محرم میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرنیوالے جنداللہ کے 5 دہشتگرد گرفتار، اسلحہ و ہٹ لسٹ برآمد

Posted: 30/11/2011 in All News, Breaking News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر سٹی کورٹ میں پولیس پر حملہ کر کے پولیس کانسٹیبل لونگ خان کو قتل کرکے اپنے گرفتار ساتھیوں کو جو کہ 2009ء عاشورہ بم دھماکے میں جیل میں بند تھے، چھڑوا لیا تھا۔کراچی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے کارروائی کرتے ہوئے محرم الحرام میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرنے والے جنداللہ نامی دہشتگرد تنظیم کے 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس غلام شبیر شیخ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر میل کے ذریعے اندرون پنجاب اور وزیرستان سے امیر کے حکم پر کراچی پہنچنے والے 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جو اور محرم الحرام میں دہشتگردی کا منصوبہ بنانے رہے تھے۔ گرفتار ملزمان میں سید کامران عرف وقار عرف بلال، سلار محمد عرف خالد عرف دانش، امجد خان عرف کارگل عرف شاہ جی، فرحان خان عرف حسین اور محمد منیر عرف عظیم کو گرفتار کیا ہے۔  ملزمان سے سینٹرل جیل کے نقشے اور ایک ہٹ لسٹ بھی ملی ہے۔ ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر سٹی کورٹ میں پولیس پر حملہ کر کے پولیس کانسٹیبل لونگ خان کو قتل کرکے اپنے گرفتار ساتھیوں شکیب فاروقی، مرتضیٰ عنایت، وزیر محمد، مراد شاہ کو جو کہ 2009ء عاشورہ بم دھماکے میں جیل میں بند تھے، انھیں چھڑوا لیا تھا، جبکہ مراد شاہ اس مقابلے میں مار گیا تھا۔ اُنہی ملزمان نے جناح اسپتال میں 2010ء چہلم والے روز، موٹر سائیکل اور کمپیوٹر میں بم نصب کیا تھا، جس کے پھٹنے سے 16 افراد جاں بحق اور 60 زخمی ہوئے۔ انہی ملزمان نے آغا خان اسپتال کی کیش لے جانے والی وین پر فائرنگ کر کے 80 لاکھ روپے لوٹے تھے، ملزمان کور کمانڈر کراچی پر حملے سمیت گلستان جوہر تھانے پر حملہ،اوربینک ڈکیتیوں میں بھی ملوث تھے۔  گرفتار دہشتگردوں نے انکشاف کیا ہے کہ فصیح الرحمان نے ہی سیمنٹ بلاک نما بم بنانے کا طریقہ بھی ایجاد کیا، جس کو انھوں نے 8،9،10 محرم الحرام 2009ء میں استعمال کیا۔ اس وقت اس دہشتگرد تنظیم سے وابستہ دہشتگرد جو کہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، ان میں حمزہ جوفی عرف حاجی ممتازِ القاعدہ، غلام مصطفی عرف انصار بھائی، عارف عرف حیدر شجاع عرف رضا بھائی۔ امیر کراچی، ابوبکر عرف ارسلان، اسرافیل عرف جاوید، عجب خان عرف ذاکر شامل ہیں۔ جنداللہ نامی دہشتگرد تنظیم کے تاحال عدم گرفتار دہشتگردوں کے نام بھی بتائے گئے ہیں، جن میں فصیح الرحمان عرف حماد عرف عدنان۔ امیر کراچی، محمود عرف طلحہ عرف عمر، نائب امیر، ثاقب عرف شہاب، رشید خان پٹھان، کوڈ نام، شکیب فاروقی عرف فیضان، مرتضیٰ عنایت عرف شکیل، دلاور، بابا، وزیر محمد عرف شاکر اور اسحاق گل شامل ہیں۔ دیگر ذرائع کے مطابق کراچی پولیس نے جنداللہ کے پانچ دہشتگردوں کو گرفتار کر کے اسلحہ اور ہٹ لسٹ بھی برامد کر لی، ایڈیشنل آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ محرم میں دہشتگردی کا خدشہ ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام شبیر شیخ نے بتایا کہ جنداللہ کے گرفتار دہشتگردوں میں کامران، سالار محمد، امجد، فرحان خان اور منیر شامل ہیں۔ ان ملزموں نے سٹی کورٹ میں پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر کے چار دہشتگردوں شکیل فاروقی، مرتضٰی، وزیر اور مراد کو چھڑایا۔ 2009ء میں جناح اسپتال میں بم نصب کئے، جس میں 16 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ اسپتال کی کیش وین سے بھی 80 لاکھ روپے لوٹے۔

Comments are closed.