مغرب نے شام میں مداخلت کی تو خطہ لرز اٹھے گا، بشارالاسد

Posted: 30/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Russia & Central Asia, Survey / Research / Science News, USA & Europe

برطانوی اخبار سنڈے ٹیلی گراف کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں شامی صدر نے کہا کہ شام اس خطے کا مرکز ہے اور یہ فالٹ لائن ہے، اگر آپ زمین کے ساتھ کھیلیں گے تو زلزلے کا موجب بنیں گے۔ شام میں کوئی بھی مسئلہ پورے خطے میں آگ بھڑکا سکتا ہے۔  شام کے صدر بشارالاسد نے انتباہ کیا ہے کہ شام یمن، مصر یا تیونس نہیں، مغرب نے مداخلت کی تو پورا خطہ لرز اٹھے گا، ہر چیز جل کر راکھ ہو جائیگی۔ دمشق میں برطانوی اخبار ٹیلیگراف کو دئیے گئے انٹرویو میں شام کے صدر بشارالاسد نے تسلیم کیا کہ شروع میں سکیورٹی فورسز سے چند غلطیاں ہوئی۔ لیکن اب صرف دہشتگردوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مغرب نے شام کیخلاف ایکشن لیا تو پورا مشرق وسطٰی جل اٹھے گا۔ بشارالاسد نے کہا کہ شام کی تاریخ مختلف ہے۔ ثقافت نرالی ہے اور سیاست الگ تھلگ ہے۔ مغربی مداخلت کے نتیجے میں خطے کی صورتحال یکسر تبدیل ہو جائیگی، ہر چیز جل کر راکھ ہو جائیگی۔ دیگر ذرائع کے مطابق شام کے صدر بشارالاسد نے مغربی طاقتوں کو تنبیہ کی ہے کہ اگر انہوں نے شام کے خلاف کارروائی کی تو اس سے ایسا زلزلہ آئے گا جس سے پورے خطے میں آگ بھڑک اٹھے گی۔ بین الاقوامی طاقتوں کی مداخلت نے شام کو “ایک اور افغانستان” بنانے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار سنڈے ٹیلی گراف کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں شامی صدر نے کہا “شام اس خطے کا مرکز ہے اور یہ فالٹ لائن ہے، اگر آپ زمین کے ساتھ کھیلیں گے تو زلزلے کا موجب بنیں گے۔ شام میں کوئی بھی مسئلہ پورے خطے میں آگ بھڑکا سکتا ہے۔ اگر شام کو تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے تو اس کا مطلب پورا خطہ تقسیم کرنا ہے۔ صدر اسد نے کہا کہ کیا آپ ایک اور افغانستان یا کئی اور افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں؟ شامی صدر نے تسلیم کیا کہ مارچ میں حکومت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے کئی غلطیاں کیں، البتہ اب انہوں نے زور دیا کہ صرف دہشتگردوں کو ہی ہدف بنایا جا رہا ہے۔

Comments are closed.