اس واقعہ کے فوراً بعد اس وقت کے سینئیر سٹی پولیس آفیسر داؤد جونیجو اور فرنٹیئر کور کے کرنل فیصل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والے پانچ غیر ملکی افراد خودکش حملہ آور تھے جو کہ تخریب کاری کے لیے کوئٹہ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن سکیورٹی فورسز نے تخریب کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ ڈاکٹرسید باقر شاہ کی پوسٹمارٹم رپورٹ نے سکیورٹی فورسز کے اس دعوے کو نہ صرف بے بنیاد قرار دیا تھا بلکہ انہوں نے سانحہ خروٹ آباد سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ کے جج محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں قائم ہونے والے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے بھی اہم گواہ کے طور پر اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔ اس دوران پولیس کی وردی میں ملبوس بعض نامعلوم افراد نے پرنس روڑ پر ڈاکٹر باقر شاہ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا جس میں وہ زخمی ہوئے تھے۔ واقعہ کے بعد صوبائی حکومت نے نہ صرف سٹی تھانہ کے ایس ایچ او کو برطرف کیا تھا بلکہ بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ ڈاکٹر سید باقر شاہ کو سکیورٹی فراہم کی جائے لیکن آج جمعرات کو جب وہ ہسپتال سے گھر کی طرف جا رہے تھے تو اس وقت ان کے ساتھ کوئی سکیورٹی گارڈ نہیں تھا۔ واقعہ کے بعد ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال پہنچ گئی جنہوں نے ڈاکٹرسید باقر شاہ کی شہادت  کی ذمہ داری صوبائی حکومت  اور سکیورٹی فورسز پر عائد کر دی ہے

بحرین کے منحوس اور امریکہ نواز بادشاہ شیخ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے بیٹے بھی بحرین کے بے گناہ عوام کو ظلم و ستم کرنے اور ازیتیں دینے میں شامل ہوگئے ہیں۔المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین کے منحوس اور امریکہ نواز بادشاہ شیخ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے بیٹے بھی بحرین کے بے گناہ عوام کو ظلم و ستم کرنے اور ازیتیں دینے میں شامل ہوگئے ہیں۔ بحرین میں انسانی حقوق کے سرگرم رکن نبیل رجب کا کہنا ہے کہ معلوم نہیں کہ حقد بن عیسی آل خلیفہ کب وزیر داخلہ اور دفاع  کو حکم دےگا کہ وہ لوگوں کے لوٹے ہوئے اموال کو واپس کردیں انھوں نے کہا کہ بحرین میں نسل پرستی بڑھ رہی ہے اور آل خلیفہ اپنے مخآلفین کا قلع و قمع کرنے میں مشغول ہیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ بحرینی حکومت وہی کام کررہی ہے جو اسرائيلی حکومت مقبوضہ فلسطین میں فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے۔ واضح رہے کہ بحرینی حکومت اپنے تخت و تاج کو بچآنے کے لئے سعودی عرب اور امریکہ کے تعاون سے بحرینی عوام پر سنگين جرائم کا ارتکاب کررہی ہے، ہزاروں افراد کو جیل میں بند کردیا گیا ہے اور حاملہ عورتوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنیا جارہا ہے

کراچی ،ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے جانب سے جامعہ الامامیہ ڈیفنس کو بند کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہره ہوا جس میں تنظیم امامیہ کے مرکزی رہنما علامہ فیاض حسین نقوی، شیعہ علما کونسل سنده کے نائب صدرعلامہ جعفر سبحانی ،علامہ شبیر میثمی ،علامہ عبّاس کمیلی ،علی مرتضیٰ زیدی،مختار ثقفی ،اوردیگر علما وطلاب کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی . اطلاعات کے مطابق بعد نماز جمہ ڈیفنس  مسجد کے اندر علماے کرام اور طلاب کی بڑی تعداد نے مظاہرے می شرکت کی،،علامہ شبیر میثمی نے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ یہ احتجاج صرف ایک جھلک ہے جو ،ڈیفنس ہوسنگ اتھورٹی اور کچھ ہمارے سازشی عناصر کو دہکھانے کے لیے ہے کے وہ یہ نہ سمجھے کہ ہمارے مدرسه تنہا ہیں. نہیں بلکہ پوری ملت جعفریہ ان کے ساتھ ہے اگر نوٹس واپس نہیں لیا تو ہم سخت قسم کا احتجاج کریں گے ، علامہ شبیر میثمی نے مزید کہا کہ  مسجد یثرب کے ٹرسٹیو ں میں جن لوگو ں نے مدرسه کی بجلی اور پانی بند کی  ہے وہ 48 گھنٹے میں بھال کرے ،علامہ عبّاس کمیلی نے خطاب می مسجد انتظامیہ کی بھرپور انداز میں مذمت کی-

سربراہ شیعہ علماء کونسل کا کہنا تھا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک بالخصوص کراچی کے امن و سکون کو تہہ و بالا کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے اور شرپسند عناصر ایسی فتنہ انگیزی اور قتل و غارت گری کے ذریعہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد و وحدت کو پارہ پارہ کرنے میں مشغول ہیں۔راولپنڈی سے جاری کردہ بیان میں علامہ سید ساجد علی نقوی کے مرکزی ترجمان نے شادمان ٹاؤن کراچی میں شرف مہدی اور بھیم پورہ کراچی میں کاشف علی کی دہشتگردوں کے ہاتھوں شہادت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان سانحات کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک بالخصوص کراچی کے امن و سکون کو تہہ و بالا کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے اور شرپسند عناصر ایسی فتنہ انگیزی اور قتل و غارت گری کے ذریعہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد و وحدت کو پارہ پارہ کرنے میں مشغول ہیں۔ اب یہ امن و امان کے ضامن اداروں اور ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے شرپسند، ملک دشمن عناصر کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لے، ورنہ صورتحال کسی کے کنٹرول میں نہ رہے گی۔  ترجمان نے مزید کہا کہ گذشتہ سالوں میں سانحہ عاشورہ محرم اور سانحہ چہلم سمیت مختلف واقعات میں بڑی تعداد میں معصوم اور بے گناہ انسان لقمہ اجل بن گئے۔ اگر ان سانحات کے محرکات اور پس پردہ حقائق منظر عام پر لا کر قاتلوں کو اپنے انجام تک پہنچایا جاتا تو بعد کے سانحات پر قابو پانے میں آسانی ہوتی، مگر عوام کے جان و مال کے تحفظ کے ضامن اداروں نے مجرمانہ غفلت کا ثبوت دیا، جس سے قاتلوں اور دہشتگردوں کو یہ خونی کھیل کھیلنے میں آسانی ہوئی اور اب بھی ان سانحات تسلسل سے جاری ہیں اور معصوم اور بے گناہ انسانوں کا بے دردی سے خون بہایا جا رہا ہے۔ مرکزی ترجمان نے شرف مہدی اور کاشف علی کے لواحقین اور پسماندگان سے دلی دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردوں کو فوری گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنماؤں نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ملت جعفریہ کسی بھی طور پر عزاداری پر کوئی مفاہمت قبول نہیں کرے گی اور عزاداری پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماؤں علامہ حسن ظفر، علی اوسط اور محمد مہدی کا کہنا ہے کہ شاہ فیصل کالونی میں موجود جامعہ فاروقیہ جو کہ دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکی ہے، ہمیشہ وہاں سے عزاداری کے جلوسوں اور مجالس کے پروگراموں پر حملے ہوتے رہتے ہیں جبکہ مدرسہ کے مرکزی اسپیکروں سے مذہبی منافرت پھیلانے کے اعلانات بھی ہوتے رہتے ہیں جبکہ ان تمام معاملات کو انتظامیہ کے نوٹس میں لایا جا چکا ہے، تاہم انتظامیہ نے تاحال کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی، جس کے نتیجہ میں 25 محرم الحرام کو شہادت امام زین العابدین ع کے موقع پر نکالے گئے جلوس عزاء پر جامعہ فاروقیہ کے دہشتگردوں نے فائرنگ کی اور خواتین سمیت بچوں کو حملہ کا نشانہ بنایا جو کہ انتہائی شرمناک اور گھناؤنا فعل ہے۔  رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جامعہ فاروقیہ کے دہشتگردوں نے جس راستے پر عزاداروں پر حملہ کیا اسے پہلے سے ہی بند کر دیا گیا تھا، تاہم دہشتگردوں نے زبردستی اس راستے سے آ کر جلوس عزاء میں شریک ہونے والے عزاداروں بشمول بچوں، جوانوں اور خواتین کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 25 محرم کو شاہ فیصل کالونی میں جلوس عزاء پر حملہ کرنے والے جامعہ فاروقیہ کے دہشتگردوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہ فیصل کالونی میں عزاداروں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کی سرپرستی علاقہ ایس ایچ او ندیم بیگ کر رہا ہے، جسکے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے مدارس کے خلاف سختی سے نوٹس لیا جائے، جہاں دہشتگردوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے اور ان مدارس میں جامعہ فاروقیہ صف اول میں ہے، انہوں نے وفاق المدارس کے مولانا اسفند یار خان اور مولانا حنیف جالندھری سے اپیل کی کہ وہ سامنے آئیں اور اپنی صفوں سے دہشتگرد عناصر کو نکال باہر کریں اور وفاق المدارس سے ایسے مدارس کی رکنیت ختم کی جائے جہاں دہشتگردی کی تربیت دی جاتی ہو۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ ملت جعفریہ کسی بھی طور پر عزاداری پر کوئی مفاہمت قبول نہیں کرے گی اور عزاداری پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک اور شہر کراچی کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، جس میں کالعدم دہشتگرد گروہ جو امریکی و اسرائیلی ایماء پر پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں، عزادرای کے جلوسوں پر حملے کر کے انارکی پھیلانا چاہتے ہیں۔

تفتان ٹراسپورٹ یونین کے صدر حاجی اللہ بخش بادینی اور دیگر نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد مقامی ٹرانسپورٹرز کو بےروزگار کرنا ہے۔ایران سے براستہ تفتان کوئٹہ آنے والے زائرین کی کوچز کو انتظامیہ نے دالبندین اور تفتان میں روک دیا خواتین اور بچوں سمیت دیگر مسافر پریشانی کا شکار، تفصیلات کے مطابق ایران سے باراستہ تفتان کوئٹہ جانے والے زائرین کی کوچز کو انتظامیہ نے بلاجواز روکنا شروع کر دیا ہے، گزشتہ روز دالبندین کے قریب 11 کوچز کو روک دیا گیا جن میں خواتین اور بچوں سمیت 500 کے قریب زائرین سوار تھے تمام گاڑیوں کو بعد ازاں زائرین سمیت دالبندین منتقل کر دیا گیا جہاں‌ ہوٹل اور دیگر مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں بالخصوص خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔  جمعرات کو بھی تفتان میں 5 کوچز روک دی گئیں جن میں اڑھائی سو کے قریب زائرین سوار تھے جن کی سکیورٹی رہائش اور قیام و طعام کیلئے کوئی مناسب انتظام نہیں کیا گیا، دریں اثناء تفتان ٹراسپورٹ یونین کے صدر حاجی اللہ بخش بادینی اور دیگر نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد مقامی ٹرانسپورٹرز کو بے روزگار کرنا ہے انہوں نے کہا کہ کوچز کو روکنے کے باعث گزشتہ تین دن سے زائرین خصوصاً خواتین، بچوں اور ضعیف افراد کو مشکلات کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

عوامی و سماجی حلقوں کے نمائندوں نے سوال اٹھایا ہے کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکے لوئر کرم کے علاقے اڑوالی میں ایف سی فورٹ کے سامنے گزرنے والے ٹل پاراچنار روڈ پر ہو رہے ہیں۔ٹل پاراچنار روڈ جو چار سالہ تک مسلسل بند رہنے کے بعد درمیان میں ایک آدھ دفعہ کھول دیا جاتا ہے، تاہم اس وقت بھی سفر کرنا کسی خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ اس کا اندازہ صرف گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پاراچنار سے پشاور جانی والی مسافر کوچز پر لوئر کرم میں دہشت گردوں کے تین بار ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم خوش قسمتی سے یہ بم دھماکے اپنے ہدف مسافر کوچز کو نشانہ بنانے کی بجائے غلطی سے یا تو مسافر گاڑی گزرنے سے پہلے ہوئے یا پھر بعد میں ہوئے۔ ان دھماکوں کے بعد پاراچنار کے طوری بنگش قبائل اور عوامی و سماجی حلقوں کے نمائندوں نے سوال اٹھایا ہے کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکے لوئر کرم کے علاقے اڑوالی میں ایف سی فورٹ کے سامنے گزرنے والے ٹل پاراچنار روڈ پر ہو رہے ہیں۔

مختلف ملی و عزاداری تنطیموں کے نمائندوں نے کہا کہ یزید وقت امریکی سی آئی اے کے پٹھو طالبان اور یزیدیت کے پشت پناہ عناصر کو سبق سکھانے کا ہمیں تجربہ حاصل ہے، اسلئے لاہور کے غیور مسلمانوں کو اگر ہماری ضرورت ہو تو ہم حاضر ہیں۔لاہور میں واقع پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں گذشتہ روز محسن انسانیت نواسہ رسول ص سید الشہدا امام حسین ع کی یاد میں منعقدہ یوم حسین ع کے پروگرام پر یزیدیت کے پشت پناہوں کے حملے اور براہ راست فائرنگ کر کے شان امام حسین ع میں کھلم کھلا گستاخی کے حوالے سے ملک کے دیگر حصوں کی طرح پاراچنار میں بھی شدید ردعمل و احتجاج دیکھنے میں آیا۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں بھرپور مذمت کے علاوہ مختلف ملی و عزاداری تنطیموں کے نمائندوں نے کہا کہ یزید وقت امریکی سی آئی اے کے پٹھو طالبان اور یزیدیت کے پشت پناہ عناصر کو سبق سکھانے کا ہمیں تجربہ حاصل ہے، اسلئے لاہور کے غیور مسلمانوں کو اگر ہماری ضرورت ہو تو ہم حاضر ہیں۔ انہوں نے مذید کہا کہ لاہور کے غیور مسلمانوں اور محسن انسانیت نواسہ رسول ص سید الشہدا امام حسین ع سے محبت کرنے والوں کو جب بھی ہماری ضرورت پڑیں تو ہم حاضر ہیں۔

باوثوق ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے اکثر جیلوں بشمول پشاور، ڈی آئی خان، ہری پور و بنوں جیل طالبان و سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کی نرسریاں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ کھلم کھلا خودکش حملوں کی ترغیب دی جا رہی ہیں۔دنیا بھر میں جیل ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں آنے والے مجرموں کی تربیت کرکے انہیں معاشرے کا مفید شہری بنایا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں جیل دہشت گردوں اور مجرموں کو سدھارنے کی بجائے دہشت گردی کے مراکز میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کی اکثر جیلوں بشمول پشاور، ڈی آئی خان، ہری پور و بنوں جیل طالبان و سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کی نرسریاں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ کھلم کھلا خودکش حملوں کی ترغیب دی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں جیل میں موجود معمولی نوعیت کے ملزمان بالخوص کمسن قیدیوں کی نفسیات پر انتہائی الٹا اثر پڑ رہا ہے، وہ طالبان کمانڈروں اور سپاہ صحابہ و لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کو جیل میں وی آئی پی پروٹوکول اور ان کی بادشاہت دیکھ کر ان میں بھی جرم و دہشت گردی کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے۔

رائع کے مطابق مذکورہ افسر نے طالبان کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے کروڑوں روپے رشوت وصول کر کے رہا کیا تھاحساس اداروں نے ایس ایس پی سی آئی اے کو حراست میں لے لیا مذکورہ افسر نے تحریک طالبان کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے مبینہ طور پر کروڑوں روپے رشوت وصول کر کے رہا کیا مذکورہ افسر پر الزام ہے کہ وہ شہر کے نامی گرامی بلڈروں کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر ریکوری کے معاملات نمٹا رہے تھے مذکورہ افسر کی ایس ایس پی عہدے سے تنزلی کر کے انسپکٹر بنا دیا گیا۔ انتہائی معتبر ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حساس اداروں نے ایس ایس پی سی آئی اے راجہ عمر خطاب کو حراست میں لے لیا ہے اور 3 دن حراست میں رکھنے کے بعد انویسٹی گیشن کر کے رہا کر دیا۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس اداروں کو شکایات موصول ہوئی تھیں کہ ایس ایس پی نے پنجابی تحریک طالبان کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کیا اور مبینہ طور پر 3 کرو ڑ روپے رشوت وصول کر کے رہا کر دیا۔ ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ حساس اداروں کو اطلاع ملی کہ ایس ایس پی شہر کے نامی گرامی بلڈروں اور بکیوں کے ساتھ مل کر کروڑوں روپے کی ریکوری کے معاملات نمٹا رہے ہیں اور ففٹی پرسنٹ وصول کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ مذکورہ افسر بلڈروں کی نشاندہی پر سرکاری اسلحہ کے زور پر رقم کی لین دین میں ملو ث افراد کو اٹھا کر لاتے تھے اور ہفتے ہفتے غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد رقم وصول کر کے انہیں رہا کرتے تھے۔ مذکورہ افسر نے شہر کے حساس علاقوں میں بنگلوز کرائے پر حاصل کر رکھے ہیں جہاں مغویوں کو رکھتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی نے شہر کے بکیوں کے کروڑوں روپے ہڑپ کرنے والے مختلف جرائم پیشہ افراد کو اٹھایا اور بکیوں کی رقم نکلوا کر انہیں بھی رہا کیا۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ ایس ایس پی کی عہدے سے تنزلی کر کے اسے انسپکٹر بنا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ افسر نے شولڈر پروموشن حاصل کر رکھی تھی۔

امریکی ٹی وی سے انٹرویو میں لیون پینٹا نے کہا کہ جوہری پروگرام کے بعد ایرانی رہنماء ایک سال کے اندر جوہری ہتھیار بھی بنا سکتے ہیں۔امریکی وزیر دفاع لیون پینٹا نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کی صورت قبول نہیں جبکہ امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈمپسی نے کہا ہے کہ پینٹاگون تہران کی ایٹمی تنصیبات پر فضائی حملہ کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ امریکی ٹی وی سے انٹرویو میں لیون پینٹا نے کہا کہ جوہری پروگرام کے بعد ایرانی رہنماء ایک سال کے اندر جوہری ہتھیار بھی بنا سکتے ہیں اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی کا انتظام کر رکھا ہے تو جوہری ہتھیار بنانے میں اور بھی تیزی لائی جا سکتی ہے ایران کا جوہری پروگرام نہ صرف امریکہ بلکہ اسرائیل کے لیے بھی خطرہ ہے اگر ایران نے جوہری ہتھیاروں کے حصوں کی جانب پیش قدمی کی تو امریکہ فوجی آپریشن سمیت ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔ دوسری جانب امریکی چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل مارٹن ڈمپسی نے کہا ہے کہ پینٹاگون ایران کی ایٹمی تنصیبات پر فضائی حملہ کا منصوبہ بنا رہا ہے اپنے بیان میں جنرل ڈمپسی کا کہنا تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصوں سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ جنرل ڈمپسی کے مطابق اس حملہ میں اسرائیل بھی امریکہ کا ساتھ دے سکتا ہے

میمو گیٹ اسکینڈل کے معاملے پر پاکستان کی طاقتور فوج اور سویلین حکومت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کھل کر میدان میں آ گئے ہیں۔ جمعے کے روز چھپنے والے ڈان اخبار کے اداریے کے مطابق میمو اسکینڈل کے بعد پاکستانی فوج نے بغاوت کی ایک سازش بھی تیار کر لی تھی اور اب پاکستانی فوج اور موجودہ حکومت کے تعلقات ’ناقابل واپسی‘ موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے میمو گیٹ اسکینڈل کی مکمل تحقیقات کروانے کا کہا ہے تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ کی اس سازش کے پیچھے کون ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل کیانی کے اس مؤقف سے، پہلے ہی سے غیر مقبول صدر ‌زرداری کی شہرت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔  پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے بعد پاکستان آرمی عوامی اور سیاسی سطح پر شدید تنقید اور دباؤ کی زد میں تھی تاہم 26 نومبر کو نیٹو حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی آرمی ایک مرتبہ پھر عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ پاکستان میں صدر زرداری کی حکومت انتہائی غیرمقبول ہونے کی وجہ سے میموگیٹ اسکینڈل میں بھی لوگوں کی زیادہ تر ہمدردیاں فوج ہی کے ساتھ ہیں۔ مذکورہ بالا اسکینڈل میں صدر زرداری اور ان کے امریکہ میں تعینات سابق سفیر حسین حقانی امریکہ کے حامی کے طور پر سامنے آئے ہیں اور پاکستان میں پہلے ہی امریکہ مخالف جذبات اپنے عروج پر ہیں۔بیرونی مالی مدد پر انحصار رکھنے والی پاکستان کی موجودہ حکومت اہم ملکی مسائل حل کرنے میں ناکام نظر آئی ہے، جن میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، گیس کا بحران اور ملکی معیشت کی روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال سرفہرست ہیں۔ چند اعلیٰ فوجی افسران کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ ملکی فوج صدر زرداری سے تنگ آ چکی ہے اور قانونی طریقوں سے انہیں منصب صدارت سے فارغ کرنا چاہتی ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان نیوز کے مطابق پاکستانی فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات خطرناک سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود یہ کہنا کہ پاکستانی فوج ماورائے آئین اقدامات کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے، قبل از وقت ہو گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی فوج اس وقت ملکی مشرقی سرحدوں سمیت شمالی مغربی سرحدوں پر بھی مصروف ہے اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی اس مرتبہ آرمی کا ساتھ دیتی نظر نہیں آتیں۔ آج پاکستان کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے بھی فوج کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ انہوں نے جمعے کو میمو اسکینڈل سے متعلقہ مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ اب عوام کا بھروسہ عدلیہ پر ہے اور اس لیے فوج کے اقتدار میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی فوج کی طرف سے اقتدار میں آنے کے امکانات کس قدر کم ہیں اس کا اندازہ گزشتہ روز دیے جانے والے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ایک بیان سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  فوج ریاست کے اندر ریاست نہیں بنا سکتی اور وہ پوری طرح پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع سمیت تمام ملکی ادارے وزیر اعظم پاکستان کے ماتحت ہیں 

القاعدہ کی اعلیٰ قیادت ان کوششوں میں ہے کہ پاکستانی قبائلی علاقے میں مختلف انتہاپسندوں کے گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کر کے امریکہ کے خلاف افغانستان میں جاری جنگ میں شدت پیدا کی جائے۔ اسامہ بن لادن کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کے نئے سربراہ ایمن الظواہری متاثر کن پروفائل کے حامل نہیں اور  اس تناظر میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ ایک خلا کے ساتھ باقی رہے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اڑتالیس سالہ ابُو یحییٰ اللبی کی صورت میں ایک اعلیٰ لیڈر سامنے آیا ہے جو القاعدہ میں اسامہ بن لادن کی جگہ لے سکتا ہے۔ اللبی ان دنوں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متحرک اور گروہوں میں منقسم طالبان کو متحد کرنے کی کوششوں میں ہے۔ابو یحییٰ اللبی نے سن 2005 میں بگرام کی انتہائی سکیورٹی والی امریکی جیل سے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ابھی تک وہ امریکی ڈرون حملوں سے بچنے میں کامیاب رہا ہے۔ وہ لیبیا میں بھی سن 1990 کی دہائی میں مقتول لیڈر معمر القذافی کے خلاف مسلح تحریک شروع کرنے کی ناکام کوشش کر چکا ہے۔اللبی نے 27 نومبر کے روز جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر وانا سے 15 کلو میٹر کی دوری پر واقع بڑے قصبے اعظم وارسک میں قبائلی علاقوں کے مختلف گروہوں کے ایک اجلاس کی صدارت کی تھی۔ اس اجلاس میں قبائلی انتہاپسند کم از کم اس پر راضی دکھائی دیتے ہیں کہ وہ متحد ہو کر ایک بینر کے تحت مسلح سرگرمیوں کو آگے بڑھائیں۔ اس کے بعد محسود اور حقانی گروپ کے درمیان پانچ دسمبر کو بھی ایک اجلاس بلایا گیا لیکن اس میں کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔اس میٹنگ میں اللبی نے قبائلی جنگی سرداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے نظریاتی اور دوسرے اختلافات کو پس پشت ڈال کر متحد ہوتے ہوئے اپنی سرگرمیوں پر فوکس کریں تا کہ لادین قوتوں پر ضرب لگائی جا سکے۔ میٹنگ کا مقام پاکستان کے حامی جنگی سردار مولوی نذیر احمد کے کمانڈر شمس اللہ کا کمپاؤنڈ تھا۔ اس میٹنگ میں حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی کے علاوہ شمالی وزیرستان کے طالبان کے اہم کمانڈر حافظ گُل بہادر بھی موجود تھے۔قبائلی علاقوں میں انتہاپسندوں کو دو زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک اچھے طالبان اور دوسرے برے طالبان کہلاتے ہیں۔ اچھے طالبان سے مراد وہ جنگی سردار اور ان کے لشکری ہیں جو افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے ساتھ برسر پیکار ہیں۔ برے طالبان میں تحریک طالبان پاکستان کو شمار کیا جاتا ہے۔ اس تحریک نے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کے ساتھ حقانی گروپ اور حافظ گل بہادر کے انتہاپسندوں کے ساتھ بھی پنجہ آزمائی سے گریز نہیں کیا۔ اللبی اچھے اور برے طالبان کو ایک کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ نئی تنظیم میں دنیا کے مختلف حصوں میں متحرک مسلمان عسکریت پسندوں کے گروپوں کو شامل کر کے ان کی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں پلان کیا جائے گا۔ شریک گروپوں نے افغان طالبان کے لیڈر ملا عمر کو اپنا سربراہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے حماس کے ساتھ مصالحت کی کوششوں پر آج جمعے کو اسرائیل کی طرف سے شدید رد عمل ظاہر کیا گیا۔ایک اسرائیلی وزیر نے تو دونوں بڑی لیکن حریف فلسطینی تنظیموں کے درمیان ایک دوسرے کے قریب آنے کی ان کوششوں کی وجہ سے یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی اردن میں قائم یہودی بستیوں کو اسرائیلی ریاست کا باقاعدہ حصہ بنایا جانا چاہیے۔محمود عباس اور حماس کے رہنما خالد مشعل کے درمیان قاہرہ میں کل جمعرات کو جو مذاکرات ہوئے تھے، ان کے بارے میں بعد میں حماس کے رہنما نے خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ یہ بات چیت بہت ہی اچھے ماحول میں ہوئی۔خالد مشعل کے مطابق اس ملاقات میں دونوں لیڈروں کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا تھا کہ وہ ایک ایسا عمل شروع کریں گے جس کے تحت دو بڑے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ ان بڑے مقاصد میں سے ایک سے مراد وہ فلسطینی الیکشن ہیں جن کے انعقاد میں پہلے ہی بڑی تاخیر ہو چکی ہے۔ دوسرا مقصد مختلف فلسطینی گروپوں کے اتحاد تنظیم آزادیء فلسطین یا پی ایل او میں اس طرح اصلاحات لانا ہے کہ اس میں اسلام پسند حماس کی شمولیت بھی ممکن ہو سکے۔قاہرہ میں ہونے والی اس ملاقات کے بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ترجمان Mark Regev نے کہا کہ غزہ پٹی کے علاقے میں حکمران اسلام پسند تنظیم حماس کے ساتھ محمود عباس کے کسی بھی معاہدے کا مطلب یہ ہو گا کہ فلسطینی صدر قیام امن میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ نیتن یاہو کے ترجمان کے بقول حماس کوئی ایسی سیاسی تنظیم نہیں ہے جو دہشت گردی بھی کرتی ہے۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حماس ایک ایسا فلسطینی گروپ ہے جو صرف اور صرف دہشت گرد ہے۔وزیر اعظم نیتن یاہو کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ فلسطینی صدر عباس جتنا حماس کے قریب ہوتے جائیں گے، اتنا ہی وہ امن سے بھی دور ہوتے جائیں گے۔اسی دوران اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ Katz نے کہا ہے کہ اسرائیل کو قاہرہ میں اس ملاقات پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مغربی اردن کے علاقے میں یہودی بستیوں کو اسرائیلی ریاست کا حصہ بنا لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ یکطرفہ ہونا چاہیے، جیسے اس نے ماضی میں شام کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں اور عرب مشرقی یروشلم کو اپنے ریاستی علاقے کا حصہ بنا کر کیا تھا۔اس وزیر نے اپنے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا، ’اسرائیل کو ایران کی حمایت یافتہ اس دہشت گرد تنظیم کی وجہ سے اپنے شہریوں کو لاحق خطرات کے خاتمے اور ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر طرح کے اقدامات کرنے چاہیئں۔‘یروشلم سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اسرائیل کو اس بارے میں بڑی تشویش ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران محمود عباس کی فتح تحریک نے، جو اپنی سوچ میں سیکولر ہے، حماس کے ساتھ مصالحت کے لیے اپنی کوششوں میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔محمود عباس اور خالد مشعل کے درمیان پچھلے ایک مہینے میں تین مرتبہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد اس باہمی معاہدے پر عمل درآمد کو ممکن بنانا ہے جس پر دونوں رہنماؤں نے اس سال مئی میں اچانک دستخط کر دیے تھے۔ فلسطینیوں کے یہ دونوں اہم دھڑے سن 2007 میں اس وقت سے ایک دوسرے کے حریف ہیں جب سے غزہ پٹی پر حماس کی حکومت چلی آ رہی ہے۔ یوں غزہ پٹی اور مغربی اردن دونوں فلسطینی خود مختار علاقوں میں حریف فلسطینی گروپوں کو اقتدار حاصل ہے۔

عرب ملکوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے اثرات اب سعودی عرب میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ریاض حکومت صرف چند معمولی اصلاحات کرتے ہوئے نوجوان طبقے کو مطمئن کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
سعودی عرب کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہے اور ریاض حکومت کی کوشش ہے کہ کسی بھی احتجاجی تحریک کے امکانات ختم کرنے کے لیے پہلے نوجوان طبقے کو مطمئن کیا جائے۔ ملک میں غیر ملکی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی کو ایک طویل عرصے سے مقامی افراد کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اب سعودی نوجوانوں کو کس طرح ملازمتیں دی جائیں گی ؟ اس بارے میں سعودی دارالحکومت ریاض میں جرمن صنعت کاروں کے نمائندے آندریاس ہیرگن روئتھر کا کہنا ہے،’’ سعودی عرب کی آبادی تقریباً 28 ملین نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اس میں سے سات ملین افراد غیر ملکی ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق اس وقت 31 فیصد سعودی نوجوان بے روزگار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کو سعودی نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کا پابند بنا دیا گیا ہے۔ تعمیر کے شعبے میں سعودی نوجوانوں کا کوٹہ پانچ، صنعتوں اور پیداواری شعبے میں 15، سروس سیکٹر میں 30 جبکہ بینکوں اور انشورنس کمپنیوں میں 50 فیصد رکھا گیا ہے۔‘‘ متحدہ عرب امارات میں ایک جرمن فاؤنڈیشن Konrad-Adenauer-Stiftung کے علاقائی سربراہ تھوماس بیرنگر کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستوں میں بحرین کے علاوہ کہیں بھی بڑے سماجی مسائل موجود نہیں ہیں لیکن یہاں کی نئی نوجوان نسل اپنے مسائل واضح طور پر منظر عام پر لانے کی ہمت رکھتی ہے اور یہی چیز حکمرانوں کو خوفزدہ کیے ہوئے ہے۔بیرنگر کے مطابق سعودی حکومت ملک میں بڑی اصلاحات اور جمہوری نظام کے قیام کے لیے تیار نظر نہیں آتی جبکہ یہ اصلاحات انتہائی ضروری ہیں، ’’اگر سعودی حکام ملک کو مستقل طور پر مستحکم کرنا چاہتے ہیں تو اصلاحات انتہائی ضروری ہیں۔ اگر یہ اصلاحات نہیں کی جاتیں یا پھر ان میں دیر کی جاتی ہے تو خلیجی ریاستوں کا استحکام واقعی خطرے میں ہو گا۔ بیرنگر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے زیادہ تر شہریوں کے لیے پیسہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ اقتدار کا ہے۔ عشروں سے صرف ایک ہی خاندان برسر اقتدار ہے۔ شاہ عبداللہ کی صحت اب اکثر ٹھیک نہیں رہتی اور کوئی بھی نہیں جانتا کہ ان کے بعد یہ منصب سنبھالنے والا حکمران اصلاحات کر پائے گا بھی کہ نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل میں صرف پیسہ ہی اس ملک کو مستحکم نہیں رکھ پائے گا بلکہ اقتدار میں عوامی شراکت کا بھی ایک اہم کردار ہو گا اور عوامی شراکت کے لیے سعودی عرب میں ابھی کوئی بھی تیار نظر نہیں آتا۔

تہران یونیورسٹی میں نماز جمعہ کے عارضی خطیب نے اسلامی بیدار کے ایک سال مکمل ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی بیداری کے بابرکت نتائج کی بدولت بہت سے امریکی و اسرائيلی عرب ڈکٹیٹر اقتدار سے محروم اور نابود ہوگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تہران میں آج نماز جمعہ آیت اللہ جنتی کی امامت میں منعقد ہوئی جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی۔ تہران یونیورسٹی میں نماز جمعہ کے عارضی خطیب آیت جنتی نے اسلامی بیدار کے ایک سال مکمل ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی بیداری کے بابرکت نتائج  کی بدولت بہت سے امریکی و اسرائيلی عرب ڈکٹیٹر اقتدار سے محروم اور نابود ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تیونس ، مصر اور لیبیا میں عوام نے اپنی قدرت اور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ نواز عرب حکمرانوں کو نابود کردیا ہے اور امید ہے کہ یمن، بحرین اور دیگرعرب ممالک میں بھی امریکہ نواز عرب حکمراں جلد ہی نابود ہوجائیں گے انھوں نے کہا کہ عرب حکمراں اسلام اور مسلمانوں کے ماتھے پر بدنما داغ ہیں عرب حکمراں در حقیقت امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے بنائے ہوئے ہیں انھیں عرب عوام کی حمایت حاصل نہیں وہ صرف امریکی سہارے پر چل رہے ہیں ، آیت اللہ جنتی نے عراق سے  امریکی فوج کے انخلاء کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی عرب ریاستوں نے عراق پر چڑھائی کے لئے امریکہ کا راستہ ہموار کیا اور عراق میں امریکہ کے تمام سنگين جرائم میں خلیجی عرب حکمراں  ملوث ہیں۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ امریکہ نے آٹھ ، نو سال تک عراق میں ہولناک جرائم کا ارتکاب کیا جس میں عرب ڈکٹیر امریکہ کے ساتھ شامل ہیں

حزب اللہ لبنان نے عراق کے شہر بغداد اورشام کے دارلحکومت دمشق میں ہونے والے بم حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئےکہا ہے کہ امریکہ و اسرائیلی سرپرستی میں سعودی ناصبی دنیا میں دہشت گردوں کے سربراہ اور لیڈر ہے اور ان کو بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے کی اچھی خاصی مہارت حاصل ہے۔فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان نے بغداد اور دمشق میں ہونے والے بم حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئےکہا ہے کہ امریکہ دنیا میں دہشت گردوں کا سربراہ اور لیڈر ہے اور اسے بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے کی اچھی خاصی مہارت حاصل ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد  امریکہ و اسرائیلی اور سعودی ناصبی دنیا میں دہشت گردوں کے  سربراہ اور لیڈر ہیں اور علاقہ میں اس کے حامیوں کی سرپرستی میں ہولناک جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں حزب اللہ نے اپنےبیان میں کہا ہے کہ عراق سےامریکہ کے ذلت آمیز انخلاء کے بعد دھماکوں کا سلسلہ امریکہ کی ناکام پالیسی کا حصہ ہے۔ حزب اللہ لبنان نے کہا ہے کہ ان بم دھماکوں میں دسیوں بےگناہ عورتیں اور بچے شہید ہوئے ہیں اور امریکہ کو بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے میں کافی مہارت حاصل ہے حزب اللہ نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے حامیوں کےتمام تخریبی منصوبے علاقہ میں ناکام ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ کل عراق میں 19 بم دھماکوں میں 70 سے زائد افراد شہید ہوگئے تھے جبکہ آج شام کے دارالحکومت دمشق میں دو بم دھماکوں میں 130 افراد شہید اور 100 زخمی ہوگئے ہیں ان بم دھماکوں کی ذمہ داری امریکی، اسرائیلی اور سعودی دہشت گرد تنظیم القائدہ نے قبول کرلی ہے۔

 

امریکہ کے سابق صدرنے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بل کلنٹن: ایران پر حملہ کیا تو امریکہ اوراسرائیل کو سنگین ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا فوجی راستہ کے علاوہ دیگر اور بھی راستے موجود ہیں جن پر غور کیا جا سکتا ہے۔ فاکس نیوز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ کے سابق صدربل کلنٹن نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملہ کیا تو امریکہ اوراسرائیل کو سنگین ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا  فوجی راستہ کے علاوہ دیگر اور بھی راستے موجود ہیں جن پر غور کیا جا سکتا ہے۔ کلنٹن نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے حالات نہایت سنگین ہو جائیں گے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے کلنٹن نےکہا کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنا لے تو اس سے صہیونی کو خطرہ لاحق ہوجائےگا۔ کلنٹن نے کہ ایران پر فوجی کارروائی سے امریکہ اور اس کے صہیونی اتحادیوں کو  نہایت سنگین، خطرناک اور سخت ترین حالات کا سامنا کرنا پڑےگا، جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتے، اس لیے ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔

شام میں سکیورٹی عمارت کے باہر دو خودکش حملوں میں تیس افراد ہلاک اور 100 زخمی ہوگئے ہیں۔ شام کے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام میں سکیورٹی عمارت کے باہر دو خودکش حملوں میں تیس افراد ہلاک اور 100 زخمی ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ دھماکے دارالحکومت دمشق میں ہوئے۔ ٹی وی کے مطابق یہ دھماکے القاعدہ نے جنرل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ اور ایک اور ایجنسی کے دفاتر کے باہر کیے۔ القاعدہ دہشت گرد تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے

عراق کے دارالحکومت بغداد میں کل شام تک مجموعی طور پر 19 بم دھماکے ہوئے جن میں شہید ہونے والوں کی تعداد 72 تک پہنچ گئی ہے۔براثا خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں کل شام تک مجموعی طور پر 19 بم دھماکے ہوئے جن میں شہید ہونے والوں کی تعداد 72 تک پہنچ گئی ہے۔ عراق کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق کل رات انیسواں بم دھماکہ ہوا جس میں 3 افراد زخمی ہوئے ، رائٹرز کے مطابق کل عراق میں مجموعی طور پر انیس بم دھماکوں میں 72 افراد شہید ہوگئے جن میں عام شہریوں کی بڑي تعداد شامل ہے، عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی اور نائب وزير اعظم صالح المطلک  دونوں کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں عراقی عدالت نے عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیئے ہیں جبکہ نائب وزير اعظم صالح المطلک کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے البتہ امریکہ نے دہشت گردوں کے حامی سیاسی رہنماؤں کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ عراق میں امریکہ بحران جاری رکھنے چاہتا ہے۔

 مسجد نور ایمان کے خطیب جمعہ مولانا مرزا یوسف حسین کی اہلیہ نرگس صاحبہ اور آیت اللہ عقیل غروی صاحب کے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے جس پر تمام  پاکستان میں بسنے والے شیعیان اہلبیت اور خاص کر کراچی کے مومنین دونوں رہبران ملت سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتے ہیں۔ آیت اللہ عقیل غروی صاحب بھائی کے انتقال کے سبب واپس ہندوستان روانہ ہو گئے ہیں۔ جہاں وہ اپنے بھائی کی تجویر وتدفین شرکت کرین گے۔ نیز آیت اللہ نے کراچی میں اپنی تمام مصروفیات منسوخ کردی ہیں اور پروگراموں کی انتظامیاں سے آیت اللہ عقیل غروی صاحب نے انتہائی معزرت کی ہے، اس موقع پر تمام شیعیان اہلبیت سے مرحومیں کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ کی درخواست کی جاتی ہے۔

اسلام آباد(طارق عزیز)وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے صدر زرداری کی رخصتی کی صورت میں فاروق لغاری بننے کی بجائے اسمبلیاں توڑ کر صدر کے ساتھ عوام میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ ساتھ آئے تھے ساتھ جائیں گے۔ اگر کسی سازش کے تحت صدر مملکت کو عہدہ سے فارغ کیا جاتا ہے تو وہ وزیراعظم رہنے کی بجائے اسمبلیاں توڑ کر حکومت ختم کرنے کو ترجیح دیں گے اور اپنا مقدمہ لے کر عوام کے پاس جائیں گے۔ اوصاف ذرائع کو معلوم ہوا ہے کہ صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کے درمیان طویل ملاقات میں یہ بات زیر غور آئی کہ اگر مقتدر حلقے یا عدلیہ کی طرف سے صدر زرداری کو عہدے سے فارغ کیا جاتا ہے تو اس صورت میں حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ وزیراعظم گیلانی نے واضح کیا ہے کہ اس صورت میں وہ فاروق لغاری بننے کی بجائے اسمبلیاں توڑ کر حکومت ختم کر دیں گے اور نئے مینڈیٹ کیلئے عوام سے رجوع کریں گے۔ ذرائع کو معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم گیلانی کو یہ پیشکش کی جا رہی ہے کہ صدر زرداری کی ایوان صدر سے رخصتی کی شکل میں وہ وزیراعظم رہ سکتے ہیں اور حکومت جاری رکھ سکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی زرداری کی جگہ کسی اور شخصیت جو صاف ستھری کردار کی حامل ہو انہیں صدر مملکت بنایا جا سکتا ہے۔ اوصاف کو معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر صدر گئے تو پھر وزیراعظم، حکومت اور اسمبلیاں بھی جائیں گی۔ وزیراعظم گیلانی کا کہنا ہے کہ سابق صدر فاروق لغاری نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر کے سرائیکی خطہ پر بے وفائی کا جو داغ لگایا تھا وہ صدر کے ساتھ رخصت ہو کر وہ داغ دھو دیں گے۔ صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کسی بھی سازش کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں، وہ سرنڈر کرنے کی بجائے حالات کا مقابلہ کریں گے جس کی جھلک وزیراعظم گیلانی کی قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ذرائع کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے صدر زرداری اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایوان صدر کے خلاف کسی قسم کی سازش میں وزارت عظمیٰ کے عہدے کو آڑے نہیں آنے دیں گے۔ وزیراعظم گیلانی سمجھتے ہیں کہ وہ پیپلزپارٹی اور صدر زرداری کی وجہ سے ایوان وزیراعظم بیٹھے ہیں، زرداری کی ایوان صدر سے کسی سازش کے تحت رخصتی کی صورت میں ان کا وزیراعظم رہنا محترمہ بے نظیر بھٹو، صدر زرداری، بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی سے غداری ہوگی جس کے وہ کسی صورت میں مرتکب نہیں ہو سکتے۔ اوصاف ذرائع کے مطابق وزیراعظم گیلانی پیپلزپارٹی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا وہ احسان چکانا چاہتے ہیں جب سابق صدر پرویز مشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان جولائی، اگست 2007ء میں دبئی میں ملاقات ہوئی اور مل کر چلنے کی بات چیت چل رہی تھی تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف سے اپنی گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا تھا کہ جنرل صاحب ہمارا بندہ (یوسف رضا گیلانی) آپ نے پانچ سال سے جیل میں ڈال رکھا ہے ہم آپ سے کیا بات کریں۔ پیپلزپارٹی کے سینئر وائس چیئرمین گیلانی اڈیالہ جیل میں بند ہیں پہلے آپ انہیں رہا کریں پھر اگلی بات ہوگی۔ جس کے بعد یوسف رضا گیلانی کی رہائی ممکن ہوئی تھی۔ وزیراعظم گیلانی محترمہ کے اس احسان کو نہیں بھولے اور زرداری کی طرف سے وزیراعظم بنائے جانے پر بھی ان کے احسان مند ہیں۔ ان وجوہات کی بنیاد پر وزیراعظم گیلانی نے کسی قسم کی بے وفائی یا قیادت سے غداری کی بجائے صدر مملکت کا مکمل ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے

اسلام آباد (نیوزایجنسیاں)تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی نے صدر آصف علی زر داری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے ۔اعظم سواتی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ صدر زرداری ملک میں مستقل رہنے کیلئے نہیں آئے اور وہ دوبارہ بیرون ملک چلے جائیں گے۔اس لئے انہیں میموکیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک ملک چھوڑنے سے روکا جائے اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے ۔ ایڈووکیٹ طارق اسد کی وساطت سے جمع کروائی گئی درخواست میں اعظم سواتی نے یہ استدعا بھی کی ہے کہ سلیمان فاروقی ایوان صدر میں ڈیفیکٹو وزیر اعظم کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں اور صدر کی ایما پر تمام احکامات وہی جاری کرتے ہیں ۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ میمو کیس کے حوالے سے سلیمان فاروقی کے تمام ایس ایم ایس ،ای میلز اور ٹیلیفونک رابطوں کا ریکارڈ بھی طلب کیا جائے ،،اور اس ریکارڈ کی روشنی میں میمو کی تحقیقات کی جائے

وزیراعظم گیلانی پچھلے چند دنوں سے حکومت اور ایسٹبلشمنٹ کے باہم شیر و شکر ہونے کی نوید دے رہے تھے، لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے وہ دباو کی صورت میں پھٹ پڑے ہیں، وہ محسوس کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت شاید ہی 2012ء کا سورج طلوع ہوتا دیکھ سکے۔قومی اسمبلی کا اجلاس سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی چوتھی برسی کی تقریبات کے باعث ایک ہفتے کے لئے ملتوی ہو گیا ہے۔ جمعرات کے اجلاس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا خطاب معمول کا خطاب نہیں تھا۔ قبل ازیں وہ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں قائداعظم کے یوم پیدائش کی مناسبت سے تقریب سے خطاب کر کے آئے تھے وہ اس تقریب میں بین السطور بہت کچھ یہ کہہ کر آئے تھے۔ لیکن انہوں نے رہی سہی کسر قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکال دی، انہوں نے پہلی بار کھل کر حکومت کو لاحق خطرات کا ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو ختم کرنے (pack up) پیک اپ کی سازش کی جا رہی ہے، اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ انہیں منتخب لوگ چاہئیں یا آمریت۔   جب وزیراعظم گیلانی ایوان میں آئے تو انہوں نے انتہائی جذباتی انداز میں اسٹیبلشمنٹ کو للکارا، حکومتی ارکان کو جو پچھلے کئی روز سے میمو گیٹ سکینڈل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں وزیراعظم کے طرز کلام پر حیران و ششدر تھے ان کو جمہوری نظام کی بساط لپٹتے دکھائی دے رہی تھی جبکہ اپوزیشن، مسلم لیگ (ن) حکومت کی بے بسی کو انجوائے کر رہی تھی، لیکن اس مشکل صورتحال قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان جمہوری نظام کے استحکام کے لئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔  انہوں نے جمعرات کو ہی وزیراعظم کی پارلیمانی قوت بڑھا دی اور کہا کہ وہ ایک بار پھر حکومت کو اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ ملک میں ایسے غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کرتے، اگر حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور گھر بھجوانے کے لئے غیر جمہوری اقدام کی حمایت کرنا ہوتی تو تین سال قبل کرتے، جب آصف علی زرداری ہم سے اور ایسٹبلشمنٹ سے وعدہ خلافی کر کے خود صدارتی امیدوار بن گئے۔ وزیراعظم گیلانی پچھلے چند دنوں سے حکومت اور ایسٹبلشمنٹ کے باہم شیر و شکر ہونے کی نوید دے رہے تھے، لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے وہ دباو کی صورت میں پھٹ پڑے ہیں، وہ محسوس کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت شاید ہی 2012ء کا سورج طلوع ہوتا دیکھ سکے۔   یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کے بجائے ایک ہفتہ کی چھٹی دے دی اور 29 دسمبر کی شام پانچ بجے اجلاس بلا لیا وزیراعظم ایوان میں گویا ہوئے، پارلیمنٹ ہاوس کی غلام گردشوں میں وزیراعظم گیلانی کا جارحانہ انداز میں خطاب اور اس کے تناظر میں حکومت کا مستقبل موضوع گفتگو تھا حکومتی ارکان کے چہروں سے ان کی پریشانی نمایاں نظر آتی تھی۔تحریر:نواز رضا

کراچی کے علاقے بیم پورہ میں کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی یزیدی دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے شیعہ نوجوان کو شہید کر دیا۔ نمائندے کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے بیم پورہ میں جمعہ کے روز کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی درندوں نے فائرنگ کرکے 25 سالہ شیعہ نوجوان کاشف علی کو شہید کر دیا۔عینی شاہدین کاکہنا ہے کہ شہید کاشف علی کو ناصبی وہابی درندوں نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے کام کے سلسلہ میں جا رہے تھے ،شہید کے سر اور سینہ میں گولیاں لگی ہیں جس کے سبب ان کی موقع پر شہادت ہو گئی ۔شہید کی باڈی رضویہ امام بارگاہ منتقل کر دی گئی۔ شہید کاشف علی انجمن شباب المومنین کے مشہور و معروف نوحہ خواں رجب علی کے چھوٹے بھائی تھے۔  نمائند کے مطابق دوسرے سانحہ میں  کراچی کے علاقے شادمان ٹاون میں کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے فرقہ پرست دہشتگردوں نے شیعہ مومن شرف مہدی کو فائرنگ کر کے شہید کردیا۔ شہید شرف مہدی کراچی کے علاقے انچولی 19 نمبر کے رہائشی تھے۔ فائرنگ کے فوراَ بعد شرف مہدی کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ شرف مہدی شہید ہوچُکے ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق شہید شرف مہدی کی باڈی انچولی امام بارگاہ لائی جارہی ہے. واضح رہے کہ گذشتہ طویل عرصہ سے شہر کراچی سمیت ملک بھر میں کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی اور طالبان ناصبی یزیدی دہشت گردوں نے ملت جعفریہ کے نوجوانوں اور عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے نتیجہ میں اب تک سیکڑوں شیعیان حیدر کرار (ع) شہید و زخمی ہو چکے ہیں