حکومت کراچی سے لیکر پاراچنار تک محرم کے آنیوالے ایام میں سکیورٹی کے اقدامات کو سخت کرے، رحمان شاہ

Posted: 30/11/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

پریس کانفرنس میں مرکزی صدر آئی ایس او نے کراچی میں ہونے والی دہشتگردی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں نمائش چورنگی پر پیش آنے والے واقعہ سے حکومتی اعلانات کا پول کھل گیا ہے کہ انہوں نے محرم الحرام میں سکیورٹی کے اقدامات نہیں کئے۔حکومت عزاداری امام حسین ع میں رکاوٹ نہ ڈالے ورنہ اس کے نتائج بہت خطرناک ہونگے، کراچی میں نمائش چورنگی پر پیش آنے والے واقعہ سے حکومتی اعلانات کا پول کھل گیا ہے کہ انہوں نے محرم الحرام میں سکیورٹی کے اقدامات نہیں کئے۔ ان خیالات کا اظہار امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر نے کراچی ڈویژن کے دفتر میں مرکزی سینئر نائب صدر علی رضا اور صدر کراچی ڈویژن منہال رضوی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی سے لے کر پاراچنار تک محرم کے آنے والے ایام میں سکیورٹی کے اقدامات کو سخت کرے۔  رحمان شاہ نے کراچی میں ہونے والی دہشتگردی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یکم محرم الحرام کو ہی حکومت کی نااہلی ثابت ہو گئی ہے، ہم حکومت کو وارننگ دیتے ہیں کہ اگر حکومت نے فی الفور کوئی اقدامات نہ کیے تو کراچی کے لوگوں کو بچانے کے لیے اور دہشتگردی کو روکنے کے لیے پاکستان بھر میں لوگ مظلوموں کی حمایت کے لیے سڑکوں پر آ جائیں گے۔ انہوں نے شہید ہونے والے دونوں اسکاؤٹس کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسکاؤٹس ہمارے لئے مشعل راہ ہیں کیونکہ ان لوگوں نے راہ امام حسین ع پہ چلتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا اور یزیدیوں کو یہ پیغام دیا کہ ان کی سازشوں سے ذکر حسین ع نہ کبھی کم ہوا ہے اور نہ ہو گا۔  مرکزی صدر آئی ایس او نے اعلان کیا کہ محرم الحرام کو حسین ع شناسی کے عنوان سے منائیں گے، اس حوالے سے پاکستان بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں مجالس عزا منعقد کی جائیں گی اور جلوس نکالے جائیں گے، جبکہ ہمیشہ کی طرح اس سال بھی 9 اور 10 محرم کو ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں دوران مرکزی جلوس باجماعت نماز ظہرین کا اہتمام کیا جائے گا، کراچی میں دوران مرکزی جلوس 9 محرم کو ایم اے جناح روڈ پر اور 10 محرم کو تبت سینٹر کے سامنے باجماعت نماز ظہرین کا اہتمام کیا جائے گا۔

Comments are closed.