نئے انکشافات۔۔۔۔کیاامام موسی صدر قذافی کے حکم سے شہید کردئے گئےہيں

Posted: 30/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Religious / Celebrating News, Survey / Research / Science News

قذافی کے انٹیلجنس افسراحمدرمضان نے کہاہے کہ امام موسی صدرکے قاتل دارالحکومت طرابلس میں ہیں۔ذرائع کے مطابق قذافی کے انٹیلجنس افسر احمد رمضان نے کل (بدھ 9نومبر 2011 کو) لبنان کے نیوز چینل “الآن” کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے امام موسی صدر کی شہادت کے حوالے نئے انکشافات کئے ہیں۔  احمدرمضان نے 1978 میں امام موسی صدر کی شہادت کے سلسلے میں نئے انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ قذافی نے امام موسی صدرکے ساتھ دو گھنٹے طویل ملاقات کے بعداپنے گماشتوں اورحکومت کے دو سینئر اہلکاروں کوحکم دیاکہ “انہیں [امام موسی صدر اور ان کے ساتھیوں] کو لے جاؤ” اور وہ لوگ انہیں لے گئے اورکچھ دن بعدمیں قذافی کے پرسنل سیکریٹری سے سناکہ ان تین افرادکو قتل کردیاگیاہے۔ احمدرمضان نے قذافی سے امام موسی صدراور ان کے دوساتھیوں کے قتل کاحکم لینے والے افرادکے نام بھی بتائے اورکہاکہ یہ دوافراداس وقت دارالحکومت طرابلس میں ہیں۔ معدوم ڈکٹیٹر قذافی کے انٹیلجنس افسر نے کہا:میری یہ بات وزارت خارجہ اور وزارت انصاف نیز قذافی سے وابستہ انسانی حقوق سوسائٹی میں موجود دستاویزات سے قابل اثبات ہے اور یہ جو قذافی حکومت نے کہا تھا کہ امام موسی صدر اور ان کے ساتھی لیبیا سے نکل گئے ہیں یہ ایک جھوٹا دعوی تھا جس کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہ تھا بلکہ حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔  قابل ذکر ہے کہ امام موسی صدر 1978 میں قذافی کی سرکاری دعوت پر لیبیا کے دورے پر گئے تھے جہاں سے وہ کبھی نہیں لوٹے۔ اس کے بعد ان کی شہادت یا قید اور اغوا کے بارے میں بے شمار دعوے سامنے آئے اور حال ہی میں ایک دعوے میں کہا گیا تھا کہ امام موسی صدر کو قذافی نے خود گولی مار کر شہید کردیا تھا لیکن لیبیا کی عبوری حکومت کے سرکاری اعلان سے ہی اس بارے میں یقین سے کچھ کہا جاسکے گا۔  لیبیا کی حکومت کے سابق رہنماعبدالسلام جلودنے سابق ڈکٹیٹر قذافی کے ہاتھوں امام موسی صدر کی شہادت کاامکان ظاہرکیا ہے۔
العالم کی رپورٹ کے مطابق  عبدالسلام جلودجوامام موسی صدرکواغوا کئے جانے کے وقت لیبیاکی دوسرے نمبرکی شخصیت تھے،کہاکہ امام موسی صدرمعمرقذافی کے حکم سے شہیدکئے گئے۔جلود نےمزید کہاکہ اس مسئلے کےسلسلےمیں شدیدخبری بائیکاٹ تھااورقذافی امام موسی صدرکے بارے میں کوئي خبر منظرعام پر نہيں آنے دیتا تھا اور کرنل قذافی کا کوئی ساتھی بھی اپنی جان کے خطرے کی وجہ سے کوئي بات نہيں کرتا تھا۔
جلود نےمزید نےکہاکہ میں نےبرسوں پہلے سناکہ ایک پولیس افسر، جس نے امام موسی صدر کا روپ دھار لیا تھا،ان کے لاپتہ ہونے کے بعدان کے پاسپورٹ پراٹلی گیااور جب اس کی حقیقت سامنے آگئی تو قذافی نے اس کے اغوا ہونے کے خوف سے اس کی حفاظت کے سخت انتظامات کر دیے ۔  اس سےپہلے قذافی کی حکومت سے الگ ہونے والے ایک عہدیدار عبدالرحمان شلقم نے بھی امام موسی صدر کی شہادت کی خبر دی ہے۔  ان تمام ترمایوس کن خبروں شیعان علی اور امام موسی صدرکے اہل خانه کوامیدہے کہ  ایک طاقت ہے جویوسف کویعقوب سے ملاسکتی ہے وہی طاقت امام موسی صدر کے پرستاروں کے پرامید دلوں کی شادمانی کے اسباب فراہم کرےگی۔  کیاامام موسی صدرکے پرستاروں کایه خواب شرمنده تعبیر ہوسکے گا؟ ایران اورلبنان ٹیموں کی تلاش جاری ہے

Comments are closed.