وفاقی کابینہ کی شمسی ائیربیس امریکہ سے خالی کرانے، نیٹو سپلائی بند کرنے کے فیصلوں کی توثیق

Posted: 30/11/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

نیٹو حملے پر غور کیلئے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں اراکین نے تمام فیصلوں کا اختیار وزیراعظم کو دیدیا، شہید ہونیوالے فوجی افسران، جوانوں کیلئے فاتحہ خوانی، لواحقین کیساتھ ہمدردی کا اظہار، ملک میں جمہوری حکومت قائم ہے، ملک کی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اعلان کر دیا۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس گورنر ہاؤس لاہور میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کی، اجلاس کے شرکاء کو وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے نیٹو حملے کے بعد دفاعی کمیٹی کے بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں کئے گئے فیصلوں اور نیٹو حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ شرکاء نے کمیٹی کے تمام فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں ملک کی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، اجلاس کے شرکاء نے نیٹو کے حملے کو پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر تمام فیصلوں کا اختیار وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو دیدیا۔ اجلاس کے دوران وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے نیٹو حملے کے بعد امریکہ سمیت دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کابینہ کو بتایا کہ ہم نے تمام ممالک کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے فیصلوں اور نیٹو حملے کے بعد سیاسی جماعتوں اور عوامی ردعمل کے حوالے سے آگاہ کر دیا ہے، چین اور او آئی سی نے پاکستان کے موقف کی بھرپور تائید کی ہے اور نیٹو کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔  اجلاس کے دوران متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی کو پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آئندہ کسی نے جارحیت کی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ملک میں منتخب جمہوری حکومت قائم ہے اور کسی بھی صورت ملک کی آزادی اور خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی بہت مشکل فیصلے کئے ہیں اور آئندہ بھی ملک کے تحفظ کیلئے مشکل سے مشکل فیصلے کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا، امریکہ سمیت تمام ممالک سے تعلقات اور دوستی صرف برابری کی بنیاد پر ہو گی۔ اجلاس میں میمو سکینڈل کے حوالے سے بھی غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائیگا جس میں مہمند ایجنسی میں نیٹو کے حملے اور میمو سکینڈل کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائیگا۔ اجلاس میں 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جبکہ وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے ملک میں توانائی بحران اور موسم سرما کے دوران گیس کی قلت کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی۔ کابینہ اجلاس کے موقع پر شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہی  گورنر ہاؤس اور شہر کے بڑے ہوٹلوں کے اردگرد سکیورٹی اہلکار تعینات رہے جبکہ پولیس کی موبائل سکواڈ بھی سڑکوں پر گشت کرتی رہی۔ دیگر ذرائع کے مطابق گورنر ہاوس لاہور میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نیٹو حملے کے بعد دفاعی کمیٹی کے قومی سلامتی کے فیصلوں کی توثیق کی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ نیٹو کی سپلائی بند کرنے اور امریکہ سے شمسی ائیر بیس 15دنوں میں خالی کرانے کے فیصلوں پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان نے نیٹو فورسز کے حملے پر احتجاج کے طور پر پانچ دسمبر کو جرمنی میں ہونے والی بون کانفرنس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس بہیمانہ اقدام کی مذمت کرنے پر زور دیا ہے۔ کابینہ نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معمول کا ایجنڈا معطل کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ نیٹو حملے کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث پاکستان بون کانفرنس میں شریک نہیں ہو گا۔ البتہ وفاقی کابینہ نے افغانستان کے استحکام اور جاری مفاہمتی امن عمل کی حمایت جاری رکھنے کے عزم اور حمایت کا اعادہ کیا۔ کابینہ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ بین الاقوامی برادری بون کانفرنس میں افغانستان میں امن کے قیام اور ترقی کے عمل کو تیز کرنے کا اعادہ کرے گی۔   کابینہ نے پاکستانی سپاہیوں پر نیٹو اور ایساف کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی سالمیت پر حملہ قرار دیا۔ اجلاس میں نیٹو حملے کے مسئلے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے دفاعی کمیٹی کے فیصلوں پر کابینہ کو اعتماد میں لیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی خودمختار ی اور علاقائی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی توقعات کے مطابق ملکی سرحدوں کا تحفظ کریں گے، چاہے اس کے لئے جتنی بھی قیمت ادا کرنا پڑی۔   کابینہ نے پاکستان کے امریکہ، نیٹو اور ایساف سے تعاون پر نظرثانی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خاتمے، علاقائی استحکام اور امن کے لیے کوششوں، مثبت کردار اور قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ اجلاس میں قرار دیا گیا کہ پاکستانی فوجی اہلکاری پر نیٹو کے بلااشتعال حملے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شراکت داری کی روح کے خلاف ہیں۔  وزیراعظم نے پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو نیٹو حملے کا معاملہ سپرد کرنے پر اعتماد میں لیا۔ کمیٹی کی سفارشات پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ نے نیٹو حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین القوامی قوانین کے خلاف اور علاقائی امن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں بین الاقوامی برادری کو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کرنے کو ضروری قرار دیا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کابینہ کو اپنے دوسرے ممالک سے سفارتی رابطوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو حملے عالمی اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، پاکستان مہمند ایجنسی اور ایبٹ آبا د جیسے حملے برداشت نہیں کرے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ زندگی ہر کسی کو عزیز ہے لیکن غیرت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔ کابینہ نے قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اجلاس میں سلالہ چیک پوسٹ پر شہید ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار ہمدردی بھی کیا گیا۔

Comments are closed.